Connect with us
Saturday,14-March-2026

سیاست

شاہ کی ورچوئل ریلی کی سبھی تیاریاں پوری

Published

on

amit shah

بہار میں اس سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جےپی)کے سابق قومی صدر اور وزیرداخلہ امت شاہ کل انتخابی بگل بجائیں گے اور اس کو لے کر سبھی تیاریاں پوری کرلی گئی ہیں۔
پارٹی کے ریاستی ترجمان اور سابق رکن اسمبلی پرین رنجن پٹیل نے ہفتے کو یہاں بتایا کہ بی جےپی کے قومی تنظیم جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش اور پارٹی کے بہار معاملوں کے انچارج بھوپیندر یادو نے اسے لے کر مسلسل میٹنگیں کیں۔دونوں سینئر لیڈروں نے پارٹی کے ریاستی صدر اور مغربی چمپارن سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سنجے جائسوال کے ساتھ بھی سخت غور و خوض کیا۔ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سے سبھی 243 اسمبلی حلقوں میں تیاری کا جائزہ لیا۔
مسٹر پٹیل نے کہا کہ مسٹر شاہ کی کل ہونے والے بہار جن سمواد پروگرام میں ریاستی ہیڈکوارٹر سے لے کر سبھی بوتھوں پر پارٹی کے سینئر لیڈر موجود رہیں گے۔مسٹر شاہ کی ورچوئل ریلی کو تاریخی بنانے کو لےکر پارٹی قیادت کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی ہے۔ورچوئل ریلی کے سلسلے میں ریاستی بی جےپی نے اپنی طاقت جھونک دی ہے۔
بی جےپی ترجمان نے کہا کہ دہلی اورپٹنہ میں دو الگ الگ اہم اسٹیج بنائے گئے ہیں۔مسٹر شاہ دہلی سے خطاب کریں گے جبکہ پتنہ میں واقع ریاستی ہیڈکوارٹر کے اٹل بہاری میٹنگ ہال میں ریاست کے سبھی بڑے لیڈر موجود رہیں گے۔فیس بک ،ٹویٹر ،یو ٹیوب اور پارٹی کے ویب پیج سمیت ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مسٹر شاہ کی ورچوئل ریلی لائو دیکھی جائےگی۔
مسٹر پٹیل نے کہاکہ 243 اسمبلی حلقوں میں 20 سے 25 ہزار لوگ ریلی میں موجود رہیں گے۔اسی طرح 72 ہزار بوتھوں پر اسمارٹ ٹی وی اور لیپ ٹاپ کے ذریعہ سے مسٹر شاہ کے خطاب کو لائو سننے کا انتظام کیاگیا ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ کل کی اس ریلی میں 10 لاکھ لوگ جڑیں گے۔مسٹر شاہ کی کل کی ریلی بھلے ہی ورچوئل ہونے والی ہے لیکن اس کو لے کر دارالحکومت پٹنہ اہم چوک چوراہوں میں بڑے بڑے پوسٹر لگائےگئے ہیں۔پارٹی کارکنان کو پہلے ہی بتایا جاچکا ہے کہ ریلی کے دوران انہیں کیسے دیکھنا ہے اور کس کس پلیٹ فارم پر لائو ہوگا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر بجٹ میں اقلیتیں نظر انداز : منوج جامستکر

Published

on

ممبئی: ممبئی مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں شیوسینا لیڈر اور رکن اسمبلی منوج جامستکر نے بجٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے اسے ٹھیکیداروں کا بجٹ قرار دیا اور کہا کہ جس طرح سے بڑے پروجیکٹ کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے اس سے یہ شبہ ہے کہ یہ بجٹ عام عوام کی بجائے ٹھیکیداروں کا بجٹ ہے کسانوں کے قرض معافی پر بھی شبہات برقرار ہے دو لاکھ روپے کی قرض معافی کا اعلان تو کیا گیا ہے اس کے نفاذ پر اب بھی شبہ ہے ریاستی سرکار نے کسانوں سے متعلق جو اسکیمات کا نفاذ کی ہے اس کا استفادہ اس کو ہو گا یا نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اقلیتوں کو پوری طرح سے نظر انداز کیا گیا ان کے لیے کوئی بھی نئی اسکیمات کو متعارف نہیں کروایا گیا ہے بجٹ میں نندوربار میں کسانوں کے مسائل پر بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی یافتہ مہاراشٹرمیں بڑے بجٹ کو منظوری دی گئی ہے صحت سمیت دیگر عوامی مسائل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے اس لیے اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرور ت ہے اور اقلیتوں کو بجٹ میں حصہ داری دینے کا مطالبہ بھی جامستکر نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

تبدیلی مذہب مخالف، مذہبی آزادی بل ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے, بل پر عوامی سماعت کی جانی چاہیے : رئیس شیخ

Published

on

ممبئی : ریاستی حکومت کی طرف سے جمعہ کو قانون ساز اسمبلی میں تبدیلی مذہب مخالف مذہبی آزادی بل 2026 پیش کیے جانے کے ایک دن بعد، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے قانون ساز رئیس شیخ نے مطالبہ کیا کہ بل کو ریاستی مقننہ کی مشترکہ سلیکٹ کمیٹی کو نظرثانی کے لیے بھیجا جائےانہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی سماعت کی جائے تاکہ اس بل کے خلاف اعتراضات اٹھائے جا سکیں جو کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ عام لوگوں کو اس وقت گیس میسر نہیں ، ہوٹل بند ہو رہے ہیں، اور بہت سے لوگوں کی نوکریاں چلی گئی ہیں۔ ان مسائل پر بحث کرنے کے بجائے، مقننہ آزادی مذہب بل جیسے بل پر بحث کر رہی ہے، جس سے معاشرے میں تقسیم پیدا ہو گی۔ موجودہ قوانین پہلے ہی جبری مذہب کی تبدیلی پر توجہ دیتے ہیں، اور یہ بل اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے،” ایم ایل اے رئیس شیخ نے ریمارکس دیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے مزید کہا کہ بل کو بغیر بحث کے پاس نہیں کیا جانا چاہئے اور اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہےلہذا، اس بل کو دونوں ایوانوں کے اراکین کے ساتھ ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔ اقلیتی برادریوں کے نمائندوں کو کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ بل کو منظور کرنے سے پہلے مکمل بحث ضروری ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ مقننہ میں اقلیتوں کی نمائندگی ناکافی ہے، ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ سول سوسائٹی گروپس اور اقلیتی تنظیموں کو بل پر اپنے خیالات پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا،اس مقصد کے لیے، ایک عوامی سماعت ہونی چاہیے۔ حکومت کو اعتراضات اور تجاویز کو مدعو کرتے ہوئے ایک عوامی نوٹس جاری کرنا چاہیے اور ان پر سماعت کرنی چاہیے،ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ پیر کو اس بارے میں قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھیں گے۔ ریاست کی کل 35 سول اور اقلیتی تنظیموں نے بل کی مخالفت کی ہے۔ سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رازداری، مذہب کی آزادی اور بنیادی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کہا کہ مذہبی آزادی کے حق میں تبدیلی کا حق بھی شامل ہےگزشتہ سال اس بل کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس رشمی شکلا کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ مجوزہ قانون کے مطابق مذہب کی تبدیلی سے قبل 60 دن کا نوٹس لازمی ہوگا جس کے دوران اعتراضات اٹھائے جاسکتے ہیں اور پولیس انکوائری بھی کی جاسکتی ہے۔ مذہب کی تبدیلی کے مقصد سے کی جانے والی شادیاں غیر قانونی تصور کی جائیں گی۔ اس بل میں غیر قانونی تبدیلی مذہب میں ملوث اداروں یا افراد کے لیے سات سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی میں گیس سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ، راشن ڈسٹری بیوشن ڈیپارٹمنٹ نے اسٹاک ضبط کر لیا۔

Published

on

ممبئی: ممبئی میں فوڈ ڈسٹری بیوشن ڈپارٹمنٹ گھریلو اور تجارتی گیس سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ایک مہم چلا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ورلی علاقہ میں گیس سلنڈروں کا بڑا ذخیرہ ضبط کیا گیا ہے جس سے گیس سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ انتظامیہ کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ممبئی کے ورلی ناکہ پر گنپتراؤ کدم مارگ پر واقع سورج ولبھ داس چاول علاقے میں گیس سلنڈروں کو غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیا جا رہا ہے اور اسے زیادہ قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے فوڈ ڈسٹری بیوشن ڈپارٹمنٹ اور پولیس نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر چھاپہ مارا اور غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیے گئے سلنڈروں کو ضبط کرلیا۔ دیگر گیس کمپنیوں کے بھرے سلنڈروں کے ساتھ چھ بھرے اور 58 خالی پانچ کلو گرام ایچ پی سلنڈر ضبط کر لیے گئے۔ حکام نے بتایا کہ ان سلنڈروں کو غیر قانونی طور پر ری فل کرکے بلیک مارکیٹ میں فروخت کے لیے ذخیرہ کیا گیا تھا۔ ضبط کیے گئے سلنڈروں کو ورلی پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایسے رہائشی علاقوں میں سلنڈر رکھنا اور انہیں غیر قانونی طور پر فروخت کرنا انتہائی خطرناک ہے اور اس سے لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ گیس سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور انتظامیہ نے خبردار بھی کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے محکمہ کی ٹیمیں 24 گھنٹے الرٹ ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث خام تیل اور پیٹرولیم کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اس سے کمرشل گیس سمیت گھریلو گیس سلنڈروں کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کافی ذخائر موجود ہیں۔ اس کے باوجود ملک بھر میں گیس سلنڈر کی بلیک مارکیٹنگ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ لوگ گیس سلنڈر کے حصول کے لیے کئی مقامات پر لائنوں میں کھڑے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان