جرم
عام آدمی کا ساڑھے 4 سو کروڑ روپئے سالانہ بجٹ رکھنے والی مالیگاؤں کارپوریشن کو زناٹے دار طمانچہ
(وفا ناہید)
یوں مالیگاؤں کارپوریشن چاہے کچھ بھی کہے مگر سچائی تو نظر آئی جاتی ہے کہ دنیا اندھی نہیں ہے. دوسری اہم بات مالیگاؤں کارپوریشن اس قدر ڈھیٹ ہے کہ اس پر کسی بھی چیز کا اثر نہیں ہوتا. عوام چیخ رہی ہے چلا رہی ہے اور کارپوریشن کانوں میں روئی ٹھونس کر جو اسے کرنا ہے بس اتنا کرتی ہے. شہر کی سڑکوں کا جو حال ہے وہ ہم کیا بتائیں وہ تو روز روشن کی طرح عیاں ہے. شہر کی ناک اولڈ آگرہ روڑ تو شوشل میڈیا پر اس قدر مقبول ہے کہ اس کے بارے مشہور ہوگیا ہے کہ چاند پر گئے خلاء بازوں نے جب زمین کی طرف دیکھا تو اسے زمین پر کچھ نظر آیا. زوم کرکے دیکھنے پر پتہ چلا کہ یہ تو مالیگاؤں کی مشہور شاہراہ اولڈ آگرہ روڑ کے گڑھے ہیں جو چاند پر سے نظر آ رہے ہیں . اس کے باوجود مالیگاؤں کارپوریشن کو داد دینا پڑے گی کہ وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی. اب شہر کی تمام شاہراہوں کا حال دن بہ دن بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے . وہیں آگرہ روڈ کی حالت تشویشناک ہے ,.مانو آگرہ روڑ کوما میں ہے اور اس کے علاج معالجے سے کارپوریشن نے ہاتھ اٹھادیا ہے کہ جب تک جئے جئے گی. اب اس پر روپیہ پیسہ لگاکر کیا کرنا. اب آگے بھی سنیئے اس روڑ کی کہانی . اس روڈ پر چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والے اور اس کے قریب رہائش رکھنے والے افراد کا گاڑیوں کی آمد و رفت سے اٹھنے والے گرد و غبار سے برا حال ہے . مالیگاؤں شہر کی سبھی اہم شاہراہیں فاران اسپتال سے شیواجی مجسمہ تک جانے والی روڈ ، مشاورت چوک سے سوپر مارکیٹ جانے والی روڈ ، جنتا بینک (بیف مارکیٹ کے پاس سے رضا چوک جانے والی روڈ ، ٹیپو سلطان ٹاور سے سلیمانی چوک وہاں سے آزاد نگر تک جانے والی روڈ ، بلو برڈ سائزنگ سے عبدالله نگر چوک تک جانے والی روڈ ، ملّت مدرسہ سے حسن پورہ تک جانے والی روڈ ، سردار نگر سے فارمیسی کالج تک جانے والی روڈ ، جامعتہ الصلحات سے بڑی مالیگاؤں ہائی اسکول تک جانے والی روڈ ، سلامت آباد سے 60 فٹی روڈ تک جانے والی روڈ سمیت دیگر تمام روڈ پر بڑے بڑے گڑھے ہیں جس کی وجہ سے یہ سڑکیں شدید خستہ حالی کا شکار ہیں . جس کے سبب سواریوں کی آمد و رفت سمیت عام راہگیروں کو پیدل چلنے میں بھی ددشواریاں پیش آرہی ہے . اب شہر کی سڑکوں کی بدحالی اور میونسپل انتظامیہ کی جانب سے راستوں کی مرمت و تعمیر میں تاخیر کے چلتے عام آدمی خود گڑھوں اور راستوں کو درست کرنے میں پہل کرتے نظر آرہے ہیں . اسی طرح کا نظارہ 2 دسمبر 2019 دوپہر 3 بجے کے درمیان دیکھنے کو ملا . جس میں ایک بزرگ شخص اپنی چار چاک کی گاڑی پر پرانی عمارت سے نکلا ہوا سیمنٹ کانکریٹ کے مٹیریل سے روڈ پر بنے بڑے بڑے گڑھوں کو بھرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا جو انتظامیہ کی لاپرواہی سے پرے خاموشی کے ساتھ پورے راستے پر بنے گڑھوں کو بھرتے ہوئے میونسپل انتظامیہ و اقتدار پر بیٹھے سماج کے ٹھیکیداروں کو عوامی تکلیف اور درد کا احساس دلانا چارہا تھا مگر ہمیں تہ ہے کہ اس کے بعد بھی کارپوریشن خواب خرگوش سے بیدار نہیں ہوگی کیونکہ اس سے قبل تو کارپوریشن کے نام پر چندہ اکٹھا کرکے سڑک بنائی گئی مگر ہماری ڈھیٹوں کی ڈھیٹ کارپوریشن پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوا تو اب کیا خاک ہوگا ؟
بین الاقوامی خبریں
فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔
واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔
جرم
ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔
جرم
جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
