Connect with us
Friday,04-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں ڈینگو کا بڑھتا قہر. 3 ہفتوں میں ڈینگو سے ہوئی 3 کی موت

Published

on

DANGOE

مالیگاؤں : شہر میں ڈینگو کا قہر بڑھتا ہی جا رہا ہے لیکن انتظامیہ کانوں میں روئی ٹھونس کر بیٹھی ہے. واضح رہے کہ 3 ہفتوں میں شہر میں ڈینگو سے 3 اموات ہوچکی ہیں. اس کے باوجود شہر میں گندگی اور کوڑا کرکٹ صاف کرنے کے لئے کوئی معقول انتظام نہیں کیا گیا. نہ محکمہ صحت نیند سے بیدار ہورہا ہے اور نہ محکمہ صاف صفائی خواب غفلت سے باہر آنے کو تیار ہے. ڈینگو سے ہورہی اموات سے شہر میں ہاہاکار مچا ہوا ہے. آخر کب تک شہر میں گندگی اور گندے سیاستدانوں کا راج چلتا رہے گا؟ کب تک قیمتی جانوں کو تلف ہوتے دیکھتے رہے گے ؟ کارپوریشن انتظامیہ شہر بھر میں ڈینگو کے مرض کی پردہ داری کرنے میں ملوث ہے اور اپنی کرنی کو چھپانے میں لگا ہوا ہے غریب عوام اپنے بچوں کی جان بچانے کے لیے پرائیوٹ ہاسپٹل جانے اور چندہ کرنے پر مجبور ہے . یہ مسلمانوں کی اکثریت والے شہر میں کیسی لاچاری ہے کہ کوئی کارپوریشن اور برسر اقتدار ٹولے کو لگام لگانے والا نہیں ہے ۔ کارپوریشن کمشنر کشور بوروڈے سے لے کر کارپوریشن افسران تک عوام کے بیچ جھوٹی رپوٹ پیش کر رہے ہیں مگر محض 3 ہفتوں میں ڈینگو سے ہونے والی 3 اموات نے کارپوریشن کی ساری سچائی عیاں کردی ہے. ڈینگو سے ہلاک ہونے والے ان تینوں بچوں کے والدین نے ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ جوڑ کر ان کی موت کا اندراج کرایا ہے. ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق 25 اکتوبر سے لے کر 14 نومبر تک بیماریوں سے ہونے والی اموت میں مختلف عمر کے 33 بچے شامل ہے. اس کے باوجود سب اچھا کا بورڈ آویزاں کرکے گمراہ کیاجارہا ہے. ہمیشہ کی طرح اسپتالوں میں دواؤں کی بھر پور قلت ہے. سول ہاسپٹل, علی اکبر, واڈیا اور کیمپ دواخانہ سب کے سب مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں. سب سے زیادہ برا حال سول ہاسپٹل کا ہے. سول ہاسپٹل میں ہمیشہ کی طرح مریضوں کو زمین پر لٹایا جارہا ہے کیونکہ مریضوں کی بھرمار سے بیڈ خالی نہیں ہے. کارپوریشن اور محکمہ صحت عامہ کے آفیسران کے مطابق شہر کے ایک لاکھ سے زائد گھروں میں ڈینگو کے جراثیم پائے گئے ہیں. محکمہ صحت عامہ کی اس رپورٹ سے شہر میں بھونچال آیا ہوا ہے. اس رپورٹ کا کچھ اثر کسی پر نظر نہیں آرہا ہے تو وہ ہے کارپوریشن اور خود محکمہ صحت عامہ. رکن اسمبلی مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی نے ایک میٹنگ لی تھی. اس میٹنگ میں اسٹنٹ ڈاکٹروں نے جو جوابات دیئے وہ انتہائی غیر اطمینان بخش تھے. اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر خالد پرویز نے بھی ڈینگو سے ہورہی اموات کے پیش نظر ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی تھی. جس میں اسسٹنٹ ڈاکٹروں نے اپنی رپورٹ پیش کی. اس رپورٹ کے تناظر میں انہیں سخت احکامات دیئے گئے اس کے باوجود ڈھاک کے وہی تین پات. ڈینگو سے متاثر ہورہے عوام اور ان کی اموات کے بعد تو شہر میں صاف صفائی کا نظام بہترین ہوجانا چاہیے تھا مگر کارپوریشن اور محکمہ صحت عامہ شاید کسی بڑے سانحے کے انتظار میں ہیں.

ممبئی پریس خصوصی خبر

نیو انڈیا کوآپریٹیو بینک غبن ملزمین کی جائیدادیں قرق

Published

on

New-India-Bank

ممبئی : ممبئی اقتصادی ونگ ای او ڈبلیو نے نیو انڈیا کوآپریٹیو بینک کروڑوں روپے کے غبن کے معاملہ میں پراپرٹی ضبطی کی کارروائی بھی شروع کردی ہے۔ ای او ڈبلیو نے بتایا کہ غبن کے آمدنی سے حاصل شدہ جائیدادوں کی نشاندہی کے بعد اسے منسلک اور ضبط کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں 5 ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے، ان ملزمان کی 21 غیر منقولہ جائیدادیں پائی گئی ہے، جنہیں قرق کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ممبئی شہر میں 107 بی این ایس ایس کے تحت یہ پہلی کارروائی کی ہے جس میں ملزمان کی جائیدادیں ضبط کی گئی ہیں۔ ممبئی اے او ڈبلیو نے بتایا کہ قرق جائیدادوں سے حاصل شدہ رقومات کا تخمیہ بھی لگایا جائے گا۔ ممبئی میں بینک کے گھوٹالہ کے بعد ای او ڈبلیو نے بڑی کارروائی کی ہے اور ملزمان سے متعلق دیگر جائیدادوں کی بھی تفصیلات معلوم کی جا رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کرائم برانچ کا لارنس بشنوئی گینگ کو جھٹکا، پانچ اراکین گرفتار

