Connect with us
Thursday,06-August-2026

جرم

مالیگاؤں کے کوویڈ سینٹر کے مسلم ملازمین کے ساتھ تعصب پرستی کا الزام

Published

on

(خیال اثر)
شہیدان بم بلاسٹ اور مجروحین کے طفیل تعمیر شدہ جدید اسپتال (سول ہاسپٹل) میں طبی خدمات کی انجام دہی کے لئے ملازمین کی فراہمی ٹھیکدار کے ذریعے کی جاتی ہے. کورونا جیسی وباء کے پھیلنے کے باعث اور لاک ڈاؤن کی پابندیوں کے طفیل شہر کے معاشی حالات دگر گوں ہوتے جارہے ہیں. شیدید معاشی حالات سے پریشان ٹھیکدار کی جانب سے مہیا کیا گیا ایک نوجوان ملازم اکرم خان طالب خان (30) ساکن نہال نگر نے اپنی بقایا تنخواہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے زہر خورانی کرتے ہوئے خودکشی کرنے کی کوشش کی جو ان دنوں اسی اسپتال میں موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا ہے.یہ معاملہ گزشتہ کل یہاں کے جنرل ہاسپٹل کی سیڑھیوں پر پیش آیا تھا.متاثرہ اکرم خان نے نمائندے کو بتایا کہ 12ہزار ماہانہ تنخواہ پر ہمیں نامزد کیا گیا تھا لیکن ٹھیکدار کی جانب سے اسے صرف 9ہزار روپیے ہی تنخواہ کی شکل میں ادا کیا جاتا تھا اور اس کی تین ماہ کی تنخواہ ٹھیکدار شرد دیورے کی جانب سے ادا نہ کئے جانے کی صورت میں پریشان ہو کر یہ انتہائی دم اٹھانے پر مجبور ہوگیا. انھوں نے مزید بتایا کہ کوویڈ سینٹروں پر ہم تمام ملازمین نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایماندارانہ طریقے سے اپنے فرائض منصبی کو ادا کیا ہے لیکن 10 ملازمین کے تعلق سے شرد دیورے نامی ٹھیکدار خاص طور پر مسلم طبقے سے تعلق رکھنے والے ملازمین کے ساتھ ہمیشہ ہی دو رخا رویہ اختیار کرتے ہوئے فرقہ پرستی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے جو اس کی فرقہ پرستی پر مبنی سوچ کا مظہر ہے. متاثرہ کی یہ بھی سوچ تھی شاید ایسا قدم اٹھانے سے ٹھیکدار شرد دیورے راہ راست پر آ جائے لیکن اس حادثے کو دو دن گزر جانے کے باوجود ٹھیکدار اور شہری انتظامیہ کی جانب سے بات چیت کے لئے بھی کوئی نہیں آیا. مذکورہ نوجوان بی جے پی اقلیتی مورچہ کے ریاستی سیکریٹری شیخ ابراہیم شیخ اسلم المعروف پپو ممبر کے قریبی ساتھی اور بی جے پی کا رکن ہے. انھوں نے بر وقت اکرم خان سے ملاقات کرتے ہوئے گفت و شنید کی تو معلوم ہوا کہ ملازمین مہیا کرنے والے ٹھیکدار نے طبی خدمات کے لئے 36 ملازمین مہیا کئے تھے نیز ٹھیکدار کی جانب سے ملازمین کو وقت پر تنخواہ کی ادائیگی میں ٹال مٹول کی جاتی جاتی تھی اور ٹھیکدار جانب داری و فرقہ پرستی, ذات پات پر امادہ رہتا تھا. تنخواہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے پریشانی کے عالم میں اکرم خان نے زہریلی دوا پی کر اپنے آپ کو ختم کرنے کا انتہا قدم اٹھا لیا. بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی سیکریٹری شیخ ابراہیم نے ناسک ضلع سول سرجن اور ریاستی ذمہ داران سے شکایت کرتے ہوئے انصاف کی گہار لگائی ہے تاکہ آنے والے دنوں میں دوسرا کوئی ملازم معاشی پریشانیوں سے نبرد آزما رہتے ہوئے خودکشی پر مائل نہ ہو. شیخ ابراہیم نے ذمہ داران کو یہ بھی انتباہ دیا کہ آنے والے دنوں میں اگر کوئی ایسا ہی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داریاں انتظامیہ اور ٹھیکدار پر عائد ہوگی. مالیگاؤں کا یہ سول ہاسپٹل اول دن سے ہی مریضان وقت کو پریشانیوں میں مبتلا رکھنے کی آمجگاہ بنا ہوا ہے. معمولی بیماریوں کے شکار افراد کو دھولیہ سول ہاسپٹل اور مہنگے ترین اسپتالوں میں روانہ کردیا جاتا ہے. ایسے سنگین حالات میں شہری لیڈران اور میونسپل ذمہ داران بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں. کوئی بھی اس ہاسپٹل کے بگڑے نظام کو راہ راست پر لانے کے لئے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتا. یہ دیکھتے ہوئے دھولیہ سول ہاپسٹل میں اپنی بے لوث خدمات کی انجام دہی کے لئے مستعد و فعال خادمان خلق اب یہ کہنے لگے ہیں کہ مالیگاؤں سرکاری اسپتال سردی زکام اور کھانسی کے مریضوں کو بھی دھولیہ اور دیگر مہنگے اسپتالوں میں روانہ کرنے کی کگار پر ہے. اس سنگین مسئلے پر شہری ذمہ داران اور میونسپل ذمہ داران کو غور و خوض کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات کرکے اسے عملی جامہ پہنانا چاہئے تبھی اس اسپتال کے فوائد شہریاں کو مہیا ہوں گے ورنہ یہ عالیشان سرکاری اسپتال” دور کے ڈھول سہانے ” کے مصداق نااہل و ناکارہ ثابت ہوتا رہے گا.

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان