Connect with us
Monday,03-August-2026

(جنرل (عام

بزمِ صدف انٹرنیشنل کویت شاخ کا آن لائن عالمی مشاعرہ

Published

on

عالمی وبا کورونا کے دور میں آپسی تبادلہ خیال اور ایک دوسرے سے دوری کے سبب بہت سارے مسائل پیدا ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے کئی ناخوشگوار واقعات پیش آئے۔ بزم صدف اسی سمت میں پہل کرتے ہوئے ادیبوں، شاعروں، مصنفوں اور ادب کے بہی خواہوں کو جوڑنے کا کام کیا ہے۔
وبائی دنوں میں علمی اور تہذیبی سرگرمیوں کے لیے بے حد مشکل دور آیا ہوا ہے۔عوامی جلسہ منعقد کرنا دائرہ ئقانون سے باہر ہے اور ایک شہر سے دوسرے شہر اورایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچناناممکنات میں سے ہے۔ ایسے میں جدید مواصلا تی نظام ایک خوشگوار ہوا کے جھونکے کی طرح ہے۔بزم صدف انٹرنیشنل نے اپنی نئی شاخ کے قیام کے لیے کویت کے شعرا و ادباکو منتخب کیا اور ایک بہترین مشاعرے کا اہتمام کر ڈالا جس کی صدارت بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والے معتبر شاعر جلال عظیم آبادی نے کی اوراس نشست کی نظامت کویت سے تعلق رکھنے والے معتبرشاعر مسعود حساس نے کیا۔مسعود حساس بزم صد ف کی کویت شاخ کے صدر بنائے گئے ہیں۔اس مشاعرے میں دس ملکوں کے شعراے کرام شامل ہوئے اور زوم ایپ کے علاوہ فیس بک لائیوپر ہزاروں کی تعداد میں شائقین شعر سے لطف اندوز ہوئے۔
افتتاحی پروگرام کے بعد مشاعرے کا آغاز ہوا۔مسعود حساس نے اپنے مخصوص علمی جلال اورشاعرانہ مزاج و انداز کے ساتھ مشاعرے کے شعرا کو یکے بعد دیگرے بلاناشروع کیا۔ روایت کی پاسداری کرتے ہوے میزبان شعراکوپہلے زحمتِ کلام دی گئی مگر یہ تجربہ بھی دیکھنے کو ملا کہ پہلے شاعر کی حیثیت سے کویت میں رہنے والے واحد مزاحیہ شاعر جناب ایوب خاں نیزہ کو آواز دی گئی۔ایوب خاں نیزہ نے ظرافت کے اُس خاص پہلو کو پیش کیا جس میں اپنے زمانے کے واقعات و حادثات کو شعرکا قالب عطا کیا جاتا ہے۔انہوں نے کویت میں رہنے کے باوجود برِّصغیرکے حالات اور اپنے وطن ہندستان کی تر جمانی کی اور اُن کے اشعارکو خوب خوب دادملی۔ اُن کے یہ دواشعاربہت پسند کئے گے:
اس کروناوائرس سے بچنے اور بچانے میں
ہم نے عافیت جانی تالیاں بجانے میں
کیا کہا،کہو پھر سے بے حسوں کی بستی میں
عزتیں بھی بکتی ہیں چار چار آنے میں
ایوب خاں نیزہ
حضورآپ کے دامن کا داغ بول پڑا
زباں خموش ہے لیکن سراغ بول پڑا
نسیم زاہد ما
بارہا اس نے مرے شعر کو بونا لکھا
اس سے دیکھا نہیں جاتا مرے معیار کا قد
مسعود حساس
بدن پر زخم جتنے ہوں، شمار اچھا نہیں لگتا
کہانی میں مجھے اک لفظ ہار، اچھا نہیں لگتا
عامر قداوئی
پاؤں بادل پر رکھا جب بوند نے تو گر پڑی
ہاتھ اس کا تھام پہلے، ظرف اس کا جان لے
شاہ جہاں جعفری حجاب
خوش گوار لمحوں میں تلخیاں وہ ماضی کی
عورتیں نہیں صاحب، مرد بھول جاتے ہیں
عادل مظفر پوری
زندگی کے باغ میں کس وقت آجائے قرار
اختیار اپنا کہاں موسم کے سردوگرم پر
ڈاکٹر ندیم ظفرجیلانی
بنتِ حّواہوں میں، یہ مراجرم ہے
اور پھرشاعری تو کڑا جرم ہے
ثروت زہرا
ستاروں سے کہو آہستہ بولیں
مری راتوں کی وحشت سورہی ہے
احمد اشفاق
مسکراتے ہوئے مقتل کی طرف
قتل ہو جانے کی جرآت میں چلو
پروفیسرظفر امام
انسان میں دیکھی ہے فرشتے کی صفت بھی
ہم نے درندہ اسی انسان میں دیکھا
پرویز مظفر
عجیب لوگ ہیں یہ خاندان عشق کے لوگ
کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے
عباس تابش
سب کے کاندھے پر سلگتے موسموں کا قہر ہے
ایٹمی بارش میں آدم کھوکھلے رہ جائیں گے
پروفیسر صفدر امام قادری
یہ لاش یقینا کسی سچائی کی ہوگی
جم جم کے ہراک قطرہ ئخوں بول رہا ہے
ضامن جعفری
جو غم ملا بھی تو آنکھوں میں کچھ نمی نہ ہوئی
جو ہوسکے تو کوئی اور تجربہ کر لو
جلال عظیم آبادی
بزم صدف انٹر نیشنل کی کویت شاخ کے افتتاحی پروگرام کے موقعے سے منعقد یہ مشاعرہ تین گھنٹوں تک چلا۔ مشاعرے میں مختلف شعرائے کرام نے اپنابہترین کلام پیش کیا اور معیار کا خاص طور سے خیال رکھا۔ مشاعرے میں ہر نسل کی نمائندگی ہوئی اورمختلف طرز کے کلام سے سامعین محظوظ ہوئے۔ ایسے شعرا نے بھی کلام سنایا جن کی شہرت اُس قدر نہیں ہے، مگران کا کلام خاصا معیاری نظر آیا۔اس اعتبار سے بزمِ صدف کا یہ مشاعرہ عالمی طور پر اردو کے نئے شعرا اور امکانات سے بھری ہوئی نئی نسل کی تلاش و جستجو کے لئے یا دگارتسلیم کیا جائے گا۔

(جنرل (عام

ڈی آر سی میں ایبولا کا پھیلاؤ قابو سے باہر : تاریخ کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا وبا، ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

Published

on

Ebola

کنشاسا : ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کی وبا اب تک کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا بن گئی ہے۔ انفیکشن کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے ملک کے مشرقی حصے میں لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اب تک 3,442 افراد کے ایبولا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 1,521 کی موت ہو چکی ہے، جو کہ شرح اموات تقریباً 45 فیصد ہے۔ ڈی آر سی کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، یہ وبا اب مشرقی کانگو کے پانچ صوبوں تک پھیل چکی ہے، جہاں کئی سالوں سے جاری تشدد اور عدم تحفظ کی وجہ سے صحت کی خدمات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

کانگو کی حکومت نے 15 مئی کو باضابطہ طور پر اس وباء کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تب سے، وائرس کا بنڈی بوگیو تناؤ ملک میں ایبولا کے پچھلے تمام 16 پھیلنے سے زیادہ تیزی سے پھیل چکا ہے۔ انفیکشن کی تعداد اب 2018-20 کے بڑے پھیلنے کے اعداد و شمار کے قریب پہنچ گئی ہے، جب 3,470 لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کیسز کی تعداد ہر 20 دن میں دوگنی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ اس صورتحال سے نمٹنے میں مدد کر رہا ہے لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ یہ وبا پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید بگاڑ رہی ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے، حکومت نے نگرانی کو مضبوط بنایا ہے، ایبولا کے علاج کے 20 سے زیادہ مراکز قائم کیے ہیں، اور مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی ہیں۔ لوگوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ ایبولا کی معمولی علامات کا بھی تجربہ کریں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں تاکہ ٹرانسمیشن کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اس کے باوجود، بونیا اور روامپارا جیسے صحت کے علاقوں میں ہر ہفتے 100 سے 150 نئے انفیکشن دیکھے جا رہے ہیں۔ بنڈی بوگیو سٹرین کے خلاف تیار کردہ ایک نئی ویکسین کے لیے جولائی کے اوائل میں کلینیکل ٹرائلز شروع ہوئے۔ فی الحال، اس تناؤ کا کوئی معیاری علاج دستیاب نہیں ہے۔ 15 جولائی تک، تقریباً 20 رضاکاروں کو اس مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، اور سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اسے مکمل ہونے میں تقریباً چار ماہ لگیں گے۔

دریں اثنا، یوگنڈا، جس نے حال ہی میں ایبولا کی وباء کو ختم کرنے کا اعلان کیا، نے بھی کانگو کی مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی ہے۔ یہ ماہرین کانگو کے صحت کے حکام کے ساتھ مل کر اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں، خاص طور پر ٹچومیا اور کیسینی کے سرحدی علاقوں میں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ وباء کانگو کی تاریخ کا بدترین ایبولا بحران بن سکتا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان