Connect with us
Sunday,19-April-2026

سیاست

لو جہاد کے نام پر ایک بار پھر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش!

Published

on

yogi

خیال اثر
اتر پردیش کی یوگی حکومت نے لو جہاد کو سنگین. مسئلہ قرار دے کر اس پر قدغن لگانے کے لئے ایک قانونی مسودے کو عدلیہ کے حکم کے خلاف ورزی کرتے ہوئے یوگی سرکار نے اپنی من مانی مبینہ ثبوت دے کر پورے ہندوستان فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی ہے. الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ ملک کے آئین کے مطابق کسی بھی شخص کو اپنی پسند کی شادی کرنے اور مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی شخص شادی کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے تو اسے یہ حق قانونی طور سے حاصل ہے،سلامت انصاری نے 19؍ اگست 2019 کو پرینکا کھروار نام کی لڑکی سے اسلامی روایت کے مطابق شادی کی تھی۔ شادی کے بعد پرینکا نے اپنا نام عالیہ رکھ لیا تھا۔اس شادی کے خلاف پرینکا کے والد نے سلامت انصاری کے خلاف اغوا اور پاکسو ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ سلامت انصاری نے اس ایف آئی آر کو الہ آباد میں چیلنج کیا تھا.
آخر یہ لو جہاد ہے کیا چیز یا یہ کس بلا کا نام ہے. عام ہندوستانی اس سے ذرا بھی واقفیت نہیں رکھتا اور نہ ہی اس جنجال میں پڑنا چاہتا ہے. آج اقتدار کے زعم میں ہندو توا کے علمبرداران یکے بعد دیگرے ہندوستانی آئین میں تبدیلیاں کرتے ہوئے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے ذریعے ترتیب دئیے گئے اس آئین کو مذاق کا موضوع بنا دیا ہے جس میں ہر مذہب ہر فرقے اور ہر نسل کے افراد کو مناسب نمائندگی دیتے ہوئے ان کے اپنے وضع کردہ قوانین میں دخل اندازی سے گریز کیا گیا تھا. ایک طویل عرصہ تک ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے ذریعے ترتیب دیئے گئے آئین میں کسی بھی طرح کا کوئی رد و بدل نہیں کیا گیا تھا. تاریخ گواہ ہے کہ امبیڈکر کے ذریعے وضع کردہ قوانین ہر مذہب اور ہر فرقے کے لئے مناسب اور متوازن تھے لیکن ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد اقتدار پر قابض بھگوائی پرچم تھامے ہوئے تمام قوانین کو بھگوا رنگ دینے میں اپنی ساری طاقت صرف کررہے ہیں. اس کے پس پردہ کون سے عوامل سرگرداں ہیں اگر بغور اس کا معائنہ کیا جائے تو نظر آئے گا کہ اس کے پس پردہ ساورکر اور گوڈسے جیسے عوامل اور جن سنگھ اور آر ایس ایس سے جڑے ہوئے تھنک ٹینک میں شامل افراد ہیں اور ان تمام لوگوں کا ایک ہی مقصد ہے وہ یہ کہ ہندوستان کی روا داری اور گنگا جمنی تہذیب کو دھیرے دھیرے ختم کرکے ہندوستان کو “ہندو راشٹر “بنا دیا جائے جس میں صرف اور صرف برہمنی سماج اپنے پیر پھیلا کر حکومت کر سکے. ایسا کوئی بھی قانون ہندوستانی تہذیب و تمدن کے منافی ہے. ہندوستان پر مسلمان مغل بادشاہوں نے تقریباً آٹھ سو سال تک حکومت کی ہے لیکن انھوں نے کبھی بھی ایسے کسی کالے قانون کو وضع کرنے اور نفاذ کی کوشش نہیں کی. ہندوستان کی ریاستوں میں یکے بعد دیگرے بھگوائی پرچم لہرانے کے بعد گوڈسے اور ساورکر کے پروردہ افراد کی ہمت بڑھتی جارہی ہے. ان کے سارے ارمان کسی الہڑ دوشیزہ کی توبہ شکن انگڑایوں کی طرح بیدار ہوتے جارہے ہیں. اس طوفان بلا خیز کی بپھری ہوئی موجوں کی رفتار کا اندازہ ان بھاجپائی لیڈران کو شاید نہیں ہے. آج نہیں تو کل ایسے کسی بھی کالے قانون کا نفاذ ایسے تمام افراد کو خش و خاشاک کی طرح اپنے ساتھ بہا لے جائے گا اور یہ ہوگا کہ دنیا ایسے تمام فرقہ پرستوں اور ہندو توا وادیوں کو ڈھونڈتی رہ جائے گی لیکن کہیں بھی ان کا وجود اور نام و نشان نظر نہیں آئے گا اس لئے سیکولرازم پر ایمان و عقیدہ رکھنے والے حساس افراد کو چاہیے کہ ایسے سیاہ قوانین کو وضع کرنے اور رو بہ عمل لانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف میدان عمل ڈٹ جائیں.
ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے صفحات پر آب زر سے رقم ہے کہ ہندوستانی راجاؤں اور مہاراجاؤں نے خود اور اپنے حکومتوں کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنی جواں سال بٹیوں کو مغل بادشاہ اور نوابین کے عقد میں بخوشی دے دیا تھا یہی وجہ تھی کہ اکبر اعظم کے عقد میں آ کر جودھا بائی نامی برہمن خاتون مہارانی جودھا بائی بن کر ہندوستان پر حکومت میں معاون و مدگار رہیں. ایسی مثالیں ہندوستان کے چپے چپے پر بکھری ہوئی ملیں گی. کہیں پر کسی مجبوری کے تحت یا کہیں راضی بہ رضا ہوتے بغیر کسی مجبوری کے غیر مسلم خواتین نے عام و خاص افراد کو اپنا جیون ساتھی منتخب کیا ہے. ایسے بھی بے شمار واقعات منظر عام پر آئے ہیں کہ مختلف النوع شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے مسلم افراد کے پچھے سازش رچتے ہوئے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کو لگایا گیا اور ان غیر مسلم خواتین نے ان مسلم افراد کا سارا مستقبل ملیا میٹ کرکے رکھ دیا. آج لوجہاد کا ہنگامہ برپا کرنے والے افراد کے لئے چند مثالیں دیتے ہوئے انھیں درس عبرت دینے کی کوشش کررہے ہیں. یاد کیجئے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی “سلیم درانی اور نواب پٹوڈی “کی خانگی زندگی کے پوشیدہ گوشے. کہ سلیم درانی کے پچھے بولڈ اداکارہ پروین بابی کو لگایا گیا تو نواب پٹوڈی کو ٹیگور خاندان کی شرمیلا ٹیگور نے اپنے بنگالی حسن کاا سیر بنا لیا تھا. نامور بیڈ منٹن کھلاڑی سید مودی کے تعاقب میں امیتا نامی غیر مسلم خاتون کو لگاکر اس کے کیرئر کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی کا بھی چراغ گل کروا دیا. تازہ ترین مثال ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے نامور کپتان اظہرالدین کی ہے جنھیں سنگیتا بجلانی نامی اداکارہ نے تباہی کے دہانوں تک پہنچا دیا تھا. بیشتر مثالیں ایسی بھی ہیں کہ کئی غیر مسلم خواتین نے مسلمان شوہروں کا انتخاب کرتے ہوئے ان کی آغوش میں جائے پناہ دھونڈ لی. بالی ووڈ کنگ خان شاہ رخ کے دامن سے لپٹ کر گوری نامی غیر مسلم خاتون گوری خان کہلائی. کرن راؤ نامی ہندو خاتون نے عامر خان کے دامن میں خود کو محفوظ و مامون سمجھا. سیف علی خان کے دامن سے لپٹ کر راج کپور خانوادے کی کرینہ کپور نے کرینہ خان کہلانے میں فخر محسوس کیا. یہ ساری مثالیں تو فلم اسٹاروں کی ہیں جن کا کوئی مذہب اور مسلک نہیں ہوتا. اس کے برعکس سیاسی لیڈران کی مثالیں دیں تو سید شاہنواز حیسن اور مختار عباس نقوی کے نام سرخیوں میں آتے ہیں جن کی بیویاں ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہیں. اسی طرح مہاراشٹر کے مرد آہن بالا صاحب ٹھاکرے کی بھانجی نے بھی مسلم لڑکے سے پیار و محبت کرتے ہوئے اپنے خاندان کے بر خلاف شادی کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی مسلم لڑکے کے ساتھ ٹھاکرے پریوار نے بحالت مجبوری اپنی لڑکی کا عقد کردیا. ایسی ہی مثالیں اگر ہم دینے بیٹھے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو جائے گی.ہم نے جو حقیقی مثالیں دیتے ہوئے ہندوستان کے قانون ساز اداروں اور صاحبان اقتدار کو متوجہ کیا ہے وہ مسلم افراد سے شادیاں کرکے ان کے گھروں میں پناہ لینے والی ہندو خواتین کی گھر واپسی کا پروگرام ترتیب دیں. ہمیں یقین ہے کہ ہنسی خوشی مسلم افراد کے ساتھ شادی شدہ زندگی گزارنے والی کوئی بھی ہندو خاتون گھر واپسی کے لئے آسانی سے تیار نہیں ہوگی اور اگر جن سنگھ کے پروردہ افراد نے ایسی کوئی کوشش کی تو انھیں ناکامی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا. اس لئے لو جہاد کی آڑ میں کالے قوانین وضع کرنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ دبی ہوئی راکھ کو نہ کریدیں ورنہ اس میں پنہاں چنگاریاں خود ان کا دامن راکھ کردیں گی.

ممبئی پریس خصوصی خبر

آیان شیخ جنسی استحصال کیس لوجہاد نہیں, تفتیش میں نیا خلاصہ, آیان کی جان کو خطرہ

Published

on

ممبئی: امراؤتی پر توارڈ پولس اسٹیشن کی حدود میں آیان شیخ عرف ایاز شیخ کے خلاف جنسی استحصال کی ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے آیان شیخ کے معاملہ میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ اس کے ویڈیو اس کے دوست عذیر خان نے ہی اپنے انسٹاگرام پر لیک افشا کئے تھے جس کے بعد بھونچال آگیا اس معاملہ میں پولس نے تفتیش شروع کرتے ہوئے ۸ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اس کے ساتھ ہی ان سے تفتیش میں کئی اہم خلاصے ہوئے ہیں آیان شیخ نے ہی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے متاثرین سے رابطہ کیا تھا اور دوستی بنانے کے بعد وہ ان لڑکیوں سے معاشقہ رکھتا اور پھر انہیں ہوٹل میں لیجا کر ان سے تعلقات قائم کرتا تھا عذیر نے انسٹاگرام پرُاس لئے ویڈیو وائرل کی تھی کیونکہ وہی آیان کا سوشل میڈیا ہینڈل بھی کیا کرتا تھا اور پیسوں کو لے کر دونوں میں تنازع ہو گیا تھا اور اس نے غصہ میں ویڈیوز وائرل کیا اس معاملہ میں ویڈیو تیار کرنے والوں سے لے کر اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں تک کو پولس نے گرفتار کیا ہے
تین پولس والے معطل
آیان شیخ کیس میں ایک اے ایس آئی سلیم اور دو کانسٹبل کو معطل کردیا گیا ہے ان پولس والوں کے ساتھ آیان کی ویڈیو وائرل تھی اور یہ آیان کے ساتھ رابطے میں تھے اس لیے اس سے پولس محکمہ کی شبیہ خراب ہو رہی تھی جس کے بعد پولس والوں کے خلاف معطلی اور انکوائری کی کارروائی کی گئی ہے آیان شیخ کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہے کیونکہ متاثرین کے رشتہ دار اور والدین مشتعل ہے اور عدالت میں پیشی کے دوران اس کی سیکورٹی کا بھی خاص خیا ل رکھا جاتا ہے پولس نے بتایا کہ آیان شیخ سے متعلق جو تفتیش شروع کی گئی اس میں اب تک یہ معاملہ لوجہاد کا نہیں ہے اور نہ ہی متا ثریا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے بعد اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش تیز ہے اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں بلڈوزر ایکشن بھی لیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پونے امبیڈکر جینتی پروگرام میں نکسلیوں کا ‘ہڈما’ گانے پر رقص, بی بی اے کے دو طلبا کے خلاف کیس درج

Published

on

ممبئی: ممبئی پونے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جینتی کے موقع پر منعقدہ ایک ثقافتی پروگرام میں نکسلائیٹ ہدما ماڈوی پر مبنی گانے پر مبنی ڈانس پرفارمنس منظر عام پر آنے سے ہلچل مچ گئی اسی مناسبت سے پولس نے کیس بھی درج کر لیا ہے لیکن گانے اور رقص پر کیس درج کرنے پر اب سوشل میڈیا پر یہ سوال عام ہے کہ آیا کیا گانے اور رقص کو قابل اعتراض تصور کر کے کیس درج کرنا قانونی طور درست ہے ؟ ہڈما گانے پر وشرانت واڑی پولیس نے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کرن نارائن گوماسے (عمر 22 سال، آبائی باشندہ دیچلی، تلہ ہری، ضلع گڈچرولی، فی الحال بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل، ویشرانت واڑی میں مقیم ہیں) اور سرینواس ہنومنت کماری (عمر 23 سال، آبائی باشندہ جھنگنور، تال. گچھی، اس وقت اسی سرونڈنگ، ضلع سرونڈنگ) ہاسٹل) کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں بی بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔پولیس کے مطابق امبیڈکر جینتی کے موقع پر 11 اپریل کو بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر گورنمنٹ ہاسٹل وشرانت واڑی میں ایک ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں ہدما مادوی پر مبنی گانے پر رقص کا مظاہرہ کیا گیا،جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھا اور پیپلز لبریشن گوریلا آرمی (پی ایل جی اے) کی بٹالین نمبر 1 کی کمانڈر بھی تھا۔پولیس نے گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں کارروائی کی ہے جس سے ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرہ ہے ۔ اس معاملے میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 197(1)(ڈی) 353(1) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وشرانت واڑی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے اور پولیس سب انسپکٹر بھوسلے معاملے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔ اس واقعے نے شہر میں ہلچل پیدا کردی ہے اور علمی و سماجی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ محض گانے پر رقص سے کیس درج کر لیا گیا کیا یہ اظہار آزادی کے منافی نہیں ہے ؟

Continue Reading

سیاست

ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن بل کے مسترد ہونے پر ردعمل ظاہر کیا۔

Published

on

ممبئی: ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے خواتین کے ریزرویشن بل کو “خواتین کے لیے اچھی خبر” قرار دیا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو سیاسی پس منظر نہیں رکھتے، یہاں تک کہ مجوزہ قانون لوک سبھا میں پاس ہونے میں ناکام ہو گیا۔ ترقی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے، تاوڑے نے بل کی اہمیت پر زور دیا اور اس کی مزاحمت کرنے پر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپنی بات چیت میں، تاوڑے نے روشنی ڈالی کہ یہ بل ان خواتین کے لیے ایک موقع کی علامت ہے جنہوں نے بغیر سیاسی نسب کے اپنے راستے پر کام کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو آگے لانے کا سہرا دیا جسے انہوں نے “خواتین کے حقوق کی بحالی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “خواتین ریزرویشن بل ہم خواتین کے لیے بہت اچھی خبر تھی۔ ہم میں سے جو سیاسی پس منظر سے نہیں آتے ہیں، انھوں نے آگے آنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔ یہ ہمارے حقوق کی بحالی تھی، جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے لایا تھا۔”

بل کے ممکنہ اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے، تاوڑے نے کہا کہ اس کی منظوری سے میونسپل اداروں سے لے کر ریاستی مقننہ اور پارلیمنٹ تک حکمرانی کے تمام سطحوں پر خواتین کی وسیع نمائندگی اور احترام کو یقینی بنایا جائے گا۔ “اس کی وجہ سے، خواتین کو ودھان سبھا، لوک سبھا، اور میونسپلٹی کی سطح سے لے کر ریاستی سطح تک نمائندگی اور عزت ملنے کی امید تھی،” انہوں نے مزید کہا۔ میئر نے اپوزیشن کو بھی نشانہ بنایا، یہ الزام لگایا کہ راہل گاندھی اور ان کی پارٹی سمیت لیڈران اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے دیکھے گئے جس سے ان کا خیال ہے کہ خواتین کو سیاسی طور پر بااختیار بنایا جائے گا۔ یہ ترقی لوک سبھا کے 11 اپریل کو آئین (131 ویں ترمیم) بل کو مسترد کرنے کے بعد ہوئی ہے۔ ووٹنگ میں کل 528 ارکان نے حصہ لیا جن کے حق میں 298 اور مخالفت میں 230 ووٹ آئے۔ تاہم، بل آئینی ترمیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت، 326 ووٹوں سے کم تھا۔ مجوزہ قانون سازی میں ایوان کی طاقت کو 543 سے بڑھا کر 850 نشستیں کرنے اور 2026 کی مردم شماری کے بعد کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حد بندی کو فعال کرنے کی کوشش کی گئی۔ ووٹنگ کے عمل کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی ایوان میں موجود تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان