(جنرل (عام
زبردست مخالفت کے باوجود مالیگاؤں میں خواتین کی پرامن ریلی نے مودی حکومت کے کالے قانون کےخلاف تاریخ ساز احتجاج درج کرایا
(وفا ناہید)
تحریکوں کا شہر مالیگاؤں جس کے 7 سپوت کا ہندوستان کی جنگ آزادی کے شہداء میں شمار ہوتا ہے. اس سرزمین کی مٹی سے آج ان شہدائے کرام کی خوشبوئیں آتی ہیں. اس مسلم اکثریتی شہر سے آج لاکھوں کی تعداد میں خواتین نے دستور بچاؤ کمیٹی کے بینر تلے مودی حکومت کے کالے قانون سی اے اے اور این آر سی کے خلا ف ایک پرامن اور تاریخ ساز احتجاج درج کرایا. بچاؤ کمیٹی کے زیر اہتمام جمعیت العلماء مالیگاؤں کے صدر مفتی اسمٰعیل قاسمی کی زیر سرپرستی اور شان ہند نہال احمد کی قیادت میں لاکھوں سروں کے امڈتے ہوئے سیلاب کی طرح شہر بھر کی خواتین نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف تاریخی ریلی نکال کر انتظامیہ کے ہوش اڑا دیئے . آج مورخہ 6 جنوری 2020 کو دوپہر دہائی بجے جامعتہ الصالحات سے خواتین کی یہ ریلی سلیمانی چوک, مولانا ابوالکلام آزاد روڑ سے مشاورت چوک سے مولانا محمد علی روڈ سے ہوتے ہوئے قدوائی روڑ پر واقع شہیدوں کی یادگار تک نکالی گئی اس ریلی میں معصوم بچوں سمیت عمردراز بزرگ خواتین نے فلک شگاف نعروں کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے حکومت وقت سے سی اے اے قانون رد کرنے اور این آر سی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ، وہیں شہیدوں کی یادگار پر ریلی کے اختتام سے قبل کلکتہ سے آئی آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کی پڑپوتی محترمہ سلطانہ بیگم نے کہا کہ ہم خواتین کمزور نہیں ہے ، ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ، مودی سرکار کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت اندھی بہری ہے میں صرف یہی پیغام دینا چاہتی ہوں کے ہم سب ایک ساتھ رہے . اتحاد قائم رکھے یہ ہندوستان ہمارا ہے ہم یہی رہینگے ہمیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے ، میرا سوال ہے کے کیا ایسا کرنے سے وہ مسلمانوں کو ختم کر دینگے ، اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ، ہمارا ایک ہی مقصد ہے کے ہم سب ایک ساتھ متحد ہو جائے. سلطانہ بیگم کے بعد دہل سے تشریف لائی ہوئی شوشیلا مراڈے نے حکومت کو للکارتے ہوئے کہا کہ جنگ آزادی میں ہندو اور مسلمانوں نے قربانیاں دیں ہیں. اس وقت یہ بی جے پی اور آر ایس ایس کہاں تھے. گاندھی, نہرو, مولانا آزاد نے اس ملک کو آزاد کرایا ہے. اشفاق اللہ خان نے اپنی جان کی قربانی دی ہے. آج بھی دہلی سے لاہور تک وہ سارے پیڑ ان علماء کرام کی شہادت کے گواہ ہے. اے مودی اور شاہ یہ تمہارے باپ کا ہندوستان نہیں ہے یہ ہمارے باپ کا ہندوستان ہے. ہم کہیں نہیں جائیں گے. محترمہ نے لاکھوں خواتین کے اس مجمع سے خطاب کرتے ہوئے پرجوش انداز میں ایک شاعر کے حوالے سے کہا کہ جب ہٹلر یہودیوں کو ماررہا تھا تو اس شاعر نے سوچا کہ میں تو یہودی نہیں ہوں. پھر ہٹلر نے عیسائیوں کو پاک کرنا شروع کیا تب بھی اس شاعر نے سوچا کہ میں تو عیسائی بھی نہیں ہوں اس کے بعد ہٹلر نے کمیونسٹ کو مارنا شروع کیا. تب بھی اس شاعر نے سوچا کہ میں تو کمیونسٹ بھی نہیں ہوں. آخر میں اس شاعر کہنا تھا کہ میری باری آئی تو مجھے بچانے کے لئے کوئی بھی نہیں بچا تھا. اس لئے میں ہندو بھائیوں سے کہہ رہی ہوں کہ جس طرح ہٹلر نے یکے بعد دیگرے سب کو ختم کردیا ویسے ہی مودی حکومت ایک ایک کو ختم کرنا چاہتی ہے. اس لئے اگلی باری تمہاری ہوگی. شان ہند نہال احمد نے کہا کہ آج شہر کی خواتین کا یہ سیلاب اس تحریک کا حصہ ہے جو ہندوستان میں چل رہی ہے ، ہم نے آج یہ بتا دیا کے ہم کل بھی زندہ تھے آج بھی زندہ ہیں میں مالیگاؤں کی خواتین کی جانب سے ملک بھر میں احتجاج کررہی خواتین کو سلام پیش کرتی ہوں ، جے این یو میں گھس کر شرپسندوں نے جو حملہ کیا جس میں پولس ان کے ساتھ تھی یہ بزدل ہمیں ڈرانا چاہتے ہے لیکن ہم انھیں بتا دینا چاہتے ہے کے یہ تحریکی شہر ہے جہاں نہال احمد صاحب نے اسے جلا بخشی تھی ، ہمیں مالیگاؤں شہر کی پولس سے شکایت ہے جنہوں نے اس ریلی میں جامعہ کی ان نڈر طالبہ عائشہ اور لدیدہ فرزانہ دونوں کو شہر آنے سے روکا جن کے ساتھ اور بھی لوگ انہیں روکنے میں شامل تھے ، ہم نے یہ طے کیا ہے کے آنے والی 26 جنوری کو 70 سال پورے ہونے پر 70 مقامات پر ترنگا جھنڈا لہرا کر راشٹرگیت پڑھ جائیگا اور یہ احتجاجی مظاہرہ جاری رہے گا ، میں شکر گزار ہوں سبھی افراد کا جنہوں اس ریلی کو کامیاب کرنے کے لئے بھرپور تعاون پیش کیا ، اس ریلی میں شریک خواتین کا ایک حصہ شہیدوں کی یادگار سے مشاورت چوک پر تھا تو دوسرا حصّہ شہیدوں کی یادگار سے نیا بس اسٹینڈ اور جونا بس اسٹینڈ تک تھا جس میں خواتین نے بڑے ہی جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا ، ریلی کے سرپرست مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی نے کہا کہ میں ان لوگوں کو آج بتا دینا چاہتا ہوں جو شہر میں کسی طرح کی تحریک کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ہمیشہ تخت نشین نہیں رہیں گے ، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کے ہندوستان کی آزادی کے لئے خواتین کی بھی تاریخ رہی ہے جنہوں نے اس ملک کی آزادی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کیا ہے ، مرحوم نہال احمد صاحب نے یہ دستور بچاؤ کمیٹی بنائی تھی . جس کی آبیاری ان کے فرزند مرحوم ساتھی بلند اقبال نے کی اور جس کی قیادت آج شان ھند کررہی ہے ، ملک میں ایسا کوئی قانون ہم چلنے نہیں دینگے جس میں لوگوں کو ڈیٹکشن کیمپوں میں بھیجا جائے گا ،میں ہندو بھائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کے آپ این آر سی اور سی اے اے کو الگ کر کے نہ دیکھے یہ یہودیوں کی سازش ہے ، میں اعلان کرنا چاہتا ہوں کے خواتین اپنے گھر کے مردوں تک یہ پیغام پہونچا دیں کے 26 جنوری کے دن کوئی بھی مرد پیٹرول پمپ سے پیٹرول نا بھروائے اور اپنے اکاؤنٹ میں اتنا ہی پیسہ رکھے جتنی ضروری ہے باقی کی رقم نکال لیں ، ہم 26 جنوری کو دستور بچاؤ اور دیش بچاؤ کا نعرہ لگائیں گے ، ہم پولس کو یہ بتادینا چاہتے ہے کے ہم نے شہر میں کبھی امن و امان کو خراب نہیں کیا لیکن جو لوگ ہماری تحریک کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے ان پر نظر رکھی جائے ، میں امید کرتا ہوں کے یہ شہر تحریکی رہا ہے اور ہمیشہ تحریکی رہیگا ، آج خواتین نے کسی کے بہکاوے میں نا آتے ہوئے یہ ثابت کردیا کے یہ شہر تحریکی ہے اور ہم زندہ قوم ہے . دیگر خواتین مقررین نے اپنے اپنے خطاب میں جم کر حکومت کی بزدلی اور نا انصافی پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے ، این آر سی ، سی اے اے صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے یہ اس دیش کے ہر مذہب کے ماننے والوں کا مسئلہ ہے ،آج ہم سے ہماری قربانیاں پوچھی جارہی ہے انہیں معلوم نہیں ہے کہ “ہم بھارت کی ناری ہے پھول نہیں چنگاری ہے” ، اس احتجاجی ریلی میں سلطانہ بیگم ، آسمہ میڈم ، عائشہ ثمن ، کارپوریٹر سعدیہ لئیق احمد ، صبیحه مزممل بفاتی ، ساجدہ میڈم ، شوشیلا مراڈے ، سائرہ اجمل خان سمیت دیگر سرکردہ خواتین اس ریلی کا اہم حصّہ تھی ۔ مفتی اسمٰعیل قاسمی کی دعا پر یہ تاریخ ساز احتجاج اختتام پذیر ہوا.
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔
۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر
نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔
رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