Published

on

ممبئی کرائم برانچ نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے گینگسٹر لارنس بشنوئی گینگ کے پانچ شوٹروں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے, ان شوٹروں کے قبضے سے 5 ریوالور اور 21 کارآمد کارتوس بھی برآمد کئے ہیں۔ ممبئی پولیس ان شوٹروں سے باز پرس بھی کر رہی ہے شوٹروں کو واردات انجام دینے سے قبل ہی پولیس نے گرفتار کر کے واردات پر ہی قدغن لگایا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ نے اندھیری علاقہ سے ان پانچوں کو گرفتار کیا ہے, یہ یہاں بڑی تخریبی کارروائی کو انجام دینے کی غرض سے آئے تھے, لیکن اس سے قبل ہی پولیس نے واردات کو ناکام بنا دیا۔ گرفتار ملزمین وکاس ٹھاکر، سمیت دلاور، دیویندرروپیش سکسینہ، شریہ سریش یادو، وویک گپتا شامل ہے۔ وکاس ٹھاکر کو ورسوا اندھیری، سمیت مکیش کمار دلاور ہریانہ سونی پت، دیویندر روپیش سکسینہ مدھیہ پردیش، شریا سریش یادو جگدیشپور بہار اور وویک کمار گپتا رام پور راجستھان کا ساکن ہے ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کئے گئے ہیں۔ اور کرائم برانچ نے ان پر دفعہ 3 اور 25 بی این ایس کی دفعہ 55 اور 61(2) اور مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ کرائم برانچ یہ معلوم کر رہی ہے کہ ملزمین نے ہتھیار کہاں سے لایا تھا۔

سلمان خان پر فائرنگ کے بعد لارنس بشنوئی گینگ ممبئی میں سرگرم عمل ہونے کی کوشش کررہا ہے لیکن ممبئی کرائم برانچ کی سخت کارروائی کے سبب اس گینگ کی کمر ٹوٹ گئی ہے, اور اب کرائم برانچ نے لارنس بشنوئی گینگ کو زبردست جھٹکا دیا ہے, اور اس کے پانچ اراکین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کرائم برانچ اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف ترمیمی بل غریبوں کے لیے نقصان دہ ہے… ایس پی ایم ایل اے رئیس شیخ کا آئین کے آرٹیکل 26 کے تحت مذہبی امور کو سنبھالنے کا حق چھیننا غیر آئینی ہے

Published

on

MLA-Raees-Sheikh

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر قانون ساز رکن رئیس شیخ نے لوک سبھا میں وقف بل پیش کئے جانے کی مخالفت کی ہے، رئیس شیخ نے بی جے پی پر جھوٹا بیانیہ تیار کرنے پر سخت تنقید کی ہے۔ اس بل کو ایک سوچا سمجھا اور غیر آئینی بل قرار دیا ہے، جس سے معاشرے کے غریبوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ شیخ نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل 26 مذہبی اداروں کو چلانے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 26 کے تحت اپنے اداروں کو چلانے کا حق چھیننا غیر آئینی ہے۔ ایم ایل اے شیخ نے کہا کہ یہ اقدام مذہبی معاملات کو سنبھالنے کی آئینی ضمانت کے خلاف ہے۔

شیخ نے کہا کہ بی جے پی حکومت یو پی اے حکومت کو دکھا رہی ہے کہ وہ ایک خاص برادری کی خوشنودی کی سیاست کر رہی ہے، جب کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت ایسا نہیں کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا جھوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو وقف کے تحت کمیونٹی کو کسی بھی زمین پر قبضہ کرنے یا اسے وقف کے طور پر دعوی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ وقف بورڈ مسلم کمیونٹی کی کوئی نجی تنظیم نہیں ہے، بلکہ وقف ایکٹ کے تحت قائم ایک قانونی ادارہ ہے۔ کسی جائیداد کو وقف قرار دینے کے عمل میں، ایک سرکاری سرویئر ایک سروے کرتا ہے اور سرکاری طور پر اس جائیداد کا اعلان کرتا ہے۔ شیخ نے تبصرہ کیا کہ یہ خیال پیش کرنا سراسر غلط ہے کہ مسلمان من مانی طور پر کسی بھی جائیداد کو وقف قرار دے سکتے ہیں۔

شیخ نے مزید کہا کہ وہ حکومت کی طرف سے بنائی جا رہی غلط تصویر کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور حکومت نے مسلمانوں یا اپوزیشن کی طرف سے دی گئی تجاویز پر غور نہیں کیا۔ تمام وقف گورننگ بورڈز اور ٹرسٹوں کو وقف فریم ورک سے باہر نکلنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس سے نظام کمزور ہو گیا ہے۔ شیخ نے مزید کہا، “یہ ایک غیر تصوراتی اور غیر تصور شدہ بل ہے جو معاشرے کے صرف غریبوں کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض دفعات مثلاً یہ شرط کہ وقف کرنے والا شخص پانچ سال سے مسلمان ہو، عجیب ہے۔ اس سے پہلے، وقف املاک پر قبضہ ایک ناقابل ضمانت جرم تھا، لیکن اب اسے مجرمانہ بنا دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com