Connect with us
Sunday,30-November-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

شہر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں کارپوریشن "پیسنٹ ہیلپ ڈیسک” قائم کرے : مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ

Published

on

(خیال اثر )
شہر کے قدیم سرکاری علی اکبر ہسپتال میں مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ (ایم ڈی ایف) تنظیم کے نوجوانوں نے ہنگامی دورہ کیا.نیز ہسپتال کا مکمل جائزہ لیا اور وہاں موجود اسٹاف سے بات چیت کی. ایک طرف اس ہسپتال میں طبی سہولیات و طبی لوازمات کا فقدان ہے. دوسری طرف ڈاکٹرز و دیگر اسٹاف کی بھی کمی ہے. سرکاری ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹرز ہمہ وقت غائب رہتے ہیں جس کی وجہ سے ایمرجنسی کیسز کو فوری طور پر نجی ہسپتالوں میں بھیج دیا جاتا ہے.
کارپوریشن کے زیر اہتمام جاری علی اکبر ہسپتال میں سونوگرافی مشین ہی نہیں ہے اور نہ ہی ایکسرے مشین پر کوئی آپریٹر یعنی ایکسرے مشین دھول کھاتی پڑی ہے اسطرح کا بیان احتشام بیکری والا نے دیا. احتشام بیکری والا نے کہا کہ ایم ڈی ایف کے اراکین کو بار بار علی اکبر ہسپتال میں ہورہی غریب مریضوں اور حاملہ خواتین کے ساتھ ناانصافیوں اور تکالیف کے بارے میں بتایا جاتا رہا اور آج ایم ڈی ایف کے نوجوانوں نے ہسپتال پہنچ کر دیکھ بھی لیا.
عمران راشد نے کہا کہ آج کارپوریشن میں کووڈ کے نام پر لوٹ گھسوٹ چالو ہے. سہارا ہسپتال پر کوڈ کے نام پر دو کروڑ خرچ کردیا گیا۔ جبکہ یہ روپیہ سرکاری ہسپتال پر خرچ کرکے اسے مستقبل کے لئے بھی کارآمد بنایا جاسکتا تھا۔لاک ڈاؤن میں ہوئی ہزاروں جانوں کا سودا کیا گیا اور اب سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں, حاملہ خواتین, نومولود بچوں و دیگر عام مریضوں کی جان کی کوئی پرواہ نہیں کی جا رہی ہے. مریضوں کو بلا تشخیص فائل بنا کر گیٹ کے باہر چھوڑ دیا جاتا ہے. انھیں مکمل جانکاری بھی نہیں دیجاتی ہے اور وہ در در بھٹکنے پر مجبور ہوجاتے ہیں. ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کیبن کے باہر لگے تالے دیکھ کر لگتا ہے کہ ڈاکٹرس صرف حاضری لگانے آتے ہیں. ہسپتال کے صحن میں بیس سے زائد تعداد میں آوارہ کتے اور گانجا پی کر سونے والے افراد ان سے زیادہ وقت یہاں دیتے ہیں.اسکے علاوہ یہاں ہیلپ لائن نمبر بھی نہیں ہے۔ اور نا ہی مریضوں کی رہنمائی کے لئے کوئی کیبن ۔ بچوں کے تمام ڈوز موجود ہیں لیکن بچوں کا اسپیشل ڈاکٹر نہیں۔ اور بھی دیگر امراض کے اسپیشل ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔
ایم ڈی ایف کے نوجوانوں نے علی اکبر ہسپتال میں موجود مریضوں سے بھی بات چیت کی اور ان کی تکالیف کو جاننے کی کوشش کی. ایک غریب حاملہ خاتون نے بتایا کہ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہے کہ نجی ہسپتال میں جاکر سونوگرافی نکالے. اس خاتون نے کہا کہ انتہائی مجبوری کی بناء پر سرکاری ہسپتال آنا پڑتا ہے. ایک پاورلوم مزدور نے بتایا کہ کوئی بھی اسٹاف صحیح طور پر طبی رہنمائی نہیں کرتا ہے. اسی لئے باہر موجود ڈاکٹروں کے ایجنٹس سے مدد لینا پڑتی ہے. وہاں موجود دیگر مریضوں کی دکھ بھری کہانیاں سن کر ایم ڈی ایم کے نوجوانوں کے آنسو نکل پڑے. ان نوجوانوں نے تمام مریضوں کو یقین دلایا کہ جلد ہی علی اکبر ہسپتال میں ایکسرے, سونوگرافی مشین, ای سی جی مشین, ونٹیلیٹر اور دیگر جدید مشینوں معہ آپریٹر کیلئے بھر پور کوشش کی جائے گی.
ایم ڈی ایف کے اس ہنگامی دورہ میں احتشام بیکری والا (صدر), عمران راشد (نائب صدر), اظہر رفیق (سیکرٹری), اسامہ اعظمی (ترجمان), ابوذر غفاری میکانیکل انجنئیر, زید اختر آرکیٹیکٹ, ماسٹر شبیر شیخ, پروفیسر ایس این انصاری, پروفیسر حبیب الرحمن, رئیس عثمانی, ببو ماسٹر, وسیم بیگ, افضال پرویز ایم آر, ندیم شیخ و دیگر فعال اراکین نے شرکت کی.

جرم

جوگیشوری : پاسکو کیس میں ضمانت پر رہا ملزم دوبارہ گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی پاسکو کیس میں ملوث ایک مفرور ملزم کو ۶ سال بعد دوبارہ جوگیشوری پولس نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے. ممبئی کے جوگیشوری میں ۲۰۱۹ میں ملزم پنکج پنچال ۲۷ سالہ کو پاسکو اطفال پر تشدد اور استحصال کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ضمانت پر رہا تھا, لیکن عدالتی کارروائی میں غیر حاضر رہتا تھا اور گزشتہ ۶ سال سے اپنی شناخت چھپا کر روپوش تھا, پولس کو اطلاع ملی کہ ملزم ایس آر اے بلڈنگ کے قریب آیا ہے جس پر پولس نے جال بچھا کر جوگیشوری سے ملزم کر گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے. اس کے خلاف عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیا تھا, جس کے بعد پولس نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے اسے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ اطلاع ممبئی پولس زون ۱۰ کے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے۔

Continue Reading

بزنس

ممبئی کچرے کی نقل و حمل کے لیے 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں ممبئی کے رہائشیوں کی خدمت میں داخل، فضلہ نقل و حمل کی صلاحیت دوگنی

Published

on

mini-compactor

ممبئی میں روزانہ کچرے کی نقل و حمل اب آسان ہو جائے گی، اور ٹرانسپورٹ راؤنڈز کی تعداد کم ہو جائے گی، جس سے ایندھن کی بچت ہو گی۔ بی ایم سی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے بیڑے میں 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں شامل کی ہیں۔ گزشتہ منی کمپیکٹرز کے مقابلے نئی گاڑیوں میں ایک چکر میں دوگنا فضلہ لے جانے کی صلاحیت ہے۔ یہ گاڑیاں ایک سیشن میں دو چکر لگائیں گی۔


ممبئی میں فضلہ کی نقل و حمل کے بڑے عمل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اور ایڈمنسٹربھوشن گگرانی نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ انجینئرنگ نے پچھلی گاڑیوں کو درپیش مسائل کا مطالعہ کرنے کے بعد جو اختراعی اصلاحات کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے کہا کہ صفائی کے کارکنوں کی حفاظت کے لیے بیٹھنے کا مناسب انتظام، گیلے اور خشک کچرے کے لیے الگ الگ کمپارٹمنٹس، اور دیرپا مواد کا استعمال منی کمپیکٹر کی زندگی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ اصلاحات ممبئی کے ماحول کے تحفظ کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوں گی۔


کوڑا کرکٹ لے جانے والی گاڑیوں میں دیکھا گیا کہ کوڑے سے خارج ہونے والے مائع (لیچیٹ) کی وجہ سے دھات کی چادر مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ نئی گاڑیوں میں 5 ملی میٹر موٹی ‘ہارڈوکس’ اسٹیل میٹریل کا فرش استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہائیڈرولک کلوزنگ پلیٹ کور نے گاڑی کے پچھلے حصے کو مکمل طور پر بند کر کے کوڑے کی نقل و حمل کی نوعیت کو بہتر بنایا ہے۔


گاڑیوں کے لیے سفید نیلے رنگ کی اسکیم :
انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کے رنگ سفید اور نیلے رنگ میں تبدیل کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) نے بتایا کہ یہ عمل مرحلہ وار طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ آنے والے عرصے میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کو نئے رنگ سکیم کے مطابق پینٹ کیا جائے گا۔
منی کمپیکٹر کی خصوصیات / انجن کی گنجائش : 115 ہارس پاور
ایک چکر میں فضلہ لے جانے کی صلاحیت 5 ٹن, اس طرح زیادہ فضلہ لے جایا جا سکتا ہے۔
صلاحیت : 9 کیوبک میٹر فضلہ رکھنے کی زیادہ صلاحیت
ملازمین کے لیے 4 نشستوں کا الگ انتظام
ویسٹ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے نئی سفید نیلے رنگ کی اسکیم

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ناگپاڑہ ری ڈیولپمنٹ معاملہ : عدالت کا ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

Published

on

mahada

ممبئی : برسوں سے التوا کے شکار ری ڈیولپمنٹ اور کرایہ داروں کی مسلسل پریشانیوں کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ناگپاڑہ کی تین خستہ حال عمارتوں—تاوُمباوالا بلڈنگ، دیوجی دارسی بلڈنگ اور زہرہ مینشن—کا جبری حصول منظور کر لیا ہے۔ حکومت نے ساتھ ہی ناکام ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ 28 نومبر 2025 کو جاری کردہ سرکاری قرارداد کے ذریعے لیا گیا، جو مہادّا ایکٹ 1976 میں کی گئی ترامیم اور بمبئی ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

چھوتھی پیر خان اسٹریٹ پر واقع یہ عمارتیں سی ایس نمبر 1458، 1459 اور 1460 کے تحت آتی ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد دیگر ڈھانچے بھی منصوبے میں شامل تھے، جن میں بلڈنگ نمبر 13–13A، 13B، 15، 17، 19، 21–23، 31–33 اور 35–37 شامل ہیں۔

ڈیولپر نے مجوزہ گراؤنڈ + 20 منزلہ ٹاور کا اسٹرکچر تو مکمل کر لیا تھا، لیکن تقریباً دس سال سے پورا پروجیکٹ رکا ہوا ہے۔ تاخیر کی اہم وجوہات یہ رہیں۔

  • کرایہ داروں کو مستقل مکان نہ دینا
  • گزشتہ تین سال سے ٹرانزٹ کرایہ ادا نہ کرنا
  • اندرونی تعمیراتی کاموں کی انتہائی سست رفتار
  • کرایہ داروں اور رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات

ان حالات سے تنگ آکر کرایہ داروں نے بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کے بعد 1 اکتوبر 2025 کو عدالت نے ریاستی حکومت کو مہادّا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی ہدایت کے بعد مہادّا نے زمین کے حصول کی تجویز حکومت کو پیش کی، جسے منظور کرتے ہوئے 1,532.63 مربع میٹر رقبے کے جبری حصول کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب مہادّا اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر ری ڈیولپمنٹ مکمل کرے گی اور متاثرہ خاندانوں کا بحالی عمل آگے بڑھائے گی۔

حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ کچھ بنیادی شرائط بھی عائد کی ہیں :

ڈیولپر کو درج ذیل کی مکمل تفصیلات پیش کرنا ہوں گی—

  • تھرڈ پارٹی حقوق
  • بینکوں یا مالی اداروں سے لیے گئے قرضے
  • دیگر تمام مالی ذمہ داریاں

ان دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی حتمی منظوری دی جائے گی۔

حکومت نے ہدایت دی ہے—

  • ڈیولپر کو فوراً بلیک لسٹ کیا جائے
  • اس کی غفلت پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے
  • بی ایم سی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا جائے۔

مہادّا اور ممبئی بلڈنگ ریپئر اینڈ ریکنسٹرکشن بورڈ کو 22 اگست 2023 کے رہنما اصولوں کے مطابق تمام اضافی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ سرکار نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ فوری قانونی و انتظامی کارروائی کر کے مقام کا قبضہ لیا جائے اور تعمیر نو کا کام تیزی سے شروع کیا جائے۔

ممبئی کی پرانی اور خطرناک عمارتوں کا ری ڈیولپمنٹ برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ مہادّا ایکٹ میں کی گئی نئی ترامیم کو مضبوط بناتا ہے، جن کے تحت غیر محفوظ اور رکے ہوئے پروجیکٹ اب سرکاری نگرانی میں مکمل کیے جا سکیں گے۔

جبری حصول کی منظوری کے بعد مہادّا زہرہ مینشن، تاوُمباوالا بلڈنگ اور دیوجی دارسی بلڈنگ کے برسوں سے بے گھر رہنے والے مکینوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات شروع کرے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com