Connect with us
Sunday,15-March-2026

سیاست

بی جے پی – شیوسینا کی مہاراشٹر میں دوبارہ جیت

Published

on

مہاراشٹر میں اپوزیشن کانگریس – نیشنلسٹ کانگریس پارٹی محاذ نے 288 ممبران کی اسمبلی میں بی جے پی – شیوسینا کی 160 نشستوں کے مقابلے میں 100 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ باقی نشستوں پر آزاد اور چھوٹی جماعتوں نے فتح حاصل کر کے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان نتائج نے بی جے پی کے ان دعووں کی قلعی کھول دی ہے کہ بھگوا محاذ 250 کا عدد چھولے گی، لیکن رائے دہندگان نے ان کے دعوے جھٹلا دئیے ہیں، اس موقع پراین سی پی کے صدر شرد پوار نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ “عوام نے فریب دینے والوں کو سبق سکھا دیا ہے، اور انہیں مسترد کردیا ہے۔” اور اس انتخابات میں جو اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ اور اس جیت کے لیے این سی پی اور اتحادی کانگریس کارکنوں کی محنت اور سرگرمی رنگ لائی ہے، جو نتائج سامنے آئے ہیں، وہ تین دن قبل مختلف ایگزٹ پول کی پیش گوئیاں سے دور ہیں۔ ان نتائج کی مدنظر شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے آج کہاکہ یہ ایسا موقعہ ہے کہ بی جے پی 50:50 کے فارمولے پر عمل کرے۔ اس درمیان برسر اقتدار اور حزب مخالف کے کئی سرکردہ لیڈران کو شکست کامنہ دیکھنا پڑا ہے، جن فڈنویس کابینہ کی خاتون وزیر بیڑ ضلع میں پرلی سے پنکجا منڈے اور ستارا لوک سبھا کے ضمنی امیدوار چھترپتی ​​ادیانجے بھونسلے کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، پنکجا، آنجہانی گوپی ناتھ منڈے کی بیٹی ہیں اور انہیں چچازاد بھائی نے ہرایا ہے۔
دونوں کو حریف نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے دھننجئے منڈے اور شری نیواس داداصاحب پاٹل نے ہرایا ہے، ان نتائج نے بی جے پی کو حیرت زدہ کردیا۔ کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ اور بی جے پی صدر امت شاہ نے منڈے کے لئے انتخابی مہم چلائی تھی۔ بھونسلے این سی پی سے بی جے پی میں آئے تھے، اور شیواجی مہاراج کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
شیوسینا میں ممتاز ہارنے والوں میں باندرہ مشرق حلقہ سے ممبئی کے میئر وشوناتھ مہاڈیشور بھی شامل ہیں – جبکہ کانگریس کے اسمبلی میں ڈپٹی لیڈر نسیم عارف خان بھی محض 400 ووٹوں سے ہار گئے ہیں، یہاں بھی کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے انتخابی جلسہ سے خطاب کیا تھا۔ ممبئی کے میئر مہاڈیشور کو سابق وزیر بابا صدیقی کے بیٹے ذیشان صدیقی کامیاب ہوئے، مذکورہ مضافاتی علاقے میں شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کی رہائش گاہ واقع ہے۔ جبکہ ادھو کے صاحب زادے ادیتہ ٹھاکرے ورلی حلقہ سے کامیاب ہوئے ہیں، ٹھاکرے خاندان کے پہلے شخص ہیں جو کہ ایوان میں پہنچے ہیں۔ نالا سوپاڑہ میں سابق پولیس افسر پردیپ شرما کو شکست ہوئی جو شیوسینا کے امیدوار ہیں۔
شیوسینا کے ایک سینئر رہنما نے اشارہ دیا کہ حتمی نتائج کے بعد غور وخوض کیا جائیگا، اس موقع پر ادھو ٹھاکرے نے واضح طور پر 50-50 کے فارمولے کا ذکر کیا ہے اور ایک سوال کے جواب پر کہاکہ شردپوار کی این سی پی کی بہتر کارکردگی پر خوشی کااظہار کیا۔ اس پس منظر میں، آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں کا کردار اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے جیسا کہ بہت سے انتخابی حلقوں میں ہوا ہے، انہوں نے حکمران اتحاد کے امیدواروں کو پریشان کیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ایس آئی آر سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہے، ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کا یوپی سرکار اور الیکشن کمیشن پر تنقید

Published

on

ممبئی: سماجوادی پارٹی قومی صدر رکن پارلیمان اکھلیش یادو نے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آر سے صرف مسلمانوں کو ہی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ اترپردیش میں ہندوبھی قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ہندوؤں کو بھی ایس آئی آر سے پریشانی کا سامنا ہے وزیر اعلیٰ بھی اس سے گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ۴ کروڑ ووٹ ہمارا کٹ کیا جو لوگ مسلمانوں کے کاغذ ڈھونڈ رہے تھےاب سب ہندو بھائیو کو انہوں نے لائن میں لگادیا۔ ہندو بھائی کاغذ ڈھونڈ رہے ہیں یوپی میں ایس آئی آر سے پریشان اپوزیشن نہیں بلکہ برسراقتدار جماعتیں پریشان ہے۔ فرضی ووٹ ڈالے گئے تھے الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں خاموش تھا اس کی غیر جانبداری اور ایمانداری پر بھی سوال اٹھا اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر سے اپوزیشن کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ یہاں ممبئی میں ایک سمٹ سے خطا ب کررہے تھے انہوں نے مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر ممتا بنرجی کی واپسی کی بھی پیشگوئی اور دعویٰ کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرسماجوادی پارٹی ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی بھی موجود تھے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور یوپی سرکار پر بھی جم کر تنقید کی اور سرکار کے طریقہ کار اور فرقہ پرستی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

Continue Reading

سیاست

ای سی آئی نے سومیت گپتا کو شمالی کولکتہ کے لیے ضلع انتخابی افسر مقرر کیا ہے۔

Published

on

کولکتہ: ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے سمیت گپتا کو شمالی کولکاتہ کے لیے ضلعی انتخابی افسر (ڈی ای او) کے طور پر مقرر کیا ہے، ریاستی حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے اتوار کو بتایا۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے سے پہلے ہی شمالی کولکتہ کے ڈی ای او کا نام فائنل کر لیا گیا تھا۔ فی الحال، آئی اے ایس افسر سمیت گپتا کولکتہ میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق وہ اس الیکشن کے دوران شمالی کولکتہ کے لیے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے فرائض انجام دیں گے۔ عام طور پر، الیکشن کمیشن متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ڈسٹرکٹ ایگزیکٹو آفیسر (ڈی ای او) کے طور پر مقرر کرتا ہے۔ تاہم کولکتہ میں قوانین مختلف ہیں۔ چونکہ کولکتہ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نہیں ہے، اس لیے یہ ذمہ داری عام طور پر کسی مخصوص سرکاری محکمے کے آئی اے ایس رینک کے افسر کو سونپی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، پہلے یہ ڈیوٹی کسی مخصوص نامزد اہلکار کو نہیں سونپی گئی تھی۔ تاہم اب اس انتظام کو باقاعدہ شکل دے دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کو براہ راست شمالی کولکتہ کے لیے ریٹرننگ آفیسر (ڈی ای او) کے طور پر مقرر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے آج اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان متوقع ہے۔ تاہم، اس سے پہلے، چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کی سربراہی میں کمیشن کی ایک فل بنچ نے مغربی بنگال کا دورہ کیا۔ انہوں نے انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیا اور انتظامیہ اور پولیس دونوں کے ساتھ کئی میٹنگیں کیں۔ انہوں نے ریاست کی تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ میٹنگیں بھی کیں۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق مغربی بنگال میں انتخابات دو سے تین مرحلوں میں ہو سکتے ہیں۔ توقع ہے کہ اتوار کو شام 4 بجے قومی دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا جائے گا۔ تاہم، انتخابات کا باضابطہ اعلان ہونے سے پہلے ہی، الیکشن کمیشن نے شمالی کولکتہ کے لیے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر (ڈی ای او) کو حتمی شکل دے دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مئیر ریتو تاورے اور وی وی آئی پی کی کار پر بتی لائٹ کو کاروں سے بتیاں ہٹانے کا بی ایم سی کا دعویٰ، انتظامیہ کی وضاحت

Published

on

ممبئی: ممبئی مئیر آف ممبئی ریتو تاوڑے کی کار پر بتی اور بی ایم سی عہدیداروں کے وی آئی پی کلچرل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی ایم سی نے تمام سرکاری عہدیداروں کی کار سے بتی اور چمکتی ہوئی لائٹیں نکالنے کا دعوی کیا ہے بی ایم سی کے مطابق میڈیا میں میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کی گاڑیوں پر چمکتی ہوئی لائٹیں لگانے کی خبریں نشر ہوئی تھی اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عہدیداران کو عہدہ سنبھالنے کے بعد گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی ان گاڑیوں پر چمکتی ہوئی بتی روشنی کا معاملہ سامنے آیا تو عہدیداران کی گاڑیوں پر لگی چمکتی روشنیاں (فلشر لائٹس) ہٹا دی گئیں۔ واضح رہے کہ بی ایم سی اس وقت حرکت میں آئی جب میئر ریتوتاوڑے کی کار پر نصب وی وی آئی پی کلچرل سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی تھی اور اب بی ایم سی انتظامیہ نے اس مسئلہ پر وضاحت کر کے کاروں سے بتی ہی ہٹا دی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے وی وی آئی پی کلچرل کے خلاف وزراسمیت دیگر کی کاروں سے لال بتیاں نکالنے کا حکم دیاتھا اس کے بعد بی ایم سی میئر کی کار پر بتی کی تنصیب پر تنقیدیں شروع ہو گئی تھی اب یہ تمام کاروں کی بتیاں نکالنے کا دعویٰ بی ایم سی نے کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان