Connect with us
Friday,14-August-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

خانقاہ رحمانی کے قدیم متوسل اور ذاکر و شاغل بزرگ حضرت مولانا محمد حنیف کی رحلت

Published

on

(خیال اثر)
گزشتہ کل ۱۴۴۲؁ دیر رات کو حافظ محمد امتیازر حمانی (ناظم دارالاشاعت خانقاہ رحمانی مونگیر)کے ذریعے یہ اطلاع ملی کہ خانقاہ رحمانی کے قدیم متوسل اور ذاکر و شاغل بزرگ حضرت مولانا محمد حنیف رحمانیﷲ تعالی کو پیارے ہو گئے ،اناللّٰہ وانا الیہ راجعون
اس تعلق سے اظہار تعزیت پیش کرتے ہوئے خلیفہ حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی مدظلہ حضرت مولانا عمیرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ حضرت مولانا محمد حنیف رحمانی خانقاہ رحمانی کے وابستگان میں نمایاں عالم دین تھے ،اور یکسوئی کے ساتھ ذکر وفکر کا اہتمام کرنے والے شخص تھے،ان کا بیعت کا تعلق پہلے امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد منت ﷲ رحمانیؒ سے رہا اور اس کے بعد انہوں نے شیخ طریقت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم سے تجدیدِ بیعت کی اور ان کی رہنمائی میں سلوک کے مراحل طے کرتے رہے،وہ بڑے یکسو متواضع منکسر المزاج اورصاحب اخلاق شخص تھے،ذکر،نوافل اور تلاوت کا انہیں خاص ذوق تھا،روزانہ دس پارے تلاوت کا معمول تھا،رات کو جلد اٹھ کر تلاوت میں مشغول ہوجاتے تھے،اور بیماری اور صحت دونوں حالتوں میں تلاوت کا معمول پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے،ان کے چہرے کی نورانیت اس بات کی گواہی دیتی تھی کہ راتوں کو اٹھ کرﷲتعالی کی یاد اور اس سے مناجات کا خاص ذوق انہیں حاصل ہے،خانقاہ رحمانی کی مسجد میں ان سے ملاقات کا بارہا شرف حاصل ہوا،اور ایک مرتبہ ان کے صاحب زادے گرامی مولانا محمد صبغۃﷲصاحب زید مجدہم (خلیفہ حضرت حکیم کلیم ﷲصاحب ہردوئی)کی دعوت پر ان کے گاؤں گڑھی ضلع جموئی جانے اور ان کے قائم کردہ مدرسے کو دیکھنے کی عزت حاصل ہوئی ،مولاناصبغتہﷲصاحب بھی کارگزار اور مستعد عالم دین ہیں،حضرت مولانا محمد حنیف رحمانی کی تربیت کا پر تو ان کی زندگی میں نظر آتا ہے۔مولانا مرحوم نے لانبی عمر پائی،ان کی پیدائش ۱۹۳۴ ء کی تھی،اس لحاظ سے چھیاسی سال کی عمر ہوئی،انہوں نے جامعہ رحمانی مونگیر میں مشکوۃ تک تعلیم پائی،اس زمانے میں جامعہ رحمانی میں دورٔحدیث کی تعلیم کا نظم نہیں تھا ،اس لیے حضرت امیر شریعت مولانا منتﷲ رحمانی نورﷲمرقدہ کے حکم سے ان کا خط لے کر مولانا مرحوم مدرسہ شاہی مرادآباد چلے گئے،اور وہیں سے دور حدیث کی تکمیل کرکے سند فراغت حاصل کی ،فراغت کے بعد چند سال امامت کرتے رہے،پھر جھریا ضلع دھنباد میں ایک مدرسے میں تدریس اور اہتمام کی ذمہ داری نبھائی ،اس کے بعد گڑھی ضلع جموئی میں ۱۹۷۲ء میں مدرسہ روح العلوم کی بنیاد رکھی،اور تادم زیست اس مدرسے کی خدمت کرتے رہے،ماشاءﷲ اس ادارے نے مولانا مرحوم کے اخلاص اور ان کے صاحبزادے مولانا صبغۃﷲ کی محنت سے ترقی کی ،اور علاقے کے لیے دینی علوم کی خدمت کا مرکزبنا ،ﷲتعالی اس چمنستان علم کو ہمیشہ سدا بہار رکھے۔
آپ نے مزید کہا کہ حضرت مولانا محمد حنیف رحمانیؒ کی زندگی کا یہ پہلو بھی قابل رشک تھا کہ وہ پابندی سے خانقاہ رحمانی حاضر ہوا کرتے تھے اور بڑی یکسوئی سے وہاں وقت گزارتے تھے،انہیں نہ کسی امتیاز ی مقام کی تلاش ہوتی تھی اور نہ بہتر قیام و طعام کے وہ خواہاں ہوتےتھےمسجد کے گوشے میں ٹھہر جاتے اور یاد الٰہی میں مشغول رہتے،باوجود معمر اور سن رسیدہ ہوجانے کے کسی کی خدمت قبول نہیں فرماتے ،اپنے کاموں کو خود اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے تھے،اور اس طرح شب وروز گزارتے تھے کہ کوئی ناواقف دیکھ کر اندازہ نہیں کرسکتا تھا کہ یہ جید عالم دین اور اپنے علاقے کی ممتاز شخصیت ہیں۔
مولانا مرحوم کو اپنے مرشد گرامی شیخ طریقت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت بر کاتہم سے بڑا والہانہ تعلق تھا ،جب گفتگو میں حضرت اقدس کا ذکر آتا تو ان کے لب و لہجے کی مٹھاس بڑھ جایا کرتی تھی،اب ایسے ذاکر و شاغل خاموش مزاج اور متواضع علماءکی بڑی کمی ہوتی جارہی ہے، مولانا مرحوم نے جس طرز وانداز کی زندگی گزاری اور جن مومنانہ صفات کے ساتھ انہوںنے اپنی زندگی کے شب وروز بتائےﷲتعالی نے اس کا یہ اثر دنیا ہی میں ظاہر فرمایاکہ انہیں قابل رشک خاتمہ نصیب ہوا اور نماز مغرب کی ادائیگی کرتے ہوئے سجدے کی حالت میں وفات پائی،حدیث شریف میں یہ بات ہے کہ سجدے کی حالت میں انسان اپنےپروردگار سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے،جس بندے نے زندگی بھر قرب الٰہی کے حصول کا اہتما م کیااور اس راہ میں اپنے آپ کو مٹادیاﷲتعالی نے قرب اور نزدیکی کے اعلی مراتب سے نہ صرف یہ کہ انہیں نوازا بلکہ دنیا والوں پر ان کے مقام بلند کا اظہار ان کے حسن خاتمہ کے ذریعے فرمایا،مولانا مرحوم کی رحلت سے دل غمزدہ ہے اور ایک بھلے اور مومنانہ صفات کے حامل انسان کی رحلت پر آنکھیں اشکبار ہیں،دعا ہے کہﷲتعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے،کروٹ کروٹ ان کوجنت نصیب فرمائے،اور انہیں مراتب بلند نصیب فرمائے،اور ان کے پسماندگان بالخصوص حافظ روحﷲ صاحب اور مولانا صبغۃﷲ صاحب اور دیگر اہل خانہ کو صبرجمیل نصیب فرمائے(آمین)

ممبئی پریس خصوصی خبر

گوونڈی بی ایم سی ‘ممبئی پبلک اسکول، شیواجی نگر انگلش اسکول نمبر 01’ میں جونیئر کے جی سے گریڈ 4 کے لیے داخلے مطلوب

Published

on

SCHOOL

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ممبئی پبلک اسکول، شیواجی نگر اسکول کمپلیکس نمبر 4، باجی پربھو دیش پانڈے مارگ، شیواجی نگر مارکیٹ کے قریب، ممبئی (04 ڈبلیو)، گوونڈی 04، ممبئی پبلک اسکول، شیواجی نگر اسکول کمپلیکس نمبر 4، میں نئی ​​تعمیر شدہ عمارت میں ‘ممبئی پبلک اسکول، شیواجی نگر انگلش اسکول نمبر 01’ کے نام سے ایک انگلش میڈیم اسکول شروع کیا ہے۔

یہ اسکول مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کے نصاب کی پیروی کرتا ہے اور جونیئر کے جی سے گریڈ 4 تک کلاسز کا انعقاد کرے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس وقت گوونڈی اور آس پاس کے علاقوں میں غیر مجاز اسکولوں میں زیر تعلیم طلباء کو ترجیحی داخلہ دیا جائے گا۔ سیٹوں کی تعداد محدود ہونے کی وجہ سے بی ایم سی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ زیادہ سے زیادہ والدین سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس سہولت سے استفادہ کریں۔

خواہشمند والدین داخلہ کے لیے درج ذیل پتے پر رابطہ کریں
پتہ : پہلی منزل، ممبئی پبلک اسکول، شیواجی نگر اسکول کمپلیکس نمبر 4، باجی پربھو دیشپانڈے مارگ، شیواجی نگر مارکیٹ کے قریب، گوونڈی (مغربی)، ممبئی – 400 043۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘ایف-ساؤتھ’ اور ‘ایچ-ایسٹ’ وارڈوں کی طرف سے کی گئی کارروائی، دادر اور سانتا کروز علاقوں میں 15 دکانیں ہٹا دی گئیں

Published

on

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کی ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ راہگیر پہلے مہم کے ایک حصے کے طور پر سخت کارروائی کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فٹ پاتھوں سے رکاوٹیں ہٹانا اور پیدل چلنے والوں کے لیے چلنے کے قابل بنانا ہے۔ اس اقدام کے تحت، دادر کے علاقے (‘ایف-ساؤتھ’ وارڈ کی طرف سے) اور سانتاکروز کے علاقے (‘ایچ-ایسٹ’ وارڈ کی طرف سے) میں فٹ پاتھ پر رکاوٹیں کھڑی کرنے والی 15 غیر مجاز دکانوں اور 15 غیر مجاز ہاکروں کو آج (13 اگست 2026) ہٹا دیا گیا۔ ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق میونسپل کمشنر اشونی بھیڈےکی رہنمائی میں۔ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) کی قیادت پراجکتا ورمالاونگیرے، ممبئی میونسپل کارپوریشن غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ مہم کو نافذ کر رہی ہے، اس طرح رکاوٹوں سے پاک فٹ پاتھوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر (زون-2) پرشانت ساپکلے کی رہنمائی اور اسسٹنٹ کمشنر (ایف-ساؤتھ وارڈ) کی قیادت میں ‘ایف-ساؤتھ’ وارڈ کے ذریعہ دادر (مشرقی) علاقے میں کارروائی کی گئی اس مہم کے دوران، دادر (مشرق) میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر روڈ کے ساتھ فٹ پاتھ پر رکاوٹیں کھڑی کرنے والے 04 غیر مجاز دکانوں، 12 عارضی ترپالوں کے شیڈ، 06 غیر مجاز پلیٹ فارم (کٹے*) اور 15 ہاکروں کو ہٹا دیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر (زون-3) وشواس موٹے کی رہنمائی اور اسسٹنٹ کمشنر (ایچ-ایسٹ) کی قیادت میں۔ مردولا اینڈے، ‘ایچ-ایسٹ’ وارڈ نے آج سانتا کروز (ایسٹ) کے علاقے میں تجاوزات ہٹانے کی مہم چلائی۔ اس کارروائی میں ٹی پی ایس-3 علاقے میں سڑک 6، 7 اور 11 کے ساتھ واقع چھ غیر مجاز دکانوں کے ساتھ ساتھ نانا صاحب دھرمادھیکاری مارگ کے ساتھ فٹ پاتھ پر واقع پانچ غیر مجاز دکانوں کو مسمار کرنا شامل ہے۔ اس آپریشن میں ایک فوڈ وین بھی شامل تھی۔ اس ڈرائیو نے تقریباً 500 میٹر فٹ پاتھ کی جگہ صاف کر دی ہے، جس سے پیدل چلنے والوں کے لیے پیدل چلنا آسان ہو گیا ہے۔

دریں اثنا، میونسپل کارپوریشن پیدل چلنے والوں کے لیے صاف اور قابل رسائی فٹ پاتھوں کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ نتیجتاً، انتظامیہ نے فٹ پاتھوں میں رکاوٹ بننے والی غیر مجاز تعمیرات یا ان پر کوئی مواد رکھنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ایسی خلاف ورزیاں دیکھنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ہوٹل بل کی ادائیگی پر تنازع قتل سے سنسنی، پولس کی بڑی کارروائی ۲۴ گھنٹے میں قتل کا معمہ حل، دو گرفتار ملزمین کا اعتراف جرم

Published

on

ARREST..2

ممبئی میں ایک ہوٹل میں بل کی ادائیگی کے تنازع کے بعد ایک نوجوان کے قتل کا سنسنی خیزواقعہ پیش آیا جس کے بعد یہاں کشیدگی پھیل گئی, جبکہ پولس نے ۲۴ گھنٹے کے اندر ہی ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ گوریگاؤں پولس اسٹیشن کی حدود میں ۱۱ اگست کو رات میں سلمان ہوٹل کے قریب ایک شخص کو شدید طور سے زدوکوب کیا گیا۔ عزیز محمد عتیق خان ۳۰ سالہ کو اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قراردیا۔ پولس نے اس قتل کی انکوائری شروع کر دی۔ پولس میں مقتول کے بھائی کے بتایا کہ عزیز خان نے سلمان ہوٹل کے مالک دانش خان کو دو افراد کو ہوٹل کے بل کی ادائیگی کرنے کو کہا اس دوران مقتول سے اس دونوں نے حجت کی اور کہاُ کہ اس سے تیرا کیا تعلق ہے تو ہم کو نہیں جانتا۔ تیرے کو دیکھ لیں گے۔۔۔ پھر ان دونوں نے متاثرہ پر حملہ کر دیا عزیز خان کے سر پر لکڑی کا باکس مار دیا جس سے وہ شدید طور سے زخمی ہو گیا اور ڈاکٹروں نے اسے علاج کے دوران مردہ قرار دیا۔ پولس نے قتل کا معاملہ درج کر کے ملزمین کی تلاش شروع کردیا ملزمین کی گرفتاری کے لئے ۶ ٹیمیں تشکیل دی گئی اس کے بعد پولس کو خفیہ اطلاع ملی اور پولس نے ملزمین کو گرفتار کرلیا اور انہوں نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔ ملزمین کی شناخت اجئے منی اپادھیائے ۳۹ سالہ اور وکاس دیوراج پاسوان ۳۲ آفس بوائے کے طور پر ہوئی ہے۔ ۲۴ گھنٹے کےاندر ہی پولس نے اس قتل کے معمہ کو حل کر کے ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان