Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

دہلی فساد میں ملوث مزید تین نوجوانوں کی ضمانتیں منظور، جمعیۃ کی قانونی مدد کے نتیجے میں اب تک 63 لوگوں کو ضمانت, دہلی فساد کے اصل خاطیوں کب سامنے لایا جائے گا؟ مولانا ارشدمدنی

Published

on

Maulana Arshad Madani

جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے دہلی فساد میں مبینہ طور پر ماخوذ مسلم ملزمان میں سے آج مزید 3 افراد کی ضمانت منظور ہوگئی، جو پچھلے ایک سال سے جیل میں تھے۔ ضمانت ملنے پر مولانا مدنی نے کہاکہ دہلی فسادات کے اصل خاطیوں کو کب سامنے لایا جائے گا۔ یہ اطلاع جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ ایک ریلیز میں دی گئی ہے، ریلیز کے مطابق اب تک نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے کل 63 افراد کی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء کا پینل کل 139 مقدمے دیکھ رہا ہے، امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی دوسرے معاملوں میں بھی پیش رفت ہوگی اور غلط طریقے سے فساد میں ماخوذ کئے گئے باقی ماندہ افراد کی رہائی کا راستہ صاف ہو جائے گا۔

گذشتہ روز دہلی فساد کے معاملے میں گرفتار تین ملزمین پرویز، شاہنواز اور محمد شعیب کو مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات کڑکڑڈوما سیشن عدالت نے جاری کئے۔ان ملزمین کو ایف آئی آر نمبر 138/2020 پولس اسٹیشن گوکلپوری مقدمہ میں ضمانت پر رہائی ملی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ملزمین کی پیروی ایڈوکیٹ ظہیر الدین بابر چوہان اور ان کے معاونین وکلاء ایڈوکیٹ دنیش و دیگرنے کی۔ ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 147,148,149,436, 427 (فسادات برپا کرنا، گھروں کو نقصان پہنچانا، غیر قانونی طور پر اکھٹا ہونا)اور پی ڈی پی پی ایکٹ کی دفعہ 3,4 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ سماعت کے بعدسیشن عدالت کے جج ونود یادد نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ملزمین کے خلاف سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ملے اور ان کے خلاف گواہی دینے والے سرکاری گواہوں نے 46 دنوں کے طویل وقفہ کے بعد اپنا بیان درج کرایا ہے، جو مشکوک لگتا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ اسی مقدمہ کا سامنا کر رہے پانچ ملزمین جس میں محمد طاہر، شاہ رخ، آزاد، رشید اور اشرف علی کی ضمانت منظور کی ہے لہذا ان تینوں ملزمین کی ضمانت منظور کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ تمام ملزمین پر الزامات یکساں نوعیت کے ہیں۔ عدالت نے ملزمین کو حکم دیا کہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ان کے خلاف موجود ثبوت وشواہد سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے، اور پولس اسٹیشن اور عدالت میں ضرورت پڑھنے پر حاضر رہیں گے، عدالت نے ملزمین کو موبائل میں اروگیہ سیتو اپلیکشن بھی ڈاؤنلوڈ کرنے کا حکم دیا۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے آج اپنے ایک بیان میں ان تین نوجوانوں کی رہائی پر گہری مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمارے وکلاء کی ٹیم اس معاملے میں دن رات محنت کر رہی ہے، اور یہ اسی محنت کا نتیجہ ہے کہ حوصلہ بخش نتائج سامنے آرہے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ دہلی فساد کے مقدمات میں اب تک 63 معاملوں میں ملزمین کی ضمانت پر رہائی یہ بتاتی ہے کہ کاروائی کی آڑ میں امتیازی رویہ اپناتے ہوئے پولس نے بے گناہ لوگوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا تھا۔ پولس کی چارج شیٹ میں بڑا جھول ہے اور سرکاری گواہوں کے بیانات میں بھی تضادات پائے جاتے ہیں، جیسا کہ اسی معاملے میں فیصلہ دیتے ہوئے سیشن جج نے اپنے تبصرہ میں یہ بات خاص طور پر کہی کہ گواہوں نے جو بیان دیا ہے وہ مشکوک لگتا ہے۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ انصاف اور کاروائی کے نام پر منصوبہ بند طریقے سے بے گناہ لوگوں کے خلاف مقدمہ تیار کیا گیا اور ان کی گرفتاریاں ہوئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اعداد وشمار سامنے ہیں کہ اس فساد میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان مسلمانوں کا ہوا اور جب فساد تھما تو ان کی ہی بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں، پولس کو کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ وہ جس طرح چاہے کارروائی کرے، جب کہ دہلی کی تاریخ کے اس بھیانک فساد کی پہلے منصفانہ جانچ ہونی چاہیے تھی، اور اسکے بعد ہی کسی طرح کی قانونی کاروائی کی جانی چاہیے تھی، مگر ہمارے مسلسل مطالبے کے باوجود ایسا نہیں ہوا، گویا کہا جاسکتا ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں نے اقلیتی فرقے کو معاشی اور اقتصادی طور پر تباہ کرنے کے لئے فساد کی جو سازش رچی وہ کامیاب رہی، اور پھر اسی مظلوم فرقے پر کاروائی اور گرفتاری کے نام پر ایک نئے سرے سے ظلم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

مولانا مدنی نے سوال کیا کہ آخر دہلی فساد کے اصل خاطیوں کو کب بے نقاب کیا جائے گا اور کب انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوشش ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ جب فساد کو لے کر اندھا دھند گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تو اس کے بعد سے ہی ہم مسلسل یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں، کہ جو اصل خاطی ہیں ان کے خلاف بھی قانونی کاروائی ہونی چاہیے، لیکن افسوس صد افسوس وہ سارے لوگ جن کا سرگرم رول اس فساد میں پوری طرح اجاگر ہوچکا ہے، اور جس کے ویڈیو بھی بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر موجود ہیں وہ آزاد ہیں، اور بے گناہ لوگ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے پر مجبور ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان