Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

آصف شیخ رشید کا فیصلہ کن جلسہ عام تاریخی حیثیت اختیار کرگیا شہر کی تعمیر و ترقی اور مستقبل کے لائحۂ عمل ڈرافٹ کمیٹی کی شفارشات پر یقین دہانی کرنے والی پارٹی میں شمولیت کا اعلان

Published

on

asif-rashid-shaikh-malegaon

مالیگاؤں(پریس ریلیز ) :
کانگریس سے استعفیٰ دینے کے بعد سابق رکن اسمبلی کس سیاسی پارٹی میں شامل ہوں گے اس بات کو لیکر مختلف قیاس آرائیوں کے بعد گذشتہ روز مالیگاؤں ہائی اسکول کے پاس رونق آباد چوک پر ایک فیصلہ کن جلسہ عام کا انعقاد ہوا جو تاریخی حیثیت اختیار کرگیا۔ حالاں کہ گذشتہ کئی دنوں سے شہر کے مختلف علاقوں میں ڈیجیٹل بورڈ اور ہورڈنگنس کے علاوہ سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹ اور اسٹیکر کے ذریعہ نوجوانوں کا جوش و خروش اس جلسہ کی کامیابی کا ضامن بنا ہوا تھا۔ جمعہ کے روز جمعہ کی نماز کے بعد شہر کی شاہراہوں اور اہم راستوں پر نوجوانوں کا غول موٹر سائیکل پر آصف شیخ رشید کے کٹ آؤٹ کیساتھ “آصف صاحب جدھر ہم ادھر” چلو ایک پہل کی جائے۔۔۔۔۔نئے راستے کی اور”آصف صاحب آگے بڑھو، ہم تمہارے ساتھ ہیں” اور دیگر انقلابی نعروں کیساتھ شہر کا گشت کرتا دکھائی دیا۔ مالیگاؤں ہائی اسکول کے پاس شام سے ہی جلسہ کی تیاریاں جاری تھیں۔

فیصلہ کن جلسہ عام میں عوام کی بھیڑ نے اس علاقہ میں ہونے والے ہر جلسہ کا ریکارڈ توڑ دیا۔ جس طرف نظر جاتی سروں کا سمندر دکھائی دیتا۔ یہ حقیقت ہیکہ اس بھیڑ میں کانگریس پارٹی سے منسلک ان نوجوانوں کی اکثریت رہی جو سوشل میڈیا پر سرگرم رہا کرتے ہیں اور آصف شیخ رشید کے ذریعہ چلائی جانے والی ہر تحریک جیسے مسلم ریزرویشن فیڈریشن، انسانیت بچاؤ سنگھرش سمیتی، مآب لنچنگ مخالف تحریک، اردو میلہ، میں تن من اور دھن کیساتھ شریک رہے۔ ان کے پرجوش نعروں سے اطراف کا علاقہ گونج اٹھتا۔

اس گہما گہمی کے دوران سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے 21,رکنی ڈرافٹ کمیٹی کے ذریعہ شہر کی فلاح و بہبود اور کارو باری اور معاشی ترقی، نوجوانوں کو روزگار، تعلیم، اور گنگا جمنی تہذیب اور روایت کو قائم رکھنے کیلئے جو نکات ظاہر کئے ہیں ان کی تکمیل کیلئے جو سیاسی پارٹی یقین دہانی کروائے گی اس پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کیساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ ہم نے شہر کے چوک چوراہوں اور عوام سے مشورہ کیا اور ان کی رائے طلب کی ان میں تقریباً ستر فیصد لوگوں نے راشٹروادی کانگریس کو اولیت دی جبکہ خود ان کا اپنا مزاج بھی نوے فیصد راشٹروادی کانگریس کو ہی ترجیح دینے کا ہے۔ لیکن عوامی رائے اور ڈرافٹ کمیٹی کے مسودہ پر سیاسی جماعتوں سے گفتگو کرنے کے بعد حتمی فیصلہ کا اعلان کیا جائیگا۔ دوسری طرف موجودہ مجلسی ایم۔ایل۔اے۔ جن سوراجیہ شکتی پارٹی کے نشان پر 2009 سے 2014 تک اسمبلی میں نمائندگی کرنے اور اسمبلی اجلاس کو پکنک پوائنٹ بتلانے کے علاوہ ڈنڈی مار آمدار کا خطاب حاصل کرلینے اور پھر دوبارہ نمائندگی حاصل ہونے پر تقریباً ڈیڑھ سال کے بعد اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شہری مسائل پر حکومت سے نمائندگی کا مطالبہ کرنے اور پہلی بار آموختہ کرکے بولنے پر حضرت والا کے جاننے اور ماننے والوں کی جانب سے استقبال کرنے پر شہر میں حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ شہری مسائل کے متعلق اسمبلی میں آواز اٹھانا شہری نمائندہ کی ذمہ داری اور فرض ہے۔ اسمبلی میں آواز بلند کرکے انہوں سے اہلیانِ شہر پر کوئی احسان نہیں کیا۔کیونکہ انہیں اسی مقصد کے تحت شہری عوام نے منتخب کیا ہے۔ موصوف کا استقبال کرنے کی بجائے شہر کے مسائل کو ان کے سامنے اجاگر کرتے ہوئے ذمہ داریوں کا احساس دلانا چاہیئے۔ ساتھ ہی اس بات پر نظر رکھنا چاہیئے کہ مجلسی ایم۔ایل۔اے۔ نے اگر نشیلی ادویات اور غیر قانونی کاروبار کیلئے آواز اٹھائی ہے تو پولیس ڈیپارٹمینٹ ان غیر قانونی کاروبار کیخلاف کیا اقدامات اٹھاتا ہے یا شہر میں غنڈہ گردی، لوٹ مار، قتل و غارتگری، چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں کتنا فرق پڑتا ہے۔ اس کا جائزہ لینے کے بعد ہی ہم اپنے نمائندہ کے اثر ورسوخ کا احاطہ کرسکتے ہیں۔ استقبال کرنے سے یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے۔اس بات کو بھی دھیان میں رکھنا چاہیئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com