Connect with us
Wednesday,30-September-2026
تازہ خبریں

سیاست

جنم داخلہ میں ناموں کی درستی و اندراج کورٹ کی بجائے قانون کے مطابق کارپوریشن میں کیا جائے گا :آصف شیخ

Published

on

(زاہد بیباک )
شہریت ترمیم ایکٹ(CAA)، قومی اندراج شہریت (NRC) اور قومی اندراج آبادی ( NPR) کا اعلان ہونے کیساتھ ہی ملک بھر میں کاغذات جمع کرنے کی بھاگ دوڑ شروع ہوگئی ہے اور کاغذات درست نہ ہونے پر عوام کی بیچینی لازمی ہے اسلئے بھی ملک بھر میں افراتفری کا ماحول ہے یہ مدعے اپنی جگہ درست ہیں لیکن حکومت اور عدالت کیجانب سےجنم اور اموات کے داخلے اور اسکولوں کےداخلوں میں درستی کے احکامات صادر کئے جاتے ہیں مگر میونسپل کمشنر اور انتظامیہ اس سہولت کو عوام تک پہونچانے میں کوتاہی کرتے ہیں جس کی وجہ سے عوام مزید تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا ہوتی ہے۔
اس ضمن میں سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے بتلایا کہ میونسپل کونسل یا کارپوریشن کے جنم اور اموات کے رجسٹر میں بعض ناموں کے اندراج میں بچے کی پیدائش کی تاریخ اور والدین کے ناموں کی تفصیل کا اندراج تو ہوتا ہے لیکن بچے کا نام چونکہ اس وقت تک رکھا نہیں جاتا اسلئے درج نہیں ہوتا کچھ نام گھر کے عام بول چال کے نام کی غلطی کی وجہ سے درج کردیئے جاتے ہیں اور میت کے داخلوں میں چوں کہ میت کے گھر کے افراد صدمے میں ہوتے ہیں اسلئے محلہ کے افراد یا دیگر کوئی شخص نام کا اندراج کرتا ہےجس میں اکثر غلطی ہوجاتی ہے ان غلطیوں کو درست کرنے کیلئے میونسپل کونسل یا کارپوریشن کے چیف آفیسر، کمشنر اور ہیلتھ آفیسر کو مہاراشٹر میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1949 کی دفعہ 363 اور 370 کے تحت اختیار ہونے کے باوجود وہ نہیں کرتے اور متعلقین کو کورٹ سے احکامات لانے کی شرط عائد کرتے ہوئے اپنا بچاؤ کرتے ہیں جبکہ ان غلطیوں کو درست کرنے کیلئے حکومت اور عدالت احکامات بھی صادر کرتے ہیں لیکن یہ معلومات کمشنر اور انتظامیہ کی جانب سے عام نہیں کی جاتی اور نہ ہی حکومت اور عدلیہ کے احکامات پر عمل درآمد کیا۔جاتا ہے جس سے لوگوں کی پریشانیاں دوبالا ہوجاتی ہیں اور کورٹ کچہری کے چکر الگ لگانا پڑتے ہیں ان تمام پریشانیوں کے سدباب کیلئے حکومت مہاراشٹر کے محکمۂ صحت عامہ سے 20 جولائی 2015 کو ایک سرکولر جاری کیا گیا جس کا نمبر जा क्र.१२ आभाजिआ/कक्ष-८३ नावसमाविष्ठ/अधिसुचना ४९७६.५११२/१५ہے۔ اس سرکولر کیمطابق 14 مئی 2020 کی مدت تک میونسپل کونسل یا کارپوریشن کی حدود میں پیدا ہوئے ہر بچے کا خواہ وہ 1969 سے پہلے ہی کیوں نہ پیدا ہوا ہو اس کا نام جنم کے رجسٹر میں درج کیا جاسکتا ہے اور ناموں میں کسی وجہ سے فرق ہوا ہو تو اس کی درستی بھی کی جاسکتی ہے لیکن میونسپل کمشنر اور ہیلتھ آفیسر نے اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی برتی اسلئے موجودہ کمشنر اور ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیلتھ ڈپارٹمینٹ) سے مزید 5, سال تک مدت میں اضافہ کا مطالبہ کانگریس پارٹی کے سبھی کارپوریٹرس کی جانب سے کیا گیا ہے اس طرح اسکول کے داخلوں میں بھی اندراج کے رجسٹر میں اسکول کے ہیڈ ماسٹرس کسی بھی طرح کی درستی نہیں کرتے اور ایک مرتبہ جیسا اندراج کردیا گیا وہی آخر تک قائم رہتا ہے ان ناموں کو درست کرنے کیلئے اسکول انتظامیہ اور ہیڈ ماسٹرس معذوری ظاہر کرتے ہیں لیکن اس سلسلے میں بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے رٹ پیٹیشن نمبر 8085/2017 کے حوالے سے فیصلہ صادر کرتے ہوئے حکومت مہاراشٹر کے سکریٹری (محکمۂ تعلیمات)کو پابند کیا کہ اسکول کے اندراج رجسٹر میں نام، ذات اور ضمنی ذات وغیرہ کی درستی کی جاسکتی ہے اور مذکورہ درست ناموں کو ثابت کرنے کیلئے کسی بھی ایک دستاویز کا ہونا کافی ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو اسکول کے داخلوں میں بھی درستی کرنے میں سہولت حاصل ہوگی اس سلسلے میں کانگریس پارٹی کے کارپوریٹرس نے مطالبہ کیا ہیکہ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی جنرل بورڈ میٹنگ میں تجویز لاکر اس سرکولر کی مدت مزید پانچ سال تک بڑھائی جائے کیونکہ مقامی کمشنر اور ہیلتھ آفیسر کی غلطی کی وجہ سے 5, جولائی 2015 سے آج تک شہر کی عوام اس سرکولر کے فائدے سے محروم رہی ہے اسلئے ان مطالبات کی یکسوئی اور عوامی سہولیات کے پیشِ نظر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں جنرل بورڈ منعقد کرکے تجویز منظور کرتے ہوئے ناموں کا اندراج، درستی، اور ناموں۔میں اضافہ کرنے کیلئے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن سمیت کارپوریشن کے تمام پربھاگ آفسوں میں پانچ پانچ اضافی ٹیبل لگاکر شہر کی عوام کو راحت پہنچانے کیلئے کانگریس کارپوریٹرس سرگرم عمل ہیں۔ اسطرح کا تفصیلی اظہار خیال سابق رکن اسمبلی آصف شیخ نے ایک پریس کانفرنس سے کہا اور کہا کہ جن افراد کے والدین نے بچوں کے نام کی درخواست کارپوریشن میں دی تھی اور انکا نام رجسٹرڈ نہیں ہوا ہے تو وہ آنا نام کارپوریشن میں درج کروا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ مالیگاوں کارپوریشن شہر کے چار پربھاگ میں الگ الگ ٹیبل لگا کر عوام کی مدد کرے انکے داخلے بنا کر دیں اسکولوں کو مالیگاوں کارپوریشن پابند بنائے کہ وہ ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے فیصلے کو شہر کی پرائمری و ہائی اسکول میں نافذ کرے آصف شیخ نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے کارپوریٹر جنرل بورڈ میٹنگ میں تجویز پاس کرے کہ مالیگاوں شہر کی عوام کو سابقہ کمشنر اور ہیلتھ آفیسر کی غلطی سے مرکزی حکومت و ریاستی حکومت کے مذکورہ بالا جی آر کی سہولت نہیں مل سکی ہے اور اب اسے ختم ہونے میں تین ماہ کا وقت باقی ہے تو اب مالیگاؤں کی عوام کو سہولت دینے کے اس جی آر کی مدت میں مزید پانچ سال کا اضافہ کیا جائے اس پریس کانفرنس میں ہاؤس لیڈر اسلم انصاری، شکیل بیگ فقیر محمد، سلیم انور، نہال حاجی، فقیرہ حاجی، وٹھل بروے، فارق قریشی، تاج الدین، رفیق بھوریا،صابر گوہر، حافظ انیس اظہر، جمال سائیکل والے، مجاھد خان، شفیق بھنیا، قیوم ایس ای او وغیرہ کانگریس کارپوریٹرس و پارٹی کے ذمہ داران موجود تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

سماج وادی پارٹی کا ایس آئی آر ‘ (ووٹر لسٹ) گھوٹالے میں ملوث گیانیش کمار کے خلاف پر زور احتجاج

Published

on

ممبئی : آج ممبئی میں سماج وادی پارٹی کے مرکزی دفتر پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت پارٹی کے ممبئی/مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابو عاصم اعظمی نے کی۔ اس مظاہرے میں گیانیش کمار کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا گیا، جنہیں ‘ایس آئی آر ‘ گھوٹالے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس گھوٹالے کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام خارج کر دیے گئے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کمار کو سخت ترین سزا دے اور اس بات پر زور دیا کہ انتخابات عدالتی نگرانی میں منصفانہ طور پر منعقد کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سماج وادی پارٹی ملک بھر میں اس معاملے کی شدید مخالفت کرتی ہے اور احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ احتجاج میں ریاستی ورکنگ صدر یوسف ابراہانی، چیف جنرل سیکریٹری معراج صدیقی، ریاستی جنرل سیکریٹری فرحان اعظمی، ویمنز ونگ کی صدر رخسانہ صدیقی اور یوتھ ونگ کے صدر ریاض خان سمیت پارٹی کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی۔

Continue Reading

قومی خبریں

بہار : نوادہ میں ڈی جے میوزک کے تنازعے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی۔

Published

on

death

پٹنہ : سوموار کی رات نوادہ ضلع میں چھٹھی کی تقریب میں ڈی جے میوزک پر جھگڑے کے دوران تین بھائیوں کو مبینہ طور پر چاقو مارنے کے بعد ایک شخص کی موت ہو گئی اور دو دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ قادر گنج تھانے کی حدود میں دیوان پورہ گاؤں میں پیش آیا۔ زخمیوں کو ابتدائی طور پر نوادہ صدر اسپتال لے جایا گیا۔ جہاں ایک بھائی سندیپ کمار منگل کو پٹنہ میں علاج کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا، باقی دو نوادہ صدر اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق بچی کی پیدائش کے بعد پردیپ مانجھی کی رہائش گاہ پر چھٹھی کی تقریب منعقد کی جا رہی تھی۔ انہوں نے موسیقی اور رقص کے ساتھ ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ تقریبات کے دوران مبینہ طور پر ایک نوجوان نے ڈی جے کی موسیقی پر طویل عرصے تک رقص کیا۔ گھر والوں نے مبینہ طور پر اسے پہلے کھانا کھانے اور پھر ناچنے کو کہا۔ اس تبصرہ پر دونوں فریقین کے درمیان جھگڑا ہوا۔

تنازعہ بڑھ گیا، اور نوجوانوں میں سے ایک نے مبینہ طور پر سندیپ کمار پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا۔ جب اس کے دو بھائیوں نے مداخلت کی تو ان پر بھی حملہ کیا گیا۔ تینوں بھائیوں کو نوادہ صدر اسپتال لے جایا گیا۔ ان کے زخموں کی سنگینی کی وجہ سے ڈاکٹروں نے انہیں مزید علاج کے لیے پٹنہ ریفر کر دیا۔ بھولا مانجھی کا بیٹا اور دیوان پورہ گاؤں کا رہنے والا سندیپ کمار بعد میں علاج کے دوران فوت ہوگیا۔ اس کے بھائی سورج کمار اور پردیپ مانجھی کو شدید چوٹیں آئی ہیں اور وہ نوادہ صدر اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اس واقعے نے خاندان کو گہرے غم میں ڈال دیا ہے اور علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ پولیس نے تیزی سے کام کیا اور حملے میں مبینہ طور پر ملوث پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد سندیپ کمار کی لاش اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی۔ پولیس نے تنازعہ کی وجہ بننے والے حالات کا تعین کرنے اور گرفتار افراد کے مخصوص کرداروں کا تعین کرنے کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔ نتائج کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

Continue Reading

سیاست

ایس آئی آر مہم : مہاراشٹر کانگریس نے ووٹر فہرست پر اعتراضات کے لیے دو ماہ کی توسیع مانگی؛ سرور میں خرابی اور عملے کی کمی کا حوالہ دیا۔

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی (ایم پی سی سی) کے صدر ہرشوردھن سپکل نے منگل کو ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) ایس چوکلنگم سے درخواست کی کہ وہ انتخابی فہرست کے مسودے پر دعوے اور اعتراضات جمع کرانے کی آخری تاریخ کو دو ماہ تک بڑھا دیں۔ شدید انتظامی اور تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو حق رائے دہی سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔ سی ای او چوکلنگم کو لکھے گئے ایک سرکاری خط میں، سپکل نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ایم پی سی سیکے ایک وفد نے پہلے 22 ستمبر کو انتخابی حکام سے ملاقات کی تھی تاکہ زمینی آپریشنل چیلنجوں کا خاکہ پیش کیا جا سکے۔ تاہم، الیکشن کمیشن (ای سی) نے 1 دن میں توسیع کی منظوری دے دی، زیر التواء نظرثانی کا بڑا حجم۔ ریاست کے انتخابی ڈیٹا بیس کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے، سپکل نے نشاندہی کی کہ غیر حاضر، شفٹ شدہ، اور مردہ/ڈپلیکیٹ ووٹرز (اے ایس ڈی ڈی او) کی فہرست میں شامل 1.54 کروڑ ووٹرز میں سے، نئے رجسٹریشن کے لیے اہل 40 لاکھ نوجوانوں کے ساتھ، شہریوں کے لیے 3000، 900،000 کا انتظام کیا گیا ہے۔ ووٹر رجسٹریشن

انہوں نے مزید نوٹ کیا کہ نئے فارمیٹ شدہ فارم 6 میں غلطیوں کو الیکشن کمیشن کی توجہ میں لانے کے باوجود، نظر ثانی شدہ فارم پرنٹ نہیں کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے شہری غلطیوں سے پاک درخواست کی کاپیوں تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ ایم پی سی سی چیف نے مہاراشٹر بھر میں رجسٹریشن مہم میں خلل ڈالنے والی کئی بڑی رکاوٹوں کا خاکہ پیش کیا۔ “آدھار اور موبائل نمبروں کو منسلک نہ کرنے کے ساتھ مل کر بار بار سرور کے بند ہونے کے وقت نے آن لائن جمع کروانے کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے۔ ووٹروں کے ناموں کی مراٹھی اور انگریزی نقل کے درمیان تضادات مزید رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل او ایس) – جن میں سے ایک اہم حصہ اس وقت اسکول کے درمیان امتحان دے رہے ہیں۔ نوراتری کے دوران تہوار کے فرائض کے ساتھ ساتھ۔ تصدیقی دستاویزات جمع کرنے کے دوران گھر گھر نوٹس دینے سے عملے کی صلاحیت سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جس سے تازہ درخواستوں پر کارروائی کرنے کے لیے ان کی دستیابی پر شدید تشویش پیدا ہوئی ہے۔

ای سی کے ڈپلیکیشن سافٹ ویئر میں اہم خامیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، سپکل نے انکشاف کیا کہ ایک لوک سبھا حلقہ میں 25,000 سے زیادہ ڈپلیکیٹ ووٹروں کے اندراجات پر مشتمل ایک فہرست حال ہی میں براہ راست ناگپور کے ضلع کلکٹر کو پیش کی گئی تھی۔ شفاف، جامع اور غلطی سے پاک ووٹر لسٹ کو یقینی بنانے کے لیے، ریاستی کانگریس کے چیف الیکشن کمیشن کی طرف سے فوری طور پر دو اعتراضات کی توسیع کی درخواست کی گئی۔ شہریوں اور فیلڈ عملے کو مناسب وقت فراہم کرنے کے لیے 12 اکتوبر کے بعد کے مہینے، دہلی میں استعمال ہونے والے شفاف رپورٹنگ ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے موصول ہونے والے فارم 6، 7، اور 8 درخواستوں کی صحیح تعداد کے بارے میں روزانہ حلقہ وار ڈیٹا شائع کریں اور تمام حلقوں میں بوگس اور ڈپلیکیٹ اندراجات کو صاف کرنے کے لیے مکمل طور پر دوبارہ تصدیق کروائیں جو کہ ووٹوں کے اندراج کو یقینی بنائیں۔ رجسٹریشن مکمل طور پر کی جاتی ہے اور کسی اہل شہری کو نہیں چھوڑا جاتا، دو ماہ کی توسیع لازمی ہے،” سپکل نے کہا، سی ای او پر زور دیتے ہوئے کہ وہ منصفانہ انتخابات کے مفاد میں تیزی سے کام کریں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان