Connect with us
Sunday,06-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ڈینگو کا قہر، کارپوریشن کی لاپرواہی سے بیماری میں اضافہ

Published

on

دھولیہ: میونسپل کارپوریشن میں کارپوریٹرس سے لے کر عوام تک سبھی پریشان ہوگئے ہیں۔ تاناشاہی کے طرز پر دھولیہ میونسپل کارپویشن کو چلایا جارہا ہے۔ بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی مسلم کارپوریٹرس میں دہشت پھیل گئی ہے۔ کانگریس و این سی پی کے کارپوریٹرس بی جے پی کے امیدوار کی انتخابی تشہیر میں گھوم رہے ہیں جبکہ شہر میں ڈینگو پھیل گیا ہے، دس دنوں بعد عوام کو پانی مہیا کرایا جارہا ہے جبکہ امسال زبردست بارش سے پانجھراندی، ہرنیامال، نکانے تالاب، ڈیڈر گاؤں تلاب، تاپتی ندی، اکل پاڑا ڈیم میں پانی ہی پانی ہوگیا تھا اس کے باوجود عوام کو کئی علاقوں میں دس دنوں کے بعد پانی دیا جارہا ہے۔ غریب عوام کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کے لیے لوازمات کی کمی ہے ،پانی صرف دو دنوں میں ختم ہوجاتا ہے۔ کشادگی کی زندگی گزارنے والے افراد اپنے گھروں میں ۲۰۰۰؍لیٹر اور ۵۰۰۰؍لیٹر کی ٹاکی کا نظم کرتےہیں ،زیادہ دنوں بعد پانی ملےتو انہیں دور دراز کے علاقوں میںکنویں سے پانی نہ بھرنا پڑے لیکن ڈینگو کی بیماری میں ان کی صحت کو غریبوں سے زیادہ خطرہ لاحق ہوا ہے۔ ضلع کلکٹر گنگادھرن ڈی نے ڈینگو پر قابو پانے کےلیے ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیاتھا۔ میٹنگ میں تمام تدابیر پر غور کرنے کے بعد افسران و ملازمین کو ان کی ڈیوٹی پرتعینات کیا گیا۔ جمعہ کے روز کارپوریشن کے ملازمین نےڈینگو مہم کے تحت ۷۸۱۸؍گھروں کی جانچ کی تو ۷۳؍مکانات کو نوٹس دی گئی ،محکمہ صحت سے ملی خبر کے مطابق اب تک کل۲۷۰؍گھروں میں کارپوریشن کی نوٹس پہنچائی گئی ہے۔ اس معاملہ میںشہر کے ۹؍حصوں میں کاروائی کی گئی ہے جس میں ساکری روڈ، یشونت نگر،سائی بابانگر،سائی ایکتا نگر،گنیش کالونی شیتل کالونی ،مہالے نگر، پھولے نگر،بھوئی واڑہ ،تلسائی کا ملہ،ویکھیر نگر، راسکر نگر، رام دیو بابا نگر، حمید نگر ، گوڑی واڑہ، دلدار نگر، انصارنگر، شیواجی نگر،غریب نواز نگر ، ملت نگر،دربل گھٹک کالونی، آشیانہ کالونی ،دودام شہاداول کالونی، ہزار کھولی سہجیونگر،لکشمی واڑی علاقوں کا معائنہ کیا گیا۔ ۷۸۱۸؍گھروں میں ۲۲۱۹۸؍ پانی کے ذخائر کی جانچ کی تو ۲۸۰؍ آ بی ذخائر میں گندگی پائی گئی جس میں سے ۲۷۹؍ ذخائر کو فوری طور پر خالی کرایاگیا۔ ۹۴۲۷؍آبی ذخائر میں ادویات ملائی گئی۔ اس مہم میں جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ اور مچھروں کی افزائش کو ختم کرنے کے لیے گھروں گھر مشین کے ذریعے دھواں چھوڑا جانا ضروری ہے ،لیکن کارپوریشن محکمہ اس کام میں لاپرواہی برتنے کا کام کررہا ہے۔ مہم کے متعلق اور ضلع کلکٹر کے حکم کے بعد یہ تمام کام ضروری ہیں لیکن انتخابی مہم کی آڑ میں کارپوریٹرس خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ڈینگو کے مرض میں لاپرواہی کرنے پر جان چلی گئی تو کون ذمہ دار ہوگا؟کارپوریشن کو آبی ذخائر کی جانچ کرنے سے بہتر روزانہ یا ایک دن بعد عوام کو تازہ پانی دینا چاہیے ،لیکن کارپوریشن میں کمائی کی غرض سے ہر چیز ٹھیکہ پر دے دی جاتی ہے۔ ٹھیکیدار کام کو صحیح ڈھنگ سے انجام نہیں دے پاتے ہیں جس کے چلتے بہت سی شکایتیں کاروریشن میں جمع ہوتی ہے لیکن عملی کاروائی میں میونسپل کارپوریشن ٹال مٹول کرتی ہے۔ آزاد نگر، فردوس نگر، بھوئی واڑہ ، غفورنگر، حاجی نگر ، انصارنگر، مولوی گنج، قلندر چوک ، چترنجن کالونی ، آشیانہ کالونی ،مسلم نگر، کامگارنگر، ہرار کھولی وغیرہ علاقوں میں فاگنگ و فوارنی نہیں کی جاتی ہے، جبکہ اس کام کا بل بدعنوانی کرکے نکال لیا جاتا ہے۔ کارپوریشن الیکشن ہونے کے بعد قریب ۱۰؍ مہینے ہورہے ہیں لیکن مذکورہ بالا علاقوں میں عوامی سہولیات کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ ۱۰۰؍ کروڑ کے فنڈز میں سڑکیں بنانے کی منظوری ملی ہے جس میں مسلم علاقوں کی سڑکیں غائب ہیں ،اپنے علاقوں میںشہر بننے والے کارپوریٹرس نے ایوان میں ہنگامہ نہ کرکے اپنے آپ کو بزدل ثابت کردیا تھا۔ ۱۹؍مسلم کارپوریٹرس مل کر اپنے خلاف ہونے والی ناانصافی کے خلاف ایوان میں ہنگامہ نہیں کریں گے توکیا عام عوام کریں گی؟ ۔کارپوریٹرس کو کیوں منتخب کرکے ہاؤس میں بھیجا گیا؟خاموش تماشائی بننے کے لیے یا وارڈ کی عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ؟ڈینگو مہم میں حصہ لینا چھوڑ کر بی جے پی کے امیدوارکے آگے پیچھے گھوم کر اپنی ساکھ کو اپنے ہاتھوں پاؤں برباد کررہے ہیں۔ ڈینگو کے متعلق لاپرواہی برتنے پراہلیان شہرمیں تشویش پائی گئی ہے،کوئی بھی ذمہ داری سے کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

(جنرل (عام

وقف بل پر ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، اویسی اور کانگریس کے بعد آپ ایم ایل اے امانت اللہ خان نے کھٹکھٹایا سپریم کورٹ کا دروازہ

Published

on

MLA-Amanatullah-Khan

نئی دہلی : وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے منظور کر لیا ہے۔ لیکن اس حوالے سے تنازعہ اب بھی ختم نہیں ہو رہا۔ عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے اس بل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ خان نے درخواست میں درخواست کی کہ وقف (ترمیمی) بل کو “غیر آئینی اور آئین کے آرٹیکل 14، 15، 21، 25، 26، 29، 30 اور 300-اے کی خلاف ورزی کرنے والا” قرار دیا جائے اور اسے منسوخ کیا جائے۔ اس سے پہلے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اے اے پی ایم ایل اے امانت اللہ خان نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ یہ بل آئین کے بہت سے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ خان کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلم کمیونٹی کے مذہبی اور ثقافتی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے حکومت کو من مانی کرنے کا اختیار ملتا ہے اور اقلیتوں کو اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے جمعہ کو وقف ترمیمی بل 2025 کی قانونی حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی دفعات کے خلاف ہے۔ جاوید کی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر “من مانی پابندیاں” فراہم کرتا ہے، جس سے مسلم کمیونٹی کی مذہبی خودمختاری کو نقصان پہنچے گا۔ ایڈوکیٹ انس تنویر کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے کیونکہ یہ پابندیاں عائد کرتا ہے جو دیگر مذہبی اوقاف میں موجود نہیں ہیں۔ بہار کے کشن گنج سے لوک سبھا کے رکن جاوید اس بل کے لیے تشکیل دی گئی جے پی سی کے رکن تھے۔ اپنی درخواست میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ بل میں یہ شرط ہے کہ کوئی شخص صرف اپنے مذہبی عقائد کی پیروی کی بنیاد پر ہی وقف کا اندراج کرا سکتا ہے۔

اس دوران اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے اپنی درخواست میں کہا کہ اس بل کے ذریعے وقف املاک کا تحفظ چھین لیا گیا ہے جبکہ ہندو، جین، سکھ مذہبی اور خیراتی اداروں کو یہ تحفظ حاصل ہے۔ اویسی کی درخواست، جو ایڈوکیٹ لازفیر احمد کے ذریعہ دائر کی گئی ہے، میں کہا گیا ہے کہ “دوسرے مذاہب کے مذہبی اور خیراتی اوقاف کے تحفظ کو برقرار رکھتے ہوئے وقف کو دیے گئے تحفظ کو کم کرنا مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی ہے، جو مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتی ہے۔” عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ ترامیم وقفوں اور ان کے ریگولیٹری فریم ورک کو دیے گئے قانونی تحفظات کو “کمزور” کرتی ہیں، جبکہ دوسرے اسٹیک ہولڈرز اور گروپوں کو ناجائز فائدہ پہنچاتی ہیں۔ اویسی نے کہا، ’’مرکزی وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی تقرری نازک آئینی توازن کو بگاڑ دے گی۔‘‘ آپ کو بتاتے چلیں کہ راجیہ سبھا میں 128 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 95 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا جس کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔ لوک سبھا نے 3 اپریل کو بل کو منظوری دی تھی۔ لوک سبھا میں 288 ارکان نے بل کی حمایت کی جبکہ 232 نے اس کی مخالفت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading

قومی

کیا نیا وقف بل مسلم کمیونٹی کے لیے فائدہ مند ہے…؟

Published

on

Waqf-Bill-2024

حکومت کی جانب سے حال ہی میں پیش کیا گیا نیا وقف بل ایک مرتبہ پھر مسلم کمیونٹی میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ اس بل کا مقصد ملک بھر میں وقف جائیدادوں کے بہتر انتظام، شفافیت، اور ان کے غلط استعمال کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم، اس بل پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں کہ آیا یہ واقعی مسلم کمیونٹی کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ نئے بل میں چند اہم نکات شامل کیے گئے ہیں، جیسے کہ وقف بورڈ کے اختیارات میں اضافہ، وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹل رجسٹری، اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت کارروائی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس بل کے ذریعے وقف اثاثوں کا تحفظ ممکن ہوگا اور ان سے حاصل ہونے والے وسائل کا استعمال تعلیم، صحت، اور فلاحی منصوبوں میں کیا جا سکے گا۔

تاہم، کچھ مذہبی و سماجی تنظیموں نے بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقف جائیدادیں خالصتاً مذہبی امور سے منسلک ہیں، اور حکومت کی براہِ راست مداخلت مذہبی خودمختاری پر اثر ڈال سکتی ہے۔ بعض افراد کا خدشہ ہے کہ یہ بل وقف جائیدادوں کی آزادی اور ان کے اصل مقصد کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، ماہرین قانون اور کچھ اصلاح پسند رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر بل کو ایمانداری سے نافذ کیا جائے تو یہ مسلم کمیونٹی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ وقف اثاثے، جو اب تک بد انتظامی یا غیر قانونی قبضوں کی نظر ہوتے آئے ہیں، ان کے بہتر انتظام سے کمیونٹی کی فلاح و بہبود ممکن ہے۔

پرانے اور نئے وقف بل میں کیا فرق ہے؟
پرانا وقف قانون :
پرانا وقف قانون 1995 میں “وقف ایکٹ 1995” کے تحت نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک میں موجود لاکھوں وقف جائیدادوں کا بہتر انتظام اور تحفظ تھا۔
اس قانون کے تحت:

  • ریاستی وقف بورڈز قائم کیے گئے۔
  • وقف جائیدادوں کے انتظام کی ذمہ داری وقف بورڈ کے سپرد کی گئی۔
  • وقف کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی۔
  • متولی (منتظم) کی تقرری بورڈ کی منظوری سے ہوتی تھی۔

تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ اس قانون میں عمل درآمد کی کمزوریاں سامنے آئیں۔ وقف املاک پر غیر قانونی قبضے، بدعنوانی، اور غیر مؤثر نگرانی جیسے مسائل بڑھتے چلے گئے۔
نیا وقف بل :
نئے وقف بل میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کا مقصد وقف نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ ان میں شامل ہیں :

  • ڈیجیٹل رجسٹری : تمام وقف جائیدادوں کی آن لائن رجسٹری اور ان کی نگرانی کا نظام۔
  • مرکزی ڈیٹا بیس : ایک قومی سطح کا وقف پورٹل بنایا جائے گا جہاں تمام معلومات دستیاب ہوں گی۔
  • غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی : قبضے کی صورت میں فوری انخلا کے لیے قانونی اختیار دیا گیا ہے۔
  • انتظامی شفافیت : وقف بورڈ کی کارروائیوں کو شفاف بنانے اور آڈٹ سسٹم کو سخت بنانے کی تجویز۔
  • شکایتی نظام : عوام کے لیے ایک فعال شکایت سیل کا قیام تاکہ وقف سے متعلق بدعنوانی یا زیادتیوں کی شکایت کی جا سکے۔

فرق کا خلاصہ:
| پہلو… | پرانا وقف قانون (1995) | نیا وقف بل (2025)
1995 رجسٹریشن | دستی رجسٹری |
2025 ڈیجیٹل رجسٹری و قومی پورٹل |
1995 نگرانی | ریاستی سطح پر |
2025 قومی سطح پر نگرانی و ڈیٹا بیس |
1995 شفافیت, محدود |
2025 بڑھتی ہوئی شفافیت و آڈٹ سسٹم |
1995 قبضہ ہٹانے کا نظام | پیچیدہ قانونی طریقہ کار |
2025 فوری قانونی کارروائی کا اختیار |
1995 عوامی شمولیت | کمزور شکایت نظام |
2025 فعال شکایتی نظام |

نئے وقف بل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، شفافیت میں اضافہ اور انتظامی اصلاحات جیسے مثبت پہلو نمایاں ہیں۔ تاہم، کچھ ماہرین اور مذہبی حلقوں کو اندیشہ ہے کہ حکومت کی بڑھتی ہوئی مداخلت کہیں خودمختاری کو متاثر نہ کرے۔ بل کے اصل اثرات اس کے نفاذ اور عملدرآمد کے طریقہ کار پر منحصر ہوں گے۔ فی الحال، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے لیے مکمل طور پر فائدہ مند ہوگا یا نہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ بل کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے، اور کمیونٹی کی رائے کو کس حد تک شامل کیا جاتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com