جرم
بی جے پی لیڈر کے ٹرسٹ اور نامعلوم سرکاری عہدیداروں کے خلاف سی بی آئی کی ایف آئي آر درج
مرکزی تفتیشی بیورو(سی بی آئی) نے کٹھوعہ میں واقع آر بی ایجوکیشنل ٹرسٹ اور محکمہ جنگلات اور محصولات کے نامعلوم عہدیداروں کے خلاف جعلسازی کے ذریعہ زمین حاصل کرنے کی ابتدائی تفتیش (پی ای) شروع کرنے کے لیے ایف آئی آر درج کی ہے۔
یہ ٹرسٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر چودھری لال سنگھ چلارہے ہیں۔ جمعرات کے روزیہاں سی بی آئی کے ذرائع نے اس اطلاع کی تصدیق کی۔
ذرائع نے بتایا کہ ناجائز فائدہ حاصل کرتے ہوئے ضلع کٹھوعہ کے محکمہ محصولات اور محکمہ جنگلاتی کے نامعلوم عہدیداروں نے سرکاری / جنگلات کی زمین کی خرید و فروخت کی اجازت دی اور ٹرسٹ نے اس کا فائدہ اٹھایا۔
سی بی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی دستاویزات کو جموں وکشمیر زراعتی اصلاحات ایکٹ 1976 کے تحت چھوٹ کے زمرہ میں شمار کرنے کے لئے پیش کیا گیا تھا ، جس میں محصولات اور محکمہ جنگلات کی ملی بھگت تھی۔
تفتیشی ایجنسی نے الزام لگایا کہ ٹرسٹ نے اس قانون کے تحت اراضی کو فروخت کرنے سے متعلق دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بہت بڑی اراضی حاصل کی ہے۔
صرف یہی نہیں بی جے پی کےلیڈر کے ٹرسٹ نے جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن (پی آئی ایل) نمبر 19/2011 کے تحت 9 جون 2015 کو دائر حلف نامے میں غلط معلومات بھی دی ہیں۔
بزنس
ممبئی : شئیر مارکیٹ میں نفع کے نام پر ۳۰ کروڑ کی ٹھگی ای او ڈبلیو کی کارروائی، ملزم گرفتار، ایک کروڑ برآمد

ممبئی : ممبئی انویس ٹوک ایپ کے نام پر شئیر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کی آڑ میں سرمایہ کاروں کو ۲ سے ۵ فیصد نفع دینے پر دھوکہ دہی اور بے۔ ضابطگی کے معاملہ میں ممبئی اقصادی ونگ ای او ڈبلیو نے ملزم کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ای او ڈبلیو میں ایم پی آئی ڈی ایکٹ سمیت دھوکہ دہی کا کیس درج کیا گیا تھا جس میں انویس ٹوک نامی کمپنی نے ۳۰ کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی ہے۔ اس میں ۴۲ سرمایہ کاروں سے دغابازی کی گئی ہے, جس کی مالیت ۳۰ کروڑ روپےبتائی جاتی ہے۔ ممبئی ای او ڈبلیو یونٹ ۵ کو اطلاع ملی کہ لوگوں سے دھو کہ بازی کرنے والا گجرات میں روپوش ہے۔ اس پر ای او ڈبلیو کی ٹیم نے گجرات سے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے قبضے سے ایک کروڑ ۶۵ لاکھ روپے بھی برآمد کئے ہیں اور شہریوں سے اپیل کی ہے۔ کہ وہ پونجی اسکیموں میں سرمایہ کاری نہ کرے تاکہ وہ دھوکہ بازی کا شکار نہ ہو, اس کے ساتھ ہی آبی آئی کی اسکیم کے مطابق ہی شہری سرمایہ کاری کرے۔
جرم
جعلی شادیوں کے ذریعے بیچلرز کو شکار کرنے کے الزام میں میاں بیوی سمیت تین ملزمان گرفتار

نئی دہلی: دہلی پولیس نے فرضی شادی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ یہ گینگ افراد کو نشانہ بناتا، جعلی شادیاں کرواتا اور ان سے بڑی رقم کا دھوکہ دہی کرتا۔ گرفتار ملزمان میں گملا، جھارکھنڈ کے رہنے والے لولی عرف للیتا اور کمل لوہارا اور دہلی کے رگھوبیر نگر کے رہنے والے دیپو عرف راکیش ایکا شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک لاپتہ خاتون لولی عرف للیتا کی 18 جون کو خیالہ پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی اطلاع دی گئی۔ پولیس کے مطابق معاملے کی تحقیقات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی۔ ٹیم نے تکنیکی نگرانی اور مقامی انٹیلی جنس کا استعمال کرتے ہوئے، راجستھان کے پالی ضلع میں رہنے والی لاپتہ خاتون کو دریافت کیا۔ تیزی سے کام کرتے ہوئے ٹیم پالی ضلع کے تخت گڑھ پولیس اسٹیشن پہنچی، جہاں یہ خاتون موجود تھی۔ دوران تفتیش لولی نے انکشاف کیا کہ اس کی شادی 18 سال قبل کمال لوہارا سے ہوئی تھی اور ان کے چار بچے ہیں۔ اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ اپنے شوہر اور ساتھیوں، دیپو عرف راکیش ایکا، انکت ورما، دیپیکا اور گوپال کے ساتھ مل کر غیر شادی شدہ مردوں کو نشانہ بنا کر ایک جعلی شادی کا ریکٹ چلا رہی تھی۔
پولیس نے اطلاع دی کہ ملزم نے اکیلی عورت ظاہر کرتے ہوئے یکم جون کو راجستھان کے جلور کے رہنے والے شراون ویشنو سے لولی کی شادی طے کی۔ گینگ نے متاثرہ سے 6 لاکھ روپے لیے اور آپس میں بانٹ لیے۔ حکام نے بتایا کہ شادی کے بعد گینگ نے اس کے سسرال کے گھر سے نقدی اور دیگر قیمتی سامان لے کر فرار ہونے کا منصوبہ بنایا۔ متاثرہ کی شکایت اور تحقیقات کے دوران ملنے والے شواہد کی بنیاد پر 29 جون کو کھیالہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ اس کے بعد، پولس نے تین ملزمان کو گرفتار کیا: لولی عرف للیتا، اس کے شوہر کمل لوہارا، اور دیپو عرف راکیش ایکا کو۔ تفتیش کے دوران ملزمان نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ انہوں نے شادی شدہ خواتین کو شادی کے لیے تیار ظاہر کر کے سنگل مردوں کو نشانہ بنایا، شادی کے نام پر پیسے بٹورے اور بعد میں نقدی اور قیمتی سامان لے کر فرار ہونے کا منصوبہ بنایا۔ پولیس نے کہا کہ باقی ملزمان کا سراغ لگانے اور اس بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے کہ آیا یہ گینگ دیگر ریاستوں میں بھی اسی طرح کی دھوکہ دہی میں ملوث تھا۔
بین الاقوامی خبریں
شمال مشرق میں سیکورٹی کے سخت ہونے کے بعد، نیپال سے چرس کی اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے، جس میں بہار ایک اہم داخلی مقام بن گیا ہے۔

نئی دہلی: شمال مشرقی ریاستوں میں سخت حفاظتی انتظامات اور چرس کی غیر قانونی کاشت پر روک لگانے کے بعد، اسمگلنگ کا نیٹ ورک نیپال منتقل ہو گیا ہے۔ مرکزی ایجنسیوں کے مطابق، نیپال میں بڑے پیمانے پر اگائی جانے والی چرس کو بہار کے راستے بھارت میں سمگل کیا جا رہا ہے، جہاں سے اسے جنوبی بھارت، سری لنکا اور پھر امریکہ اور یورپ جیسی بین الاقوامی منڈیوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد شمال مشرقی ریاستوں میں ترقی کے ساتھ ساتھ سرحدی سلامتی پر خصوصی زور دیا تھا۔ اس کی وجہ سے آسام، تریپورہ، منی پور، میگھالیہ اور میزورم جیسی ریاستوں میں چرس کی غیر قانونی کاشت میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ نتیجتاً، سمگلروں نے ایک نئے ذریعہ کے طور پر نیپال کا رخ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پہاڑی علاقوں میں اگائی جانے والی چرس بہتر معیار کی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی مانگ زیادہ ہوتی ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں نے نیپال کے سنساری ضلع کو چرس کی اسمگلنگ کے ایک بڑے مرکز کے طور پر شناخت کیا ہے۔ یہاں سے بہار کے ارریہ اور سپول اضلاع میں بھارت-نیپال کی کھلی سرحد کے ذریعے گانجا ہندوستان میں لایا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے سڑک کے ذریعے جنوبی ہندوستان اور وہاں سے سری لنکا کے راستے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ مرکزی ایجنسیاں اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) اس پورے نیٹ ورک پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ 1,751 کلومیٹر طویل کھلی بھارت-نیپال سرحد اسمگلروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسمگلر پرائیویٹ کاروں، موٹرسائیکلوں اور ٹرکوں کے ذریعے منشیات کی کھیپ بھارت منتقل کرتے ہیں۔
انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے حکام کے مطابق اس نیٹ ورک میں سرحدی بروکرز (ٹاؤٹس) کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ بغیر کسی فیس کے لوگوں کو لے جانے اور نیپال سے بہار تک ممنوعہ اشیاء کی منتقلی میں مدد کرتے ہیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں یہی نیٹ ورک پاکستان سے نیپال سے بھارت میں دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ انڈین مجاہدین نے بھی اس نیٹ ورک کا استعمال کیا۔ اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ نیپال سے بھنگ کی کھیپ پاکستان یا “گولڈن ٹرائینگل” خطے سے آنے والی بھنگ کی مقدار میں کم ہے، لیکن ان کی تعدد نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق بھارت کو منشیات سے پاک بنانے کی مرکزی حکومت کی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر انسداد منشیات کی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ اہم ٹرانزٹ پوائنٹس پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے، اور بڑے آپریشن باقاعدگی سے کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ سب سے بڑی تشویش ڈرونز کے ذریعے پاکستان سے منشیات کی ترسیل ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی غیر محفوظ بھارت نیپال سرحد کو انسانی اسمگلنگ، منشیات کی اسمگلنگ، جعلی کرنسی اور اسلحے کی اسمگلنگ کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ بھارتی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کے ساتھ سرحد بھی سمگلنگ کے لیے استعمال ہوتی ہے تاہم بہار کا راستہ اسمگلروں کا پسندیدہ راستہ بنا ہوا ہے۔ نیپال نے 1976 میں بھنگ کی کاشت پر پابندی عائد کر دی تھی، حالانکہ وقتاً فوقتاً اس پابندی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ حال ہی میں، این سی بی نے نیپال، بھارت اور سری لنکا میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی منشیات کی سمگلنگ کا پردہ فاش کیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ چرس اور چرس کا تیل کھٹمنڈو سے بھارت نیپال سونولی سرحد کے راستے بھارت میں سمگل کیا جا رہا تھا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
