Connect with us
Monday,01-June-2026
تازہ خبریں

جرم

عام آدمی کا ساڑھے 4 سو کروڑ روپئے سالانہ بجٹ رکھنے والی مالیگاؤں کارپوریشن کو زناٹے دار طمانچہ

Published

on

(وفا ناہید)
یوں مالیگاؤں کارپوریشن چاہے کچھ بھی کہے مگر سچائی تو نظر آئی جاتی ہے کہ دنیا اندھی نہیں ہے. دوسری اہم بات مالیگاؤں کارپوریشن اس قدر ڈھیٹ ہے کہ اس پر کسی بھی چیز کا اثر نہیں ہوتا. عوام چیخ رہی ہے چلا رہی ہے اور کارپوریشن کانوں میں روئی ٹھونس کر جو اسے کرنا ہے بس اتنا کرتی ہے. شہر کی سڑکوں کا جو حال ہے وہ ہم کیا بتائیں وہ تو روز روشن کی طرح عیاں ہے. شہر کی ناک اولڈ آگرہ روڑ تو شوشل میڈیا پر اس قدر مقبول ہے کہ اس کے بارے مشہور ہوگیا ہے کہ چاند پر گئے خلاء بازوں نے جب زمین کی طرف دیکھا تو اسے زمین پر کچھ نظر آیا. زوم کرکے دیکھنے پر پتہ چلا کہ یہ تو مالیگاؤں کی مشہور شاہراہ اولڈ آگرہ روڑ کے گڑھے ہیں جو چاند پر سے نظر آ رہے ہیں . اس کے باوجود مالیگاؤں کارپوریشن کو داد دینا پڑے گی کہ وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی. اب شہر کی تمام شاہراہوں کا حال دن بہ دن بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے . وہیں آگرہ روڈ کی حالت تشویشناک ہے ,.مانو آگرہ روڑ کوما میں ہے اور اس کے علاج معالجے سے کارپوریشن نے ہاتھ اٹھادیا ہے کہ جب تک جئے جئے گی. اب اس پر روپیہ پیسہ لگاکر کیا کرنا. اب آگے بھی سنیئے اس روڑ کی کہانی . اس روڈ پر چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والے اور اس کے قریب رہائش رکھنے والے افراد کا گاڑیوں کی آمد و رفت سے اٹھنے والے گرد و غبار سے برا حال ہے . مالیگاؤں شہر کی سبھی اہم شاہراہیں فاران اسپتال سے شیواجی مجسمہ تک جانے والی روڈ ، مشاورت چوک سے سوپر مارکیٹ جانے والی روڈ ، جنتا بینک (بیف مارکیٹ کے پاس سے رضا چوک جانے والی روڈ ، ٹیپو سلطان ٹاور سے سلیمانی چوک وہاں سے آزاد نگر تک جانے والی روڈ ، بلو برڈ سائزنگ سے عبدالله نگر چوک تک جانے والی روڈ ، ملّت مدرسہ سے حسن پورہ تک جانے والی روڈ ، سردار نگر سے فارمیسی کالج تک جانے والی روڈ ، جامعتہ الصلحات سے بڑی مالیگاؤں ہائی اسکول تک جانے والی روڈ ، سلامت آباد سے 60 فٹی روڈ تک جانے والی روڈ سمیت دیگر تمام روڈ پر بڑے بڑے گڑھے ہیں جس کی وجہ سے یہ سڑکیں شدید خستہ حالی کا شکار ہیں . جس کے سبب سواریوں کی آمد و رفت سمیت عام راہگیروں کو پیدل چلنے میں بھی ددشواریاں پیش آرہی ہے . اب شہر کی سڑکوں کی بدحالی اور میونسپل انتظامیہ کی جانب سے راستوں کی مرمت و تعمیر میں تاخیر کے چلتے عام آدمی خود گڑھوں اور راستوں کو درست کرنے میں پہل کرتے نظر آرہے ہیں . اسی طرح کا نظارہ 2 دسمبر 2019 دوپہر 3 بجے کے درمیان دیکھنے کو ملا . جس میں ایک بزرگ شخص اپنی چار چاک کی گاڑی پر پرانی عمارت سے نکلا ہوا سیمنٹ کانکریٹ کے مٹیریل سے روڈ پر بنے بڑے بڑے گڑھوں کو بھرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا جو انتظامیہ کی لاپرواہی سے پرے خاموشی کے ساتھ پورے راستے پر بنے گڑھوں کو بھرتے ہوئے میونسپل انتظامیہ و اقتدار پر بیٹھے سماج کے ٹھیکیداروں کو عوامی تکلیف اور درد کا احساس دلانا چارہا تھا مگر ہمیں تہ ہے کہ اس کے بعد بھی کارپوریشن خواب خرگوش سے بیدار نہیں ہوگی کیونکہ اس سے قبل تو کارپوریشن کے نام پر چندہ اکٹھا کرکے سڑک بنائی گئی مگر ہماری ڈھیٹوں کی ڈھیٹ کارپوریشن پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوا تو اب کیا خاک ہوگا ؟

جرم

ممبئی پوائی قتل کیس میں مفرور ملزم گرفتار، ہفتہ قبل تنازع پر غصہ قتل کا شاخسانہ، قتل کے بعد پولس تفتیش میں خلاصہ

Published

on

ARREST-1

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۱۰ نے قتل میں ملوث مفرور ملزم کو سورت گجرات سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پوائی تنگا گاؤں ساکی وہار میں ۲۴ مئی کو ایک ۵۵ سالہ یوسف نامی شخص کی لاش ملی تھی, جسے کسی نے دھاردار ہتھیار سے وار کر کے سینے پر وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ پولس نے اس معاملہ میں قتل کا کیس درج کر کے تفتیش شروع کر دیا اور پھر اس معاملہ میں تقریبا ۱۰۰ سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور معلوم ہوا کہ گجرات میں قتل کے بعد ملزم فرار ہو چکا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے ملزم کو یہاں سے گرفتار کیا اور مزید کارروائی کے لئے پوائی پولس کے سپرد کر دیا ہے۔ ملزم دیپک عرف دیپا نتھو پرساد ورما ۲۶ سالہ کی یوسف سے کسی بات پر تنازع ہوا, ایک ہفتہ قبل تنازع ہوا تھا جس کا غصہ اس کے دل میں تھا اور اسی نے طیش میں آکر یوسف کو قتل کر دیا اور فرار ہوگیا, پولس نے اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے کیس حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی ڈٹیکشن نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : آگری پاڑہ ہائی پروفائل رہائش گاہ میں بڑے پیمانے پر ایم ڈی ڈرگس ریکیٹ کا پردہ فاش، ملزمین کی تفتیش مبینہ بنگلہ دیشی کا بھی شبہ، 51 کروڑ کی ایم ڈی ضبط

Published

on

ARRESTED

ممبئی : ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل ششی کانت جگدالے کی قیادت میں کاندیوالی اے این سی یونٹ نے منشیات سازی کے ایک بڑے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا۔ ملزمین مبینہ طور پر آگری پاڑہ میں ایک ہائی پروفائل رہائشی عمارت کے ایک کمرے میں ایم ڈی ڈرگس تیار کر رہے تھے۔آپریشن کے دوران، پولیس نے تقریباً 51 کروڑ روپے مالیت کا 14 کلو گرام ایم ڈی اور مائع ایم ڈی ضبط کیا۔ پولیس نے ملزمان سے ایک پستول اور 19 زندہ کارتوس بھی برآمد کرلیں۔ اس معاملے میں کل تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔ ان ملزمین میں سے ایک کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ ممبئی شہر میں یہ ملزمین ایم ڈی سازی کیا کرتے تھے۔ ایک ملزم کے پاس سے پستول کی برآمدگی بھی ہوئی ہے۔ اس نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے دستاویزات کی بھی جانچ جاری ہے اور یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ آیا یہ مبینہ بنگلہ دیشی تو نہیں ہے۔ ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کہا کہ پولس ہر پہلو پر اس معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔ جبکہ پولس کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ جس میں 51 کروڑ مالیت کی ایم ڈی اور مائع ایم ڈی برآمد کر لی گئی ہے۔ اس نیٹ ورک میں کتنے افراد ملوث ہے, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر اے این سی کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔ جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے, ان کی شناخت محمد شعیب شوکت علی منصوری ۳۱ سالہ (یاسمین ٹاور)، سفیان سلیم منصوری ۲۸ سالہ اور رینا اختر دختر اشرف الاسیکدار ۲۲ سالہ کے طور پر ہوئی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان