Connect with us
Monday,21-September-2026

(جنرل (عام

جنتی مسجد کی تعمیر نوو تزئین کاری کے بعد نمازیوں کے حوالے، جمعیۃ فرقہ پرستی کے خلاف شدت سے لڑائی لڑتی رہے گی۔ مولانا ارشد مدنی

Published

on

Janati-Masjid

جمعیۃ علمائے ہند نے شمالی مشرقی دہلی کے بھیانک فسادات کے دوران تباہ شدہ مکانات کی تعمیر نومیں مزید پیش رفت کرتے ہوئے گوکل پوری میں جنتی مسجد، بھاگیرتھی وہار، کراول نگر وغیرہ میں 30 مکانات اور جیوتی نگر قبرستان کو لوگوں کے حوالے کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمعیۃ فسادزگان کی مدد مستعدی کے ساتھ جاری رکھے گی۔ وہیں جمعیۃ کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے فرقہ پرستی کے خلاف شدت کے ساتھ لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست مسلمانوں کے ہی نہیں ملک کے دشمن ہیں۔

گزشتہ سال فروری میں دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں جو بدترین فساد ہوا، اس میں جانی ومالی نقصان ہی نہیں ہوا، بلکہ فرقہ پرستی کے جنون میں شرپسند عناصر نے مسلمانوں کے مکان و دوکان، بہت سی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کر کے ان میں آگ لگائی دی تھی، ان میں گوکل پوری کی جنتی مسجد بھی ہے، جس کو فساد کے دوران نذر آتش کر کے مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، شرپسندوں نے اسی پر بس نہیں کیا تھا، بلکہ اس کے مینار پر بھگوا جھنڈا بھی لہرا دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد، مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند کے رضا کار اور اراکین فساد کے دوران لوگوں کی مذہب سے اوپر اٹھ کر مدد کر رہے تھے، اور جہاں کہیں سے کسی ناخوشگوار واقع کی اطلاع ملتی تھی، تو انتظامیہ اور پولس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر کے جمعیۃ علماء ہند کے لوگ اس علاقہ میں فورا پہنچ جاتے تھے۔ جب جنتی کے تعلق سے خبر عام ہوئی تو مولانا سید ارشد مدنی کی خصوصی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند دہلی کے ناظم اعلیٰ مفتی عبدالرازق ایک وفد کے ساتھ پولس کی معیت میں فورا وہاں پہنچ گئے، اور مسجد کو مورتی اور جھنڈے سے پاک کرایا۔

جمعیۃ علماء ہند نے مسجدوں کی مرمت کے کام کو خاص طور پر اولیت دی، آج تیسرے مرحلہ میں جنتی مسجد کے چاروں منزلوں کی تعمیر، مرمت اور تزئین کاری کے بعد اب مسجد مقامی مسلمانوں کے حوالے کر دی گئی ہے، اسی فساد کے دوران جیوتی نگر کے قبرستان کی چہار دیواری، پانی کی ٹنکی، قبرستان میں بنے گارڈ کے کمرے کو بھی شرپسندوں نے مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، اس کی بھی مرمت کرائی گئی۔ بھاگیرتی وہاراور کراول نگر میں تعمیر نو اور مرمت شدہ 30 مکانات اہل خانہ کو سپرد کر دیئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پہلے مرحلے میں پچپن مکانات، دو مسجدیں، دوسرے مرحلے میں پینتالیس مکانات اور ایک مسجد، اب تک جمعیۃ علماء ہند نے دہلی فساد کے دوران تباہ شدہ 130 مکانات کی تعمیر وتجدید کاری کر کے فساد متاثرین کے حوالے کر چکی ہے۔ اور متاثرین کو انصاف دلانے اور بے گناہوں کی رہائی اور اصل خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے وکیلوں کا ایک پینل تشکیل دیا ہے، جو مظلومین کے مقدمات کی پیروی کر رہا ہے۔ ان وکیلوں کی کامیاب پیروی کے نتیجے میں اب تک 56 کیس میں ضمانتیں مل چکی ہیں۔

جنتی مسجد گوکل پوری کی ازسر نو تعمیر، تزئین کاری اور فسادات میں جلائے گئے مکانات متاثرین کے حوالہ کرنے کے موقع پر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہم اس کے لئے اللہ کا شکر گزار ہیں، کہ اس اہم کام کے لئے نہ صرف جمعیۃ علماء ہند کو ذریعہ بنایا بلکہ اس کے لئے وسائل بھی مہیا کرائے، انہوں نے کہا کہ دہلی فسادزدہ علاقوں میں اپنی روایت کے مطابق جمعیۃ علماء ہند نے مذہب سے اوپر اٹھ کر محض انسانی بنیاد پر تمام متاثرین اور ضرورت مندوں کو اپنی بساط بھر ریلیف مہیاکرائی ہے، آئندہ بھی انشاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا، ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف برپا ہونے والے فسادات کو مسلمانوں کو معاشی، تعلیمی، سماجی اور سیاسی طور پر پیچھے دھکیلنے کا ایک حربہ قرار دیتے ہوئے، مولانا مدنی نے کہا کہ دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والا فساد انتہائی بھیانک اور منصوبہ بندتھا، اس میں پولس اور انتظامیہ کا رول مشکوک رہا ہے، جس کی وجہ سے جانی ومالی نقصان بھی یکطرفہ ہوا، لیکن جس طرح مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، اور گھروں کو جلایا گیا، وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ فساد اچانک نہیں ہوا تھا، بلکہ اس کی پہلے سے منصوبہ بندی ہوئی تھی، اور پولس وانتظامیہ کی نااہلی کے نتیجہ میں دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک بھیانک شکل اختیار کرلی۔ مولانا مدنی نے کہا کہ منصوبہ بند فساد کی ذمہ داری سے حکومت بچ نہیں سکتی۔ اور امن و امان کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے، لیکن وہ فسادات کے دوران ہمیشہ امن و مان برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے، اور ہندوستان میں اس کی ایک تاریخ ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

Published

on

Mumbai Coastal Road

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک شخص کا رابطہ منقطع ہوا، جس کی وجہ سے اس کی گھبرائی ہوئی بیوی نے اغوا کی کرائی ایف آئی آر درج۔

Published

on

I.-Airport

پونے : ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ایک تاجر کا رابطہ ختم ہوگیا۔ اس کی مسلسل ناقابل رسائی اس کی بیوی کو پریشان کر دیا اور اس نے اس کے اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی۔ بیوی نے امیگریشن کے مسائل کا بہانہ بنایا تھا۔ اس نے یہ اس حقیقت کو چھپانے کے لیے کیا کہ اس سفر میں ایک خاتون دوست بھی اس کے ساتھ تھی، جب کہ گھر میں اس نے بتایا تھا کہ یہ سفر خالصتاً کاروباری مقاصد کے لیے تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ 46 سالہ شخص، جو لانڈری کا کاروبار کرتا ہے، نے 14 ستمبر کو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ کوالالمپور جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ منصوبہ اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب امیگریشن حکام کو پتہ چلا کہ خاتون جس پاسپورٹ پر سفر کر رہی تھی، وہ پرانا ہے اور اسے پہلے ہی گمشدہ قرار دے دیا گیا تھا۔

قانونی پیچیدگیوں کے خوف سے اور اس ڈر سے کہ اس کی بیوی کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کسی دوسری عورت کے ساتھ سفر کر رہا ہے، اس نے مبینہ طور پر امیگریشن کے مسائل کے بارے میں ایک کہانی گھڑ لی۔ سہار پولیس اسٹیشن کے ایک افسر کے مطابق، جب تاجر کی خاتون دوست کو امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے روکا تو اس نے اپنا سفر منسوخ کر دیا، اپنا موبائل فون بند کر دیا اور اس کے ساتھ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس چلا گیا۔ تاہم، ایئرپورٹ سے نکلنے سے پہلے، اس نے اپنی اہلیہ کو لینڈ لائن سے فون کیا اور بتایا کہ اسے امیگریشن کے مسائل کی وجہ سے اپنا موبائل فون حوالے کرنا پڑا۔ افسر نے بتایا کہ اگلے دن اس نے اپنی بیوی سے واٹس ایپ ویڈیو کال پر مختصر بات کی اور وہی کہانی دہرائی۔ جب اس کا فون بعد میں ناقابل رسائی تھا، تو اس کی بیوی بدھ کو پولیس کے پاس گئی، جس کے بعد اس کی شکایت کی بنیاد پر اغوا کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ بدھ کی رات، ایف آئی آر کے بارے میں جاننے کے بعد، وہ شخص سہار پولیس اسٹیشن گیا اور اس نے اعتراف کیا کہ اس نے امیگریشن کے مسائل کے بارے میں کہانی گھڑ لی ہے۔ افسر نے کہا کہ پولیس دو ہفتوں کے اندر عدالت میں سی سمری کلوزر رپورٹ داخل کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ درجہ بندی اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی مقدمہ کسی حقیقی غلط فہمی کی وجہ سے درج کیا گیا ہو یا جب کیس نہ تو مکمل طور پر سچا ہو اور نہ ہی مکمل طور پر غلط ہو۔

Continue Reading

(جنرل (عام

پاسپورٹ کی میعاد کے لیے قوانین میں تبدیلی : نئے اصول کے تحت 15 سال سے کم عمر کے بچوں کا پاسپورٹ 18 سال کا بچہ نہیں ہو جاتا کارآمد رہے گا۔

Published

on

Passport

نئی دہلی : حکومت نے 15 سال سے کم عمر کے بچوں کے پاسپورٹ سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ اب اس عمر سے کم عمر بچوں کو جاری کیا جانے والا 36 صفحات پر مشتمل معیاری پاسپورٹ پانچ سال یا جب تک بچہ 18 سال کا نہیں ہو جاتا، جو بھی پہلے ہو، کارآمد رہے گا۔ وزارت خارجہ نے پاسپورٹ (ترمیمی) قواعد، 2026 کو مطلع کیا ہے، جو جمعرات کو گزٹ آف انڈیا میں شائع ہونے کے بعد نافذ ہوا تھا۔ اگر کسی بچے کو 12 سال کی عمر میں پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، تو اس کا پاسپورٹ پانچ سال تک کارآمد رہے گا، یعنی جب تک کہ وہ 17 سال کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔ تاہم، اگر کوئی بچہ 14 سال کا ہے، تو اس کا پاسپورٹ اس وقت تک کارآمد رہے گا جب تک کہ وہ 18 سال کا نہ ہو جائے۔ یہ تبدیلی پاسپورٹ رولز، 1980 کے رول 12(1اے) میں کی گئی ہے۔

اس سے قبل، حکومت نے پاسپورٹ خدمات کی فیسوں میں بھی نظر ثانی کی تھی، جو 1 جولائی سے لاگو ہوتی ہے۔ 36 صفحات پر مشتمل عام بالغ پاسپورٹ کی نئی درخواست یا تجدید کی فیس اب 2,500 ہے، جو کہ پہلے 1,500 تھی۔ 60 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 2000 روپے سے بڑھا کر 3500 روپے کر دی گئی ہے۔ تتکال سروس کے تحت 36 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 5,000 اور 60 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 6,000 کر دی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان