(جنرل (عام
خانقاہ رحمانی کے قدیم متوسل اور ذاکر و شاغل بزرگ حضرت مولانا محمد حنیف کی رحلت
(خیال اثر)
گزشتہ کل ۱۴۴۲ دیر رات کو حافظ محمد امتیازر حمانی (ناظم دارالاشاعت خانقاہ رحمانی مونگیر)کے ذریعے یہ اطلاع ملی کہ خانقاہ رحمانی کے قدیم متوسل اور ذاکر و شاغل بزرگ حضرت مولانا محمد حنیف رحمانیﷲ تعالی کو پیارے ہو گئے ،اناللّٰہ وانا الیہ راجعون
اس تعلق سے اظہار تعزیت پیش کرتے ہوئے خلیفہ حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی مدظلہ حضرت مولانا عمیرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ حضرت مولانا محمد حنیف رحمانی خانقاہ رحمانی کے وابستگان میں نمایاں عالم دین تھے ،اور یکسوئی کے ساتھ ذکر وفکر کا اہتمام کرنے والے شخص تھے،ان کا بیعت کا تعلق پہلے امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد منت ﷲ رحمانیؒ سے رہا اور اس کے بعد انہوں نے شیخ طریقت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم سے تجدیدِ بیعت کی اور ان کی رہنمائی میں سلوک کے مراحل طے کرتے رہے،وہ بڑے یکسو متواضع منکسر المزاج اورصاحب اخلاق شخص تھے،ذکر،نوافل اور تلاوت کا انہیں خاص ذوق تھا،روزانہ دس پارے تلاوت کا معمول تھا،رات کو جلد اٹھ کر تلاوت میں مشغول ہوجاتے تھے،اور بیماری اور صحت دونوں حالتوں میں تلاوت کا معمول پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے،ان کے چہرے کی نورانیت اس بات کی گواہی دیتی تھی کہ راتوں کو اٹھ کرﷲتعالی کی یاد اور اس سے مناجات کا خاص ذوق انہیں حاصل ہے،خانقاہ رحمانی کی مسجد میں ان سے ملاقات کا بارہا شرف حاصل ہوا،اور ایک مرتبہ ان کے صاحب زادے گرامی مولانا محمد صبغۃﷲصاحب زید مجدہم (خلیفہ حضرت حکیم کلیم ﷲصاحب ہردوئی)کی دعوت پر ان کے گاؤں گڑھی ضلع جموئی جانے اور ان کے قائم کردہ مدرسے کو دیکھنے کی عزت حاصل ہوئی ،مولاناصبغتہﷲصاحب بھی کارگزار اور مستعد عالم دین ہیں،حضرت مولانا محمد حنیف رحمانی کی تربیت کا پر تو ان کی زندگی میں نظر آتا ہے۔مولانا مرحوم نے لانبی عمر پائی،ان کی پیدائش ۱۹۳۴ ء کی تھی،اس لحاظ سے چھیاسی سال کی عمر ہوئی،انہوں نے جامعہ رحمانی مونگیر میں مشکوۃ تک تعلیم پائی،اس زمانے میں جامعہ رحمانی میں دورٔحدیث کی تعلیم کا نظم نہیں تھا ،اس لیے حضرت امیر شریعت مولانا منتﷲ رحمانی نورﷲمرقدہ کے حکم سے ان کا خط لے کر مولانا مرحوم مدرسہ شاہی مرادآباد چلے گئے،اور وہیں سے دور حدیث کی تکمیل کرکے سند فراغت حاصل کی ،فراغت کے بعد چند سال امامت کرتے رہے،پھر جھریا ضلع دھنباد میں ایک مدرسے میں تدریس اور اہتمام کی ذمہ داری نبھائی ،اس کے بعد گڑھی ضلع جموئی میں ۱۹۷۲ء میں مدرسہ روح العلوم کی بنیاد رکھی،اور تادم زیست اس مدرسے کی خدمت کرتے رہے،ماشاءﷲ اس ادارے نے مولانا مرحوم کے اخلاص اور ان کے صاحبزادے مولانا صبغۃﷲ کی محنت سے ترقی کی ،اور علاقے کے لیے دینی علوم کی خدمت کا مرکزبنا ،ﷲتعالی اس چمنستان علم کو ہمیشہ سدا بہار رکھے۔
آپ نے مزید کہا کہ حضرت مولانا محمد حنیف رحمانیؒ کی زندگی کا یہ پہلو بھی قابل رشک تھا کہ وہ پابندی سے خانقاہ رحمانی حاضر ہوا کرتے تھے اور بڑی یکسوئی سے وہاں وقت گزارتے تھے،انہیں نہ کسی امتیاز ی مقام کی تلاش ہوتی تھی اور نہ بہتر قیام و طعام کے وہ خواہاں ہوتےتھےمسجد کے گوشے میں ٹھہر جاتے اور یاد الٰہی میں مشغول رہتے،باوجود معمر اور سن رسیدہ ہوجانے کے کسی کی خدمت قبول نہیں فرماتے ،اپنے کاموں کو خود اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے تھے،اور اس طرح شب وروز گزارتے تھے کہ کوئی ناواقف دیکھ کر اندازہ نہیں کرسکتا تھا کہ یہ جید عالم دین اور اپنے علاقے کی ممتاز شخصیت ہیں۔
مولانا مرحوم کو اپنے مرشد گرامی شیخ طریقت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت بر کاتہم سے بڑا والہانہ تعلق تھا ،جب گفتگو میں حضرت اقدس کا ذکر آتا تو ان کے لب و لہجے کی مٹھاس بڑھ جایا کرتی تھی،اب ایسے ذاکر و شاغل خاموش مزاج اور متواضع علماءکی بڑی کمی ہوتی جارہی ہے، مولانا مرحوم نے جس طرز وانداز کی زندگی گزاری اور جن مومنانہ صفات کے ساتھ انہوںنے اپنی زندگی کے شب وروز بتائےﷲتعالی نے اس کا یہ اثر دنیا ہی میں ظاہر فرمایاکہ انہیں قابل رشک خاتمہ نصیب ہوا اور نماز مغرب کی ادائیگی کرتے ہوئے سجدے کی حالت میں وفات پائی،حدیث شریف میں یہ بات ہے کہ سجدے کی حالت میں انسان اپنےپروردگار سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے،جس بندے نے زندگی بھر قرب الٰہی کے حصول کا اہتما م کیااور اس راہ میں اپنے آپ کو مٹادیاﷲتعالی نے قرب اور نزدیکی کے اعلی مراتب سے نہ صرف یہ کہ انہیں نوازا بلکہ دنیا والوں پر ان کے مقام بلند کا اظہار ان کے حسن خاتمہ کے ذریعے فرمایا،مولانا مرحوم کی رحلت سے دل غمزدہ ہے اور ایک بھلے اور مومنانہ صفات کے حامل انسان کی رحلت پر آنکھیں اشکبار ہیں،دعا ہے کہﷲتعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے،کروٹ کروٹ ان کوجنت نصیب فرمائے،اور انہیں مراتب بلند نصیب فرمائے،اور ان کے پسماندگان بالخصوص حافظ روحﷲ صاحب اور مولانا صبغۃﷲ صاحب اور دیگر اہل خانہ کو صبرجمیل نصیب فرمائے(آمین)
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : کستوربا مارگ پولس ۱۰۰چوری شدہ موبائل برآمد، اصل مالکان کے سپرد

ممبئی کستوربا مارگ پولیس تھانہ کی حد سے چوری شدہ اور گمشدہ موبائل فون کے بارے میں موصول شکایتوں کے سلسلے میں سی ای آئی آر پورٹل کے ذریعے دستیاب معلومات کا تجزیہ کرکے اور موبائل فون کی تکنیکی تفتیش کی گئی۔مذکورہ تکنیکی تفتیش کے دوران موبائل فون کی معلومات، آئی ایم ای آئی نمبر اور اس کا استعمال کرنے والے شخص کی معلومات کی تصدیق کرکے کستوربا مارگ پولیس تھانے کے پولیس افسر اور اہلکاروں نے ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر ریاستوں میں تلاش کرکے کل 100 موبائل فون برآمد کیے ہیں۔ برآمد کیے گئے 100 موبائل فون کی اندازاً کل قیمت 22,70,658/- روپے اتنی ہے۔ مذکورہ برآمد 100 موبائل میں سے 18 موبائل شکایت کنندہ / مالکان کو ان کے فون واپس کیے گئے ہیں جن میں 1) راجندر پوری 2) خوش ساو 3) کرپا لودھیا 4) شریا ساٹم 5) اتل ساٹھے 6) پریانکا مستری 7) بنو ترنگ 8) پریم گپتا 9) آدیا شیخ 10) شویتا شاہ 11) سندھیا پنڈت 12) دیپک ساوڈیکر 13) سوربھ جھانگڑ 14) کیتن شیٹے 15) اونکار راؤت 16) جیالال یادو 17) لکشمی اپا کرپا گری 18) پروین دوبے اور باقی شہریوں کو ان کے موبائل فون واپس کرنے کی کارروائی جاری ہے۔ مذکورہ کارکردگی ڈی سی پی شمالی پری منڈل 3، ممبئی-راجانے کستوربا مارگ پولیس تھانہ، بالاصاحب بنکرانجام دی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر سے مونسون کی مزید واپسی، کونکن علاقے کے لیے گرم اور مرطوب موسم کی الرٹ جاری

ممبئی : محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) نے ہفتہ، 3 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا ہے کہ جنوب مغربی مونسون مہاراشٹر کے بعض حصوں کے ساتھ ساتھ شمالی ہند کے بقایا علاقوں، پورے گجرات اور مدھیہ پردیش سے مکمل طور پر رخصت ہو چکا ہے۔مونسون کی واپسی کی موجودہ لائن مہاراشٹر میں ہرنائی، بارامتی، پربھنی اور برہماپوری سے گزر رہی ہے، جو آگے بڑھتے ہوئے رائے پور، رانچی اور سپول تک پھیلی ہوئی ہے۔ موسمیاتی حکام کا کہنا ہے کہ اگلے 2 سے 3 دنوں کے دوران مراٹھواڑہ، ودربھ اور مدھیہ مہاراشٹر کے مزید علاقوں سے مونسون کی رخصتی کے لیے حالات سازگار ہیں۔ ساحلی مہاراشٹر کے لیے گرم اور مرطوب موسم کا الرٹ ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو اس ویک اینڈ پر بڑھتی ہوئی گرمی اور حبس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئی ایم ڈی نے 3 اکتوبر سے 5 اکتوبر تک کونکن اور گوا کے خطے کے لیے گرم اور مرطوب (ہاٹ اینڈ ہیومیڈ) موسم کی وارننگ جاری کی ہے۔ اس خشک اور حبس زدہ دور کے بعد علاقے میں معمولی بارش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔ 6 سے 9 اکتوبر کے درمیان کونکن و گوا اور مدھیہ مہاراشٹر میں کچھ مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جنوبی اور شمال مشرقی ریاستوں کی صورتحال ایک طرف جہاں ملک کے مرکزی اور شمالی حصوں سے مونسون رخصت ہو رہا ہے، وہیں جنوبی ریاستوں میں شدید بارش کی تنبیہ کی گئی ہے۔ کیرالہ، ماہے، تمل ناڈو، پڈوچیری اور کرائیکل میں 4 سے 6 اکتوبر کے دوران، جبکہ جنوبی اندرونی کرناٹک میں 5 اور 6 اکتوبر کو بعض مقامات پر بھاری بارش کا امکان ہے۔
شمال مشرقی ریاستوں میں، آسام، میگھالیہ اور اروناچل پردیش میں 3 اکتوبر کو متفرق مقامات پر تیز بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ ماہی گیروں اور کسانوں کے لیے ہدایت بحر عرب میں چکراتی ہوائی نظام (سائیکلونک سرکولیشن) کے پیش نظر، آئی ایم ڈی نے ماہی گیروں کو 3 اکتوبر کو ساحل کیرالہ، لکشدیپ، مالدیپ اور کومورین کے علاقوں سے ملحقہ سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ نیز، بھاری بارش والے علاقوں کے کسانوں کو فصلوں کے نقصان کو روکنے کے لیے کھیتوں سے پانی کے نکاس کا مناسب انتظام کرنے اور کٹی ہوئی فصلوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
(جنرل (عام
ممبئی کرائم برانچ نے طالب علم کی خودکشی کے معاملے میں آئی آئی ٹی کے پروفیسر کا بیان ریکارڈ کر لیا، دولا نے تمام الزامات سے انکار کر دیا۔

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ، جو آئی آئی ٹی بمبئی کے طالب علم ساحل وکوڈے کے خودکشی کے لیے مبینہ طور پر اکسانے کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، نے پروفیسر سوری نارائن ڈولا کا بیان ریکارڈ کیا ہے۔ پروفیسر سے تقریباً آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی جس کے دوران ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ اس نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کی۔ وکوڑے کے والدین نے اپنی پولیس شکایت میں کہا تھا کہ پروفیسر ڈولا نے ان کے بیٹے کو ہراساں کیا تھا۔ الزامات پر کارروائی کرتے ہوئے، کرائم برانچ نے پروفیسر سے وکوڈ کی موت تک پیش آنے والے واقعات اور طالب علم کے ساتھ ان کی بات چیت کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ پوچھ گچھ کے دوران پروفیسر دولا نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات سے انکار کیا، ذرائع کے مطابق۔ ممبئی کرائم برانچ جلد ہی آئی آئی ٹی بمبئی کے ڈائریکٹر شیشے کو بھی طلب کرے گی۔ تفتیش۔ دریں اثنا، پولس وکوڈے کی موت سے پہلے کے واقعات اور سرگرمیوں کے بارے میں اہم معلومات اکٹھا کرنے کے لیے امتحانی ہال کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کر رہی ہے۔ کرائم برانچ نے اب تک تقریباً 50 لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں، جن میں وکوڈے کے والدین اور ہم جماعت کے ساتھی شامل ہیں۔
18 ستمبر کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر پروفیسر ڈولا کو ایک امتحان کے دوران موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر پکڑنے کے بعد وکوڈے کو ایک طرف کھینچتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وکوڈ کی موت کے بعد، آئی آئی ٹی بمبئی نے کہا تھا کہ طالب علم نے جوابات حاصل کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی پر سوالنامہ اپ لوڈ کیا تھا۔ انسٹی ٹیوٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اس واقعے کے سلسلے میں اس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔ وکوڑے کے والد رویندر وکوڑے نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے بیٹے نے انھیں پروفیسر دولہ کے ساتھ امتیازی سلوک کے بارے میں بتایا تھا۔ “میرے بیٹے نے مجھے اس امتیازی سلوک کے بارے میں بتایا تھا، لیکن میں نے اسے بتایا کہ اس کا داخلہ حاصل کرنا مشکل ہے،” اس نے پولیس کو بتایا کہ آئی آئی ٹی ایم میں اس کا داخلہ لینا مشکل ہے۔ بعد ازاں وکوڈے کے والد کی شکایت کی بنیاد پر خودکشی کے لیے اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ تاہم آئی آئی ٹی بمبئی کی فیکلٹی پروفیسر دولہ کی حمایت میں سامنے آئی، اور یہ کہتے ہوئے کہ انھیں محض اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صرف اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے، پھر یہ ملک کی پوری تدریسی برادری کے لیے ایک مسئلہ ہے،‘‘ پروفیسر راجکمار پنت، آئی آئی ٹی-بمبئی فیکلٹی فورم کے سربراہ نے کہا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
