Connect with us
Friday,06-November-2026
تازہ خبریں

سیاست

سائزنگ اور پاورلوم صنعت پر سیاست نہ کی جائے، کام کرنے کا ہنر ہم ہی جانتے ہیں، اگر MLA کی بھی سائزنگ ہوگی تو ہم کام کر دینگے : شیخ رشید

Published

on

(نامہ نگار )
سائزنگ اور پاورلوم صنعت سے ہی شہر کا روزگار چلتا ہے اگر اس صنعت کا چکّہ جام ہوگیا تو شہر کا چکّہ جام ہو جائے گا۔ اس صنعت کے متعلق سیاست سے اپر اٹھ کر ہمیں غور و فکر کرتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔ اسطرح کا اظہار خیال سابق مئیر شیخ رشید نے مئیر طاہرہ شیخ رشید کی آفس میں منعقدہ اردو مراٹھی صحافیوں سے پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی پاورلوم اور سائزنگ صنعت کے متعلق غلط قدم نہیں اٹھایا اور ناہی برا سوچا اور نا نہیں کوئی غلط کام کیا۔ صرف اپوزیشن نے صنعت کے نام پر سیاسی کھیل کھیلا اور اس صنعت کا نقصان کیا اور کانگریس پارٹی کو بدنام کیا۔ ،ل شیخ رشید نے کہا کہ کام کرنا ہمیں ہی آتا ہے اور ہم نے بہت سارے کام کئے ۔ماضی میں کئے گئے کاموں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں جب ایم ایل اے تھا تب میں نے 56 کروڑ روپے بجلی بل معاف کروایا ، پاورلوم انڈسٹری کو سبسڈی دلوایا جو آج بھی جاری ہے اسکے علاوہ سنجیوانی اسکیم کا فائدہ بھی پاورلوم صنعت کو تب ہی سے مل رہا ہے اور یہ سب کام آنجہانی وزیر اعلی ولاس راؤ دیشمکھ کے توسط سے کیا گیا ۔ شیخ رشید نے کہا کہ شہر میں 15 سائزنگ کا معاملہ بڑی مشکل سے حل کیا گیا ہے ان سائزنگ مالکان کے پاس 2017 میں نافذ کئے گئے MITP ایکٹ سے پہلے کے کاغذات موجود تھے اور اسکی بنیاد پر یہ کام ہوا ہے ۔بقیہ 49 سائزنگ کا کام بھی ہم اسی طرز پر کرینگے ، اسکے لئے سائزنگ مالکان کے عریضے جمع کئے گئے ، اور ان عریضوں پر مئیر کی سفارش کرتے ہوئے مہا سبھا میں منظوری دی جائے گی۔ اس سے قبل ان کاغذات کو نگر راچنا محکمہ سے درست کروایا جائے گا اور پھر جس طرح شیخ آصف نے ناسک ، پونہ ، ممبئی تک نمائندگی کی اسی طرز پر دیگر سائزنگوں کا مسلہ حل کیا جائے گا ۔ شیخ رشید نے بنکروں سے اور سائزنگ مالکان سے اپیل کی ہیکہ سیاست کو درکنار کرتے ہوئے صنعت کو بچانے کیلئے کام کریں ، انہوں نے اپوزیشن کے سیاسی لیڈران سے بھی اپیل کی ہیکہ وہ بھی اس معاملے کو الجھا کر پیچیدہ نہ بنائیں ۔اتحاد و اتفاق سے مسلے کو حل کریں۔ شیخ رشید نے کہا کہ یہ مسئلہ تیرا نہ میرا بلکہ یہ شہر کا مسلہ ہے ، موجودہ ایم ایل اے اور کچھ سائزنگ مالکان شہر میں بدگمانی پھیلا رہے ہیں ۔شیخ رشید نے کہا کہ یوسف الیاس کی سائزنگ سمیت تمام سائزنگ کا مسلہ ہم ہی حل کرینگے اور اگر مفتی اسماعیل کی بھی کوئی سائزنگ ہوگی تو اسکا بھی مسلہ حل کر دینگے ، کیوں کہ قانونی طور پر ہم ہی کام کر سکتے ہیں۔ مفتی اسماعیل میں کام کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے ، اس پریس کانفرنس میں شیخ رشید نے پھر کہا کہ کارپوریشن کے فنڈ سے آگرہ روڈ کی دونوں جانب آرسی سی گٹر ، سیمنٹ روڈ ، بڑی مالیگاؤں ہائی اسکول کے دونوں جانب کے نالے کو بھی آر سی سی بنانے اور شیو روڈ کی بھی آرسی سی سیمنٹ روڈ کی تعمیر کی جاۓ گی۔ اس میں موجودہ ایم ایل اے کا کوئی عمل دخل اور فنڈ شامل نہیں ہوگا ۔ میئر طاہرہ میڈم نے اس کانفرنس میں کہا کہ سائزنگ مالکان اطمینان رکھیں انکا مسلہ وقت طلب اور صبر آزما ہے میڈم نے کہا کہ 15 سائزنگوں کا مسئلہ حل کرنے میں شیخ آصف کی دمدار نمائندگی شامل رہی ہے ۔

سیاست

اپوزیشن نے جمہوری احتجاج کا دفاع کیا، جبکہ ’حکومت کی تبدیلی‘ سے متعلق بیان پر بی جے پی نے عرفان انصاری کو نشانہ بنایا

Published

on

نئی دہلی : جھارکھنڈ کے وزیر صحت اور کانگریس رہنما عرفان انصاری کے اس بیان پر ایک سیاسی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے کہ تقریباً 40 لاکھ نوجوان لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے اشارے کے منتظر ہیں تاکہ وہ سڑکوں پر نکل سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت میں صورتحال بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی بدتر ہو سکتی ہے۔ جہاں اپوزیشن رہنماؤں کا موقف ہے کہ حکومت میں کوئی بھی تبدیلی جمہوری اور آئینی ذرائع سے ہی ہونی چاہیے، وہیں بی جے پی رہنماؤں نے انصاری پر بدامنی کو ہوا دینے اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس رہنما ادیت راج نے عرفان انصاری کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا؛ انہوں نے نوجوانوں کی تعداد سے متعلق وزیر کے دعوے پر سوال اٹھایا اور زور دے کر کہا کہ اپوزیشن کا طریقہ کار آئینی اصولوں پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا، “یہ تو صرف عرفان انصاری ہی جانتے ہوں گے کہ وہ 40 لاکھ نوجوان کہاں ہیں۔ یہ 40 لاکھ ہو سکتے ہیں یا پھر 4 کروڑ بھی۔ ہماری جدوجہد کا راستہ جمہوری اور آئینی ہے۔ یہ نہ تو بنگلہ دیش کا ماڈل ہے اور نہ ہی نیپال کا۔ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ نیپال میں وہاں کے نوجوانوں نے ملک کے اپنے ہی ورثے کو آگ لگا دی تھی، جبکہ بنگلہ دیش کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک تھی۔ ہمارا راستہ وہ نہیں ہے۔ ہمارا راستہ عدم تشدد کا راستہ ہے۔” دریں اثنا، کانگریس رہنما راکیش سنہا نے نوجوانوں کے احتجاج کرنے کے حق کا دفاع کیا اور مظاہروں پر حکومت کے ردعمل پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا، “احتجاج کرنا ایک آئینی حق ہے۔ اگر نوجوان اپنے مطالبات سامنے لاتے ہیں، تو کیا آپ ان پر پیلٹ گن (پیلٹ گنیں) سے فائر کریں گے اور ان کی بینائی چھین لیں گے؟ آپ تو ایف آئی آر (ایف آئی آر) بھی درج نہیں کریں گے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی، تو نوجوان اپنے جذبات کو کیسے دبا پائیں گے؟ اور جب بھی نوجوان مشتعل ہوئے ہیں، تو حکومتیں تبدیل ہوئی ہیں، اور ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ تبدیلی ضرور آئے گی۔”

سماجوادی پارٹی کے ترجمان ڈاکٹر آشوتوش ورما نے کہا کہ بھارت جیسے جمہوری ملک میں حکومت کی کوئی بھی تبدیلی صرف طے شدہ جمہوری عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ”سماج وادی پارٹی اس کی حمایت کرتی ہے۔ ہم انہیں اسی طرح شکست دیں گے جس طرح انہوں نے ہمیں شکست دی تھی۔ سماج وادی پارٹی عوام کے واضح مینڈیٹ اور اعتماد کے ساتھ حکومت تشکیل دینے جا رہی ہے۔ آگے بڑھنے کا یہی واحد راستہ ہے،“ انہوں نے کہا۔ دریں اثنا، این ڈی اے (این ڈی اے) رہنماؤں نے انصاری کے بیان پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ انہیں عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ بی جے پی بہار کے صدر سنجے سراوگی نے انصاری کے بیان کی سخت مذمت کی اور اسے اس بات کا اعتراف قرار دیا جسے انہوں نے کانگریس کی جانب سے سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک کوشش قرار دیا۔ سراوگی نے کہا، ”جھارکھنڈ حکومت کے وزیر عرفان انصاری کا یہ ملک دشمن اور زہریلا بیان، کانگریس کی ایک سوچی سمجھی، انتشار پسندانہ اور پرتشدد سازش کا کھلا اعتراف ہے۔ حکومت کی تبدیلی کی بات کرنے اور ہندوستان کو بنگلہ دیش یا نیپال میں بدلنے جیسے ملک دشمن بیانات، ہندوستان جیسے ملک میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان 1.4 ارب شہریوں پر مشتمل ایک جمہوری ملک ہے اور دعویٰ کیا کہ کسی کو بھی غیر ملکی طاقتوں کے اشارے پر بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مرکزی وزیر راجیو رنجن نے بھی مذکورہ وزیر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات ہندوستان کے جمہوری اداروں کے بارے میں سمجھ بوجھ کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”سب سے پہلے تو ایسے رہنماؤں کو ’کانکے‘ (کانک) بھیج دینا چاہیے، جہاں ذہنی صحت کا ایک بہت اچھا مرکز موجود ہے۔ وہ اس ملک میں جمہوریت کی طاقت سے ناواقف ہیں۔ ہندوستان، بنگلہ دیش یا سری لنکا نہیں ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جس کی آبادی تقریباً 150 کروڑ ہے؛ یہاں آپ ان واقعات کو نہیں دہرا سکتے جو چھوٹے ممالک میں پیش آئے ہیں۔ ان بیانات کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہیے۔“ بی جے پی جھارکھنڈ کے ترجمان پرتول شاہ دیو نے الزام لگایا کہ انصاری کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس چاہتی ہے کہ طلباء سیکیورٹی اہلکاروں کے آمنے سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ طلباء تشدد نہیں چاہتے۔ انہوں نے وزیر کی جانب سے بنگلہ دیش اور نیپال کا حوالہ دینے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ان ممالک میں سیاسی اتھل پتھل کے نتیجے میں تشدد اور عدم استحکام پیدا ہوا تھا۔ جے ڈی (یو) کے رکن اسمبلی ونے چودھری نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کے پاس پارلیمنٹ میں اپنے خدشات اٹھانے کا موقع موجود تھا، لیکن وہ ایوان کو درست طریقے سے کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “جمہوریت میں ہر چیز کا حساب ہوتا ہے۔

اگر وہاں وزیرِ اعظم آپ کی بات نہیں سنتے، تو آپ اپنی آواز اٹھا سکتے ہیں۔ ہندوستانی شہری انتخابات میں مناسب جواب دیتے ہیں۔ وہ انتخابات کے ذریعے یہ ظاہر کر دیتے ہیں کہ وہ کس کی حمایت کرتے ہیں اور کس کی نہیں۔” یہ تنازعہ دہلی میں ایک گفتگو کے دوران انصاری کے ان ریمارکس کے بعد پیدا ہوا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 40 لاکھ نوجوان سڑکوں پر اترنے کے لیے تیار ہیں اور راہول گاندھی کے اشارے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس رہنما نے اب تک انہیں روکے رکھا ہے۔ انصاری نے یہ بھی الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت میں کسان، مزدور، متوسط ​​طبقہ، دلت، قبائلی اور مسلمان مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وزیرِ اعظم نریندر مودی نے صورتحال کا نوٹس نہ لیا، تو ملک میں بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی بدتر حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

Continue Reading

سیاست

راجیو چندر شیکھر کا الزام : راہل گاندھی دہلی میں آئین کی بات کرتے ہیں، مگر کیرالا میں اس کے برعکس کام کرتے ہیں

Published

on

تیرواننتاپورم : بی جے پی کے ریاستی صدر راجیو چندر شیکھر نے جمعہ کے روز کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف (ایل او پی) راہول گاندھی پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی دہلی میں تو آئین، جمہوریت اور سیکولرازم (سیکولر اقدار) کی بات کرتے ہیں، جبکہ کیرالہ میں ان کی پارٹی کا سیاسی رویہ بالکل مختلف ہے۔ چندر شیکھر نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ راہول گاندھی قومی سطح پر اکثر آئینی اقدار، جمہوریت، سیکولرازم اور خواتین و نوجوانوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن کیرالہ میں کانگریس کے سیاسی معاملات کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔

ریاست میں بی جے پی کے تین ایم ایل اے (ارکان اسمبلی) میں سے ایک، راجیو چندر شیکھر نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ کیرالہ میں ’جماعت اسلامی‘ کے ساتھ کھلا سیاسی سمجھوتہ کیے ہوئے ہے، حالانکہ وہ خود کو سیکولرازم اور آئینی اقدار کا علمبردار قرار دیتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ تنظیم آئین اور سیکولر اصولوں کی مخالف ہے، اور انہوں نے اس کا تعلق بنگلہ دیش میں جاری سیاسی بے چینی سے بھی جوڑا۔ بی جے پی رہنما نے ’انڈین یونین مسلم لیگ‘ (آئی یو ایم ایل) — جو کہ ’یو ڈی ایف‘ (یو ڈی ایف) اتحاد کا ایک اہم جزو ہے — پر کانگریس کے انحصار پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ کے کچھ وزراء نے کھلے عام یہ اعلان کیا ہے کہ ان کا واحد سیاسی مقصد “مذہب، مذہب، مذہب” ہے۔ راہول گاندھی کی جانب سے اکثر ہندوستان کے نوجوانوں کے مستقبل کا ذکر کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے، چندر شیکھر نے کہا کہ کیرالہ میں کانگریس ’پی ایم شری‘ (پی ایم ایس ایچ آرI) تعلیمی اسکیم کو نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کا مقصد سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے غریب خاندانوں کے بچوں کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنے والے پروگرام کی حمایت کرنے کے بجائے، مسلم لیگ کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ بی جے پی رہنما نے راہول گاندھی پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ کیرالہ میں اپنے سیاسی اتحادیوں کی جانب سے خواتین کے حقوق کو سلب کرنے اور ان کی آزادی کو محدود کرنے کی کوششوں پر خاموش ہیں۔ انہوں نے کیرالہ میں مسلمانوں کے لیے ریزرویشن (کوٹہ) کی کانگریس کی حمایت پر بھی سوال اٹھایا اور اسے ’غیر آئینی‘ قرار دیا، جبکہ دوسری طرف راہول گاندھی مسلسل آئینی اصولوں کی بات کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا، “راہول گاندھی دہلی میں ایک طرح کی بات کرتے ہیں، جبکہ کیرالہ میں ان کی پارٹی بالکل مختلف انداز میں کام کرتی ہے۔ اگر اسے ’فریب پر مبنی سیاست‘ نہیں کہا جائے گا تو پھر اور کیا کہا جائے گا؟”

Continue Reading

(جنرل (عام

700 افراد گرفتار : شہزاد بھٹی کا دہشت گرد نیٹ ورک مذہب کے نام پر دوبارہ سرگرم ہونے کی کوشش میں

Published

on

نئی دہلی : بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں نے کالعدم دہشت گرد شہزاد بھٹی سے منسلک 700 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق، اس کارروائی سے تخریب کاری کے بڑے منصوبے ناکام بنا دیے گئے، جن میں ہجوم والے مقامات پر نگرانی کے آلات (سی سی ٹی وی کیمرے وغیرہ) نصب کرنا، ٹارگٹ کلنگ (ہدف بنا کر قتل کرنا) اور سرحد پار منشیات کی سمگلنگ شامل تھی۔ بھٹی نیٹ ورک کا خاتمہ حالیہ عرصے میں بھارتی تفتیشی ایجنسیوں کے لیے کیے گئے مشکل ترین آپریشنز میں سے ایک تھا۔ اگرچہ اس نیٹ ورک کے بنیادی آپریشنل ڈھانچے کو توڑ دیا گیا ہے، لیکن انٹیلی جنس حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ دہشت گرد گروہ اپنی بھرتی کی حکمت عملی تبدیل کر کے دوبارہ سرگرم ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب تک، بھٹی کے لیے کام کرنے کے شبے میں تقریباً 700 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے اس آپریشن نے بھٹی گروپ کی جانب سے تیار کردہ کئی منصوبوں کو ناکام بنا دیا، جن میں حساس اور پرہجوم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانا، ٹارگٹ کلنگ کرنا، اور منشیات و جعلی کرنسی کی سمگلنگ شامل تھی۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ سکیورٹی ایجنسیوں نے اس نیٹ ورک کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے، لیکن اس کے باقی ماندہ کارندوں کے ساتھ ’چوہے بلی کا کھیل‘ (آنکھ مچولی) اب بھی جاری ہے۔ عہدیدار نے کہا، “اب تک، اس نیٹ ورک سے منسلک انسٹاگرام پروفائلز کو ہٹانے کے لیے ‘میٹا’ (میٹا) کو 100 سے زائد درخواستیں بھیجی جا چکی ہیں۔ جیسے ہی کچھ پروفائلز ہٹائی جاتی ہیں، 50 سے زیادہ نئی پروفائلز سامنے آ جاتی ہیں۔ درحقیقت، یہ ایجنسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔” انٹیلی جنس بیورو کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بھٹی نیٹ ورک کی جانب سے کی جانے والی اس دوسری کوشش میں، ‘مذہبی وقار کے دفاع’ پر بہت زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ جب یہ نیٹ ورک پہلی بار قائم کیا گیا تھا، تو اس میں بھرتی کا عمل مذہبی بنیادوں پر نہیں تھا۔ اس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا، اور اس میں پیسے کا کردار بہت اہم تھا۔ کسی بھی نوجوان کو بھرتی کر کے محض 5,000 روپے کے عوض کوئی کام کرنے کو کہا جا سکتا تھا۔ ان نوجوانوں کو شہزاد بھٹی اور اس کے ساتھیوں کی ایسی تصاویر بھی دکھائی جاتی تھیں جن میں وہ مہنگی گاڑیوں اور پرتعیش گھروں کے سامنے کھڑے نظر آتے تھے۔ نیٹ ورک چلانے والوں نے نوجوانوں کو ایک ‘خواب’ دکھایا، جو کہ انتہائی مؤثر ثابت ہوا۔ عہدیدار نے بتایا کہ حقیقت میں یہ محض ایک ‘چارہ’ (دھوکہ) تھا، اور بھٹی نیٹ ورک کا نوجوانوں سے بھرتی کے وقت کیے گئے پرتعیش طرزِ زندگی کے وعدوں کو پورا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

بھٹی کا سراغ لگانے والے انٹیلی جنس اداروں کا کہنا ہے کہ پہلی کریک ڈاؤن کارروائی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں گرفتاریاں ہوئیں، کے بعد بھٹی کو پاکستان منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب بھارتی حکومت نے اسے ’غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ‘ (یو اے پی اے) کے تحت ایک ’کالعدم دہشت گرد‘ قرار دیا۔ تاہم، وہ حالیہ مہینوں میں دبئی اور پرتگال کا سفر کر چکا ہے اور اب بھی اپنے ’ماڈیول‘ (گروہ) کی نگرانی کرنے اور بھارت میں کارروائیوں کے لیے نئی حکمت عملیاں وضع کرنے میں سرگرم ہے۔ ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ بھٹی اب اپنی اگلی بھرتی مہم میں مذہب، پیسے اور طرزِ زندگی سے متعلق مراعات کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں مذہبی شناخت پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ عہدیدار نے کہا، “یہ ایک سوچی سمجھی چال ہے۔ مذہبی جذبات کو ابھار کر، بھرتی ہونے والوں کو دی جانے والی رقم نسبتاً کم رکھی جا سکتی ہے۔ اس کا مقصد بھرتی کے عمل کے دوران نوجوانوں کے مذہبی جذبات کا استحصال کرنا ہے۔” جن نوجوانوں کو معمولی رقوم—جو کہ محض 3,000 سے 5,000 بھارتی روپے تک ہو سکتی ہیں—کے عوض بھرتی کیا جائے گا، انہیں دبئی، پاکستان یا نیپال میں بہتر زندگی گزارنے کا جھانسہ دیا جا رہا ہے۔ عہدیدار نے مزید بتایا کہ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ بھٹی کے نیٹ ورک نے کئی نوجوانوں کے لیے جعلی پاسپورٹ تیار کر رکھے ہیں تاکہ کسی بڑی کارروائی (حملے) کو انجام دینے کے بعد وہ بھارت سے فرار ہو سکیں۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ “اگرچہ اس بار مذہبی عنصر پر کہیں زیادہ زور دیا جا رہا ہے، لیکن مجموعی حکمت عملی وہی ہے—کم ادائیگی اور زیادہ بھرتیاں۔ بھٹی بھارت میں محض ایک نیٹ ورک نہیں بنانا چاہتا، بلکہ وہ نوجوانوں کی ایک ایسی فوج تیار کرنا چاہتا ہے جو کسی مذہبی مقصد کے لیے لڑے۔” اس گروہ (ماڈیول) کے دائرہ کار میں اب صرف سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا، منشیات کی اسمگلنگ یا جعلی کرنسی کی گردش شامل نہیں ہے۔ یہ نیٹ ورک اپنی رسائی کو وسیع کرنے اور اپنی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پولیس نے بھٹی نیٹ ورک کا تعلق پنجاب میں پولیس اہلکاروں پر ہونے والے حملوں، جالندھر میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ہیڈکوارٹر کے باہر ہونے والے دھماکے، اور جھارکھنڈ میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہیڈکوارٹر پر پیٹرول بم حملے سے جوڑا ہے۔ یہ نیٹ ورک جن کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے وہ بھی اسی نوعیت کی ہیں، لیکن ان کا پیمانہ کہیں زیادہ بڑا ہوگا۔ نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرنے اور بھارت کے خلاف نفرت انگیز پیغامات پھیلانے کے لیے انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز کا استعمال جاری رہے گا۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ شدید نوعیت کے حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد، ٹیلی گرام جیسے انکرپٹڈ (محفوظ) پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر کیا جائے گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان