Connect with us
Thursday,05-November-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

بزمِ صدف انٹرنیشنل کویت شاخ کا آن لائن عالمی مشاعرہ

Published

on

عالمی وبا کورونا کے دور میں آپسی تبادلہ خیال اور ایک دوسرے سے دوری کے سبب بہت سارے مسائل پیدا ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے کئی ناخوشگوار واقعات پیش آئے۔ بزم صدف اسی سمت میں پہل کرتے ہوئے ادیبوں، شاعروں، مصنفوں اور ادب کے بہی خواہوں کو جوڑنے کا کام کیا ہے۔
وبائی دنوں میں علمی اور تہذیبی سرگرمیوں کے لیے بے حد مشکل دور آیا ہوا ہے۔عوامی جلسہ منعقد کرنا دائرہ ئقانون سے باہر ہے اور ایک شہر سے دوسرے شہر اورایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچناناممکنات میں سے ہے۔ ایسے میں جدید مواصلا تی نظام ایک خوشگوار ہوا کے جھونکے کی طرح ہے۔بزم صدف انٹرنیشنل نے اپنی نئی شاخ کے قیام کے لیے کویت کے شعرا و ادباکو منتخب کیا اور ایک بہترین مشاعرے کا اہتمام کر ڈالا جس کی صدارت بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والے معتبر شاعر جلال عظیم آبادی نے کی اوراس نشست کی نظامت کویت سے تعلق رکھنے والے معتبرشاعر مسعود حساس نے کیا۔مسعود حساس بزم صد ف کی کویت شاخ کے صدر بنائے گئے ہیں۔اس مشاعرے میں دس ملکوں کے شعراے کرام شامل ہوئے اور زوم ایپ کے علاوہ فیس بک لائیوپر ہزاروں کی تعداد میں شائقین شعر سے لطف اندوز ہوئے۔
افتتاحی پروگرام کے بعد مشاعرے کا آغاز ہوا۔مسعود حساس نے اپنے مخصوص علمی جلال اورشاعرانہ مزاج و انداز کے ساتھ مشاعرے کے شعرا کو یکے بعد دیگرے بلاناشروع کیا۔ روایت کی پاسداری کرتے ہوے میزبان شعراکوپہلے زحمتِ کلام دی گئی مگر یہ تجربہ بھی دیکھنے کو ملا کہ پہلے شاعر کی حیثیت سے کویت میں رہنے والے واحد مزاحیہ شاعر جناب ایوب خاں نیزہ کو آواز دی گئی۔ایوب خاں نیزہ نے ظرافت کے اُس خاص پہلو کو پیش کیا جس میں اپنے زمانے کے واقعات و حادثات کو شعرکا قالب عطا کیا جاتا ہے۔انہوں نے کویت میں رہنے کے باوجود برِّصغیرکے حالات اور اپنے وطن ہندستان کی تر جمانی کی اور اُن کے اشعارکو خوب خوب دادملی۔ اُن کے یہ دواشعاربہت پسند کئے گے:
اس کروناوائرس سے بچنے اور بچانے میں
ہم نے عافیت جانی تالیاں بجانے میں
کیا کہا،کہو پھر سے بے حسوں کی بستی میں
عزتیں بھی بکتی ہیں چار چار آنے میں
ایوب خاں نیزہ
حضورآپ کے دامن کا داغ بول پڑا
زباں خموش ہے لیکن سراغ بول پڑا
نسیم زاہد ما
بارہا اس نے مرے شعر کو بونا لکھا
اس سے دیکھا نہیں جاتا مرے معیار کا قد
مسعود حساس
بدن پر زخم جتنے ہوں، شمار اچھا نہیں لگتا
کہانی میں مجھے اک لفظ ہار، اچھا نہیں لگتا
عامر قداوئی
پاؤں بادل پر رکھا جب بوند نے تو گر پڑی
ہاتھ اس کا تھام پہلے، ظرف اس کا جان لے
شاہ جہاں جعفری حجاب
خوش گوار لمحوں میں تلخیاں وہ ماضی کی
عورتیں نہیں صاحب، مرد بھول جاتے ہیں
عادل مظفر پوری
زندگی کے باغ میں کس وقت آجائے قرار
اختیار اپنا کہاں موسم کے سردوگرم پر
ڈاکٹر ندیم ظفرجیلانی
بنتِ حّواہوں میں، یہ مراجرم ہے
اور پھرشاعری تو کڑا جرم ہے
ثروت زہرا
ستاروں سے کہو آہستہ بولیں
مری راتوں کی وحشت سورہی ہے
احمد اشفاق
مسکراتے ہوئے مقتل کی طرف
قتل ہو جانے کی جرآت میں چلو
پروفیسرظفر امام
انسان میں دیکھی ہے فرشتے کی صفت بھی
ہم نے درندہ اسی انسان میں دیکھا
پرویز مظفر
عجیب لوگ ہیں یہ خاندان عشق کے لوگ
کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے
عباس تابش
سب کے کاندھے پر سلگتے موسموں کا قہر ہے
ایٹمی بارش میں آدم کھوکھلے رہ جائیں گے
پروفیسر صفدر امام قادری
یہ لاش یقینا کسی سچائی کی ہوگی
جم جم کے ہراک قطرہ ئخوں بول رہا ہے
ضامن جعفری
جو غم ملا بھی تو آنکھوں میں کچھ نمی نہ ہوئی
جو ہوسکے تو کوئی اور تجربہ کر لو
جلال عظیم آبادی
بزم صدف انٹر نیشنل کی کویت شاخ کے افتتاحی پروگرام کے موقعے سے منعقد یہ مشاعرہ تین گھنٹوں تک چلا۔ مشاعرے میں مختلف شعرائے کرام نے اپنابہترین کلام پیش کیا اور معیار کا خاص طور سے خیال رکھا۔ مشاعرے میں ہر نسل کی نمائندگی ہوئی اورمختلف طرز کے کلام سے سامعین محظوظ ہوئے۔ ایسے شعرا نے بھی کلام سنایا جن کی شہرت اُس قدر نہیں ہے، مگران کا کلام خاصا معیاری نظر آیا۔اس اعتبار سے بزمِ صدف کا یہ مشاعرہ عالمی طور پر اردو کے نئے شعرا اور امکانات سے بھری ہوئی نئی نسل کی تلاش و جستجو کے لئے یا دگارتسلیم کیا جائے گا۔

(جنرل (عام

سمندری ممالیہ جانوروں کے ساحل پر پھنسنے کے سب سے زیادہ 161 واقعات گوا میں درج، سی ایم ایف آر آئی کی رپورٹ

Published

on

کوچی : گوا میں 2024-25 کے دوران 113 کیسوں کے ساتھ، ہندوستانی ساحل کے ساتھ سب سے زیادہ تعداد میں سمندری ممالیہ پائے جانے کی اطلاع ملی ہے۔ آئی سی اے آر-سنٹرل میرین فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایم ایف آر آئی) کے ایک مطالعہ کے مطابق، کیرالہ 13 کیسوں کے ساتھ اس کے بعد، مہاراشٹرا 11 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے اب ایک ڈیجیٹل نقشہ تیار کیا ہے تاکہ ایسے واقعات کو ٹریک کیا جا سکے اور سمندری ستنداریوں کی حفاظت میں مدد ملے۔ نقشہ جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے اور 32 سمندری ستنداریوں کی انواع کا احاطہ کرنے والے تقریباً 1,300 مقام کے ریکارڈ کو اکٹھا کرتا ہے۔ اس مطالعہ کی قیادت سی ایم ایف آر آئی کے سینئر سائنسدان رتیش کمار رویندرن نے کی۔ یہ انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہونے والے ماہی پروری اور ریموٹ سینسنگ کے ایک بین الاقوامی سمپوزیم میں پیش کیا گیا۔

ہمپ بیک ڈولفنز پھنسے ہوئے سمندری ستنداریوں کی فہرست میں سرفہرست ہیں، جن کی تعداد 82 ہے۔ انڈو پیسیفک فین لیس پورپوز 44 کیسز کے ساتھ آگے آیا۔ ڈیٹا سی ایم ایف آر آئی کے سمندری ممالیہ اسٹریڈنگ نیٹ ورک کے ذریعے جمع کیا گیا تھا۔ یہ نیٹ ورک ہندوستانی ساحل کے ساتھ واقع انسٹی ٹیوٹ کے علاقائی مراکز میں عملے کے ذریعے کام کرتا ہے۔ ریکارڈز کو تربیت یافتہ رضاکاروں اور اوپن ایکسیس ڈیٹا بیس سے تصدیق شدہ معلومات سے بھی تعاون حاصل تھا۔ ایسا ہی ایک ذریعہ میرین میمل ریسرچ اینڈ کنزرویشن نیٹ ورک آف انڈیا تھا۔ نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم تفصیلات فراہم کرتا ہے کہ جانور کہاں پائے گئے، ان کی نسلیں، واقعات اور موت کی ممکنہ وجوہات۔ یہ صارفین کو اس بات کا مطالعہ کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے کہ اسٹرنڈنگ کب اور کہاں ہوتی ہے۔ توقع ہے کہ نقشے سے ان علاقوں کی نشاندہی میں مدد ملے گی جہاں اس طرح کے واقعات زیادہ عام ہیں۔ اس سے محققین اور سرکاری ایجنسیوں کو سمندری ستنداریوں کے لیے ممکنہ خطرات کا مطالعہ کرنے اور تحفظ کے بہتر اقدامات کی منصوبہ بندی کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

رتیش کمار رویندرن نے کہا کہ یہ معلومات محققین، پالیسی سازوں اور تحفظ فراہم کرنے والی ایجنسیوں کو اہم شعبوں کی نشاندہی کرنے اور پھنسے ہوئے واقعات پر ان کے ردعمل کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے ایسے معاملات کی اطلاع دینے کے لیے بہتر کوآرڈینیشن اور مضبوط نیٹ ورکس کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس تحقیق میں انواع کی شناخت کے لیے فیلڈ چیک، ڈی این اے ٹیسٹ اور یہ سمجھنے کے لیے مقامات کی نقشہ سازی کی ضرورت کی نشاندہی کی گئی کہ سمندری ممالیہ کیوں پھنسے ہوئے ہیں۔ تین روزہ بین الاقوامی سمپوزیم کا اہتمام ٹریور پلاٹ سائنس فاؤنڈیشن، کوچین یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ کیمیکل اوشیانوگرافی، سی ایم ایف آر آئی اور میرین بائیولوجیکل ایسوسی ایشن آف انڈیا نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔ مرکزی ارتھ سائنسز کی وزارت کے سکریٹری سری نواس کمار تملا جمعہ کو اختتامی سیشن کا افتتاح کریں گے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

سمندری طوفان مراسو : پورے آندھرا پردیش میں صورتحال میں نرمی

Published

on

امراوتی : طوفان مراسو کی وجہ سے بارش جمعرات کو پورے آندھرا پردیش میں کافی کمزور ہوگئی، حکام نے بتایا۔ اگرچہ طوفان کا اثر بڑی حد تک کم ہو گیا ہے، لیکن نشیبی علاقوں اور نالوں، نہروں اور آبی ذخائر کے قریب لوگوں کو محتاط رہنے اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بہتی ہوئی ندیوں یا کاز ویز کو عبور نہ کریں۔ جمعرات کی صبح تک، ریاست کے بیشتر حصوں میں بارش بڑی حد تک رک چکی تھی، جنوبی ساحلی پٹی میں صرف چند مقامات پر ہلکی بارش کی اطلاع ہے۔ ریئل ٹائم گورننس سوسائٹی (آر ٹی جی ایس) کے اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق، بدھ کو ہونے والی شدید بارش بنیادی طور پر گوداوری پٹی – مغربی گوداوری، مشرقی گوداوری، کاکیناڈا، ایلورو اور پولاورم اضلاع میں مرکوز تھی – جہاں چند اسٹیشنوں پر بہت زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔

جمعرات کی صبح، سرگرمی نیلور ضلع میں منتقل ہوگئی، لیکن صرف ہلکی سے درمیانی شدت پر۔ رائلسیما خطہ سمیت بیشتر دیگر اضلاع میں کم یا کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ شہری علاقوں میں بھی بارش میں کمی آئی ہے۔ آج صبح کسی شہر میں شدید بارش یا تازہ پانی جمع ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران سب سے زیادہ بارش گوداوری کے قصبوں نڈاداول، کووور اور کاکیناڈا میں ہوئی ہے، اس کے بعد کونسیما کے ممیدیوارم اور امالاپورم میں ہے۔

آبی ذخائر اور نالے اب مستحکم ہیں۔ زیر نگرانی تمام منصوبے مستحکم یا گرتے ہوئے انفلوز دکھا رہے ہیں۔ پرکاسم بیراج اتنی ہی مقدار میں ڈسچارج کر رہا ہے جتنی اسے مل رہا ہے۔ تملیرو اور بڈامیرُو، جو کل رات بڑھ رہے تھے، اب گر رہے ہیں۔ یرا کلوا، جس میں کل رات تیزی سے اضافہ دیکھا گیا تھا، مستحکم ہو گیا ہے۔ کونداویتی واگو پمپ ہاؤس کو سطح کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے چلایا جا رہا ہے۔ آندھرا پردیش میں آنے والے دنوں میں صرف ہلکی سے درمیانی بارش کی توقع ہے۔ ریاست میں شدید بارش کا کوئی انتباہ نافذ نہیں ہے۔ جنوبی ساحلی اضلاع – نیلور، تروپتی، اور باپٹلا – میں ہفتے کے آخر میں تھوڑی زیادہ بارش کا امکان ہے، لیکن اس کے معتدل رہنے کی امید ہے۔ آر ٹی جی ایس پر اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے ذریعہ صورتحال پر چوبیس گھنٹے نظر رکھی جارہی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

نابالغ مرسڈیز کیس : کم عمر بیٹے سے متعلق معاملے میں کیرالہ کے جج کو پیشگی ضمانت مل گئی

Published

on

کوچی : کیرالہ ہائی کورٹ نے جمعرات کو عدالتی افسر کو پیشگی ضمانت دے دی جس کا نابالغ بیٹا مبینہ طور پر مرسڈیز بینز کار چلا رہا تھا جس نے پچھلے مہینے سڑک کے کنارے ایک 55 سالہ کھانے پینے کے مالک کو ٹکر مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ متاثرہ شخص اپنی چھوٹی کھانے کی دکان بند کرنے کے بعد رات کے وقت گھر واپس آ رہا تھا جب تیز رفتار لگژری کار نے اسے ٹکر مار دی۔ اس واقعے نے بڑے پیمانے پر تشویش کو جنم دیا تھا، خاص طور پر ایک نابالغ کے مبینہ طور پر اونچی گاڑی چلانے کے ارد گرد کے حالات پر۔ پیشگی ضمانت دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے اس حقیقت کا نوٹس لیا کہ عدالتی افسر نے تحقیقات میں تعاون کیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ تفتیشی ٹیم نے ان سے تقریباً چھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی تھی۔

جج تفتیشی افسران کے سامنے پیش ہوئے اور تفتیش کے حصے کے طور پر ان کے سوالات کے جوابات دیئے۔ عدالت کا یہ فیصلہ متوفی کے اہل خانہ کی جانب سے انصاف کے لیے مسلسل مطالبات کے درمیان آیا ہے۔ وہ اس معاملے میں سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور تحقیقات کے دوران تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سڑک کنارے کھانے پینے کی دکان کے مالک کی موت نے کئی سوالات کو جنم دیا تھا، جس میں یہ بھی شامل تھا کہ ایک نابالغ مرسڈیز بینز کیسے چلا رہا تھا اور کن حالات میں گاڑی استعمال کی جا رہی تھی۔ اس کیس نے بھی عوام کی کافی توجہ مبذول کروائی تھی کیونکہ ملزم نابالغ ایک حاضر سروس جوڈیشل افسر کا بیٹا ہے۔ متعلقہ پیش رفت میں، نابالغ بیٹے کو دی گئی ضمانت کی منسوخی کے لیے ایک اور عدالت میں کارروائی جاری ہے۔

اس معاملے میں حتمی حکم عنقریب متوقع ہے۔ ضمانت کی منسوخی کی درخواست کے نتائج پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ اس کا اثر کیس کی اگلی سمت پر پڑ سکتا ہے۔ مقتول کے اہل خانہ کو امید ہے کہ تحقیقات سے مکمل حقائق سامنے آئیں گے اور جو ذمہ دار پائے گئے انہیں قانون کے تحت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جج کو پیشگی ضمانت دینے کا ہائی کورٹ کا تازہ ترین حکم، تاہم، اس کے نابالغ بیٹے کو دی گئی ضمانت سے متعلق کارروائی سے الگ ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان