Connect with us
Monday,22-June-2026

سیاست

جنم داخلہ میں ناموں کی درستی و اندراج کورٹ کی بجائے قانون کے مطابق کارپوریشن میں کیا جائے گا :آصف شیخ

Published

on

(زاہد بیباک )
شہریت ترمیم ایکٹ(CAA)، قومی اندراج شہریت (NRC) اور قومی اندراج آبادی ( NPR) کا اعلان ہونے کیساتھ ہی ملک بھر میں کاغذات جمع کرنے کی بھاگ دوڑ شروع ہوگئی ہے اور کاغذات درست نہ ہونے پر عوام کی بیچینی لازمی ہے اسلئے بھی ملک بھر میں افراتفری کا ماحول ہے یہ مدعے اپنی جگہ درست ہیں لیکن حکومت اور عدالت کیجانب سےجنم اور اموات کے داخلے اور اسکولوں کےداخلوں میں درستی کے احکامات صادر کئے جاتے ہیں مگر میونسپل کمشنر اور انتظامیہ اس سہولت کو عوام تک پہونچانے میں کوتاہی کرتے ہیں جس کی وجہ سے عوام مزید تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا ہوتی ہے۔
اس ضمن میں سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے بتلایا کہ میونسپل کونسل یا کارپوریشن کے جنم اور اموات کے رجسٹر میں بعض ناموں کے اندراج میں بچے کی پیدائش کی تاریخ اور والدین کے ناموں کی تفصیل کا اندراج تو ہوتا ہے لیکن بچے کا نام چونکہ اس وقت تک رکھا نہیں جاتا اسلئے درج نہیں ہوتا کچھ نام گھر کے عام بول چال کے نام کی غلطی کی وجہ سے درج کردیئے جاتے ہیں اور میت کے داخلوں میں چوں کہ میت کے گھر کے افراد صدمے میں ہوتے ہیں اسلئے محلہ کے افراد یا دیگر کوئی شخص نام کا اندراج کرتا ہےجس میں اکثر غلطی ہوجاتی ہے ان غلطیوں کو درست کرنے کیلئے میونسپل کونسل یا کارپوریشن کے چیف آفیسر، کمشنر اور ہیلتھ آفیسر کو مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1949 کی دفعہ 363 اور 370 کے تحت اختیار ہونے کے باوجود وہ نہیں کرتے اور متعلقین کو کورٹ سے احکامات لانے کی شرط عائد کرتے ہوئے اپنا بچاؤ کرتے ہیں جبکہ ان غلطیوں کو درست کرنے کیلئے حکومت اور عدالت احکامات بھی صادر کرتے ہیں لیکن یہ معلومات کمشنر اور انتظامیہ کی جانب سے عام نہیں کی جاتی اور نہ ہی حکومت اور عدلیہ کے احکامات پر عمل درآمد کیا۔جاتا ہے جس سے لوگوں کی پریشانیاں دوبالا ہوجاتی ہیں اور کورٹ کچہری کے چکر الگ لگانا پڑتے ہیں ان تمام پریشانیوں کے سدباب کیلئے حکومت مہاراشٹر کے محکمۂ صحت عامہ سے 20 جولائی 2015 کو ایک سرکولر جاری کیا گیا جس کا نمبر जा क्र.१२ आभाजिआ/कक्ष-८३ नावसमाविष्ठ/अधिसुचना ४९७६.५११२/१५ہے۔ اس سرکولر کیمطابق 14 مئی 2020 کی مدت تک میونسپل کونسل یا کارپوریشن کی حدود میں پیدا ہوئے ہر بچے کا خواہ وہ 1969 سے پہلے ہی کیوں نہ پیدا ہوا ہو اس کا نام جنم کے رجسٹر میں درج کیا جاسکتا ہے اور ناموں میں کسی وجہ سے فرق ہوا ہو تو اس کی درستی بھی کی جاسکتی ہے لیکن میونسپل کمشنر اور ہیلتھ آفیسر نے اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی برتی اسلئے موجودہ کمشنر اور ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیلتھ ڈپارٹمینٹ) سے مزید 5, سال تک مدت میں اضافہ کا مطالبہ کانگریس پارٹی کے سبھی کارپوریٹرس کی جانب سے کیا گیا ہے اس طرح اسکول کے داخلوں میں بھی اندراج کے رجسٹر میں اسکول کے ہیڈ ماسٹرس کسی بھی طرح کی درستی نہیں کرتے اور ایک مرتبہ جیسا اندراج کردیا گیا وہی آخر تک قائم رہتا ہے ان ناموں کو درست کرنے کیلئے اسکول انتظامیہ اور ہیڈ ماسٹرس معذوری ظاہر کرتے ہیں لیکن اس سلسلے میں بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے رٹ پیٹیشن نمبر 8085/2017 کے حوالے سے فیصلہ صادر کرتے ہوئے حکومت مہاراشٹر کے سکریٹری (محکمۂ تعلیمات)کو پابند کیا کہ اسکول کے اندراج رجسٹر میں نام، ذات اور ضمنی ذات وغیرہ کی درستی کی جاسکتی ہے اور مذکورہ درست ناموں کو ثابت کرنے کیلئے کسی بھی ایک دستاویز کا ہونا کافی ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو اسکول کے داخلوں میں بھی درستی کرنے میں سہولت حاصل ہوگی اس سلسلے میں کانگریس پارٹی کے کارپوریٹرس نے مطالبہ کیا ہیکہ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی جنرل بورڈ میٹنگ میں تجویز لاکر اس سرکولر کی مدت مزید پانچ سال تک بڑھائی جائے کیونکہ مقامی کمشنر اور ہیلتھ آفیسر کی غلطی کی وجہ سے 5, جولائی 2015 سے آج تک شہر کی عوام اس سرکولر کے فائدے سے محروم رہی ہے اسلئے ان مطالبات کی یکسوئی اور عوامی سہولیات کے پیشِ نظر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں جنرل بورڈ منعقد کرکے تجویز منظور کرتے ہوئے ناموں کا اندراج، درستی، اور ناموں۔میں اضافہ کرنے کیلئے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن سمیت کارپوریشن کے تمام پربھاگ آفسوں میں پانچ پانچ اضافی ٹیبل لگاکر شہر کی عوام کو راحت پہنچانے کیلئے کانگریس کارپوریٹرس سرگرم عمل ہیں۔ اسطرح کا تفصیلی اظہار خیال سابق رکن اسمبلی آصف شیخ نے ایک پریس کانفرنس سے کہا اور کہا کہ جن افراد کے والدین نے بچوں کے نام کی درخواست کارپوریشن میں دی تھی اور انکا نام رجسٹرڈ نہیں ہوا ہے تو وہ آنا نام کارپوریشن میں درج کروا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ مالیگاوں کارپوریشن شہر کے چار پربھاگ میں الگ الگ ٹیبل لگا کر عوام کی مدد کرے انکے داخلے بنا کر دیں اسکولوں کو مالیگاوں کارپوریشن پابند بنائے کہ وہ ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے فیصلے کو شہر کی پرائمری و ہائی اسکول میں نافذ کرے آصف شیخ نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے کارپوریٹر جنرل بورڈ میٹنگ میں تجویز پاس کرے کہ مالیگاوں شہر کی عوام کو سابقہ کمشنر اور ہیلتھ آفیسر کی غلطی سے مرکزی حکومت و ریاستی حکومت کے مذکورہ بالا جی آر کی سہولت نہیں مل سکی ہے اور اب اسے ختم ہونے میں تین ماہ کا وقت باقی ہے تو اب مالیگاؤں کی عوام کو سہولت دینے کے اس جی آر کی مدت میں مزید پانچ سال کا اضافہ کیا جائے اس پریس کانفرنس میں ہاؤس لیڈر اسلم انصاری، شکیل بیگ فقیر محمد، سلیم انور، نہال حاجی، فقیرہ حاجی، وٹھل بروے، فارق قریشی، تاج الدین، رفیق بھوریا،صابر گوہر، حافظ انیس اظہر، جمال سائیکل والے، مجاھد خان، شفیق بھنیا، قیوم ایس ای او وغیرہ کانگریس کارپوریٹرس و پارٹی کے ذمہ داران موجود تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

سیاست

ایکناتھ شندے کا دھڑا ہی اصل شیوسینا ہے، یو بی ٹی ممبران پارلیمنٹ کی آمد کا خیرمقدم کرتی ہے: شائنا این سی

Published

on

ممبئی : شیو سینا کی لیڈر شائنا این سی نے دعویٰ کیا کہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا مسلسل مضبوط ہو رہی ہے، اور حالیہ سیاسی پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ ریاست میں وہی شیوسینا ہی ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے ارکان پارلیمنٹ کے شنڈے دھڑے میں شامل ہونے کی خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے، انہوں نے ادھو ٹھاکرے اور ایم پی سنجے راوت پر بھی سخت حملہ کیا۔

شائنا این سی نے پیر کو آئی اے این ایس کو بتایا کہ مہاراشٹر کی سیاست میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ صرف ایک شیو سینا ہے، اور وہ شیوسینا ہے جس کی قیادت ایکناتھ شندے کر رہے ہیں۔ پارٹی کی طاقت اس وقت ظاہر ہوئی جب 40 ایم ایل اے ایکناتھ شندے کے ساتھ اسمبلی میں شامل ہوئے اور بعد کے انتخابات میں شیوسینا کی شاندار کارکردگی نے ایکناتھ شندے کی قیادت میں اپنی عوامی حمایت کو بھی ثابت کیا۔

ادھو ٹھاکرے کو نشانہ بناتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بتانا چاہئے کہ ہندو ہردئے سمراٹ بالاصاحب ٹھاکرے کا نظریہ کہاں تھا جب انہوں نے 2019 کے اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس اور این سی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی فائدے کے لیے اس وقت ٹھاکرے کے نظریے کو نظر انداز کیا گیا تھا، اور اب نظریہ کی بات کی جا رہی ہے۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کے ممبران پارلیمنٹ کے شنڈے دھڑے میں شامل ہونے کے امکان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، شینا این سی نے کہا کہ اگر کسی پارٹی کے دو تہائی ممبران اسمبلی یا ایم ایل ایز دوسرے گروپ میں شامل ہو جاتے ہیں، تو آئین اور انسداد انحراف قانون کے تحت انضمام کا انتظام ہے۔ یو بی ٹی کی قیادت کو خود کا جائزہ لینا چاہیے کہ ان کے ایم پی، ایم ایل اے اور کونسلر پارٹی کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ جب کارکنوں اور عوامی نمائندوں کا احترام نہیں کیا جاتا، اور بات چیت کی جگہ الزامات اور گالی گلوچ سے لے لی جاتی ہے، تو لوگ فطری طور پر دوسرے آپشنز تلاش کرتے ہیں۔

شائنا این سی نے سنجے راوت کے اس بیان پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا کہ بھگوان رام کے آشیرواد سے اقتدار میں آنے والی بی جے پی اب رام کی لعنت سے بے دخل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سنجے راوت مسلسل ایسے بیانات دے رہے ہیں جو ان کی سیاسی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ راوت کا واحد مقصد ادھو ٹھاکرے کی پارٹی کو نقصان پہنچانا ہے، اور ان کے بیانات سیاسی سنجیدگی سے عاری ہیں۔

Continue Reading

سیاست

مہاراشٹر: ادھو ٹھاکرے منحرف ہونے والے ممبران پارلیمنٹ کے حلقوں کا دورہ کریں گے۔

Published

on

ممبئی ، شیو سینا-یو بی ٹی پارٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے 27 سے 29 جون تک ان حلقوں کا ایک وسیع دورہ کریں گے جہاں سے پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں چلے گئے ہیں۔ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور سامنا کے ایگزیکٹو ایڈیٹر سنجے راوت کے ذریعہ جاری کردہ ایک ریلیز کے مطابق، یہ دورہ ریاست کے کئی اہم اضلاع کا احاطہ کرے گا، اور پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کو ہر مقام کے لیے مخصوص ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

یہ دورہ چھ ممبران پارلیمنٹ – اومراجے نمبالکر (دھراشیو)، سنجے پاٹل (ملوند نارتھ ایسٹ)، سنجے جادھو (پربھنی)، سنجے دیشمکھ (یوتمال)، ناگیش پاٹل اشتیکر (ہنگولی)، اور بھاؤصاحب وکچورے (شرڈی) کے کچھ ہی دن بعد ہوا ہے، جنہوں نے پچھلے ہفتے بغاوت کرتے ہوئے حقیقت میں شمولیت کا اشارہ کیا۔ ٹھاکرے پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ان حلقوں کا دورہ کریں گے اور عوامی طور پر ان ووٹروں سے معافی مانگیں گے جنہوں نے 2024 کے عام انتخابات کے دوران اب منحرف ہونے والے ایم پیز کو ووٹ دیا تھا۔

ٹھاکرے 27 جون کو یوتمال میں اپنا دورہ شروع کریں گے، جہاں سینئر لیڈر بشمول ایم پی اروند ساونت، ایم ایل اے سنجے ڈیرکر، رابطہ سربراہ راجندر گائیکواڑ، اور ضلعی سربراہان پروین شندے، کشور انگلے، اور سنجے نکھادے تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔ اس کے بعد وہ واشم جائیں گے۔ ایم پی ساونت، ایم ایل اے ڈیرکر، رابطہ سربراہ دلیپ جادھو اور ضلع سربراہ بالاجی وانکھیڈے کوآرڈینیشن سنبھال رہے ہیں۔ پارٹی سربراہ دوپہر میں ہنگولی جائیں گے۔ ایم ایل سی اور اپوزیشن کے سابق لیڈر امباداس دانوے، رابطہ سربراہ ببن راؤ تھوراٹ، اور ضلعی سربراہ سندیش دیشمکھ، اجے پاٹل، اور گوپو ساونت وہاں ذمہ داریوں کی قیادت کریں گے۔ پارٹی سربراہ رات پربھنی میں گزاریں گے۔

دورے کا دوسرا مرحلہ 28 جون کو پربھنی شہر کے دورے سے شروع ہوگا۔ ایم ایل سی دانوے، ایم ایل اے راہول پاٹل، رابطہ سربراہ پردیپ کمار کھوپڑے، اور ضلع سربراہ ڈاکٹر وویک ناوندر مقامی انتظامات کو سنبھالیں گے۔ ٹھاکرے دوپہر میں دھاراشیو کے لیے روانہ ہوں گے۔ دانوے، ایم ایل اے کیلاش پاٹل، اور رابطہ سربراہ سنیل کٹمور انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ دن کا اختتام چھترپتی سمبھاجی نگر میں رات بھر قیام کے ساتھ ہوگا۔ دورے کے آخری دن، 29 جون، ٹھاکرے مقدس شہر شرڈی کا دورہ کریں گے۔ راؤت، رابطہ سربراہ اور ایم ایل سی سنیل شندے، ضلعی سربراہ سچن کوٹے، اور جگدیش چودھری کو اس مرحلے کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے۔

پارٹی سربراہ ممبئی روانہ ہوں گے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ پورے دورے کا منصوبہ پورے مہاراشٹر میں پارٹی کارکنوں کو متحد کرنے اور اہم سیاسی اتحادوں سے پہلے نچلی سطح پر تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے، متحدہ شیوسینا کے 60 ویں یوم تاسیس پر اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں سے جذباتی اپیل کرتے ہوئے، ٹھاکرے نے گزشتہ جمعہ کو کہا تھا کہ اگر ان کے لیڈران منحرف اراکین اسمبلی کے ان پر لگائے گئے الزامات کو سچ مانتے ہیں، تو وہ شیو سینا-یو بی ٹی کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان