Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

دہلی فساد میں ملوث مزید چارنوجوانوں کی ضمانت منظور، اب تک92 کی ضمانت، جمعیۃعلماء ہند کا مقصد باعزت بری کرانا ہے۔ مولانا ارشد مدنی

Published

on

maulana-arshad-madni

جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے دہلی فساد میں مبینہ طور پرماخوذ مزید چار مسلم ملزمان کی ضمانت کے ساتھ اب تک مجموعی طور پر 92 افراد کی ضمانتیں نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے منظور ہوچکی ہیں۔ جمعیۃ کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اس پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ کا مقصد صرف ضمانت پر رہا کرانا نہیں، بلکہ ان لوگوں کو باعزت بری کرانا ہے۔

جمعیۃ علمائے ہند کی کوششوں سے گزشتہ کل مزید 4 افراد کی ضمانت کی عرضیاں منظور ہو گئیں، جو پچھلے ایک سال سے جیل میں تھے۔ اس کے ساتھ ہی اب تک نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے کل 92 افراد کی ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں، ضمانت منظور ہونے کے بعد چاروں ملزمین کی جیل سے رہائی عمل میں آچکی ہے، جس سے ملزمین کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی ہے، عید سے عین قبل ملزمین کی جیل سے رہائی سے ملزمین لے اہل خانہ نے جمعتہ علماء ہند کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔

جمعیۃ علمائے ہند کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق دہلی ہائی کورٹ اور کار کا ڈومہ سیشن عدالت نے گذشتہ کل دہلی فساد کے معاملے میں گرفتار ملزمین راشد سیف، محمد عابد، محمد شاداب اور شمیم لالہ کو مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ ان ملزمین کو ایف آئی آر نمبر 101/2020 پولس اسٹیشن کھجوری خاص مقدمہ میں ضمانت پر رہائی ملی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ملزمین کی پیروی ایڈوکیٹ ظہیر الدین بابر چوہان اور ان کے معاونین وکلاء ایڈوکیٹ دنیش و دیگر نے کی، ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 147،148،149،436، 427 (فسادات برپا کرنا، گھروں کو نقصان پہنچانا، غیر قانونی طور پر اکھٹا ہونا) اور پی ڈی پی پی ایکٹ کی دفعہ 3,4 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

سماعت کے بعددہلی ہائی کورٹ کی جسٹس سریش کمار کیت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ استغاثہ ملزمین کے کردار کو ثابت نہیں کرپایا ہے، نیز اس معاملے میں تفتیش مکمل ہوچکی اور چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے لہٰذا ملزمین کو مزید جیل میں رکھنا ضروری نہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ ملزمین کے خلاف سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ملے اور ان کے خلاف گواہی دینے والے سرکاری گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے، جس سے ان کا بیان مشکوک لگتا ہے۔ عدالت نے ملزمین کو حکم دیا کہ وہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ان کے خلاف موجود ثبوت وشواہد سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے، اور پولس اسٹیشن اور عدالت میں ضرورت پڑھنے پر حاضر رہیں گے، عدالت نے ملزمین کو موبائل میں اروگیہ سیتو اپلیکشن بھی ڈاؤنلوڈ کرنے کا حکم دیا۔

جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء کا پینل کل 139 مقدمے دیکھ رہا ہے، امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی دوسرے معاملوں میں بھی پیش رفت ہوگی، اور غلط طریقے سے فساد میں ماخوذ کئے گئے باقی ماندہ افراد کی رہائی کا راستہ صاف ہو جائے گا۔

ہائیکورٹ اور سیشن کورٹ سے چارملزمین کو ملی ضمانت کا صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جلد از جلد تمام ملزمین کو پہلے جیل سے رہا کرایا جائے، اور پھر اس کے بعد ان کے مقدمات لڑ کر انہیں باعزت کرایا جائے، لیکن کورونا کی وجہ سے عدالتی کام کاج نہایت سستی سے ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جمعیۃ علمائے ہند کا مقصد اور اس کی اولین ترجیح ملزمین کی باعزت بری رہی ہے اور اس سمت میں جمعیۃ دل و جان سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب عدالتیں خود یہ کہہ رہی ہیں کہ ملزمین کو مزید جیل میں رکھنا ضروری نہیں ہے، اس کے باوجود دہلی پولس ملزمین کی ضمانت کی عرضداشتوں کی سخت لفظوں میں مخالفت کر رہی ہے، جس سے دہلی پولس کی جانبداری واضح ہوتی ہے، دہلی فسادات میں دہلی پولس کی کار کردگی ویسے ہی جانبدارانہ رہی تھی۔ انہوں نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے جیل کی بھیڑ بھاڑ کم کرنے کے لئے عدالت کہہ رہی ہے، لیکن پولیس کا رویہ مثبت نہیں ہے۔ اس ضمن میں حکومت کو منصفانہ انداز میں سوچنا چاہئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان