(جنرل (عام
این پی آر جیسے انتہائی حساس مسئلے پر شہری و ملکی سطح پراتفاق رائے سے فیصلہ لینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت
مالیگاؤں: (نامہ نگار) پورے ملک میں این پی آر کے متعلق غیر یقینی صورت حال قائم ہے، لوگ تذبذب کا شکار ہیں، کیا کریں ؟ کیا نہ کریں ؟ یہ سوال ہر زبان پر ہے.
قوم چاہتی ہے کہ اس معاملے میں متفقہ طور پر کوئی ایسا فیصلہ لیا جائے جس کا اثر حکومت پر بھی پڑے اور وہ اس معاملے میں شہریوں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر کوئی ایسا قدم اٹھائے جو سب کے لیے قابل قبول ہو.
اس عنوان پر جمعرات کو دفتر رضا اکیڈمی پر ایک انتہائی اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں کافی غور وخوص کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس عنوان پر شہر کی تمام سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں کے ساتھ مشاورت کی جائے اور پھر کوئی ایسا فیصلہ لیا جائے جس پر شہر بھر میں اس طرح عمل کیا جائے جس سے پوری ریاست کے این پی آر مخالف سیکولر شہریان کو بھی تحریک مل سکے. لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب سیاسی، سماجی، مذہبی اور تعلیمی سطح پر خدمات انجام دینے والوں کو اس مسئلہ پر ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے، اور سبھی کو اعتماد میں لے کر کوئی قدم اٹھایا جائے.
ایک طرف این پی آر کے متعلق سرکاری سطح پر عملی کارروائی شروع ہوچکی ہے، اور دوسری جانب ہمارا حال یہ ہے کہ اب تک ہم اس نتیجے پر ہی نہیں پہنچ سکے ہیں کہ ہمیں کرنا کیا ہے ؟ ایسے حالات میں یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ اب وقت ضائع کیے بغیر ایسے عملی اقدامات کئے جائیں جس سے ایک متفقہ رائے قائم ہو، اور حکومتی ایوانوں تک بھی واضح طور پر یہ پیغام پہنچ سکے کہ اگر این پی آر کا فارمیٹ سابقہ کی طرح نہ رہا اور اس کے نئے فارمیٹ میں ردو بدل نہیں کیا گیا تو عوام بھی ایک انچ پیچھے ہٹنے والی نہیں اور عوامی تعاؤن کے بغیر مردم شماری کاعمل جاری رہنا ناممکن ہے.
اس میٹنگ میں یہ بات بھی طے کی گئی کہ پہلے مرحلے میں اس مسئلہ پر شہر کی میئر طاہرہ شیخ رشید، سابق صدر بلدیہ ساجدہ نہال احمد، ایم ایل اے مفتی محمد اسماعیل قاسمی، سابق ایم ایل اے شیخ آصف، و سابق میئر شیخ رشید، سابق میئر عبدالمالک، سابق صدر بلدیہ شیخ یونس عیسی کے علاوہ شہر کی دیگر پچاس سے زائد اہم تعلیمی، سماجی اور مذہبی شخصیات سے رابطہ قائم کیا جائے اور اس ضمن میں مشترکہ طور پر کون سا لائحہء عمل ترتیب دیا جاسکتا ہے اس تعلق سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے مشورہ طلب کیا جائے، مذکورہ سیاسی رہنماؤں کے علاوہ شہر کی جن اہم شخصیات سے اس ضمن میں رضا اکیڈمی کے اراکین رابطہ کریں گے ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں، قاری زین العابدین رضوی، پروفیسر عبدالمجید صدیقی، عبد الطیف انور، صوفی غلام رسول قادری، ڈاکٹر احمد ریاض، کلیم دانش، ڈاکٹر الیاس صدیقی، عبدالحلیم صدیقی، ڈاکٹر سعید فارانی، ڈاکٹر حامد اقبال، حاجی یوسف الیاس، جمیل کرانتی، حاجی ابراہیم سیٹھ نیشنل، نہال انصاری چیرمین، ڈاکٹر منظور ایوبی، محمد رضا انصاری سر، عبدالوہاب سر، حنیف صابر، رئیس سیٹھ (اے ٹی ٹی)، مستقیم ڈگنٹی، سلیم غازیانی، عتیق کمال، سمیع اللہ انصاری، یوسف بھائی ترجمان، کے ایف انصاری سر، ریاض الدین ربانی ماسٹر، مصطفیٰ آفندی سر، رضوان بیٹری والا، حاجی احمد رضا عبدالعزیز، حاجی عبدالمجید بکھار والے، غفران سر گے اسٹار، کارپوریٹر نبی احمد، حاجی زین العابدین ٹیکسٹائل والے، حاجی صدیق تابانی، ایڈوکیٹ فاروق میمن، ایڈوکیٹ خلیل انصاری، ایڈوکیٹ رفیق ربانی، ایڈوکیٹ نوید اختر، ایڈوکیٹ جمال ناصر شیخ، عارف نوری حفاظت گروپ، اشرف انجنئیر، عزیزالرحمن انجنئیر، ڈاکٹر اجمل گلزار، ڈاکٹر لئیق انصاری، شکیل جانی بیگ، حاجی شبیر خیرالدین، خلیل عباس، خیال اثر، خیال انصاری، مختار عدیل، ضیاء نشاط نیوز وغیرہ شامل ہیں
جرم
جوگیشوری : پاسکو کیس میں ضمانت پر رہا ملزم دوبارہ گرفتار

ممبئی : ممبئی پاسکو کیس میں ملوث ایک مفرور ملزم کو ۶ سال بعد دوبارہ جوگیشوری پولس نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے. ممبئی کے جوگیشوری میں ۲۰۱۹ میں ملزم پنکج پنچال ۲۷ سالہ کو پاسکو اطفال پر تشدد اور استحصال کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ضمانت پر رہا تھا, لیکن عدالتی کارروائی میں غیر حاضر رہتا تھا اور گزشتہ ۶ سال سے اپنی شناخت چھپا کر روپوش تھا, پولس کو اطلاع ملی کہ ملزم ایس آر اے بلڈنگ کے قریب آیا ہے جس پر پولس نے جال بچھا کر جوگیشوری سے ملزم کر گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے. اس کے خلاف عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیا تھا, جس کے بعد پولس نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے اسے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ اطلاع ممبئی پولس زون ۱۰ کے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے۔
بزنس
ممبئی کچرے کی نقل و حمل کے لیے 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں ممبئی کے رہائشیوں کی خدمت میں داخل، فضلہ نقل و حمل کی صلاحیت دوگنی

ممبئی میں روزانہ کچرے کی نقل و حمل اب آسان ہو جائے گی، اور ٹرانسپورٹ راؤنڈز کی تعداد کم ہو جائے گی، جس سے ایندھن کی بچت ہو گی۔ بی ایم سی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے بیڑے میں 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں شامل کی ہیں۔ گزشتہ منی کمپیکٹرز کے مقابلے نئی گاڑیوں میں ایک چکر میں دوگنا فضلہ لے جانے کی صلاحیت ہے۔ یہ گاڑیاں ایک سیشن میں دو چکر لگائیں گی۔
ممبئی میں فضلہ کی نقل و حمل کے بڑے عمل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اور ایڈمنسٹربھوشن گگرانی نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ انجینئرنگ نے پچھلی گاڑیوں کو درپیش مسائل کا مطالعہ کرنے کے بعد جو اختراعی اصلاحات کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے کہا کہ صفائی کے کارکنوں کی حفاظت کے لیے بیٹھنے کا مناسب انتظام، گیلے اور خشک کچرے کے لیے الگ الگ کمپارٹمنٹس، اور دیرپا مواد کا استعمال منی کمپیکٹر کی زندگی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ اصلاحات ممبئی کے ماحول کے تحفظ کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوں گی۔
کوڑا کرکٹ لے جانے والی گاڑیوں میں دیکھا گیا کہ کوڑے سے خارج ہونے والے مائع (لیچیٹ) کی وجہ سے دھات کی چادر مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ نئی گاڑیوں میں 5 ملی میٹر موٹی ‘ہارڈوکس’ اسٹیل میٹریل کا فرش استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہائیڈرولک کلوزنگ پلیٹ کور نے گاڑی کے پچھلے حصے کو مکمل طور پر بند کر کے کوڑے کی نقل و حمل کی نوعیت کو بہتر بنایا ہے۔
گاڑیوں کے لیے سفید نیلے رنگ کی اسکیم :
انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کے رنگ سفید اور نیلے رنگ میں تبدیل کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) نے بتایا کہ یہ عمل مرحلہ وار طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ آنے والے عرصے میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کو نئے رنگ سکیم کے مطابق پینٹ کیا جائے گا۔
منی کمپیکٹر کی خصوصیات / انجن کی گنجائش : 115 ہارس پاور
ایک چکر میں فضلہ لے جانے کی صلاحیت 5 ٹن, اس طرح زیادہ فضلہ لے جایا جا سکتا ہے۔
صلاحیت : 9 کیوبک میٹر فضلہ رکھنے کی زیادہ صلاحیت
ملازمین کے لیے 4 نشستوں کا الگ انتظام
ویسٹ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے نئی سفید نیلے رنگ کی اسکیم
ممبئی پریس خصوصی خبر
ناگپاڑہ ری ڈیولپمنٹ معاملہ : عدالت کا ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

ممبئی : برسوں سے التوا کے شکار ری ڈیولپمنٹ اور کرایہ داروں کی مسلسل پریشانیوں کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ناگپاڑہ کی تین خستہ حال عمارتوں—تاوُمباوالا بلڈنگ، دیوجی دارسی بلڈنگ اور زہرہ مینشن—کا جبری حصول منظور کر لیا ہے۔ حکومت نے ساتھ ہی ناکام ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ 28 نومبر 2025 کو جاری کردہ سرکاری قرارداد کے ذریعے لیا گیا، جو مہادّا ایکٹ 1976 میں کی گئی ترامیم اور بمبئی ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
چھوتھی پیر خان اسٹریٹ پر واقع یہ عمارتیں سی ایس نمبر 1458، 1459 اور 1460 کے تحت آتی ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد دیگر ڈھانچے بھی منصوبے میں شامل تھے، جن میں بلڈنگ نمبر 13–13A، 13B، 15، 17، 19، 21–23، 31–33 اور 35–37 شامل ہیں۔
ڈیولپر نے مجوزہ گراؤنڈ + 20 منزلہ ٹاور کا اسٹرکچر تو مکمل کر لیا تھا، لیکن تقریباً دس سال سے پورا پروجیکٹ رکا ہوا ہے۔ تاخیر کی اہم وجوہات یہ رہیں۔
- کرایہ داروں کو مستقل مکان نہ دینا
- گزشتہ تین سال سے ٹرانزٹ کرایہ ادا نہ کرنا
- اندرونی تعمیراتی کاموں کی انتہائی سست رفتار
- کرایہ داروں اور رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات
ان حالات سے تنگ آکر کرایہ داروں نے بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کے بعد 1 اکتوبر 2025 کو عدالت نے ریاستی حکومت کو مہادّا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔
عدالتی ہدایت کے بعد مہادّا نے زمین کے حصول کی تجویز حکومت کو پیش کی، جسے منظور کرتے ہوئے 1,532.63 مربع میٹر رقبے کے جبری حصول کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب مہادّا اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر ری ڈیولپمنٹ مکمل کرے گی اور متاثرہ خاندانوں کا بحالی عمل آگے بڑھائے گی۔
حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ کچھ بنیادی شرائط بھی عائد کی ہیں :
ڈیولپر کو درج ذیل کی مکمل تفصیلات پیش کرنا ہوں گی—
- تھرڈ پارٹی حقوق
- بینکوں یا مالی اداروں سے لیے گئے قرضے
- دیگر تمام مالی ذمہ داریاں
ان دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی حتمی منظوری دی جائے گی۔
حکومت نے ہدایت دی ہے—
- ڈیولپر کو فوراً بلیک لسٹ کیا جائے
- اس کی غفلت پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے
- بی ایم سی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا جائے۔
مہادّا اور ممبئی بلڈنگ ریپئر اینڈ ریکنسٹرکشن بورڈ کو 22 اگست 2023 کے رہنما اصولوں کے مطابق تمام اضافی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ سرکار نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ فوری قانونی و انتظامی کارروائی کر کے مقام کا قبضہ لیا جائے اور تعمیر نو کا کام تیزی سے شروع کیا جائے۔
ممبئی کی پرانی اور خطرناک عمارتوں کا ری ڈیولپمنٹ برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ مہادّا ایکٹ میں کی گئی نئی ترامیم کو مضبوط بناتا ہے، جن کے تحت غیر محفوظ اور رکے ہوئے پروجیکٹ اب سرکاری نگرانی میں مکمل کیے جا سکیں گے۔
جبری حصول کی منظوری کے بعد مہادّا زہرہ مینشن، تاوُمباوالا بلڈنگ اور دیوجی دارسی بلڈنگ کے برسوں سے بے گھر رہنے والے مکینوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات شروع کرے گی۔
-
سیاست1 سال agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 سال agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 سال agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم5 سال agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 سال agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 سال agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 سال agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 سال agoعبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا
