Connect with us
Wednesday,18-March-2026

سیاست

تینوں اسمبلی حلقوں میں دو میںسہ رخی اور ایک میں سیدھے طور پر مقابلے کے آثار ہیں

Published

on

election

بھیونڈی مشرقی حلقہ اسمبلی اور مغربی حلقہ اسمبلی میں سہ رخی مقابلے اور دیہی حلقہ اسمبلی میں براہ راست مقابلے کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔ واضح ہو کہ بھیونڈی مشرقی حلقہ اسمبلی میں بی جے پی ‘شیوسینا اتحاد کے امیدوار روپیش مہاترے ، کانگریس کے سنتوش ایم شیٹی اور سماج وادی پارٹی کے رئیس شیخ کے درمیان سہ رخی لڑائی ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح ، بھیونڈی مغرب میں ، بی جے پی – شیوسینا اتحاد کے امیدوار مہیش چوگلے ، کانگریس کے شعیب گڈو اور اے آئی ایم آئی ایم کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار خالد مختار شیخ کے بیچ سہ رخی مقابلے کے آثار ہیں۔ لیکن دیہی حلقہ اسمبلی میں شیوسینا-بی جے پی اتحاد کے امیدوار شانتارام مورے اور راشٹروادی کانگریس پارٹی کی مادھوری مہاترے میں براہ راست مقابلے کے امکانات ہیں۔
بھیونڈی مشرقی حلقہ اسمبلی سے پانچ امیدواروں کی پرچہ نامزدگی واپس لینے کے بعد ، شیوسینا کے روپیش مہاترے ، کانگریس کے سنتوش شیٹی ، سماج وادی پارٹی کے رئیس شیخ ، ونچت بہوجن اگھاڑی سے بودھیش جادھو ، ایم این ایس سے منوج گلوی ، بہوجن سماج پارٹی سے نذیر احمد صدیق انصاری، سماجوادی فارورڈ بلاک سے عبدالسلام انصاری ، بہوجن مہا پارٹی سے نارائن ونگا اور پیس پارٹی کے حبیب الرحمٰن خان سمیت 14 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ جس میں شیوسینا ، کانگریس ۔ سماج وادی پارٹی میں سہ رخی مقابلے کے امکانات ہیں۔ جس میں سماج وادی پارٹی کے ووٹوں کی تقسیم یہ فیصلہ کرے گی کہ اس سے کس کو فائدہ پہونچنے والا ہے۔ بی جے پی – شیوسینا اتحاد کے امیدوار روپیش مہاترے اور بی جے پی کے ضلع صدر کا عہدہ چھوڑ کر کانگریس سے انتخاب لڑنے والے بی جے پی کے کارپوریٹر سنتوش شیٹی 2014 کے اسمبلی انتخابات میں بھی آمنے سامنے تھے ، جس میں سنتوش شیٹی 3393 ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ جس کی وجہ سے اس اسمبلی انتخابات میں ان کا حوصلہ کافی بلند ہے۔ بی جے پی – شیوسینا اتحاد کے امیدوار ایم ایل اے روپیش مہاترے ہیٹ ٹرک لگانے کے لئے تیسری بار انتخاب لڑ رہے ہیں۔ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ اس بار روپیش مہاترے کے جیتنے پر انہیں یقینی طور پر کابینہ میں جگہ دی جائے گی۔اسی کے ساتھ ہی ، سماج وادی پارٹی سے ممبئی کے کارپوریٹر رئیس شیخ اپنی قسمت آزمانے آئے ہیں ، رئیس شیخ ممبئی کے کارپوریٹر ہونے کی وجہ سے سے بھیونڈی کے ووٹروں سے ناواقف ہیں لہذا یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر ابو عاصم اعظمی کے نام پر انہیں کتنے ووٹ ملیں گے۔ حالانکہ رئیس شیخ کا نام کراماتی کارپوریٹرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے سماجوادی پارٹی کی قیادت یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ بھیونڈی مشرق کی ترقی کے لئے کارپوریٹر رئیس شیخ کو جیتنا انتہائی ضروری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سماجوادی پارٹی کے امیدوار اقلیتوں کے ووٹوں کی پولرائزیشن پر کیا کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح مغربی اسمبلی حلقہ میں بی جے پی ‘کانگریس‘ اے آئی ایم آئی ایم کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار میں سہ رخی مقابلے کے امکانات ہیں، بھیونڈی مغربی اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی مہیش چوگلے ، کانگریس سے شعیب گڈو ، ونچت بہوجن اگھاڑی سے سوہاس بونڈے ، ایم این ایس سے ناگیش مقادم ، بی ایس پی سے ابوسہما خان اور آزاد امیدوار ،محمد خالد مختار شیخ اے آئی ایم آئی ایم کے حمایت یافتہ سمیت کل سات امیدوار انتخابی میدان میں ہیں ، جس میں بی جے پی کے مہیش چوگلے اور کانگریس کے شعیب گڈو کے درمیان براہ راست مقابلہ ہے ایسا قیاس کیا جا رہا ہے ، لیکن اچانک AIMIM کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار محمد خالد مختار شیخ کے انتخابی میدان میں اترتے ہی سہ رخی مقابلے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ AIMIM کے حمایت یافتہ امیدوار محمد خالد مختار شیخ کے ذریعے ہی یہ طے ہوگا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ضلع صدر کا عہدہ چھوڑ کر ، محمد خالد مختار شیخ نے اے آئی ایم آئی ایم میں شامل ہو گئے تھے اور انہوں نے اے آئی ایم آئی ایم اور آزاد امیدوار کے طور پر کاغذات نامزدگی داخل کروائے تھے لیکن جانچ کے دوران اے آئی ایم آئی ایم کے کاغذات نامزدگی رد ہو گیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ آزاد امیدوار ہو گئے تھے، محمد خالد مختار شیخ کا اے آئی ایم آئی ایم کی پرچہ نامزدگی رد ہونے کے بعد کانگریس نے راحت کی سانس لی تھی۔ لیکن اے آئی ایم آئی ایم کے حمایت یافتہ امیدوار کے اعلان کے بعد صورتحال بدل گئی ہے۔اسی طرح دیہی اسمبلی حلقہ انتخاب میں شیوسینا ۔ اور راشٹروادی کانگریس پارٹی آمنے سامنے ہیں ، بھیونڈی دیہی حلقہ اسمبلی میں ، بی جے پی شیوسینا مہاگٹھ بندھن کے ایم ایل اے شانتارام مورے ، این سی پی کی مادھوری مہاترے ، ونچت بہوجن اگھاڑی سے سوپنل کولی ، ایم این ایس سے شوبھانگی گوواری ، سی پی آئی سے کامریڈ نتیش مہسے اور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی سے کامریڈ لکشمن واڈو سمیت سات امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ جس میں شیوسینا- بی جے پی مہاگٹھبندھن کے امیدوار شانتارام مورے اور این سی پی کی مادھوری مہاترے کے درمیان براہ راست مقابلے کے امکانات ہیں۔ بھیونڈی دیہی اسمبلی حلقہ کا علاقہ بھیونڈی تعلقہ کے دیہی علاقوں سمیت واڑا تک پھیلا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے امیدواروں کو سخت محنت کرنی پڑے گی۔

سیاست

مہاراشٹر میں خواتین کے خلاف سب سے زیادہ جرائم ہوتے ہیں، لیکن حکومت توجہ نہیں دے رہی: روہت پوار

Published

on

ممبئی: این سی پی (ایس پی) کے ایم ایل اے روہت پوار نے ریاست میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں تیزاب پھینکنے، عصمت دری، جنسی ہراسانی اور لڑکیوں کے لاپتہ ہونے جیسے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، این سی پی (ایس پی) کے ایم ایل اے روہت پوار نے کہا، “مہاراشٹر میں تیزاب گردی، عصمت دری، جنسی ہراسانی، اور لڑکیوں کی گمشدگی جیسے واقعات بہت معمول بن چکے ہیں۔ اگر ہم ملک میں ایسے واقعات کی فیصد کو دیکھیں تو مہاراشٹر اس فہرست میں سرفہرست ہے، جو بہت خطرناک اور تشویشناک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ہم پورے ملک کے اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو مہاراشٹر خواتین کے خلاف جرائم کے معاملات میں سرفہرست دکھائی دیتا ہے۔ روہت پوار نے کہا کہ حکومت ریاست میں خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے اہلیانگر میں چھٹی جماعت کی طالبہ پر حالیہ تیزاب حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات معاشرے کے لیے انتہائی شرمناک ہیں اور فوری طور پر سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے ذریعہ متعارف کرایا گیا “شکتی ایکٹ” مرکزی حکومت کو بھیجا گیا تھا، لیکن تکنیکی خرابی کی وجہ سے اسے واپس کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے کو شروع ہوئے تین سال گزر چکے ہیں لیکن موجودہ ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ داخلہ کی سطح پر بھی متوقع کام نہیں ہو رہا ہے۔ مزید برآں، روہت پوار نے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے مبینہ طیارہ حادثہ کیس کی تحقیقات پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ کل انہوں نے مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر سے ذاتی طور پر ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ اس معاملے پر مختلف چینلز کے ذریعے بات کی جانی چاہئے۔ ان کی پارٹی کے رہنما اور ایوان بالا کے اراکین بھی اس معاملے کو اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے اس معاملے کو جان بوجھ کر بحث سے باہر رکھا جا رہا ہے۔ چھبیس دن پہلے اجیت پوار دھڑے کے لیڈروں نے دیویندر فڑنویس سے ملاقات کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ اس کیس کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی جائے۔ اس کے بعد 15-20 دن بعد ان کے ایم ایل اے نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور ایک اور یاد دہانی جاری کی۔ لیکن مہاراشٹر میں ایک ایسا لیڈر ہے جو اجیت پوار کے معاملے کی مناسب تحقیقات نہیں چاہتا اور نہ ہی وہ چاہتا ہے کہ اس معاملے پر اسمبلی اجلاس میں بحث ہو۔

Continue Reading

جرم

عدالت نے 2016 کے ٹیچر کو ہراساں کرنے کے معاملے میں ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی

Published

on

ممبئی: ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے کو عدالت سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سیشن کورٹ نے 2016 کے متنازعہ ٹیچر کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف ٹرائل جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ کیس سانتا کروز کے ایک اردو اسکول میں مبینہ تصادم سے متعلق ہے۔ میئر تاوڑے اور دیگر چھ افراد پر دو اساتذہ پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔ یہ واقعہ مبینہ طور پر کینسر میں مبتلا ایک ٹیچر کی ٹرانسفر پر پیش آیا۔ تاوڑے اور شریک ملزمان کے خلاف انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی متعلقہ دفعات کے تحت حملہ اور متعلقہ الزامات کے تحت فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی۔ 2016 کے واقعے نے اس وقت مقامی سیاست میں تاوڑے کے نمایاں کردار کی وجہ سے بڑے پیمانے پر توجہ مبذول کروائی تھی۔ ممبئی کے موجودہ میئر تاوڑے نے ثبوت کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے کیس میں بری ہونے کی اپیل کی تھی۔ تاہم استغاثہ نے گواہوں کے بیانات اور الزامات کی تائید میں دیگر ٹھوس شواہد پیش کیے۔ ضمانت کی سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج وائی پی منتھکر نے پایا کہ کئی عینی شاہدین نے میئر تاوڑے کو جائے وقوعہ پر دیکھا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے ضمانت کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا، “دوسرے گواہوں نے بھی درخواست گزار ریتو تاوڑے کو جائے وقوعہ پر دیکھا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں شواہد ’’سنگین شکوک‘‘ پیدا کرتے ہیں، الزامات عائد کرنے کا عمل آگے بڑھنا چاہیے۔ عدالت کے فیصلے کا مطلب ہے کہ مقدمہ آگے بڑھے گا، اور میئر تاوڑے کو ممکنہ قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو شہر میں جاری میونسپل گورننس کے مسائل کے درمیان ان کی سیاسی حیثیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تحریر کے وقت، تاوڑے یا ان کی قانونی ٹیم کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ مہاراشٹر کے سیاسی حلقوں میں اس کیس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

Continue Reading

بزنس

بھارتی سٹاک مارکیٹ میں مسلسل تیسرے روز بھی تیزی، جانیئے سنسیکس کیوں بڑھ رہا ہے۔

Published

on

ممبئی: بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل تیسرے روز بھی تیزی دیکھی جارہی ہے۔ اس مدت کے دوران سینسیکس میں تقریباً 2,000 پوائنٹس اور نفٹی میں 700 پوائنٹس سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ دوپہر 12:47 بجے، سینسیکس 636 پوائنٹس، یا 0.84 فیصد، 76،707 پر تھا، اور نفٹی 191 پوائنٹس، یا 0.81 فیصد، 23،770 پر تھا۔ وسیع تر مارکیٹ میں دن کے وقت اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بڑے کیپ اسٹاک کے ساتھ ساتھ مڈ کیپ اور چھوٹے کیپ اسٹاکس مضبوط ٹریڈ کر رہے ہیں۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 981 پوائنٹس یا 1.77 فیصد بڑھ کر 56,156 پر اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 243 پوائنٹس یا 1.52 فیصد بڑھ کر 16,154 پر آگیا۔ مارکیٹ میں تیزی آئی ٹی اسٹاکس میں خریداری کی واپسی کی وجہ سے ہے۔ انڈیکس میں، نفٹی آئی ٹی سرفہرست ہے، جو تقریباً 4 فیصد بڑھ رہا ہے۔ ریٹنگ ایجنسی سی ایل ایس اے نے آئی ٹی اسٹاکس پر ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں اینتھروپک اور اوپن اے آئی کے نئے اے آئی ٹولز سے انڈسٹری کو لاحق خطرے کو مسترد کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے آئی ٹی سیکٹر میں نمایاں خریداری ہوئی۔ انفوسس، ٹیک مہندرا، ایچ سی ایل ٹیک، اور ٹی سی ایس سینسیکس پر سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں شامل تھے۔ خام تیل کی قیمتوں میں کمی بھی ہندوستانی بازار میں مثبت جذبات میں حصہ ڈالنے کا ایک عنصر ہے۔ بدھ کے روز بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ کی کمی ہوئی۔ تحریر کے وقت، ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 3.43 فیصد کم ہو کر 92.91 ڈالر فی اونس پر تھا، اور برینٹ کروڈ 2.02 فیصد کم ہو کر 101.3 ڈالر فی اونس پر تھا۔ انڈیا VIX میں گراوٹ بھی ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا ایک عنصر ہے۔ یہ 18.94 پر 4.30 فیصد کم ہے۔ انڈیا VIX مارکیٹ کے استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔ عام طور پر، جب مارکیٹ میں اضافہ ہوتا ہے، تو اس کے بعد کمی آتی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان