Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

جنتی مسجد کی تعمیر نوو تزئین کاری کے بعد نمازیوں کے حوالے، جمعیۃ فرقہ پرستی کے خلاف شدت سے لڑائی لڑتی رہے گی۔ مولانا ارشد مدنی

Published

on

Janati-Masjid

جمعیۃ علمائے ہند نے شمالی مشرقی دہلی کے بھیانک فسادات کے دوران تباہ شدہ مکانات کی تعمیر نومیں مزید پیش رفت کرتے ہوئے گوکل پوری میں جنتی مسجد، بھاگیرتھی وہار، کراول نگر وغیرہ میں 30 مکانات اور جیوتی نگر قبرستان کو لوگوں کے حوالے کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمعیۃ فسادزگان کی مدد مستعدی کے ساتھ جاری رکھے گی۔ وہیں جمعیۃ کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے فرقہ پرستی کے خلاف شدت کے ساتھ لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست مسلمانوں کے ہی نہیں ملک کے دشمن ہیں۔

گزشتہ سال فروری میں دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں جو بدترین فساد ہوا، اس میں جانی ومالی نقصان ہی نہیں ہوا، بلکہ فرقہ پرستی کے جنون میں شرپسند عناصر نے مسلمانوں کے مکان و دوکان، بہت سی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کر کے ان میں آگ لگائی دی تھی، ان میں گوکل پوری کی جنتی مسجد بھی ہے، جس کو فساد کے دوران نذر آتش کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، شرپسندوں نے اسی پر بس نہیں کیا تھا، بلکہ اس کے مینار پر بھگوا جھنڈا بھی لہرا دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد، مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند کے رضا کار اور اراکین فساد کے دوران لوگوں کی مذہب سے اوپر اٹھ کر مدد کر رہے تھے، اور جہاں کہیں سے کسی ناخوشگوار واقع کی اطلاع ملتی تھی، تو انتظامیہ اور پولس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر کے جمعیۃ علماء ہند کے لوگ اس علاقہ میں فورا پہنچ جاتے تھے۔ جب جنتی کے تعلق سے خبر عام ہوئی تو مولانا سید ارشد مدنی کی خصوصی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند دہلی کے ناظم اعلیٰ مفتی عبدالرازق ایک وفد کے ساتھ پولس کی معیت میں فورا وہاں پہنچ گئے، اور مسجد کو مورتی اور جھنڈے سے پاک کرایا۔

جمعیۃ علماء ہند نے مسجدوں کی مرمت کے کام کو خاص طور پر اولیت دی، آج تیسرے مرحلہ میں جنتی مسجد کے چاروں منزلوں کی تعمیر، مرمت اور تزئین کاری کے بعد اب مسجد مقامی مسلمانوں کے حوالے کر دی گئی ہے، اسی فساد کے دوران جیوتی نگر کے قبرستان کی چہار دیواری، پانی کی ٹنکی، قبرستان میں بنے گارڈ کے کمرے کو بھی شرپسندوں نے مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، اس کی بھی مرمت کرائی گئی۔ بھاگیرتی وہاراور کراول نگر میں تعمیر نو اور مرمت شدہ 30 مکانات اہل خانہ کو سپرد کر دیئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پہلے مرحلے میں پچپن مکانات، دو مسجدیں، دوسرے مرحلے میں پینتالیس مکانات اور ایک مسجد، اب تک جمعیۃ علماء ہند نے دہلی فساد کے دوران تباہ شدہ 130 مکانات کی تعمیر وتجدید کاری کر کے فساد متاثرین کے حوالے کر چکی ہے۔ اور متاثرین کو انصاف دلانے اور بے گناہوں کی رہائی اور اصل خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے وکیلوں کا ایک پینل تشکیل دیا ہے، جو مظلومین کے مقدمات کی پیروی کر رہا ہے۔ ان وکیلوں کی کامیاب پیروی کے نتیجے میں اب تک 56 کیس میں ضمانتیں مل چکی ہیں۔

جنتی مسجد گوکل پوری کی ازسر نو تعمیر، تزئین کاری اور فسادات میں جلائے گئے مکانات متاثرین کے حوالہ کرنے کے موقع پر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہم اس کے لئے اللہ کا شکر گزار ہیں، کہ اس اہم کام کے لئے نہ صرف جمعیۃ علماء ہند کو ذریعہ بنایا بلکہ اس کے لئے وسائل بھی مہیا کرائے، انہوں نے کہا کہ دہلی فسادزدہ علاقوں میں اپنی روایت کے مطابق جمعیۃ علماء ہند نے مذہب سے اوپر اٹھ کر محض انسانی بنیاد پر تمام متاثرین اور ضرورت مندوں کو اپنی بساط بھر ریلیف مہیاکرائی ہے، آئندہ بھی انشاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا، ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف برپا ہونے والے فسادات کو مسلمانوں کو معاشی، تعلیمی، سماجی اور سیاسی طور پر پیچھے دھکیلنے کا ایک حربہ قرار دیتے ہوئے، مولانا مدنی نے کہا کہ دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والا فساد انتہائی بھیانک اور منصوبہ بندتھا، اس میں پولس اور انتظامیہ کا رول مشکوک رہا ہے، جس کی وجہ سے جانی ومالی نقصان بھی یکطرفہ ہوا، لیکن جس طرح مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، اور گھروں کو جلایا گیا، وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ فساد اچانک نہیں ہوا تھا، بلکہ اس کی پہلے سے منصوبہ بندی ہوئی تھی، اور پولس وانتظامیہ کی نااہلی کے نتیجہ میں دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک بھیانک شکل اختیار کرلی۔ مولانا مدنی نے کہا کہ منصوبہ بند فساد کی ذمہ داری سے حکومت بچ نہیں سکتی۔ اور امن و امان کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے، لیکن وہ فسادات کے دوران ہمیشہ امن و مان برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے، اور ہندوستان میں اس کی ایک تاریخ ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان