Connect with us
Tuesday,31-March-2026

سیاست

ڈاکٹر ظفرالاسلام کیخلاف بغاوت کا مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ

Published

on

ملک کی سرکردہ شخصیات نے ایک بیان کی وجہ سے نزاع میں گھرے دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین، ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مبینہ کردارکشی کی سخت مذمت کی ہے۔
ایک سے زیادہ ملی دانشوروں، علماء اور اہم شخصیات نے یہاں جاری ایک مشترکہ بیان میں یہ کہتے ہوئے کہ اسلامی اسکالر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی پوری زندگی ملک وملت کی خدمت سے عبارت ہے ان کے خلاف ملک دشمنی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کرنے کو قطعی ناقابل فہم قرار دیا۔ دستخط کنندگان نے ان کے “میڈیا ٹرائل” کی بھی شدید مذمت کی اور استدلال کیا ہے کہ انہیں جس فیس بک پوسٹ کی بنیاد پر نشانہ بنایا جارہا ہے، وہ دراصل ہندتوا طاقتوں کی طرف سے مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنانے کے خلاف تھی جس میں حکومت کویت کے اس موقف کی تائید کی گئی تھی جو اس نے شمال مشرقی دہلی کے مسلم کش فساد کی مذمت اور مظلومین کے حق میں اختیار کیا تھا۔
مشترکہ بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ متنازعہ پوسٹ میں ہندوستان یا یہاں کی حکومت کے بارے میں کچھ نہیں تھا۔ میڈیا پر جان بوجھ کر ان کی شبیہ مسخ کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھیں ایسے فرضی بیان کی آڑمیں نشانہ بنایا جارہا ہے جو انھوں نے دیا ہی نہیں ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس اور حکومت کو کوئی بھی قدم آگے بڑھانے سے پہلے ڈاکٹر ظفرالاسلام خان اور ان کی قومی وملی خدمات کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہئے تاکہ ان کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہ ہو اورشر پسند اپنا کھیل کھیلنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔
کیونکہ بعض نیوز چینل اور دستخط کنندگان نے بعض سیاسی عناصر پر اسلام اور مسلم دشمنی کا الزام لگاتے ہوے کہا کہ وہ لوگ ڈاکٹر خان کو ملک دشمن اور ہندو دشمن قرار دینے کی مذموم کوشش کررہے ہیں جبکہ انھوں نے اپنی پوسٹ میں بعض ہندتوا عناصر کو شر پسند گردانتے ہوئے ان کی مذمت کی تھی او کہا تھا کہ وہ پوری دنیا میں ملک کی سیکولر جمہوریت کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔
بیان میں ہندوستان کے حالات پر انسانی حقوق کے بین الاقوامی کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں ہندوستان کا درجہ گھٹا دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کی شناخت ملک گیر سطح پر انسانی حقوق کے ایک بے لوث خادم کی ہے اور انھوں نے ہمیشہ دستور کی آزادی اور اس کی اقدار کا دفاع کیا ہے۔انھوں نے اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور دہلی میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا دفاع کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔ہم حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کے خلاف جاری “منافرانہ” مہم پر لگام لگائے او ر ایک قانون کے پابند شہری کی حیثیت سے ان کے شہری حقوق کاتحفظ کیا جائے اور ان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر منسوخ کی جائے۔ یہ بھی واضح رہنا رہنا چاہئے کہ ہندوستان ایک جمہوری اسٹیٹ ہے نہ کہ پولیس اسٹیٹ اور جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔
بیان پر دستخط کرنے والوں میں محمدادیب(سابق ممبرپارلیمنٹ)مولاناانیس الرحمن قاسمی(سابق ناظم امارت شرعیہ بہارواڑیسہ)پروفیسر اخترالواسع(صدر مولاناآزادیونیورسٹی، جودھپور)ڈاکٹر قاسم رسول الیاس(صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)پروفیسر محسن عثمانی ندوی(صدر مولاناعلی میاں ویلفیئر بورڈ)مفتی عطاالرحمن قاسمی(سابق رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)معصوم مرادآبادی(سیکریٹری آل انڈیا اردو ایڈیٹرس کانفرنس)پروفیسرعلی جاوید(سابق استاد شعبہ اردوہلی یونیورسٹی)انیس درانی(کالم نگار)نیلوفر سہروردی(کالم نگار)زیڈ کے فیضان(ایڈووکیٹ سپریم کورٹ) اور دوسرے شامل ہیں۔

سیاست

راگھو چڈھا نے پارلیمنٹ میں پیٹرنٹی چھٹی کا مسئلہ اٹھایا، دیکھ بھال کرنا صرف ماں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ باپ کی بھی ذمہ داری ہے۔

Published

on

نئی دہلی: ہندوستان میں پیٹرنٹی چھٹی کو قانونی حق بنانے کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے، عام آدمی پارٹی کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن راگھو چڈھا نے کہا کہ ہندوستان میں صرف ماں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ایک بڑی سماجی اور قانونی خرابی ہے۔ چڈھا نے کہا کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو والدین دونوں کو مبارکباد ملتی ہے لیکن بچے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری پوری طرح ماں پر ڈال دی جاتی ہے۔ انہوں نے اسے “معاشرتی ناکامی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا نظام صرف زچگی کی چھٹی کو تسلیم کرتا ہے، جب کہ والد کے کردار کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں مطالبہ کیا کہ پیٹرنٹی چھٹی کو قانونی حق بنایا جائے تاکہ باپ کو اپنے نوزائیدہ بچے اور بیوی کی دیکھ بھال کے لیے اپنی ملازمت اور خاندان میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔ راگھو چڈھا نے کہا، “9 ماہ کے حمل کے بعد، ایک ماں کو نارمل یا سیزیرین ڈیلیوری جیسے مشکل عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں اسے دوائیوں کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی مدد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔” راجیہ سبھا کے رکن راگھو چڈھا نے بھی واضح کیا کہ شوہر کی ذمہ داری صرف بچے تک محدود نہیں ہے۔ بیوی کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اس وقت شوہر کی موجودگی عیش و عشرت نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ فی الحال صرف مرکزی حکومت کے ملازمین کو 15 دن کی پیٹرنٹی چھٹی ملتی ہے، جب کہ نجی شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کو یہ حق حاصل نہیں ہے۔ ہندوستان کی تقریباً 90 فیصد افرادی قوت نجی شعبے میں کام کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ تر باپ اس سہولت سے محروم ہیں۔ مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے راگھو چڈھا نے کہا کہ سویڈن، آئس لینڈ اور جاپان جیسے ممالک میں قانونی طور پر 90 دن سے 52 ہفتوں تک کی چھٹی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ قانون کو معاشرے کا آئینہ ہونا چاہیے اور اس میں یہ صاف نظر آنا چاہیے کہ بچے کی دیکھ بھال صرف ماں کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ماں اور باپ دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی کے ہوٹل سے بی سی سی آئی کے براڈکاسٹ انجینئر کی لاش برآمد، پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔

Published

on

ممبئی: ممبئی کے ٹرائیڈنٹ ہوٹل میں اس وقت کہرام مچ گیا جب آئی پی ایل میچ دیکھنے آئے غیر ملکی مہمان کی لاش اس کے کمرے سے ملی۔ مرنے والے کی شناخت برطانوی شہری یان ولیمز لیگفورڈ کے نام سے ہوئی ہے جو بی سی سی آئی کے براڈکاسٹ انجینئر تھے۔ یان 24 مارچ سے ٹرائیڈنٹ ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے اور آئی پی ایل میچوں کی نشریات سے متعلق کام کے سلسلے میں ممبئی آئے تھے۔ 29 مارچ کو میچ ختم ہونے کے بعد وہ اپنے کمرے میں واپس آیا۔ اس کے بعد، جب 30 مارچ کو ہوٹل کے عملے نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ مشکوک، ہوٹل کے عملے نے ماسٹر چابی کا استعمال کرتے ہوئے دروازہ کھولا۔ اندر داخل ہونے پر انہوں نے یان کو فرش پر پڑا پایا۔ ہوٹل انتظامیہ کو فوری طور پر واقعے کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد اسے قریبی اسپتال لے جایا گیا۔ وہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی میرین ڈرائیو پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور معاملے کی تفتیش شروع کردی۔ پولیس نے حادثاتی موت کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر نہیں ہوا ہے کہ کوئی غیر اخلاقی کھیل یا بیرونی چوٹیں ہیں۔ تاہم موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش میں تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ واقعے کے بارے میں مکمل معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ہوٹل کے عملے اور متعلقہ افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد ہوٹل میں مقیم دیگر مہمانوں اور عملے میں تشویش کی فضا ہے۔ فی الحال، پولیس کیس کی ہر زاویے سے تحقیقات کر رہی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے، جس سے موت کی وجہ سامنے آسکتی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : اے ٹی ایم سینٹر پر بزرگوں کو ہدف بنانے والا دھوکہ باز گرفتار، ۲۵ اے ٹی ایم کارڈ اور نقدی بھی برآمد

Published

on

ممبئی : ممبئی اڑیسہ سے ممبئی آکر اے ٹی ایم مشین سے بزرگوں کوپیسہ نکالنے کے نام پر دھوکہ دینے والے ملزم کو ممبئی پولس نے بے نقاب کیا ہے یہ گزشتہ چار سال سے مطلوب تھا ڈنڈوشی پولس نے اسے گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ وشواس سدانند ۵۱ سالہ نے شکایت درج کروائی کہ وہ جب ملاڈ میں واقع اے ٹی ایم سینٹر سے پیسہ نکالنے گئے تو ایک مشتبہ شخص نے ان کی مرضی کے برخلاف اے ٹی ایم سے چالیس ہزار روپے نکال لئے اس معاملہ میں پولس نے شکایت کنندہ کی شکایت پر کیس درج کر لیا پولس نے اس معاملہ میں ۶۰ سے ۷۰ سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور پھر اس فوٹیج اور مخبر کی اطلاع پر پولس نے نائیگاؤں سے کرشن چندر آچاریہ کو زیر حراست لیا اور اس کی تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے ۲۵ اے ٹی ایم کارڈ، نقدی برآمد ہوئی پولس نے ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اسے ریمانڈ پر رکھنے کا حکم عدالت نے صادر کیا ہے اس مقدمہ میں گرفتاری کے بعد اس کے خلاف مزید چار معاملات کا انکشاف ہوا ہے پولس کے مطابق ڈنڈوشی اور کستوربا مارگ میں بھی اس پر کل چار معاملات درج ہے اور وہ اس میں بھی مطلوب ہے یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر کی گئی اور ڈی سی پی مہیش چمٹے کی اس ملزم کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کئے تھے یہ ملزم ممبئی، تھانہ، اڑیسہ میں اس قسم کی جرائم کی وارداتیں انجام دیا کرتا تھا پولس اس معاملہ میں مزید تفتیش کرُرہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان