Connect with us
Saturday,08-August-2026

سیاست

جنم داخلہ میں ناموں کی درستی و اندراج کورٹ کی بجائے قانون کے مطابق کارپوریشن میں کیا جائے گا :آصف شیخ

Published

on

(زاہد بیباک )
شہریت ترمیم ایکٹ(CAA)، قومی اندراج شہریت (NRC) اور قومی اندراج آبادی ( NPR) کا اعلان ہونے کیساتھ ہی ملک بھر میں کاغذات جمع کرنے کی بھاگ دوڑ شروع ہوگئی ہے اور کاغذات درست نہ ہونے پر عوام کی بیچینی لازمی ہے اسلئے بھی ملک بھر میں افراتفری کا ماحول ہے یہ مدعے اپنی جگہ درست ہیں لیکن حکومت اور عدالت کیجانب سےجنم اور اموات کے داخلے اور اسکولوں کےداخلوں میں درستی کے احکامات صادر کئے جاتے ہیں مگر میونسپل کمشنر اور انتظامیہ اس سہولت کو عوام تک پہونچانے میں کوتاہی کرتے ہیں جس کی وجہ سے عوام مزید تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا ہوتی ہے۔
اس ضمن میں سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے بتلایا کہ میونسپل کونسل یا کارپوریشن کے جنم اور اموات کے رجسٹر میں بعض ناموں کے اندراج میں بچے کی پیدائش کی تاریخ اور والدین کے ناموں کی تفصیل کا اندراج تو ہوتا ہے لیکن بچے کا نام چونکہ اس وقت تک رکھا نہیں جاتا اسلئے درج نہیں ہوتا کچھ نام گھر کے عام بول چال کے نام کی غلطی کی وجہ سے درج کردیئے جاتے ہیں اور میت کے داخلوں میں چوں کہ میت کے گھر کے افراد صدمے میں ہوتے ہیں اسلئے محلہ کے افراد یا دیگر کوئی شخص نام کا اندراج کرتا ہےجس میں اکثر غلطی ہوجاتی ہے ان غلطیوں کو درست کرنے کیلئے میونسپل کونسل یا کارپوریشن کے چیف آفیسر، کمشنر اور ہیلتھ آفیسر کو مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1949 کی دفعہ 363 اور 370 کے تحت اختیار ہونے کے باوجود وہ نہیں کرتے اور متعلقین کو کورٹ سے احکامات لانے کی شرط عائد کرتے ہوئے اپنا بچاؤ کرتے ہیں جبکہ ان غلطیوں کو درست کرنے کیلئے حکومت اور عدالت احکامات بھی صادر کرتے ہیں لیکن یہ معلومات کمشنر اور انتظامیہ کی جانب سے عام نہیں کی جاتی اور نہ ہی حکومت اور عدلیہ کے احکامات پر عمل درآمد کیا۔جاتا ہے جس سے لوگوں کی پریشانیاں دوبالا ہوجاتی ہیں اور کورٹ کچہری کے چکر الگ لگانا پڑتے ہیں ان تمام پریشانیوں کے سدباب کیلئے حکومت مہاراشٹر کے محکمۂ صحت عامہ سے 20 جولائی 2015 کو ایک سرکولر جاری کیا گیا جس کا نمبر जा क्र.१२ आभाजिआ/कक्ष-८३ नावसमाविष्ठ/अधिसुचना ४९७६.५११२/१५ہے۔ اس سرکولر کیمطابق 14 مئی 2020 کی مدت تک میونسپل کونسل یا کارپوریشن کی حدود میں پیدا ہوئے ہر بچے کا خواہ وہ 1969 سے پہلے ہی کیوں نہ پیدا ہوا ہو اس کا نام جنم کے رجسٹر میں درج کیا جاسکتا ہے اور ناموں میں کسی وجہ سے فرق ہوا ہو تو اس کی درستی بھی کی جاسکتی ہے لیکن میونسپل کمشنر اور ہیلتھ آفیسر نے اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی برتی اسلئے موجودہ کمشنر اور ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیلتھ ڈپارٹمینٹ) سے مزید 5, سال تک مدت میں اضافہ کا مطالبہ کانگریس پارٹی کے سبھی کارپوریٹرس کی جانب سے کیا گیا ہے اس طرح اسکول کے داخلوں میں بھی اندراج کے رجسٹر میں اسکول کے ہیڈ ماسٹرس کسی بھی طرح کی درستی نہیں کرتے اور ایک مرتبہ جیسا اندراج کردیا گیا وہی آخر تک قائم رہتا ہے ان ناموں کو درست کرنے کیلئے اسکول انتظامیہ اور ہیڈ ماسٹرس معذوری ظاہر کرتے ہیں لیکن اس سلسلے میں بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے رٹ پیٹیشن نمبر 8085/2017 کے حوالے سے فیصلہ صادر کرتے ہوئے حکومت مہاراشٹر کے سکریٹری (محکمۂ تعلیمات)کو پابند کیا کہ اسکول کے اندراج رجسٹر میں نام، ذات اور ضمنی ذات وغیرہ کی درستی کی جاسکتی ہے اور مذکورہ درست ناموں کو ثابت کرنے کیلئے کسی بھی ایک دستاویز کا ہونا کافی ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو اسکول کے داخلوں میں بھی درستی کرنے میں سہولت حاصل ہوگی اس سلسلے میں کانگریس پارٹی کے کارپوریٹرس نے مطالبہ کیا ہیکہ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی جنرل بورڈ میٹنگ میں تجویز لاکر اس سرکولر کی مدت مزید پانچ سال تک بڑھائی جائے کیونکہ مقامی کمشنر اور ہیلتھ آفیسر کی غلطی کی وجہ سے 5, جولائی 2015 سے آج تک شہر کی عوام اس سرکولر کے فائدے سے محروم رہی ہے اسلئے ان مطالبات کی یکسوئی اور عوامی سہولیات کے پیشِ نظر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں جنرل بورڈ منعقد کرکے تجویز منظور کرتے ہوئے ناموں کا اندراج، درستی، اور ناموں۔میں اضافہ کرنے کیلئے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن سمیت کارپوریشن کے تمام پربھاگ آفسوں میں پانچ پانچ اضافی ٹیبل لگاکر شہر کی عوام کو راحت پہنچانے کیلئے کانگریس کارپوریٹرس سرگرم عمل ہیں۔ اسطرح کا تفصیلی اظہار خیال سابق رکن اسمبلی آصف شیخ نے ایک پریس کانفرنس سے کہا اور کہا کہ جن افراد کے والدین نے بچوں کے نام کی درخواست کارپوریشن میں دی تھی اور انکا نام رجسٹرڈ نہیں ہوا ہے تو وہ آنا نام کارپوریشن میں درج کروا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ مالیگاوں کارپوریشن شہر کے چار پربھاگ میں الگ الگ ٹیبل لگا کر عوام کی مدد کرے انکے داخلے بنا کر دیں اسکولوں کو مالیگاوں کارپوریشن پابند بنائے کہ وہ ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے فیصلے کو شہر کی پرائمری و ہائی اسکول میں نافذ کرے آصف شیخ نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے کارپوریٹر جنرل بورڈ میٹنگ میں تجویز پاس کرے کہ مالیگاوں شہر کی عوام کو سابقہ کمشنر اور ہیلتھ آفیسر کی غلطی سے مرکزی حکومت و ریاستی حکومت کے مذکورہ بالا جی آر کی سہولت نہیں مل سکی ہے اور اب اسے ختم ہونے میں تین ماہ کا وقت باقی ہے تو اب مالیگاؤں کی عوام کو سہولت دینے کے اس جی آر کی مدت میں مزید پانچ سال کا اضافہ کیا جائے اس پریس کانفرنس میں ہاؤس لیڈر اسلم انصاری، شکیل بیگ فقیر محمد، سلیم انور، نہال حاجی، فقیرہ حاجی، وٹھل بروے، فارق قریشی، تاج الدین، رفیق بھوریا،صابر گوہر، حافظ انیس اظہر، جمال سائیکل والے، مجاھد خان، شفیق بھنیا، قیوم ایس ای او وغیرہ کانگریس کارپوریٹرس و پارٹی کے ذمہ داران موجود تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

لوک مانیہ تلک جنرل اسپتال میں ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولیات دستیاب کرائی جائیں گی، ایڈیشنل میونسپل کمشنر کی ہدایت

Published

on

Lokmanya-Tilak-G.-Hospital

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام لوک مانیا تلک جنرل ہسپتال میں مختلف طبی علاج کے خواہشمند مریضوں کی بڑی تعداد دیکھنے میں آتی ہے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورما لاونگارے نے ہدایت دی ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کی مختلف خدمات کے لیے نقد اور ڈیجیٹل ادائیگی دونوں کے اختیارات دستیاب کرائے جائیں۔ انہوں نے ہسپتال مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کو ہسپتال کے اندر مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی بھی ہدایت کی۔ سائن کے لوک مانیا تلک جنرل ہسپتال میں فی الحال صلاحیت میں توسیع کا منصوبہ جاری ہے۔ پراجکتا ورما لاونگارے نے توسیعی کام کی پیشرفت کا ذاتی طور پر معائنہ کرنے کے لیے آج (8 اگست 2026) ہسپتال کا دورہ کیا۔ انہوں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ، مختلف وارڈز، ایم آئی سی یو، اور سی سی ٹی وی کنٹرول روم سمیت دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔

مریضوں اور ان کے لواحقین کو فی الحال مختلف طبی خدمات، جیسے ایکس رے، ایم آر آئی اسکین، آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) کیس پیپرز، اور طبی خدمات کی فیس کے لیے نقد ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ ان مقامات پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت کے لیے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینیں فراہم کی جانی چاہئیں۔ مزید برآں، ہسپتال کے اندر قطاروں کو کم کرنے میں مدد کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے ایک وقف کاؤنٹر قائم کیا جانا چاہیے۔ محترمہ ورما لاونگارے نے نوٹ کیا کہ ڈیجیٹل ادائیگی کے اختیارات شہریوں، مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو زیادہ سہولت فراہم کریں گے۔ ڈپٹی کمشنر (پبلک ہیلتھ) شرد اوگھاڈے، ڈپٹی کمشنر (زون-2) پرشانت ساپکلے، ڈائرکٹر (میڈیکل ایجوکیشن اینڈ میجر ہاسپٹل) ڈاکٹر شیلیش موہتے اور اسسٹنٹ کمشنر (ایف نارتھ) مسٹر ارون کشر ساگر سمیت افسران اور عملہ موجود تھا۔

مسز ورما-لاونگرے نے ہسپتال کی مرکزی عمارت (فیز 2اے)، آنکولوجی کی عمارت اور دیگر علاقوں میں جاری کاموں کا معائنہ کیا، جبکہ پروجیکٹ کی حالت کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نئے ترقی پذیر ہسپتال کے اندر شہریوں کے ساتھ ساتھ رہائشی ڈاکٹروں اور عملے کے لیے تفریحی مقامات بنائے جائیں۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ہسپتال کے داخلی دروازے اور احاطے کے اندر شہریوں کے لیے رکاوٹوں سے پاک واک ویز کی دستیابی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ کنٹرول روم میں عملے کو باقاعدگی سے تعینات کیا جائے ہسپتال میں کام کرنے والے عملے کی سی سی ٹی وی کنٹرول روم کے ذریعے نگرانی کی جانی چاہیے تاکہ ملازمین اپنے مقررہ وقت سے پہلے احاطے سے نکل جائیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) ہیڈکوارٹر میں انسانی وسائل کا محکمہ پہلے ہی مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے عملے کی حاضری کی نگرانی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کنٹرول روم سے چلنے والے پبلک ایڈریس سسٹم کے نفاذ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ہسپتال میں صفائی ستھرائی کو ترجیح دیتے ہوئے انہوں نے سٹاف کو مخصوص یونیفارم فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ہسپتال کو چوہا اور آوارہ کتوں کی اذیت سے پاک رکھنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) پراجکتا ورما-لاونگارے نے ہدایت دی کہ ہسپتال میں ہاسپٹل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کو لاگو کیا جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

آسام سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی اپیل، اہل خیر و معاونین حضرات زیادہ سے زیادہ تعاون کریں

Published

on

Arshad-Madni

ممبئی : جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے اراکینِ عاملہ، مدعوئین خصوصی اور معززینِ شہر کی ایک اہم مشاورتی میٹنگ ریاستی دفتر، امام باڑہ کمپاؤنڈ، ممبئی میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر حضرت مولانا حلیم اللہ قاسمی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی، جس میں اراکینِ عاملہ، مدعوئین خصوصی اور شہر کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ ممبئی کے صابو صدیق مسافر خانہ میں امارت شرعیہ کی میٹنگ میں شرکت کیلئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ارکان مجلس عاملہ اور مدعوئین خصوصی کو دعوت دی گئی تھی، اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ریاستی دفتر میں یہ میٹنگ منعقد کر لی گئی۔

میٹنگ میں آسام میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء آسام کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے جاری راحت رسانی اور امدادی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔

اس موقع پر آسام کے متاثرین کی فوری اور مؤثر مدد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری مفتی محمد یوسف قاسمی نے اراکینِ عاملہ، مدعوئین خصوصی ضلعی صدور و نظماء اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنی استطاعت کے مطابق تعاون پیش کریں۔ انھوں نے کہا کہ دفتر میں سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے رسیدات الگ کر دی گئی ہیں، آپ حضرات اپنے ساتھ رسید بک بھی لے جائیں۔ ائمہ مساجد سے بھی درخواست ہے کہ وہ اپنی مساجد میں اس کا اعلان فرما کر مخیرین کو اس جانب متوجہ فرمادیں

میٹنگ میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد برادرانِ وطن کی ہے، تاہم مصیبت اور آفت کے موقع پر مذہب و ملت سے بالاتر ہوکر انسانیت کی بنیاد پر متاثرین کی مدد کرنا ہم سب کی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں شرعی اصولوں کی رعایت کرتے ہوئے زکوٰۃ کے بجائےعطیات، للہ اور سود (انٹرسٹ) کی رقم سے تعاون حاصل کریں، تاکہ ضرورت مند اور متاثرہ خاندانوں تک بروقت امداد پہنچائی جا سکے۔

شرکاءِ میٹنگ نے آسام کے سیلاب متاثرین کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر اپنی استطاعت کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ اس میٹنگ میں ریاستی مجلس عاملہ ،مدعوئین خصوصی اور معززین شہر نے خاصی تعداد میں شرکت کی۔

جمعیۃعلماء مہاراشٹر

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

جوہو : سیکورٹی گارڈ قتل کے بعد تاجر کے خاندان کو قتل کرنے اور لوٹ مار کی سازش بے نقاب، ملزمین کا سارا منصوبہ ناکام، ملزمین گرفتار

Published

on

Arrest...-2

ممبئی : ممبئی میں ایک سیکورٹی گارڈ کے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے پولس نے لوٹ مار کی سازش کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ 2 اگست 2026 کو صبح چار بجے کے درمیان ایک واقعہ پیش آیا (جوہو پولیس اسٹیشن سی آر نمبر 1236/2026؛ سیکشن 103(1)، 310(3) بی این ایس کی 238) جہاں ملزمین ایک رہائشی عمارت پر پہنچے جو ایک تاجر کو لوٹنے کے ارادے سے گئے تھے۔ لٹیروں نے عمارت کے سیکورٹی گارڈ منوج کمار ایودھیا یادو (38) پر حملہ کیا، اسے کپڑے کی رسی سے گلا دبا کر قتل کیا، اور اس کی لاش کو عمارت کے پانی کے ٹینک میں پھینک دیا۔ جرم کے فوراً بعد، ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ویسٹ زون-2) کی نگرانی میں مختلف پولیس ٹیمیں تشکیل دے کر تفتیش شروع کی گئی۔ تفتیش کے دوران تاجر کے اہل خانہ اور اس کے دوست کے ذریعہ گھریلو ملازم (باورچی) کے ملوث ہونے کے بارے میں معلومات سامنے آئی۔ باورچی، جوگیشور اُڑن ملک (عرف کشن) اور اس کے ساتھی وجے گونزاری کو حراست میں لینے پر، یہ انکشاف ہوا کہ ملک نے تاجر کی بیوی اور بیٹی کے ساتھ مل کر تاجراس کے رشتہ دارکو قتل کرنے اور گھر سے نقدی اور زیورات لوٹنے کی سازش رچی تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ سازش پچھلے دو سال سے منصوبہ بندی کے مراحل میں تھی۔ سازش کے پیچھے ماسٹر مائنڈ کے طور پر، جوگیشور اڑن ملک (عرف کشن) نے وجے گونزاری کی مدد لی اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تین اضافی ساتھیوں شرد یرودکر (41)، اس کے بھائی مہادیو یروڈکر (35) اور انیکیت بورناک (30) کو مقرر کیا۔ تفتیش کے دوران مرکزی ملزم جوگیشور ملک نے اپنے ساتھیوں کا متوفی سیکورٹی گارڈ منوج کمار یادو سے تعارف کرایا۔ 2 اگست کی رات، ملزمان عمارت کے قریب جمع ہوئے اور سیکورٹی گارڈ کے ساتھ شراب پینے بیٹھ گئے۔ انہوں نے گارڈ کا گلا گھونٹ دیا، اس کے ہاتھ باندھ دیے اور اس کی لاش کو پانی کے ٹینک میں پھینک دیا۔ اس کے بعد، صبح 4:00 بجے کے قریب، ملزم 6ویں منزل پر گیا اور ڈپلیکیٹ نقلی چابی کا استعمال کرتے ہوئے ایک تاجر کے فلیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ تاہم، دروازہ کھولنے میں ناکامی کے بعد، انہوں نے کوشش ترک کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔ گرفتاری کے بعد ملزم نے اعتراف جرم کر لیا۔ یہ تفتیش ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ویسٹ ریجن) ابھینو دیشمکھ اور ڈپٹی کمشنر آف پولیس (زون 2، ویسٹ) مسٹر موہت کمار گرگ کی رہنمائی میں کی گئی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان