Connect with us
Friday,20-March-2026

(جنرل (عام

سیکولر امیدواروں کی شکست معمولی فرق سے ممکن : تجزیاتی رپورٹ

Published

on

muslim

ممبئی:شہر سمیت مہاراشٹر میں متعدد ایسے اسملی حلقے ہیں ،جن کے رائے دہندگان اگر بہتر اور منصوبہ انداز میں حق رائے دہی کا استعمال کریں تو کسی بھی پارٹی کے اقلیتی امیدوار اسمبلی کے ایوان میں آسانی سے داخل ہوسکتے ہیں۔اس سلسلے میں ایک غیرجانبدار تنظیم نے ممبئی سمیت تقریباً 14 اسمبلی انتخابی حلقوں کا جائزہ لیا اور اس کے نتیجے میں انکشاف ہوا کہ ان حلقوںسے اقلیتی امیدوارباآسانی کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔اسمبلی الیکشن کے اعلان سے قبل چند معززشہریوں کے ایک گروپ نے اس سمت میں کوشش کی تھی ،لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ،بلکہ اگر ان مسلم اکثریتی حلقوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ان حلقوںمیں امیدواروں کی بھر مار ہے اور ووٹوں کی تقسیم ہوگی اور سیکولر امیدواروں کی شکست یقینی ہے۔ مذکورہ انتخابی سروے کے روح رواںاور ایک کالج میں لیکچرار ریحان انصاری کے مطابق ممبئی کے متعدد حلقوں کے ساتھ ساتھ بھیونڈی بھی اس فہرست میں شامل ہے۔جوکہ ممبئی کا ایک نزدیکی اسمبلی حلقہ ہے اور اسمبلی میں مسلم نمائندگی کے لیے مشہورہے۔ ان اسمبلی حلقوں میں تقریباً 2.5 لاکھ اہل ووٹرز ہیں، لیکن چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ آبادی کا نصف حصہ ہی الیکشن کے روز ووٹنگ کے لیے ووٹ ڈالنے کے لیے گھروںسے باہر آتا ہے ۔ممبئی کے شمال مغربی اسمبلی حلقہ ورسوا میں جوکہ ایک متمول علاقہ ہے ووٹنگ محض 39 فیصد ہوئی ہے اور ممبئی شہرمیں زیادہ سے زیادہ 55 فیصدووٹنگ بائیکہ اسمبلی حلقہ میں ریکارڈ ہوئی ہے۔ممبئی میں متعددحلقوںمیںسیکولر امیدواروں کو بی جے پی سے شکست کا سامنا کرنا پڑااور فرق کافی کم رہا ہے۔ دراصل دیگر سیکولر پارٹیوں کے اتنے امیدوارمیدان میں اترگئے کہ یہ اہم سیکولرپارٹیوں کے امید وارو ںکے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر میں انڈین نیشنل کانگریس پارٹی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)اتحاد پر مشتمل بڑی سیکولر پارٹیاں ہیں جوکہ اگر جنوبی ہند کی ایم آئی ایم اور شمالی ہند کی سماجوادی پارٹی(ایس پی) جیسی چھوٹی جماعتوں کے استھ انتخابی سمجھوتہ کرلیں تو یہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔فی الحال ممبئی میں سات اسمبلی کامیاب ایم ایل اے کا تعلق سیکولر پارٹیوں سے ہے اور اگر منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے اقدام کیے جائیں تو موجودہ 7 جیتنے والوں کی تعداد 14 سے تجاوز ہوسکتی ہے۔اس کے لیے کسی بھی سیکولرپارٹی کے امیدوار کا انتخاب کیا جائے اور یکطرفہ ووٹ دیا جائے تو اس کی کامیابی یقینی ہے ۔ریحان انصاری کا خیال ہے کہ اگر موجودہ اوسطاً 50 فیصدپولنگ کا فیصد 5سے 10بڑھایا جائے تو سیکولرامیدوار کو آسانی سے کامیابی مل سکتی ہے۔بلکہ ایسے حلقہ جیت کے ضامن ہوںگے۔ اس کے لیے عوام کومناسب انداز میں ووٹ دینے کے لیے بیداری پیدا کی جائے تاکہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم روکی جاسکے ۔بدقسمتی یہ ہے کہ چھوٹی سیکولر جماعتیں کانگریس کے امیدواروںکو نقصان پہنچاتی ہے اور فی الحال پانچ حلقوں میں یہی ہونے والا ہے ، ان حلقوںمیںایم آئی ایم کے امیدوار میدان میں ہیں ،ایم آئی ایم نے 2014 میں یہاں سے انتخاب نہیں لڑا تھا ۔ ایسے میں ایک دوسرے کی حمایت کو یقینی بنانا ہے۔فی الحال جنوبی ممبئی میں ممبادیوی حلقہ سے کانگریس کے امین پٹیل ،بائیکلہ سے ایڈوکیٹ وارث پٹھان ،دھاراوی حلقہ سے کانگریس کی ورشا گائیکواڑ، چاندولی حلقہ سے سابق وزیراور اسمبلی کے ڈپٹی لیڈر عارف نسیم خان اور مالونی سے کانگریس کے ہی اسلم اور گوونڈی سے سماج وادی پارٹی کے ابوعاصم اعظمی کامیاب ہوئے تھے اور اب انہیں سخت آزمائش کا سامنا ہے ۔کیونکہ دیگر چھوٹی سیکولر پارٹیوں نے بھی ہر ایک حلقے میں امیدوار میدان میں اتار دیئے ہیں۔

جرم

ممبئی : باندرہ بی کے سی پاسپورٹ آفس کو بم سے اڑانے کی دھمکی، تلاشی کے دوران کوئی بھی دھماکہ خیز مادہ برآمد نہیں، علاقہ میں الرٹ جاری

Published

on

Bomb-Disposal-Team

ممبئی : باندرہ بی کے سی میں بم کی دھمکی کے بعد سنسی پھیل گئی ہے ۔ای میل میں 19 سائینائیڈ بم نیوکلیر بم ممبئی کے بی کے سی میں پاسپورٹ آفس میں نصب ہونے کی ای میل موصول ہونے کے بعد علاقے میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ پولیس کو فوری طور پر اس ای میل کی اطلاع ملنے کے بعد بم ڈسپوزل اور بم ڈسپوزل ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں پاسپورٹ آفس میں بم کی دھمکی ملنے کے بعد ہنگامہ برپاہو گیا۔ یہ دھمکی ای میل کے ذریعے دی گئی ہے۔ پاسپورٹ آفس اور بیت الخلاء میں سائینائیڈ سے بھرے 19 بموں کی تنصیب کی دھمکی دی گئی۔ ای میل موصول ہونے کے بعد خوف و دہشت پیدا ہوگئی دھمکی آمیز ای میل میں کہا گیا کہ بم آج دوپہر 1.30 بجے پھٹ جائیں گے۔ اس دھمکی آمیز ای میل کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ موقع پر پہنچ گیا۔ پورے علاقے کو خالی کرا لیا گیا ہے اور بم اسکواڈ نے تلاشی لی لیکن کچھ نہیں ملا۔ اس لیے پولیس اس ای میل کی تفصیلات لے رہی ہے جس کے ذریعے یہ دھمکی بھیجی گئی تھی۔ ممبئی پولیس پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے۔

: تین ای میل آئی ڈیز پر دھمکی آمیز میل
بدھ کو، بی کے سی میں پاسپورٹ آفس کو تین دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئے۔ جس میں پاسپورٹ آفس اور بیت الخلاء میں رکھے گئے 19 سائینائیڈ بم دوپہر 1.30 بجے پھٹنے کی دھمکی دی گئی۔ دھمکی آمیز میل Sourav_biswas21@hotmail.com، rpo.mumbai@mea.gov.in اور rpo.mumbai@cpo.gov.in ای میل پتے پر موصول ہوئی تھی۔ اس کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں اور ممبئی پولیس کو فوری طور پر اس کی اطلاع دی گئی۔ اطلاع ملنے پر سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی شروع کردی۔ بی کے سی پولیس اسٹیشن کے سینئر افسران، اے ٹی ایس کی ٹیم اور یونٹ 8 کے افسران فوراً موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے پورے علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔

: شہریوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل
بم ڈسپوزل اور بم ڈسپوزل ٹیم نے احتیاطی تدابیر کے طور پر پاسپورٹ آفس کی لابی، مرکزی داخلی دروازے، داخلی اور خارجی راستوں، علاقے میں موجود درختوں اور جھاڑیوں اور تمام اطراف کے علاقوں کا مکمل معائنہ کیا۔ خوش قسمتی سے اس معائنہ میں انہیں کوئی مشکوک یا قابل اعتراض چیز نہیں ملی۔ پھر بھی پولیس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے شہریوں سے چوکس رہنے کی اپیل کی ہے۔ ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کہیں بھی کوئی مشکوک چیز نظر آئے تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔

جعلی دھمکی آمیز ای میلز بھی اکثر بھیجی جاتی ہیں۔ ایسی جعلی ای میلز خوف کی فضا پیدا کرتی ہیں۔ اس کو روکنے کے لیے سائبر پولیس نے ای میل آئی ڈی کے بارے میں مزید معلومات جمع کرنا شروع کر دی ہیں۔ پاسپورٹ آفس کے سیکورٹی اہلکاروں کو بھی چوکس رہنے اور حفاظتی معیارات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا : ہندو سکل سماج کارکن اور خوانچہ فروشوں میں تصادم، بی ایم سی آپریشن کے دوران مار پیٹ، دو مشتبہ افراد حراست میں، پولیس الرٹ

Published

on

street-vendor-police

ممبئی : ممبئی کے کرلا علاقہ میں گزشتہ شب بی ایم سی عملہ کے ہمراہ ایک ہندو سکل سماج کے رضا کار پر حملہ کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ کرلا پولیس نے متاثرہ کی شکایت پر معاملہ درج کر لیا ہے. اس معاملہ میں پولیس نے دو افراد کو زیر حراست بھی لیا ہے پولیس نے بتایا کہ گزشتہ شب 7 بجکر 41 منٹ پر کرلا آکاش گلی میں بی ایم سی کی کارروائی جارہی تھی اور اس رضا کار نے اس غیر قانونی خوانچہ فروش کی شکایت کی تھی, جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا فی الوقت حالات پرامن ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے۔

کرلا میں خوانچہ فروشوں کے خلاف بی ایم سی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی جاری ہے ایسے میں ہندوسکل سماج اور خوانچہ فروشوں میں تصادم کو ہندو مسلم رنگ دینے کی کوشش بھی شروع ہوگئی ہے جبکہ پولیس نے اس سے انکار کیا ہے آج بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے متاثرہ اکشے کی بھابھا اسپتال میں جاکر عیادت کی اتنا ہی نہیں اس معاملہ میں کی کارروائی پر بھی سوال اٹھایا ہے انہوں نے پولیس کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کریٹ سومیا نے شرانگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوانچہ فروش مسلم بنگلہ دیشیوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا, اتنا ہی نہیں انہوں نے کہا کہ کرلا اسٹیشن پر پولیس اور بی ایم سی کے سازباز و ملی بھگت کے سبب پھیری والوں ہاکروں خوانچہ فروشوں پر کارروائی میں تال مل کیا جاتا ہے, یہی وجہ ہے کہ یہاں ہاکرس کی غنڈہ گردی بڑھ گئی ہے. ایک ماہ قبل ہی خوانچہ فروشوں نے مل کر نوجوانوں پر حملہ کر دیا ان کے سر پر چوٹ آئی تھی. اس کے ساتھ ہی بھانڈوپ میں بی ایم سی افسران و اہلکاروں ور لوکھنڈوالا میں بھی اہلکاروں پر حملہ کیا گیا ہے. انہوں نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ ممبئی میں مسلم بنگلہ دیشی ہاکروں کے سبب اس قسم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے. اس لئے مسلم بنگلہ دیشی خوانچہ فروشوں پر سخت کارروائی ہو, انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشیوں اور پھیری والوں کے خلاف ان کی مہم جاری رہے گی۔ کریٹ سومیا نے کہا کہ اکشے اپنی بہن کے ساتھ کرلا اسٹیشن کی جانب جارہا تھا کہ اچانک پھیری والوں سے اس کی حجت ہوئی اور پھر اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا, کرلا میں اس واقعہ کے بعد پولیس نے الرٹ جاری کردیا ہے. ساتھ ہی آکاش گلی میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ کرلا پولیس اسٹیشن کے سنیئر انسپکٹر وکاس مہمکر نے کہا کہ آکاش گلی میں مارپیٹ کے واقعہ کے بعد پولیس نے کارروائی کر دی ہے, حالات پرامن ہے اور سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد پولیس الرٹ ہوگئی ہے, جبکہ کشیدگی کے بعد صورتحال پرامن ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونہ لب جھیل : مسلم نوجوانوں پر تشدد، حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی ہو، ابوعاصم اعظمی کا خاطیوں پر کیس درج کرنے کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : پونہ سسورڈ لب جھیل میں مسلم نوجوانوں پر افطار کے دوران مسلح سو سے دو سو حملہ آوروں کا حملہ انتہائی تشویشناک ہے اس حملہ کے بعد پولیس کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں پر زور مطالبہ کیا ہے کہ خاطیوں شرپسندوں پر سخت کارروائی کی جائے اور ان پر اقدام قتل کا کیس درج ہو, کیونکہ ان مسلم نوجوانوں پر ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا, اس کے باوجود پولیس نے معمولی دفعات میں کیس درج کیا ہے, جو سراسر غلط ہے. آج حالات انتہائی خراب ہوگئے ہیں, اگر کوئی باہر نماز ادا کرتا ہے تو اس پر حملہ کیا جاتا ہے ماضی میں مسجد کے باہر ہندو عورتیں اپنے بچوں کو لے کر کھڑا ہوجایا کرتی تھی کہ نمازی سے اپنے بچوں کیلئے دعا کروائیں اور وہ بچے کے سر پر پھونک مارتے تھے, لیکن اب نماز پڑھنے پر واویلا مچایا جاتا ہے. اس کے ساتھ ہی تشدد کیا جاتا ہے انہو ں نے کہا کہ شیواجی مہاراج کے اصولوں پر ریاست کا کام کاج چلے گا یہ دعوی کیا جاتا ہے, لیکن آج حالات کچھ اس طرح سے کہ منہ میں رام بگل میں چھری والا معاملہ ہوگیا ہے. انہوں نے کہا کہ یہ غنڈہ گردی بند ہونی چاہئے اور میں یہاں اسمبلی میں ہوں اور نماز کا وقت ہوجائے تو میں کہاں نماز ادا کروں گا. اسی طرح سے اگر کوئی کھیت میں ہے تو وہاں نماز ادا کرتا ہے جو جس جگہ ہے وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہئے, لیکن آج حالات کچھ اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں کی عبادت پر اعتراضات کئے جاتے ہیں جو سراسر غلط ہے, اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے اور جو کوئی ماحول خراب کرتا ہے, اس پر سخت کارروائی ہونی چاہئے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان