Connect with us
Saturday,08-August-2026

سیاست

جنم داخلہ میں ناموں کی درستی و اندراج کورٹ کی بجائے قانون کے مطابق کارپوریشن میں کیا جائے گا :آصف شیخ

Published

on

(زاہد بیباک )
شہریت ترمیم ایکٹ(CAA)، قومی اندراج شہریت (NRC) اور قومی اندراج آبادی ( NPR) کا اعلان ہونے کیساتھ ہی ملک بھر میں کاغذات جمع کرنے کی بھاگ دوڑ شروع ہوگئی ہے اور کاغذات درست نہ ہونے پر عوام کی بیچینی لازمی ہے اسلئے بھی ملک بھر میں افراتفری کا ماحول ہے یہ مدعے اپنی جگہ درست ہیں لیکن حکومت اور عدالت کیجانب سےجنم اور اموات کے داخلے اور اسکولوں کےداخلوں میں درستی کے احکامات صادر کئے جاتے ہیں مگر میونسپل کمشنر اور انتظامیہ اس سہولت کو عوام تک پہونچانے میں کوتاہی کرتے ہیں جس کی وجہ سے عوام مزید تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا ہوتی ہے۔
اس ضمن میں سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے بتلایا کہ میونسپل کونسل یا کارپوریشن کے جنم اور اموات کے رجسٹر میں بعض ناموں کے اندراج میں بچے کی پیدائش کی تاریخ اور والدین کے ناموں کی تفصیل کا اندراج تو ہوتا ہے لیکن بچے کا نام چونکہ اس وقت تک رکھا نہیں جاتا اسلئے درج نہیں ہوتا کچھ نام گھر کے عام بول چال کے نام کی غلطی کی وجہ سے درج کردیئے جاتے ہیں اور میت کے داخلوں میں چوں کہ میت کے گھر کے افراد صدمے میں ہوتے ہیں اسلئے محلہ کے افراد یا دیگر کوئی شخص نام کا اندراج کرتا ہےجس میں اکثر غلطی ہوجاتی ہے ان غلطیوں کو درست کرنے کیلئے میونسپل کونسل یا کارپوریشن کے چیف آفیسر، کمشنر اور ہیلتھ آفیسر کو مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1949 کی دفعہ 363 اور 370 کے تحت اختیار ہونے کے باوجود وہ نہیں کرتے اور متعلقین کو کورٹ سے احکامات لانے کی شرط عائد کرتے ہوئے اپنا بچاؤ کرتے ہیں جبکہ ان غلطیوں کو درست کرنے کیلئے حکومت اور عدالت احکامات بھی صادر کرتے ہیں لیکن یہ معلومات کمشنر اور انتظامیہ کی جانب سے عام نہیں کی جاتی اور نہ ہی حکومت اور عدلیہ کے احکامات پر عمل درآمد کیا۔جاتا ہے جس سے لوگوں کی پریشانیاں دوبالا ہوجاتی ہیں اور کورٹ کچہری کے چکر الگ لگانا پڑتے ہیں ان تمام پریشانیوں کے سدباب کیلئے حکومت مہاراشٹر کے محکمۂ صحت عامہ سے 20 جولائی 2015 کو ایک سرکولر جاری کیا گیا جس کا نمبر जा क्र.१२ आभाजिआ/कक्ष-८३ नावसमाविष्ठ/अधिसुचना ४९७६.५११२/१५ہے۔ اس سرکولر کیمطابق 14 مئی 2020 کی مدت تک میونسپل کونسل یا کارپوریشن کی حدود میں پیدا ہوئے ہر بچے کا خواہ وہ 1969 سے پہلے ہی کیوں نہ پیدا ہوا ہو اس کا نام جنم کے رجسٹر میں درج کیا جاسکتا ہے اور ناموں میں کسی وجہ سے فرق ہوا ہو تو اس کی درستی بھی کی جاسکتی ہے لیکن میونسپل کمشنر اور ہیلتھ آفیسر نے اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی برتی اسلئے موجودہ کمشنر اور ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیلتھ ڈپارٹمینٹ) سے مزید 5, سال تک مدت میں اضافہ کا مطالبہ کانگریس پارٹی کے سبھی کارپوریٹرس کی جانب سے کیا گیا ہے اس طرح اسکول کے داخلوں میں بھی اندراج کے رجسٹر میں اسکول کے ہیڈ ماسٹرس کسی بھی طرح کی درستی نہیں کرتے اور ایک مرتبہ جیسا اندراج کردیا گیا وہی آخر تک قائم رہتا ہے ان ناموں کو درست کرنے کیلئے اسکول انتظامیہ اور ہیڈ ماسٹرس معذوری ظاہر کرتے ہیں لیکن اس سلسلے میں بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے رٹ پیٹیشن نمبر 8085/2017 کے حوالے سے فیصلہ صادر کرتے ہوئے حکومت مہاراشٹر کے سکریٹری (محکمۂ تعلیمات)کو پابند کیا کہ اسکول کے اندراج رجسٹر میں نام، ذات اور ضمنی ذات وغیرہ کی درستی کی جاسکتی ہے اور مذکورہ درست ناموں کو ثابت کرنے کیلئے کسی بھی ایک دستاویز کا ہونا کافی ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو اسکول کے داخلوں میں بھی درستی کرنے میں سہولت حاصل ہوگی اس سلسلے میں کانگریس پارٹی کے کارپوریٹرس نے مطالبہ کیا ہیکہ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی جنرل بورڈ میٹنگ میں تجویز لاکر اس سرکولر کی مدت مزید پانچ سال تک بڑھائی جائے کیونکہ مقامی کمشنر اور ہیلتھ آفیسر کی غلطی کی وجہ سے 5, جولائی 2015 سے آج تک شہر کی عوام اس سرکولر کے فائدے سے محروم رہی ہے اسلئے ان مطالبات کی یکسوئی اور عوامی سہولیات کے پیشِ نظر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں جنرل بورڈ منعقد کرکے تجویز منظور کرتے ہوئے ناموں کا اندراج، درستی، اور ناموں۔میں اضافہ کرنے کیلئے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن سمیت کارپوریشن کے تمام پربھاگ آفسوں میں پانچ پانچ اضافی ٹیبل لگاکر شہر کی عوام کو راحت پہنچانے کیلئے کانگریس کارپوریٹرس سرگرم عمل ہیں۔ اسطرح کا تفصیلی اظہار خیال سابق رکن اسمبلی آصف شیخ نے ایک پریس کانفرنس سے کہا اور کہا کہ جن افراد کے والدین نے بچوں کے نام کی درخواست کارپوریشن میں دی تھی اور انکا نام رجسٹرڈ نہیں ہوا ہے تو وہ آنا نام کارپوریشن میں درج کروا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ مالیگاوں کارپوریشن شہر کے چار پربھاگ میں الگ الگ ٹیبل لگا کر عوام کی مدد کرے انکے داخلے بنا کر دیں اسکولوں کو مالیگاوں کارپوریشن پابند بنائے کہ وہ ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے فیصلے کو شہر کی پرائمری و ہائی اسکول میں نافذ کرے آصف شیخ نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے کارپوریٹر جنرل بورڈ میٹنگ میں تجویز پاس کرے کہ مالیگاوں شہر کی عوام کو سابقہ کمشنر اور ہیلتھ آفیسر کی غلطی سے مرکزی حکومت و ریاستی حکومت کے مذکورہ بالا جی آر کی سہولت نہیں مل سکی ہے اور اب اسے ختم ہونے میں تین ماہ کا وقت باقی ہے تو اب مالیگاؤں کی عوام کو سہولت دینے کے اس جی آر کی مدت میں مزید پانچ سال کا اضافہ کیا جائے اس پریس کانفرنس میں ہاؤس لیڈر اسلم انصاری، شکیل بیگ فقیر محمد، سلیم انور، نہال حاجی، فقیرہ حاجی، وٹھل بروے، فارق قریشی، تاج الدین، رفیق بھوریا،صابر گوہر، حافظ انیس اظہر، جمال سائیکل والے، مجاھد خان، شفیق بھنیا، قیوم ایس ای او وغیرہ کانگریس کارپوریٹرس و پارٹی کے ذمہ داران موجود تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

بوریولی اے پی کے فائل سائبر فراڈ : ۹ لاکھ سے زائد کی دھوکہ دہی اے پی کے فائل برآمد، ۲ ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی : ممبئی بوریولی دہیسر علاقہ میں ایک اے پی کے فائل ارسال کر کے ۹ لاکھ روپے سے زائد کی دھوکہ دہی کرنے والے گینگ کو ممبئی پولس نے بے نقاب کرنے کا دعوی کیا ہے اس معاملہ میں شکایت کنندہ نے شکایت درج کروائی تھی اسے مہانگر گیس کنکشن منقطع ہو نے کا کال موصول ہوا تھا جس کے بعد انہیں وہاٹس اپ کال پر اے پی کے فائل ارسال کی گئی اور اس اے پی کے فا ئل سے سبکدوش سرکاری ملازم کے اکاؤنٹ سے ۹ لاکھ سے زائد منتقل کر لئے گئے جس کے بعد پولس نے اس معاملہ میں ٹیکنکل طریقہ تفتیش سے ملزمین کا سراغ لگایا اور اس معاملہ میں ملوث ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ جو اے پی کے فائل سے یہ ٹھگی اور دھوکہ دہی کیا کرتے تھے اسے بھی برآمد کر لیا گیا ہے. ملزمین نے اے پی کے فائل کی مدد سے شکایت کنندہ کے اکاؤنٹ میں رسائی کی اور پھر اس کے اکاؤنٹ سے ۹ لاکھ ۸۹ ہزار روپے منتقل کر لئے, یہ رقومات دو ملزمین کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی بینک آف مہاراشٹر سے ملزم کے کنرا بینک کے اکاؤنٹ میں تین لاکھ سے زائد منتقل کئے گئے اس کے بعد دوسرے ملزم کے آئی سی آئی سی بینک اکاؤنٹ میں ۲ لاکھ منتقل کئے گئے ان دونوں کو دہیسر پولس اسٹیشن میں پولس نے طلب کیا اس کے بعد ملزم جو بینک اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی اور دھوکہ دہی کی رقم جمع کرنے میں ملوث پائے گئے جس کے بعد پولس نے دو ملزمین جن کی شناخت آرین راجیش گپتا ۲۱ سالہ جوگیشوری ساکن ، انکیت سنجے تیواری ۲۴ سالہ وسئی کو گرفتار کر لیا, دونوں ملزمین جرائم پیشہ ہے آرین گپتا نے خود کی تفصیل پر بینک اکاؤنٹ تیار کیا اس کے بعد انکیت سنجے تیواری ۲۴ سالہ نے آئی سی آئی سی بینک سے دو لاکھ جمع کئے تھے ۔ سائبر فراڈ کے کیس میں اضافہ کے بعد شہریوں سے پولس نے اپیل کی ہے کہ وہ اے پی کے فائل کو اوپن نہ کرے اتنا ہی نہیں سوشل میڈیا سے نامعلوم اشخاص سے رابطہ نہ رکھیں۔ یہ اطلاع یہاں ڈی سی پی کیجانن دیشمانےدی ہے اس معاملہ میں مزید اے پی کے فائل بھی ضبط کرنے سے متعلق پولس تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

سیاست

سی ایم یوگی نے میرٹھ میں کنواریوں پر پھول برسائے، کہا – یاتریوں کی حفاظت اور احترام حکومت کی ترجیح ہے۔

Published

on

Yogi

میرٹھ : اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے شراون کے مہینے کی دسویں تاریخ کو میرٹھ میں بھولے بابا کے عقیدت مندوں پر عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔ گورکھپیٹھادھیشور کے ساتھ، تمام عوامی نمائندوں بشمول میرٹھ کے ایم پی ارون گوول، جنہوں نے رامائن سیریل میں بھگوان رام کا کردار ادا کیا تھا، نے شیو کے بھکتوں پر گلاب کی پتیاں نچھاور کیں۔

پورے کنور روٹ پر ہیلی کاپٹروں سے پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کی گئیں۔ اس موقع پر پورا مغربی اتر پردیش کنور یاتریوں کے ’’ہر ہر، بام بام‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے کنور یاترا کو عقیدت، لگن، سماجی اور قومی اتحاد اور ہم آہنگی کی منفرد مثال قرار دیا۔ انہوں نے ریاستی حکومت کی جانب سے تمام شیو بھکتوں اور کنور یاتریوں کا خیرمقدم کیا اور انہیں مبارکباد دی۔ مقام پر پہنچنے سے پہلے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ہیلی کاپٹر سے کنور یاترا کا مشاہدہ کیا۔

انہوں نے ریاست کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے بھولے بابا کے عقیدت مندوں کی عقیدت کو خراج عقیدت پیش کیا اور انتظامی عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ کنور یاتریوں کے لئے مناسب سیکورٹی، احترام اور سہولیات کو یقینی بنائیں۔ پورا مغربی اتر پردیش “ہر ہر بام بام” (“ہر ہر بام بام”) کے نعروں سے گونج اٹھا، جسے کنور یاتریوں نے شیو مندروں میں جلابھشیک کرنے کے لیے مقدس گنگا کا پانی لے جایا تھا۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بھولی ناتھ کے عقیدت مندوں پر پھول نچھاور کیے، ان کی حکومت میں ان کے اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ کنور یاترا کے دوران دکھائے جانے والے ٹیبلو میں “بابا کے پیروکار” مختلف شکلوں میں بھولے کی خوشی میں ڈوبے ہوئے دیکھے گئے۔ کچھ نے بھگوان شیو کے جلوس میں رقص کیا، جبکہ دوسروں نے، کارتیکیہ اور گنیش کے روپ میں، شیو خاندان سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ بابا کے پیروکار، یہاں تک کہ بھوتوں اور روحوں کا لباس پہن کر، رتھ پر سوار ہوئے۔

“جو رام کو لائے ہیں، ہم انکو لائے گے” (ہم اسے رام لائیں گے) جیسے گانوں نے ماحول کو زعفران سے بھر دیا۔ عقیدت مندوں اور وہاں موجود عوام کو اپنے موبائل فونز پر ایمان، جوش اور جوش کے اس لمحے کو قید کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شراون کے مہینے میں مقدس کنور یاترا اپنے عروج پر پہنچ رہی ہے۔ شیو کے عقیدت مند، کنور یاتری، مقدس شیو مندروں میں جلبھیشیک کرنے کے لیے ہریدوار میں ہر کی پوری سے گنگا کا پانی لے جانے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے اطلاع دی کہ مظفر نگر کے شیو چوک پر بھی عقیدت مندوں کی بڑی بھیڑ جمع ہے۔ میرٹھ میں انہیں عوامی نمائندوں کے ساتھ کنور یاتریوں پر پھول نچھاور کرنے کا موقع ملا۔ مغربی اترپردیش کے لاکھوں شیو عقیدت مندوں بشمول میرٹھ میں بابا اوہدناتھ مندر، غازی آباد میں بابا دودھیشور ناتھ مندر، اور باغپت میں پورا مہادیو مندر کے ساتھ ساتھ دہلی، ہریانہ، راجستھان، پنجاب اور ہماچل پردیش سے، نے عقیدت کے ساتھ کنور یاترا میں شرکت کی اور حوصلہ افزائی کی۔

سی ایم یوگی نے کہا کہ ہم سب کنور یاتریوں کے استقبال اور ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ شیو کے بھکت، جو سپریم بھگوان مہادیو کے لیے عقیدت کے ساتھ سینکڑوں کلومیٹر پیدل چل رہے ہیں، عقیدت، لگن، سماجی اور قومی اتحاد اور ہم آہنگی کی زندہ مثال قائم کر رہے ہیں۔ ذات پات، علاقے اور ریاست کی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے ان کی ہر سانس بھگوان شیو کے لیے وقف ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہاں پر جوش و خروش کا ماحول ہے۔ انتظامیہ نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ، سیکٹر مجسٹریٹس، جوائنٹ مجسٹریٹس، پولیس افسران، زون، رینج، ضلع اور تھانے کی سطح کے ساتھ ساتھ متعدد پولیس افسران اس مہم میں لگن کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں اور سیکیورٹی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ سماجی اور رفاہی تنظیمیں مختلف مقامات پر کیمپوں کے ذریعے کنور یاتریوں کی عقیدت اور سہولت پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے ان تمام تنظیموں سے اظہار تشکر بھی کیا۔ اسے عقیدت کا عروج بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کنور یاتریوں پر آج، کل اور پرسوں (شیوراتری) کو ہیلی کاپٹروں سے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جائیں گی۔ چیف منسٹر نے بھگوان شیو سے دعا کی کہ وہ ماہ شراون میں کنور یاترا میں حصہ لینے والے شیو بھکتوں کی خواہشات کو پورا کریں اور ریاست اور ملک میں امن، خوشی اور ہم آہنگی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے ان کے آشیرواد دیتے رہیں۔

Continue Reading

سیاست

آئی آئی ٹی دہلی کے کانووکیشن کی تقریب میں پی ایم مودی نے کہا کہ جو لوگ سیکھیں گے وہی جیتیں گے۔

Published

on

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو آئی آئی ٹی دہلی کے 57ویں کانووکیشن میں شرکت کی۔ انہوں نے وہاں موجود طلباء سے خطاب کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ملک کے تمام باصلاحیت نوجوانوں کے لیے ایک نئے سفر کا آغاز ہو رہا ہے۔ آپ اپنی زندگی کا ایک یادگار لمحہ گزار رہے ہیں۔ جوش، جوش، خوابوں اور جذبات سے بھرے اس لمحے کا حصہ بن کر، آئی آئی ٹی دہلی کے اس کیمپس میں آنا، اور آپ کے ساتھ یہ تجربہ شیئر کرنا میرے لیے بھی بہت خاص ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آج بہت سے طلباء نے اپنی کامیابیوں کے لیے تمغے حاصل کیے ہیں۔ میں آپ سب کو اس کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں, لیکن اس میں ایک دو بیٹیاں بھی شامل ہوتیں تو اور بھی اچھا ہوتا۔ آج، آئی آئی ٹی دہلی میں اے آئی سے متعلق کچھ نئے اقدامات بھی شروع کیے گئے ہیں۔ میں اس کے لیے بھی آپ سب کی نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

طلباء سے خطاب کرتے ہوئے، پی ایم نے کہا، “وہ دن یاد رکھیں جب آئی آئی ٹی دہلی میں آپ کا پہلا دن تھا اور آج کا دن ہے۔” آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کل کی بات ہے جب واقفیت ہوئی تھی، اور اب کانووکیشن کا وقت ہے۔ واقفیت سے کانووکیشن تک کا یہ سفر آپ کو بے حد اطمینان بخشے گا۔ آپ اپنی زندگی میں ایک نیا باب شروع کرنے کا جوش بھی محسوس کریں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آپ سب اور تمام طلباء آج اس تقریب میں موجود ہیں، لیکن آپ کے ذہن میں کہیں نہ کہیں کچھ اور ہی پک رہا ہوگا۔ ہر طالب علم کا کل کا اپنا وژن ہوگا۔ بہت سے طلباء اپنی پہلی تنخواہ کا انتظار کر رہے ہوں گے، کچھ نئے شہر میں نئی ​​شروعات کی تیاری کر رہے ہوں گے۔ بہت سے طلباء اپنے نئے آغاز کا خواب دیکھ رہے ہوں گے، اور کچھ نے اگلے مسابقتی امتحان پر اپنی نظریں رکھی ہوں گی۔

ہر ایک کا راستہ الگ، ہر ایک کا خواب الگ۔ لیکن اس سب کے باوجود، ایک احساس ہے جو آپ سب کے ساتھ گونجے گا۔ آپ کو ایک نئے باب کے آغاز کے بارے میں بھی پرجوش ہونا چاہئے۔ اس لیے میں کہتا ہوں، اس لمحے کو بھرپور طریقے سے جیو۔ مستقبل میں جب آپ پر مزید ذمہ داریاں ہوں گی تو یہ یادیں آپ کو ماضی میں لے جائیں گی۔ پی ایم مودی نے کہا کہ آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ کوئی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اب سے 20-30 سال بعد کیا ہوگا۔ لیکن یہ بدلتی ہوئی دنیا اور ٹیکنالوجی نئے مواقع لائے گی، اور جو لوگ سیکھیں گے وہ غالب آئیں گے۔ جو لوگ نئے حالات اور چیلنجوں کے لیے تیار ہوتے ہیں انہیں مواقع میں بدل دیتے ہیں۔ یہ وہی ہے جو آپ نے آئی آئی ٹی دہلی میں سیکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان جذباتی لمحات میں میں آپ کو ایک بات ضرور بتاؤں گا کہ جب بھی زندگی آپ کو پیچھے مڑ کر دیکھنے کا موقع دیتی ہے، آپ کو اس متاثر کن زندگی، اپنے دوستوں، اساتذہ، سرپرستوں اور معاون عملے کو یاد آئے گا جو آپ کا خاندان بن گئے، آپ کے پروفیسرز جنہوں نے آپ جیسی صلاحیتوں کو تشکیل دینے کی ذمہ داری لی، اور یہ ادارہ جو آہستہ آہستہ آپ کا گھر بن گیا۔ آپ ان سب کو ہر کامیابی میں یاد رکھیں گے اور ان کے شکر گزار رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آپ زندگی میں تجسس کو برقرار رکھیں۔ اپنے سیکھنے کے جذبے کو زندہ رکھیں۔ ان چیزوں کا جائزہ لیں جو بغیر سوچے سمجھے مان لی جاتی ہیں۔ ان سے سوال کریں، لیکن صرف سوالات کرنے سے باز نہ آئیں۔ حل تلاش کرنے کی ہمت رکھیں۔ آج، ہندوستان ہر شعبے (معاشی خود انحصاری، تکنیکی خود انحصاری، اور صنعتی خود انحصاری) میں خود انحصاری کے لیے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر سیکٹر ہمارے سامنے ایک مثال ہے۔ جب ہم نے اس سمت میں قدم اٹھایا تو کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستان یہ حاصل کرسکتا ہے، لیکن آج پہلے سیمی کنڈکٹر یونٹ نے پیداوار شروع کردی ہے۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ چپس سے لے کر بحری جہاز تک سب کچھ آپ کے اپنے ہاتھوں سے یہاں تیار کیا جائے گا۔ اس مضبوط بنیاد کے ساتھ، آپ کو ایک ‘ترقی یافتہ ہندوستان’ بنانا چاہیے۔ ‘ترقی یافتہ ہندوستان’ کی طرف سفر میں آپ کا کردار اہم ہے۔ نوجوان جتنا مضبوط ہوگا ملک اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ اس وژن کے ساتھ، ہم نے بہت سے ایسے شعبے کھولے ہیں جہاں پہلے داخلے پر پابندی تھی۔ گورننس میں جدید سوچ کے ساتھ نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج نوجوان ہمارے ڈرون سیکٹر میں نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔ کہیں ڈرون کھیتوں میں استعمال ہو رہے ہیں تو کہیں ادویات پہنچا رہے ہیں۔ ڈرون ملک کے دفاع اور سلامتی میں مدد کر رہے ہیں اور آج کہیں نہ کہیں ایک نوجوان کہہ رہا ہے کہ ’’پہلے میرے خون کی لکیر میں ڈرون بنانا‘‘۔ آپ جیسے نوجوانوں نے ہندوستان کے اسٹارٹ اپ انقلاب کو تشکیل دیا ہے اور انہیں بااختیار بنایا ہے۔ اس ادارے نے بہت سے بانی پیدا کیے ہیں۔ اگر ایک ادارہ اتنا کچھ حاصل کر سکتا ہے تو تصور کیجیے کہ ملک بھر میں بے پناہ طاقت کاشت کی جا رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان