Connect with us
Saturday,20-June-2026

سیاست

مراٹھا ریزرویشن آرڈیننس کے ساتھ ہی مسلم ریزرویشن آرڈیننس بھی جاری کیا جائے، مہاراشٹر پردیش کانگریس صدر سے آصف شیخ کا مطالبہ

Published

on

ASIF SHAIKH

(خیال اثر)
مہاراشٹر کے مسلمان مسلم ریزرویشن کو لیکر فکر مند ہیں، نوجوان تعلیم اور نوکریوں کے حصول کیلئے پریشان ہوریے ہیں، مسلم ریزرویشن کو لیکر مسلمانوں میں جوش کو ماحول پیدا ہورہا ہے، نوجوان طبقہ اپنے غصے کا اظہار کررہا ہے اور حکومت سے امید لگا بیٹھا ہے کہ مہاراشٹر کی سرکار کامن مینمم پروگرام کے تحت مسلمانوں کو تعلیم اور سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن دے گی تو ایسے میں ہم مہاراشٹر کانگریس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مراٹھا سماج کے لئے آرڈیننس جاری کرنے کے ساتھ ہی ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق مسلم سماج کو ٪5 ریزرویشن کا آرڈیننس جاری کیا جائے۔اسطرح کا مطالبہ مالیگاؤں کے سابق ایم ایل اے و مسلم ریزرویشن فیڈریشن کے بانی و تحریک ریزرویشن کنوینر آصف شیخ رشید نے مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر بالا صاحب تھورات سے کیا ہے ۔آصف شیخ نے تفصیلی مطالباتی مکتوب میں لکھا ہے کہ ریاست کی کل آبادی میں سے ٪15 آبادی مسلم سماج کی ہیں۔حکومت نے جسٹس راجیندر سچر، رنگن ناتھ مشرا کمیشن اور ڈاکٹر محمود الرحمن کمیٹی کی تشکیل کر احوال طلب کیا تھا اس رپورٹ کی روشنی میں ریاست کی مسلم کمیونٹی تعلیمی ، معاشرتی اور معاشی طور پر پسماندہ ہے اور انتہائی قابل رحم حالت میں ہے۔ لہذا مسلم کمیونٹی کے افراد کو سرکاری نوکری اور تعلیم میں ریزرویشن دینے کی ضرورت ہے۔حکومت نے کمیٹیوں کی تمام سفارشات کو قبول کرلیا تھا۔ لیکن چونکہ حکومت نے منظور شدہ سفارش پر عمل درآمد شروع نہیں کیا ۔آصف شیخ نے کانگریس صدر بالا صاحب تھورات سے کہا کہ میں نے خود بھی متعدد مسلم تعلیمی اور سماجی تنظیموں اور ریاست بھر کے الگ الگ افراد، تنظیموں کے ساتھ مالیگاؤں سے ممبئی تک 300 کلومیٹر پیدل مارچ کیا تھا تاکہ مسلم ریزرویشن کے لئے اس وقت کی حکومت کی توجہ مبذول کروا کر ریزرویشن حاصل کیا جاسکے ۔ اور ہمارے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے ڈیموکریٹک الائنس حکومت نے 2014 میں مراٹھا برادری کو ٪16 اور مسلم برادری کو ٪5 ریزرویشن دینے کا اعلان کیا۔ تاہم ، کچھ لوگوں نے ممبئی ہائی کورٹ میں مسلم ریزرویشن کو چیلنج کیا ، جس کے سبب کورٹ نے ملازمت میں ٪5 منسوخ کرتے ہوئے مسلمانوں کیلئے تعلیم میں ٪5 ریزرویشن کو برقرار رکھا۔ اکتوبر 2014 میں ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد بی جے پی حکومت تشکیل دی گئی اور حکومت نے اپنے پہلے ناگپور کنونشن میں مراٹھا برادری کے لئے ٪16 ریزرویشن کا آرڈیننس پاس کیا۔ لیکن اسی کے ساتھ ٪5 مسلم ریزرویشن آرڈیننس پاس نہیں ہوا ہے ، جس کے نتیجے میں مسلم ریزرویشن آرڈیننس خود بخود قانونی طور پر منسوخ ہوگیا ۔جس سے ریاست میں مسلم سماج کے طلباء کو بہت بڑا تعلیمی اور معاشی نقصان ہوا ہے۔ مسلم معاشرے کے لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان مرد اور خواتین بے روزگار ہوگئے۔آصف شیخ رشید نے مہاراشٹر پردیش کانگریس صدر بالا صاحب تھورات سے کہا کہ حالیہ خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت مراٹھا ریزرویشن آرڈیننس لائے گی تاکہ مراٹھا سماج کے طلباء کو کسی قسم کا تعلیمی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ ہم مراٹھا ریزرویشن آرڈیننس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ لیکن مسلم ریزرویشن آرڈیننس لانا بھی انصاف کے نقطہ نظر سے لازمی ہے۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی نے مسلم کمیونٹی کے تحفظات اور خوش آئند فیصلوں کی امیدوں کو جنم دیا ہے۔ اس سے قبل ، ممبئی ہائی کورٹ نے مسلم ریزرویشن پر فیصلہ سنایا تھا اور نوکریوں میں ریزرویشن کو کالعدم قرار دے کر تعلیمی ریزرویشن کو بحال کیا تھا۔ حکومت مذکورہ فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرے اور مسلم کمیونٹی کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں ٪5 ریزرویشن برقرار رکھنے کی درخواست کرے۔ شیخ آصف نے کہا کہ آپ سے درخواست کی جارہی ہے کہ مہاوکاس اگھاڑی سرکار کے تحت ریاست میں ریزرویشن کا مسئلہ ختم ہونے ہی والا ہے۔ چونکہ مسلم کمیونٹی ایک محروم طبقہ ہے لہذا ان کو تعلیم دینے کے لئے ریزرویشن کی بہت زیادہ ضرورت ہے لہذا مراٹھا ریزرویشن آرڈیننس کے ساتھ ساتھ مسلم ریزرویشن آرڈیننس کو بھی منظور کرکے ریاست کے مسلمانوں کو ریزرویشن دیا جانا چاہئے۔اس مکتوب کی ایک کاپی کانگریس کے وزیر شہری ترقیات و مراٹھا ریزرویشن کمیٹی کے صدر اشوک راؤ چوہان کو بھی دی گئی ہے ۔آصف شیخ نے کانگریس صدر بالا صاحب تھورات اور اشوک چوہان سے کہا کہ میں کانگریس کا سابق ایم ایل اے اور موجودہ ممبر ہوں، مہاراشٹر بھر سے عوام مجھ سے سوال کرتے ہوئے مسلم ریزرویشن پر کانگریس کا موقف جانتے ہیں ۔مسلم نوجوانوں میں ریزرویشن کو لیکر غصہ نظر آتا ہے اس لئے کانگریس پارٹی کامن مینمم پروگرام کے تحت اس مسئلہ کو جلد از جلد حل کرے اور مسلمانوں کو ریزرویشن دے ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیل نے جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی لبنان پر حملہ کر کے 5 افراد کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

بیروت، جنوبی لبنان: اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ تازہ ترین حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے عمل میں آنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد جنوبی لبنان کے شہر سجاد کے قریب جبل الرافی کے علاقے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

جنگ بندی پر ایک روز قبل اتفاق ہوا تھا۔ ژنہوا کے مطابق، جنگ بندی شام 4:00 بجے نافذ ہوئی۔ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق۔

دریں اثناء حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعے کے روز کہا کہ اگر تنظیم پر حملہ ہوا تو وہ ہتھیاروں کی طاقت سے اسرائیل کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں اس کے ارکان کو نہیں روکیں گی۔

المنار ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں قاسم نے کہا کہ “حزب اللہ کو ختم کرنے اور قبضے کو برقرار رکھنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور اسرائیل ہماری زمین کے ہر آخری انچ سے پیچھے ہٹ جائے گا۔”

انہوں نے کہا کہ لبنان کو اس وقت “انتہائی خطرناک دور” کا سامنا ہے اور ملک کے مستقبل کو نشانہ بنانے والی “امریکی اسرائیلی مہم” کا سامنا ہے۔ قاسم نے الزام لگایا کہ اسرائیل لبنان کی سیاسی طاقت کے خلاف ایک نئی تحریک کھڑا کرنا چاہتا ہے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں بھی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔

قاسم نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیار صرف اسرائیل کے خلاف استعمال کے لیے ہیں اور اسرائیل سے اپیل کی کہ وہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔

ان کے تبصرے جمعہ کو جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد جبل الرافی کے علاقے کو اسرائیلی فضائی حملوں نے نشانہ بنایا۔

قبل ازیں، حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک “مزاحمت سے وفاداری” کے رکن ابراہیم الموسوی نے کہا کہ اگر اسرائیل بھی اپنی شرائط پر عمل کرتا ہے تو حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کا احترام جاری رکھے گی۔

دریں اثنا، لبنان کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اطلاع دی ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کل 3,980 افراد ہلاک اور 12,001 زخمی ہو چکے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان