Connect with us
Sunday,19-April-2026

سیاست

مہاراشٹر حکومت میں وزرا ٔ کے قلمدانوں کی تقسیم

Published

on

udhav and ajeet

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے کہ مترادف آج یہاں شیوسینا لیڈر ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی مخلوط مہاوکاس اگھاڑی کے وزرا کے قلمدانوں کی تقسیم ہوئی جس کے تحت سابق وزیر اعلی دیویندر فرنویس کے ہمراہ نصف شب میں نائب وزیر اعلی کا حلف لینے والے اجیت پوار جنہوں نے بعد میں ڈرامائی انداز میں این سی پی میں واپس آ کر نائب وزیر اعلی کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی آج انہیں وزیر مالیات پلاننگ جیسے اہم محکمہ دیئے گئے ہیں جبکہ وزیر داخلہ کا قلمدان این سی پی کے انل دشمکھ کو سونپا گیا ہے ۔ اسی طرح سے مسلم کابینی وزرا ٔ نواب ملک کومحکمہ اقلیت اور صنعتی ٹریننگ ، دیا گیا ہے جبکہ حسین مشرف کو دیہی ترقی کا محکمہ دیاگیا ہے جبکہ شیوسینا سے تعلق رکھنے والےواحد مسلم رکن اسمبلی عبدالستار شیخ کو ریاستی وزیر برائے محصول کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ30دسمبر کو کانگریس ، این سی پی ، اور شیوسینا کے کل 41وزرا ٔ کی حلف برداری عمل میں آئی تھی لیکن قلمدانوں ی تقسیم کو لے کر تینوں پارٹیوں میں انتشار پایا جا رہا تھا جس کا خاتمہ آج عمل میں آیا جب وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے وزرأ کو ان کے محکموں کی ذمہ داری دی ۔ ذیل میں وزرا ٔ کے نام اور ان کے محکمہ دیئے گئے ہیں ۔
مہاراشٹر میں وزرأ کے کونسل کی مکمل فہرست
1۔ادھوٹھاکرے (شیوسینا)وزیراعلی،جنرل ایڈمنسٹریشن ،رابطہ عامہ،قانون وعدلیہ،یا ایسے محکمےجو کسی وزیر کو نا دئیے گئے ہو
2۔ اجیت پوار (این سی پی) – نائب وزیر اعلی،مالیت،پلاننگ،
کابینہ کے وزراء
1۔ ایکناتھ شند ے (شیوسینا) – شہری ترقی،پی دبلیو ڈی
2۔ سبھاش دیسائی (شیوسینا) – صنعت ،مراٹھی زبان
3۔ جینت پاٹل (این سی پی) – آبی وسائل
4۔ چھگن چندرکانت بھجبل (این سی پی) -غذاواناج
5۔ بالاصاحب تھوراٹ (کانگریس) -محصول
6۔ نتن راوت (کانگریس) -بجلی توانائی
7۔ اشوک چوان (کانگریس)پی ڈبلیوڈی
8۔ دلیپ ولسے پاٹل (این سی پی)کامگار
9۔ دھننجے منڈے (این سی پی)سماجی انصاف
10۔ وجے واڈٹیواور (کانگریس)پسماندہ طبقات
11۔ انیل دیشمکھ (این سی پی)داخلہ
12۔ حسن مشریف (این سی پی)دہیی ترقی
13۔ ورشا گائیکواڈ (کانگریس)اسکولی تعلیم
14۔ راجندر شنگانے (این سی پی)اناج اور دوائیں
15۔ نواب ملک (این سی پی)اقلیت
16۔ راجیش ٹوپے (این سی پی)صحت عامہ
17۔ سنیل کیدار (کانگریس)دودھ ڈیری
18۔ سنجے راٹھوڑ (شیوسینا)جنگلات
19۔ گلاب راو پاٹل (شیوسینا)پانی و صفائی
20۔ امت دیشمکھ (کانگریس)میڈیکل ایجوکیشن
21۔ دادا بھوسے (شیوسینا)زراعت ،سابق فوجی
22۔ جتیندر اوہاد (این سی پی)ہاوسسنگ
23۔ سندیپن بھومرے (شیوسینا)روزگار
24۔ بالاصاحب پاٹل (این سی پی)کوپریٹیو
25۔ یشومتی ٹھاکر (کانگریس)خواتین واطفال
26۔ انیل پرب (شیوسینا)ٹرانسپوٹ
27۔ اودئے سامنت (شیوسینا)اعلی و تکنکی تعلیم
28۔ کے سی پڑوی (کانگریس)قبائلی فلاحی بہبود
29۔ شنکر راؤ گدالھ ، آزاد (شیوسینا کوٹہ)
30۔ اسلم شیخ (کانگریس)ٹیکسٹائل
31۔ آدتیہ ٹھاکرے (شیوسینا)صحت
وزرائے مملکت
32۔ عبد الستار (شیوسینا)محصول
33۔ ستیج پاٹل (کانگریس)محکمہ داخلہ شہری
شمبھوراج دیسائی (شیوسینا)محکمہ داخلہ دہیی
35۔ بچو کڈو ، آزاد (شیوسینا کوٹہ)آبی وسائل
36۔ وشوجیٹ کدم ، کانگریس کوپریٹیو
37۔ دتاترے بھرنے ، (این سی پی)پیڈبلیو ڈی
38۔ ادیتی سنیل تٹکرے (این سی پی)صنعت
39۔ سنجے بنسوڈے (این سی پی)ٹرانسپورٹ
40۔ پراجکت تنپورے (این سی پی)شہری ترقی
41۔ راجندر پاٹل یدراورکر آزاد (شیوسینا کوٹہ)صحت عامہ

ممبئی پریس خصوصی خبر

آیان شیخ جنسی استحصال کیس لوجہاد نہیں, تفتیش میں نیا خلاصہ, آیان کی جان کو خطرہ

Published

on

ممبئی: امراؤتی پر توارڈ پولس اسٹیشن کی حدود میں آیان شیخ عرف ایاز شیخ کے خلاف جنسی استحصال کی ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے آیان شیخ کے معاملہ میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ اس کے ویڈیو اس کے دوست عذیر خان نے ہی اپنے انسٹاگرام پر لیک افشا کئے تھے جس کے بعد بھونچال آگیا اس معاملہ میں پولس نے تفتیش شروع کرتے ہوئے ۸ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اس کے ساتھ ہی ان سے تفتیش میں کئی اہم خلاصے ہوئے ہیں آیان شیخ نے ہی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے متاثرین سے رابطہ کیا تھا اور دوستی بنانے کے بعد وہ ان لڑکیوں سے معاشقہ رکھتا اور پھر انہیں ہوٹل میں لیجا کر ان سے تعلقات قائم کرتا تھا عذیر نے انسٹاگرام پرُاس لئے ویڈیو وائرل کی تھی کیونکہ وہی آیان کا سوشل میڈیا ہینڈل بھی کیا کرتا تھا اور پیسوں کو لے کر دونوں میں تنازع ہو گیا تھا اور اس نے غصہ میں ویڈیوز وائرل کیا اس معاملہ میں ویڈیو تیار کرنے والوں سے لے کر اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں تک کو پولس نے گرفتار کیا ہے
تین پولس والے معطل
آیان شیخ کیس میں ایک اے ایس آئی سلیم اور دو کانسٹبل کو معطل کردیا گیا ہے ان پولس والوں کے ساتھ آیان کی ویڈیو وائرل تھی اور یہ آیان کے ساتھ رابطے میں تھے اس لیے اس سے پولس محکمہ کی شبیہ خراب ہو رہی تھی جس کے بعد پولس والوں کے خلاف معطلی اور انکوائری کی کارروائی کی گئی ہے آیان شیخ کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہے کیونکہ متاثرین کے رشتہ دار اور والدین مشتعل ہے اور عدالت میں پیشی کے دوران اس کی سیکورٹی کا بھی خاص خیا ل رکھا جاتا ہے پولس نے بتایا کہ آیان شیخ سے متعلق جو تفتیش شروع کی گئی اس میں اب تک یہ معاملہ لوجہاد کا نہیں ہے اور نہ ہی متا ثریا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے بعد اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش تیز ہے اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں بلڈوزر ایکشن بھی لیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونے امبیڈکر جینتی پروگرام میں نکسلیوں کا ‘ہڈما’ گانے پر رقص, بی بی اے کے دو طلبا کے خلاف کیس درج

Published

on

ممبئی: ممبئی پونے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جینتی کے موقع پر منعقدہ ایک ثقافتی پروگرام میں نکسلائیٹ ہدما ماڈوی پر مبنی گانے پر مبنی ڈانس پرفارمنس منظر عام پر آنے سے ہلچل مچ گئی اسی مناسبت سے پولس نے کیس بھی درج کر لیا ہے لیکن گانے اور رقص پر کیس درج کرنے پر اب سوشل میڈیا پر یہ سوال عام ہے کہ آیا کیا گانے اور رقص کو قابل اعتراض تصور کر کے کیس درج کرنا قانونی طور درست ہے ؟ ہڈما گانے پر وشرانت واڑی پولیس نے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کرن نارائن گوماسے (عمر 22 سال، آبائی باشندہ دیچلی، تلہ ہری، ضلع گڈچرولی، فی الحال بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل، ویشرانت واڑی میں مقیم ہیں) اور سرینواس ہنومنت کماری (عمر 23 سال، آبائی باشندہ جھنگنور، تال. گچھی، اس وقت اسی سرونڈنگ، ضلع سرونڈنگ) ہاسٹل) کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں بی بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔پولیس کے مطابق امبیڈکر جینتی کے موقع پر 11 اپریل کو بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل وشرانت واڑی میں ایک ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں ہدما مادوی پر مبنی گانے پر رقص کا مظاہرہ کیا گیا،جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھا اور پیپلز لبریشن گوریلا آرمی (پی ایل جی اے) کی بٹالین نمبر 1 کی کمانڈر بھی تھا۔پولیس نے گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں کارروائی کی ہے جس سے ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرہ ہے ۔ اس معاملے میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 197(1)(ڈی) 353(1) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وشرانت واڑی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے اور پولیس سب انسپکٹر بھوسلے معاملے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔ اس واقعے نے شہر میں ہلچل پیدا کردی ہے اور علمی و سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ محض گانے پر رقص سے کیس درج کر لیا گیا کیا یہ اظہار آزادی کے منافی نہیں ہے ؟

Continue Reading

سیاست

ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن بل کے مسترد ہونے پر ردعمل ظاہر کیا۔

Published

on

ممبئی: ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے خواتین کے ریزرویشن بل کو “خواتین کے لیے اچھی خبر” قرار دیا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو سیاسی پس منظر نہیں رکھتے، یہاں تک کہ مجوزہ قانون لوک سبھا میں پاس ہونے میں ناکام ہو گیا۔ ترقی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے، تاوڑے نے بل کی اہمیت پر زور دیا اور اس کی مزاحمت کرنے پر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپنی بات چیت میں، تاوڑے نے روشنی ڈالی کہ یہ بل ان خواتین کے لیے ایک موقع کی علامت ہے جنہوں نے بغیر سیاسی نسب کے اپنے راستے پر کام کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو آگے لانے کا سہرا دیا جسے انہوں نے “خواتین کے حقوق کی بحالی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “خواتین ریزرویشن بل ہم خواتین کے لیے بہت اچھی خبر تھی۔ ہم میں سے جو سیاسی پس منظر سے نہیں آتے ہیں، انھوں نے آگے آنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔ یہ ہمارے حقوق کی بحالی تھی، جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے لایا تھا۔”

بل کے ممکنہ اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے، تاوڑے نے کہا کہ اس کی منظوری سے میونسپل اداروں سے لے کر ریاستی مقننہ اور پارلیمنٹ تک حکمرانی کے تمام سطحوں پر خواتین کی وسیع نمائندگی اور احترام کو یقینی بنایا جائے گا۔ “اس کی وجہ سے، خواتین کو ودھان سبھا، لوک سبھا، اور میونسپلٹی کی سطح سے لے کر ریاستی سطح تک نمائندگی اور عزت ملنے کی امید تھی،” انہوں نے مزید کہا۔ میئر نے اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا، یہ الزام لگایا کہ راہل گاندھی اور ان کی پارٹی سمیت لیڈران اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے دیکھے گئے جس سے ان کا خیال ہے کہ خواتین کو سیاسی طور پر بااختیار بنایا جائے گا۔ یہ ترقی لوک سبھا کے 11 اپریل کو آئین (131 ویں ترمیم) بل کو مسترد کرنے کے بعد ہوئی ہے۔ ووٹنگ میں کل 528 ارکان نے حصہ لیا جن کے حق میں 298 اور مخالفت میں 230 ووٹ آئے۔ تاہم، بل آئینی ترمیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت، 326 ووٹوں سے کم تھا۔ مجوزہ قانون سازی میں ایوان کی طاقت کو 543 سے بڑھا کر 850 نشستیں کرنے اور 2026 کی مردم شماری کے بعد کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حد بندی کو فعال کرنے کی کوشش کی گئی۔ ووٹنگ کے عمل کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی ایوان میں موجود تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان