Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

خانقاہ رحمانی کے قدیم متوسل اور ذاکر و شاغل بزرگ حضرت مولانا محمد حنیف کی رحلت

Published

on

(خیال اثر)
گزشتہ کل ۱۴۴۲؁ دیر رات کو حافظ محمد امتیازر حمانی (ناظم دارالاشاعت خانقاہ رحمانی مونگیر)کے ذریعے یہ اطلاع ملی کہ خانقاہ رحمانی کے قدیم متوسل اور ذاکر و شاغل بزرگ حضرت مولانا محمد حنیف رحمانیﷲ تعالی کو پیارے ہو گئے ،اناللّٰہ وانا الیہ راجعون
اس تعلق سے اظہار تعزیت پیش کرتے ہوئے خلیفہ حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی مدظلہ حضرت مولانا عمیرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ حضرت مولانا محمد حنیف رحمانی خانقاہ رحمانی کے وابستگان میں نمایاں عالم دین تھے ،اور یکسوئی کے ساتھ ذکر وفکر کا اہتمام کرنے والے شخص تھے،ان کا بیعت کا تعلق پہلے امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد منت ﷲ رحمانیؒ سے رہا اور اس کے بعد انہوں نے شیخ طریقت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم سے تجدیدِ بیعت کی اور ان کی رہنمائی میں سلوک کے مراحل طے کرتے رہے،وہ بڑے یکسو متواضع منکسر المزاج اورصاحب اخلاق شخص تھے،ذکر،نوافل اور تلاوت کا انہیں خاص ذوق تھا،روزانہ دس پارے تلاوت کا معمول تھا،رات کو جلد اٹھ کر تلاوت میں مشغول ہوجاتے تھے،اور بیماری اور صحت دونوں حالتوں میں تلاوت کا معمول پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے،ان کے چہرے کی نورانیت اس بات کی گواہی دیتی تھی کہ راتوں کو اٹھ کرﷲتعالی کی یاد اور اس سے مناجات کا خاص ذوق انہیں حاصل ہے،خانقاہ رحمانی کی مسجد میں ان سے ملاقات کا بارہا شرف حاصل ہوا،اور ایک مرتبہ ان کے صاحب زادے گرامی مولانا محمد صبغۃﷲصاحب زید مجدہم (خلیفہ حضرت حکیم کلیم ﷲصاحب ہردوئی)کی دعوت پر ان کے گاؤں گڑھی ضلع جموئی جانے اور ان کے قائم کردہ مدرسے کو دیکھنے کی عزت حاصل ہوئی ،مولاناصبغتہﷲصاحب بھی کارگزار اور مستعد عالم دین ہیں،حضرت مولانا محمد حنیف رحمانی کی تربیت کا پر تو ان کی زندگی میں نظر آتا ہے۔مولانا مرحوم نے لانبی عمر پائی،ان کی پیدائش ۱۹۳۴ ء کی تھی،اس لحاظ سے چھیاسی سال کی عمر ہوئی،انہوں نے جامعہ رحمانی مونگیر میں مشکوۃ تک تعلیم پائی،اس زمانے میں جامعہ رحمانی میں دورٔحدیث کی تعلیم کا نظم نہیں تھا ،اس لیے حضرت امیر شریعت مولانا منتﷲ رحمانی نورﷲمرقدہ کے حکم سے ان کا خط لے کر مولانا مرحوم مدرسہ شاہی مرادآباد چلے گئے،اور وہیں سے دور حدیث کی تکمیل کرکے سند فراغت حاصل کی ،فراغت کے بعد چند سال امامت کرتے رہے،پھر جھریا ضلع دھنباد میں ایک مدرسے میں تدریس اور اہتمام کی ذمہ داری نبھائی ،اس کے بعد گڑھی ضلع جموئی میں ۱۹۷۲ء میں مدرسہ روح العلوم کی بنیاد رکھی،اور تادم زیست اس مدرسے کی خدمت کرتے رہے،ماشاءﷲ اس ادارے نے مولانا مرحوم کے اخلاص اور ان کے صاحبزادے مولانا صبغۃﷲ کی محنت سے ترقی کی ،اور علاقے کے لیے دینی علوم کی خدمت کا مرکزبنا ،ﷲتعالی اس چمنستان علم کو ہمیشہ سدا بہار رکھے۔
آپ نے مزید کہا کہ حضرت مولانا محمد حنیف رحمانیؒ کی زندگی کا یہ پہلو بھی قابل رشک تھا کہ وہ پابندی سے خانقاہ رحمانی حاضر ہوا کرتے تھے اور بڑی یکسوئی سے وہاں وقت گزارتے تھے،انہیں نہ کسی امتیاز ی مقام کی تلاش ہوتی تھی اور نہ بہتر قیام و طعام کے وہ خواہاں ہوتےتھےمسجد کے گوشے میں ٹھہر جاتے اور یاد الٰہی میں مشغول رہتے،باوجود معمر اور سن رسیدہ ہوجانے کے کسی کی خدمت قبول نہیں فرماتے ،اپنے کاموں کو خود اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے تھے،اور اس طرح شب وروز گزارتے تھے کہ کوئی ناواقف دیکھ کر اندازہ نہیں کرسکتا تھا کہ یہ جید عالم دین اور اپنے علاقے کی ممتاز شخصیت ہیں۔
مولانا مرحوم کو اپنے مرشد گرامی شیخ طریقت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت بر کاتہم سے بڑا والہانہ تعلق تھا ،جب گفتگو میں حضرت اقدس کا ذکر آتا تو ان کے لب و لہجے کی مٹھاس بڑھ جایا کرتی تھی،اب ایسے ذاکر و شاغل خاموش مزاج اور متواضع علماءکی بڑی کمی ہوتی جارہی ہے، مولانا مرحوم نے جس طرز وانداز کی زندگی گزاری اور جن مومنانہ صفات کے ساتھ انہوںنے اپنی زندگی کے شب وروز بتائےﷲتعالی نے اس کا یہ اثر دنیا ہی میں ظاہر فرمایاکہ انہیں قابل رشک خاتمہ نصیب ہوا اور نماز مغرب کی ادائیگی کرتے ہوئے سجدے کی حالت میں وفات پائی،حدیث شریف میں یہ بات ہے کہ سجدے کی حالت میں انسان اپنےپروردگار سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے،جس بندے نے زندگی بھر قرب الٰہی کے حصول کا اہتما م کیااور اس راہ میں اپنے آپ کو مٹادیاﷲتعالی نے قرب اور نزدیکی کے اعلی مراتب سے نہ صرف یہ کہ انہیں نوازا بلکہ دنیا والوں پر ان کے مقام بلند کا اظہار ان کے حسن خاتمہ کے ذریعے فرمایا،مولانا مرحوم کی رحلت سے دل غمزدہ ہے اور ایک بھلے اور مومنانہ صفات کے حامل انسان کی رحلت پر آنکھیں اشکبار ہیں،دعا ہے کہﷲتعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے،کروٹ کروٹ ان کوجنت نصیب فرمائے،اور انہیں مراتب بلند نصیب فرمائے،اور ان کے پسماندگان بالخصوص حافظ روحﷲ صاحب اور مولانا صبغۃﷲ صاحب اور دیگر اہل خانہ کو صبرجمیل نصیب فرمائے(آمین)

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان