جرم
اسپتال کی لاپرواہی کی وجہ سے مالیگاوں میں اپنی کوکھ میں دو جڑواں بچوں کو لیے ایک خاتون نے توڈا دم
اسپشیل اسٹوری:
(خیال اثر)
انتہائی تیزی سے شہر میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے تو صرف 4 اموات ہوئی ہیں مگر لاک ڈاؤن اور مسلمانوں سے تعصب اور خود مسلمانوں کی خودغرضی نے نجانے کتنی جانوں کی قربانی لی ہیں. اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے. ساری دنیا گھومنے کے بعد بھی کورونا کو کوئی لیبل نہیں ملا تھا مگر ہندوستان میں قدم رکھتے ہی اسے زبردستی مسلمان کردیا گیا. تعصب اور نفرت کے گہرے اندھیرے میں کورونا کا دم گھٹنے لگا. جبکہ وہ بغیر کسی لیبل یا مذہبی شناخت کے ایک اچھی زندگی گذار رہا تھا. اب مالیگاؤں میں کورونا کا جو قہر ہے وہ صرف مسلم علاقوں میں ہیں. کیونکہ غیر مسلم علاقے کورونا کے لئے بالکل بند ہیں. ارے بھئی کورونا کیا مسلمانوں کے لئے بھی بند ہیں. لاک ڈاؤن کے تین ہفتے مکمل ہوگئے. ساتھ ہی کرفیو, شٹ ڈاؤن اور اس کے بعد ہاٹ اسپاٹ ڈکلیئر کرکے تمام علاقوں کو سیل کردیا گیا ہے. مالیگاؤں شہر محنت کشوں کی بستی ہے. یہ مزدوروں کا شہر ہے. جہاں آہنی مشینوں سے نبزد آزما ہوکر خون پسینہ ایک کرکے روزی کمائی جاتی ہیں. اس شہر کے تعلق سے مشہور تھا کہ مالیگاؤں میں کوئی بھوکا نہیں سوتا. آج کورونا کا قہر اور لاک ڈاؤن میں پولس کا تعصب ہے کہ نہ جانے کتنے گھروں میں چولھا نہیں جل رہا ہے. مسلم اکثریتی شہر ہونے کی مار مالیگاؤں ہمیشہ ہی جھیلتا ہے. لاک ڈاؤن میں گیس ایجنسی مسلمانوں کے ساتھ جو تعصب کا گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہے جس کی وجہ سے صارفین کو جونا بس اسٹینڈ سے سلینڈر حاصل کرنے کو کہا جارہا ہے جب صارفین وہاں پہنچ رہے ہیں تو پولس ڈنڈوں سے استقبال کررہی ہیں. شہر کے علاقوں کو پولس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے. 7 سے 12 بجے کا وقت کرفیو کھل جاتا ہے مگر کہیں 8 بجے تو کہیں 9 بجے سے ہی ہولس ڈنڈے لے کر میدان میں اتر جاتی ہیں اور طبیعت سے پٹائی کی جارہی ہیں- یہاں تک کہ ایک جگہ تو پولس نے اس قدر زور سے ڈنڈا مارا کہ وہ ڈنڈا ہی ٹوٹ گیا. اس کے علاوہ صرف اموات کورونا سے ہوئی ہے مگر ایسے کتنے کیس سامنے آرہے ہیں جہاں لاک ڈاؤن اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے عوام اپنی قیمتی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں- کورونا سے زیادہ لوگ طبعی موت سے مرررہے ہیں. آج ملکی اور شہری حالات میں کورونا نے ایک خوف کا ماحول پیدا کررکھاھے روز روز نت نئی خبریں موصول ہورہی ھے مگر یہ خبریں کہاں تک صحیح ہیں کچھ کہانہیں جاسکتا.
آج حالات ایسی ڈگر پر آگئے ہیں کہ نجی ہسپتال بھی لاک ڈاؤن کی زد میں ہیں جس کی وجہ سے دمہ؛ شوگر؛ ہارٹ اٹیک اور خاص کر ڈیلیوری کیسیس میں ہماری ماؤں اور بہنوں کی جانیں بھی تلف ہورہی ہیں کون ہے اس کا ذمہ دار؟ ؟؟؟؟
پولس انتظامیہ؟ نجی ہسپتالوں کے انچارج؟؟سیاسی لیڈران؟ ؟؟ یا عوام؟ ؟؟؟ آخر کب تک کورونا کا ڈر بتاکر عوامی زندگی سے کھلواڑ ہوتارہیگا. کمال پورہ کا ساکن نعیم احمد کو ہارٹ اٹیک کی وجہ سے کتنے ہاسپٹل لے جایا گیا. مگر سب کے سب بند تھے. آخر نعیم احمد کو بھی بروقت طبی امداد نہ ملی اور وہ بھی اپنے خالق حقیقی سے جاملے. ابھی گذشتہ دنوں ملت کی رہائشی ایک خاتون خانہ جو ڈیلیوری کے لئے پورے شہر میں لے کر گھومتے رہے ایک ڈاکٹر نے 30 ہزار روپئے لے کر سیزر کردیا مگر نوزائیدہ بچی کو عمل تنفس میں دشواری کی وجہ سے ویلنٹی لیٹر کی ضرورت تھی. اہل خانہ بچی کو لے کر پورے شہر میں گھومتے رہے. یہاں تک کہ ندی کے اس پار بھی گئے مگر دوارکا منی اور سمرتھ ہاسپٹل بند تھے. اس طرح 6 گھنٹے بیت گئے اور وہ نوزائیدہ بچی بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے زندگی کی جنگ ہار گئی. اس نوزائیدہ بچی کو ابھی شہریان بھولیں بھی نہیں تھے کہ مورخہ 17 اپریل 2020 بروز جمعہ صبح 11 بجے مچھلی بازار نوری ٹاور کے پاس کی رہائشی 22 سالہ زیبا وسیم احمد کو پیٹ میں درد ہونا شروع ہوا تو اس کے شوہر وسیم احمد نے زیبا کو ایک مسلم ڈاکٹر کے پاس لے گئے تمام چیک کے بعد اس ڈاکٹر نے کہا کہ اسے کسی بڑے ہاسپٹل لے جایا جائے کیونکہ اس کی کوکھ میں دو جڑواں بچے ہیں اس کا بلڈ پریشر بہت زیادہ ہے اور اس کا خون بھی بی نیگیٹو ہے تب شوہر وسیم احمد زیبا کو لیکر دوسرے ڈاکٹر کے پاس پہنچے وہاں بھی یہی جواب ملا شوہر وسیم احمد صبح 11 بجے سے اس ہاسپٹل سے اُس ہوسپٹل بھٹکتے بھٹکتے رہے. اس طرح رات ہوگئی مگر کوئی طبی امداد ان کی بیوی کو نہیں ملی خوف دہشت کے عالم میں شوہر وسیم احمد زیبا کو لیے آئی ایس پلازہ بھکو چوک میں واقع مریم ہاسپٹل لے کر پہنچے جہاں ڈاکٹر شمینہ نے چیک اپ کیا اور کہا کی میں بذریعہ سیزر (آپریشن) کرکے دونوں جڑواں بچوں کو اور ماں کو بچا سکتی ہوں مگر سیزر کے بعد ارجنٹ میں آئی سی یو وارڈ کی ضرورت پڑیگی آپ لوگ آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل سے رابطہ کرو اگر وہ ہاسپٹل مل جائے تو میں خود وہاں آکر سیزر کردونگی-
تب انصاری ضیاء الرحمن مسکان اور زیبا کے گھر والوں نے آئی سی یو وارڈ والے ہوسپٹلوں سے رابطہ کرنا شروع کیا ندی کے اس پار تو آپ بھی جانتے ہو کوئی ہوسپٹل میں مسلم پیسنٹ کو ایڈمیٹ نہیں کیا جارہا ہے مگر مسلم اکثریتی والے ندی کے اِس پار چند نامور آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل ہیں جہاں رابطہ کرنے پر صاف جواب ملا کہ ہمارے پاس آئی سی یو وارڈ میں کام کرنے والا اسٹاف نہیں ہے ادھر جڑواں بچوں کو اپنی کوکھ میں لیے تڑپتی ہوئی زیبا کبھی مریم ہاسپٹل تو کبھی سول ہاسپٹل تو کبھی یشفین ہاسپٹل میں گھومتی رہی. زندگی اور موت کے درمیان جنگ جاری تھی مگر کسی بھی مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہوسپٹل میں زیبا کو نہیں لیا گیا. تب زندگی اور موت کی اس جنگ میں 3 زندگیاں ہار گئیں اور موت جیت گئی.
ہم لوگ مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل کے ذمہ داران سے گزارش کرتے رہیں ایک جڑواں بچوں کی والدین ایمان والے مسلم ڈاکٹروں سے مدد کی پکار لگاتے رہے مگر جن کے اختیارات میں تھا وہ بہانہ کرکے ماں زیبا کو بے یار و مددگار چھوڑگئے. اگر یہ چند مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل کے ذمہ داران چاہتے تو بنا ہلاکانی کے یہ کام یہی ہوجاتا مگر بہانا کرکے لوٹا دیا گیا تقریباً رات تین بجے تک بجے جب مالیگاوں کے ان بے ضمیر مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہاسپٹل سے امید ختم ہوگئی تو اسے ناسک سول ہاسپٹل میں داخل کیا گیا مگر وہاں سے بھی اس کو نکال دیا گیا پھر ناسک آڑ گاؤں میڈیکل کالج میں داخل کیا گیا مگر جب تک بہت دیر ہوچکی تھی. ایک ماں اپنی کوکھ میں جڑواں بچوں کے ساتھ دم توڑ گئی. ادھر ان دونوں جڑواں بچوں کو آکسیجن نہیں ملا ادھر ماں کو فوراً طبی مدد نہیں ملی کچھ مسلم آئی سی یو وارڈ والے ہا سپٹل کے جارحانہ قہر کی وجہ سے ماں زیبا نے اپنی اور اپنے دونوں بچوں کی جان گنوا دی. مگر وقت کے ان درندوں کو رحم نہیں آیا.
ضیاء الرحمن مسکان کے مطابق اس سلگتے ہوئے دور میں ایک ماں کو اس طرح تڑپتے دیکھ کر میری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے. دل کانپ اٹھا کہ سابق ایم ایل اے شیخ آصف اور موجودہ ایم ایل اے مفتی محمد اسماعیل قاسمی کی بھی فریاد ان آئی سی یو وارڈ والے مسلم ہا سپٹلس نے ٹھکرا دی زیبا کی موت کے ذمہ دار یہی ہیں اگر چاہتے تو زیبا بچ سکتی تھی اسباب کے درجے میں میں تھی مگر آئی سی یو اسٹاف کا جھوٹا بہانا بنایا گیا اور بالآخر ایک ماں نے تڑپتے تڑپتے اپنی زندگی کو الوداع کہہ دیا اور ہی اس کے کوکھ میں پلنے والی ننھی جانیں بھی تلف ہوگئیں.
جرم
جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔
بین الاقوامی خبریں
بنگلہ دیش کے صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، انسداد بدعنوانی کا ادارہ منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔

ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ جب کہ ملک بھر میں طلباء کا احتجاج جاری ہے، صحافیوں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ انسداد بدعنوانی کی تنظیموں نے کھلنا شہر میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک میں آزاد صحافت اور آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ 15 جولائی کی صبح کھلنا میں چار صحافیوں کو بندوق برداروں نے گولی مار دی۔ صحافی اپنا کام ختم کر کے چائے کے ایک اسٹال کے باہر بیٹھے تھے۔ گولی لگنے سے زخمی ہونے والے صحافیوں میں بنگلہ دیشی اخبار دی بزنس اسٹینڈرڈ کے کھلنا کے نمائندے اول شیخ بھی شامل تھے، جو گولیوں کی زد میں آ گئے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (ٹی آئی بی) نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ صحافیوں کا مقدمات درج کرنے میں ہچکچاہٹ خوف کی فضا اور حکام پر اعتماد کی بڑھتی ہوئی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹی آئی بی نے ذمہ داروں کی شناخت اور جوابدہی کے لیے فوری، غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون نے ٹی آئی بی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر افتخارزمان کے حوالے سے کہا کہ “یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ حملہ خاص طور پر کسی صحافی کو نشانہ بنایا گیا تھا یا کسی مخصوص خبر کی جوابی کارروائی کے لیے کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحافیوں پر یہ مسلح حملہ میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ بغیر کسی اثر و رسوخ یا غیر ضروری تاخیر کے غیر جانبدارانہ اور موثر تحقیقات کی جانی چاہیے، تاکہ نہ صرف مجرموں بلکہ حملے کی منصوبہ بندی اور حکم دینے والوں کی بھی نشاندہی کی جا سکے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا، “صرف مقدمہ درج کرنا کافی نہیں ہے۔ حملے کے پیچھے اصل محرکات کا پتہ لگانا، ذمہ دار کون تھا، کس کے کہنے پر یہ حملہ کیا گیا، اور اس بات کا تعین کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ کیا اس کا صحافیوں کے پیشہ ورانہ کام سے تعلق تھا۔ ورنہ دیگر کیسز کی طرح یہ واقعہ بھی ان مقدمات کی طویل فہرست میں شامل ہو سکتا ہے جن میں استثنیٰ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔”
اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، ٹی آئی بی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ متاثرین کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے لیے ہچکچاہٹ بنگلہ دیش میں صحافی برادری کے اندر عدم تحفظ اور خوف کے ایک مروجہ نمونے کی عکاسی کرتی ہے، جو انتقامی حملوں کے خوف سے ہے۔ افتخار الزمان نے کہا، “حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب ہے کہ متعلقہ حکام کی مکمل تحقیقات کرنے اور ضروری احتساب کو یقینی بنانے کی اہلیت اور خواہش پر اعتماد کی کمی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ ماننا مناسب ہے کہ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کی شناخت کی جا سکتی ہے، بشمول سابقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران۔ صلاحیتوں.”
انہوں نے مزید کہا، “ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میڈیا کی آزادی محفوظ ہے جہاں متاثرین خود انصاف حاصل کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اس طرح کے خوف اور عدم اعتماد سے آزاد، تحقیقاتی اور مفاد عامہ کی صحافت کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، جبکہ طاقتور اور مفاد پرست گروہوں کو سزا سے بچنے کے لیے حوصلہ ملتا ہے۔” افتخار الزمان نے خوف کے اس انداز کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں اور ان کے خلاف ہر حملے کی معتبر تحقیقات، انصاف اور مناسب احتساب کی ضمانت دیں۔
جرم
تھانے کرائم برانچ نے قتل کی سنسنی خیز گتھی سلجھائی! دوست کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے پھینکنے کے الزام میں دو بھائی گرفتار

تھانے : جرائم کی دنیا میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے، تھانے کرائم برانچ نے جمعرات کو قتل کے ایک انتہائی بہیمانہ کیس کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس معاملے میں دو سگے بھائیوں نے مبینہ طور پر اپنے ہی ایک قریبی دوست کو قتل کیا، اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور انہیں الگ الگ سنسان مقامات پر پھینک دیا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب الہاس نگر یونٹ-4 کرائم برانچ کے سینئر پولیس انسپکٹر راجیش گجل کو ایک خفیہ اطلاع ملی۔ اطلاع کے مطابق، آٹو رکشہ ڈرائیور بھائیوں—فیض ملیم (24) اور البان ملیم (23)—نے ممبرا کے رہنے والے اپنے دوست امن شیخ (23) کو قتل کر دیا تھا۔ معلومات میں مزید انکشاف ہوا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر مقتول کا گلا ریت دیا، لاش کو ٹکڑوں میں کاٹا اور ثبوت مٹانے کی نیت سے ان ٹکڑوں کو الگ الگ مقامات پر ٹھکانے لگا دیا۔
اس انٹیلی جنس معلومات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اور تھانے کے پولیس کمشنر آتوش ڈمبرے کی ہدایات پر، ایڈیشنل پولیس کمشنر پنجاب راؤ اگلے، ڈپٹی پولیس کمشنر امر سنگھ جادھو اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر شیکھر باگڑے کی قیادت میں کرائم برانچ کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم میں سینئر پی آئی راجیش گجل، اے پی آئی شری رنگ گوساوی اور ہیڈ کانسٹیبل گنیش گاؤڑے شامل تھے۔
پولیس نے دونوں ملزم بھائیوں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا اور ان سے سخت پوچھ گچھ کی۔ پوچھ گچھ کے دوران، بھائیوں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ 13 جولائی 2026 کی رات انہوں نے امن شیخ کا گلا ریت کر اسے قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد، انہوں نے لاش کے ٹکڑے کر کے سر، ہاتھ اور پیر الگ کر دیے اور جرم کو چھپانے کے لیے بقایا جات کو کھراڑی گاؤں کے سنسان علاقوں میں پھینک دیا۔
تفتشی افسران اب اس قتل کے پیچھے کی وجہ (محرک) کا پتہ لگانے، باقی تمام شواہد کو برآمد کرنے اور قتل تک پہنچنے والے واقعات کے سلسلے کو دوبارہ ترتیب دینے (ری کریٹ کرنے) کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
