Connect with us
Monday,04-May-2026

سیاست

لو جہاد کے نام پر ایک بار پھر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش!

Published

on

yogi

خیال اثر
اتر پردیش کی یوگی حکومت نے لو جہاد کو سنگین. مسئلہ قرار دے کر اس پر قدغن لگانے کے لئے ایک قانونی مسودے کو عدلیہ کے حکم کے خلاف ورزی کرتے ہوئے یوگی سرکار نے اپنی من مانی مبینہ ثبوت دے کر پورے ہندوستان فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی ہے. الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ ملک کے آئین کے مطابق کسی بھی شخص کو اپنی پسند کی شادی کرنے اور مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی شخص شادی کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے تو اسے یہ حق قانونی طور سے حاصل ہے،سلامت انصاری نے 19؍ اگست 2019 کو پرینکا کھروار نام کی لڑکی سے اسلامی روایت کے مطابق شادی کی تھی۔ شادی کے بعد پرینکا نے اپنا نام عالیہ رکھ لیا تھا۔اس شادی کے خلاف پرینکا کے والد نے سلامت انصاری کے خلاف اغوا اور پاکسو ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ سلامت انصاری نے اس ایف آئی آر کو الہ آباد میں چیلنج کیا تھا.
آخر یہ لو جہاد ہے کیا چیز یا یہ کس بلا کا نام ہے. عام ہندوستانی اس سے ذرا بھی واقفیت نہیں رکھتا اور نہ ہی اس جنجال میں پڑنا چاہتا ہے. آج اقتدار کے زعم میں ہندو توا کے علمبرداران یکے بعد دیگرے ہندوستانی آئین میں تبدیلیاں کرتے ہوئے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے ذریعے ترتیب دئیے گئے اس آئین کو مذاق کا موضوع بنا دیا ہے جس میں ہر مذہب ہر فرقے اور ہر نسل کے افراد کو مناسب نمائندگی دیتے ہوئے ان کے اپنے وضع کردہ قوانین میں دخل اندازی سے گریز کیا گیا تھا. ایک طویل عرصہ تک ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے ذریعے ترتیب دیئے گئے آئین میں کسی بھی طرح کا کوئی رد و بدل نہیں کیا گیا تھا. تاریخ گواہ ہے کہ امبیڈکر کے ذریعے وضع کردہ قوانین ہر مذہب اور ہر فرقے کے لئے مناسب اور متوازن تھے لیکن ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد اقتدار پر قابض بھگوائی پرچم تھامے ہوئے تمام قوانین کو بھگوا رنگ دینے میں اپنی ساری طاقت صرف کررہے ہیں. اس کے پس پردہ کون سے عوامل سرگرداں ہیں اگر بغور اس کا معائنہ کیا جائے تو نظر آئے گا کہ اس کے پس پردہ ساورکر اور گوڈسے جیسے عوامل اور جن سنگھ اور آر ایس ایس سے جڑے ہوئے تھنک ٹینک میں شامل افراد ہیں اور ان تمام لوگوں کا ایک ہی مقصد ہے وہ یہ کہ ہندوستان کی روا داری اور گنگا جمنی تہذیب کو دھیرے دھیرے ختم کرکے ہندوستان کو “ہندو راشٹر “بنا دیا جائے جس میں صرف اور صرف برہمنی سماج اپنے پیر پھیلا کر حکومت کر سکے. ایسا کوئی بھی قانون ہندوستانی تہذیب و تمدن کے منافی ہے. ہندوستان پر مسلمان مغل بادشاہوں نے تقریباً آٹھ سو سال تک حکومت کی ہے لیکن انھوں نے کبھی بھی ایسے کسی کالے قانون کو وضع کرنے اور نفاذ کی کوشش نہیں کی. ہندوستان کی ریاستوں میں یکے بعد دیگرے بھگوائی پرچم لہرانے کے بعد گوڈسے اور ساورکر کے پروردہ افراد کی ہمت بڑھتی جارہی ہے. ان کے سارے ارمان کسی الہڑ دوشیزہ کی توبہ شکن انگڑایوں کی طرح بیدار ہوتے جارہے ہیں. اس طوفان بلا خیز کی بپھری ہوئی موجوں کی رفتار کا اندازہ ان بھاجپائی لیڈران کو شاید نہیں ہے. آج نہیں تو کل ایسے کسی بھی کالے قانون کا نفاذ ایسے تمام افراد کو خش و خاشاک کی طرح اپنے ساتھ بہا لے جائے گا اور یہ ہوگا کہ دنیا ایسے تمام فرقہ پرستوں اور ہندو توا وادیوں کو ڈھونڈتی رہ جائے گی لیکن کہیں بھی ان کا وجود اور نام و نشان نظر نہیں آئے گا اس لئے سیکولرازم پر ایمان و عقیدہ رکھنے والے حساس افراد کو چاہیے کہ ایسے سیاہ قوانین کو وضع کرنے اور رو بہ عمل لانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف میدان عمل ڈٹ جائیں.
ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے صفحات پر آب زر سے رقم ہے کہ ہندوستانی راجاؤں اور مہاراجاؤں نے خود اور اپنے حکومتوں کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنی جواں سال بٹیوں کو مغل بادشاہ اور نوابین کے عقد میں بخوشی دے دیا تھا یہی وجہ تھی کہ اکبر اعظم کے عقد میں آ کر جودھا بائی نامی برہمن خاتون مہارانی جودھا بائی بن کر ہندوستان پر حکومت میں معاون و مدگار رہیں. ایسی مثالیں ہندوستان کے چپے چپے پر بکھری ہوئی ملیں گی. کہیں پر کسی مجبوری کے تحت یا کہیں راضی بہ رضا ہوتے بغیر کسی مجبوری کے غیر مسلم خواتین نے عام و خاص افراد کو اپنا جیون ساتھی منتخب کیا ہے. ایسے بھی بے شمار واقعات منظر عام پر آئے ہیں کہ مختلف النوع شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے مسلم افراد کے پچھے سازش رچتے ہوئے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کو لگایا گیا اور ان غیر مسلم خواتین نے ان مسلم افراد کا سارا مستقبل ملیا میٹ کرکے رکھ دیا. آج لوجہاد کا ہنگامہ برپا کرنے والے افراد کے لئے چند مثالیں دیتے ہوئے انھیں درس عبرت دینے کی کوشش کررہے ہیں. یاد کیجئے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی “سلیم درانی اور نواب پٹوڈی “کی خانگی زندگی کے پوشیدہ گوشے. کہ سلیم درانی کے پچھے بولڈ اداکارہ پروین بابی کو لگایا گیا تو نواب پٹوڈی کو ٹیگور خاندان کی شرمیلا ٹیگور نے اپنے بنگالی حسن کاا سیر بنا لیا تھا. نامور بیڈ منٹن کھلاڑی سید مودی کے تعاقب میں امیتا نامی غیر مسلم خاتون کو لگاکر اس کے کیرئر کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی کا بھی چراغ گل کروا دیا. تازہ ترین مثال ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے نامور کپتان اظہرالدین کی ہے جنھیں سنگیتا بجلانی نامی اداکارہ نے تباہی کے دہانوں تک پہنچا دیا تھا. بیشتر مثالیں ایسی بھی ہیں کہ کئی غیر مسلم خواتین نے مسلمان شوہروں کا انتخاب کرتے ہوئے ان کی آغوش میں جائے پناہ دھونڈ لی. بالی ووڈ کنگ خان شاہ رخ کے دامن سے لپٹ کر گوری نامی غیر مسلم خاتون گوری خان کہلائی. کرن راؤ نامی ہندو خاتون نے عامر خان کے دامن میں خود کو محفوظ و مامون سمجھا. سیف علی خان کے دامن سے لپٹ کر راج کپور خانوادے کی کرینہ کپور نے کرینہ خان کہلانے میں فخر محسوس کیا. یہ ساری مثالیں تو فلم اسٹاروں کی ہیں جن کا کوئی مذہب اور مسلک نہیں ہوتا. اس کے برعکس سیاسی لیڈران کی مثالیں دیں تو سید شاہنواز حیسن اور مختار عباس نقوی کے نام سرخیوں میں آتے ہیں جن کی بیویاں ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہیں. اسی طرح مہاراشٹر کے مرد آہن بالا صاحب ٹھاکرے کی بھانجی نے بھی مسلم لڑکے سے پیار و محبت کرتے ہوئے اپنے خاندان کے بر خلاف شادی کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی مسلم لڑکے کے ساتھ ٹھاکرے پریوار نے بحالت مجبوری اپنی لڑکی کا عقد کردیا. ایسی ہی مثالیں اگر ہم دینے بیٹھے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو جائے گی.ہم نے جو حقیقی مثالیں دیتے ہوئے ہندوستان کے قانون ساز اداروں اور صاحبان اقتدار کو متوجہ کیا ہے وہ مسلم افراد سے شادیاں کرکے ان کے گھروں میں پناہ لینے والی ہندو خواتین کی گھر واپسی کا پروگرام ترتیب دیں. ہمیں یقین ہے کہ ہنسی خوشی مسلم افراد کے ساتھ شادی شدہ زندگی گزارنے والی کوئی بھی ہندو خاتون گھر واپسی کے لئے آسانی سے تیار نہیں ہوگی اور اگر جن سنگھ کے پروردہ افراد نے ایسی کوئی کوشش کی تو انھیں ناکامی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا. اس لئے لو جہاد کی آڑ میں کالے قوانین وضع کرنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ دبی ہوئی راکھ کو نہ کریدیں ورنہ اس میں پنہاں چنگاریاں خود ان کا دامن راکھ کردیں گی.

بزنس

عالمی منڈیوں میں اضافے، رئیلٹی اور آئی ٹی میں خرید و فروخت سے ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ سبز رنگ میں کھلی۔

Published

on

ممبئی: ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ پیر کے روز مثبت نوٹ پر کھلی، عالمی منڈیوں میں اضافے کا سراغ لگاتے ہوئے۔ سینسیکس 343.77 پوائنٹس یا 0.45 فیصد بڑھ کر 77,257.27 پر اور نفٹی 66 پوائنٹس یا 0.28 فیصد بڑھ کر 24,063.55 پر پہنچ گیا۔ ابتدائی تجارت میں ریئلٹی اور آئی ٹی اسٹاکس میں خرید و فروخت دیکھنے میں آئی۔ انڈیکس میں، نفٹی ریئلٹی اور نفٹی آئی ٹی سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے تھے۔ تقریباً تمام انڈیکس سبز رنگ میں تھے، جس میں نفٹی آٹو، نفٹی ایف ایم سی جی، نفٹی میٹل، نفٹی انڈیا ڈیفنس، نفٹی کنزیومر ڈیوریبلز، اور نفٹی فارما سب سے آگے تھے۔ سینسکس پیک میں فائدہ اٹھانے والوں میں ماروتی سوزوکی، اڈانی پورٹس، ایچ یو ایل، ایل اینڈ ٹی، ایم اینڈ ایم، انڈیگو، پاور گرڈ، این ٹی پی سی، ایس بی آئی، ایچ ڈی ایف سی بینک، بجاج فائنانس، ٹاٹا اسٹیل، ایس بی آئی، ایشین پینٹس، آئی سی آئی سی آئی بینک، الٹرا ٹیک سیمنٹ، ٹرینٹ، باجا، سنٹر، ٹیفائنس، فارما، ٹائیسرو، سن، فینانس، اور سنسیکس میں شامل تھے۔ کوٹک مہندرا بینک، ٹی سی ایس، ایٹرنل، ایچ سی ایل ٹیک، آئی ٹی سی، بی ای ایل، اور بھارتی ایئرٹیل خسارے میں تھے۔ لارج کیپس کے ساتھ ساتھ مڈ کیپس اور سمال کیپس میں بھی تیزی رہی۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 442 پوائنٹس یا 0.74 فیصد بڑھ کر 60,226 پر اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 128 پوائنٹس یا 0.72 فیصد بڑھ کر 18,136 پر پہنچ گیا۔ عالمی منڈیوں میں تیزی رہی۔ ہانگ کانگ، سیئول اور جکارتہ کے بازار سبز رنگ میں تھے۔ دریں اثنا، جاپان اور شنگھائی کی مارکیٹیں قومی تعطیل کے لیے بند کر دی گئیں۔ جمعہ کو امریکی اسٹاک مارکیٹیں ملے جلے بندوں پر بند ہوئیں۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 0.31 فیصد کمی ہوئی، جبکہ نیس ڈیک میں 0.89 فیصد اضافہ ہوا۔ ہندوستانی مارکیٹ کی ریلی کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا “پروجیکٹ فریڈم” کا آغاز ہے جو آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے میں مدد کرے گا۔ امریکہ نے اس اقدام کے لیے کئی ممالک سے مدد طلب کی ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پھنسے ہوئے بحری جہاز اور ان کا عملہ بے قصور ہیں اور انہیں حالات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ان بحری جہازوں کی رہنمائی کرے گا، اور ایران کو متنبہ کیا کہ اسے جو بھی خطرہ لاحق ہوا اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Continue Reading

بزنس

امریکہ ایران کشیدگی کے درمیان سونا اور چاندی کی قیمتیں کم ہوگئیں۔

Published

on

ممبئی: امریکہ-ایران کشیدگی کے درمیان سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی جاری ہے اور پیر کو سرخ رنگ میں کھلا۔ ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر، 5 جون 2026 کے لیے سونے کا معاہدہ 382 روپے یا 0.25 فیصد کمی کے ساتھ 1,51,532 روپے پر کھلا۔ صبح 10 بجے، سونا 252 روپے یا 0.17 فیصد کی کمی کے ساتھ 1,51,100 روپے پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ ٹریڈنگ میں اب تک سونا 1,50,860 روپے کی کم ترین سطح اور 1,51,347 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ چاندی کا معاہدہ 3 جولائی 2026 کو 238 روپے یا 0.094 فیصد کمی کے ساتھ 2,50,699 روپے پر کھلا، جو اس کے پچھلے بند 2,50,937 روپے تھا۔ چاندی فی الحال ₹574، یا 0.23 فیصد کم ہوکر ₹2,50,363 پر ٹریڈ کر رہی تھی۔ تجارت میں چاندی اب تک ₹2,49,760 کی کم ترین اور ₹2,51,231 کی اونچائی کو چھو چکی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ سونا 0.55 فیصد کمی کے ساتھ ₹4,619 فی اونس پر ٹریڈ کر رہا تھا، اور چاندی 0.48 فیصد کمی کے ساتھ ₹76.065 فی اونس پر ٹریڈ کر رہی تھی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور جاری ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو آزاد کرنے کے لیے “پروجیکٹ فریڈم” کا آغاز کرے گا۔ امریکہ نے کئی ممالک سے مدد مانگی ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پھنسے ہوئے بحری جہاز اور ان کا عملہ بے قصور ہیں اور انہیں صرف حالات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ان بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرے گا اور اگر ایران کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ایران نے بھی سخت موقف اپنا رکھا ہے۔ تاہم “پروجیکٹ فریڈم” کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈیوں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں بھی تیزی دیکھی جارہی ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ جیسے حالات برقرار، ٹرمپ کے بیان پر ایران نے ‘عالمی جنگ’ کا انتباہ دیا ہے۔

Published

on

iran-america

تہران : ایران کی فوج نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ فوج نے یہ بھی کہا کہ “ثبوت سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کسی معاہدے یا معاہدے کا پابند نہیں ہے۔” یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر بات چیت کے لیے اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقات کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ بارہا ایران کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھے اور آبنائے ہرمز کو کھولے۔ تاہم ایران آبنائے کو کھولنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایرانی ملٹری ہیڈ کوارٹر کے نائب سربراہ محمد جعفر اسدی نے ایران کی فارس نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ “امریکی حکام کے اقدامات اور بیانات بنیادی طور پر میڈیا پر مبنی ہیں، جس کا مقصد پہلے تیل کی قیمتوں میں کمی کو روکنا ہے اور دوسرا، خود کو اس گندگی سے نکالنا ہے جو انہوں نے پیدا کی ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “مسلح افواج امریکیوں کی کسی بھی نئی ڈھٹائی یا حماقت کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔”

ایرانی میڈیا نے جمعے کے روز اطلاع دی کہ ایران امریکہ جنگ کے دوران حملوں سے بچا ہوا بم پھٹنے سے ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی) کے 14 ارکان ہلاک ہو گئے۔ ایران کے سیکیورٹی اداروں کے قریب سمجھی جانے والی ویب سائٹ نورنیوز کے مطابق دھماکا تہران کے شمال مغرب میں واقع شہر زنجان کے قریب ہوا۔ 7 اپریل کو جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے آئی آر جی کے ارکان کی ہلاکتوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران گولہ بارود کے ساتھ کلسٹر بم بھی گرائے گئے۔

ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دہرائی

  1. ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات غیر یقینی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وہ موجودہ تجاویز سے “خوش نہیں” ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی اور فوجی کارروائی دونوں آپشن ہیں۔
  2. ٹرمپ نے میرین ون سے روانہ ہوتے ہی صحافیوں کو بتایا، “وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں اس سے مطمئن نہیں ہوں، تو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔” انہوں نے ایران کی قیادت کو منقسم اور تذبذب کا شکار قرار دیا۔
  3. ٹرمپ نے کہا کہ وہ سب ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن سب کچھ الجھاؤ کا شکار ہے، انہوں نے مزید کہا کہ قیادت “بہت بکھری ہوئی” ہے اور اس میں اندرونی تقسیم ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ایران کے اندر یہ اندرونی کشمکش ایران کی مذاکراتی پوزیشن کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کے رہنما “ایک دوسرے سے متفق نہیں ہیں” اور “وہ خود نہیں جانتے کہ اصل لیڈر کون ہے”، جس سے مذاکرات مشکل ہو رہے ہیں۔
    انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی فوج نمایاں طور پر کمزور ہوچکی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق حالیہ تنازع کے بعد ملک کے پاس نہ تو بحریہ ہے اور نہ ہی فضائیہ اور اس کی دفاعی صلاحیتیں محدود ہیں۔
  4. ٹرمپ نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو فوجی کارروائی ایک آپشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یا تو کشیدگی بڑھے گی یا سمجھوتہ ہو جائے گا۔
  5. ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی منظوری پہلے کبھی نہیں ملی اور بہت سے لوگ اسے مکمل طور پر غیر آئینی سمجھتے ہیں۔
Continue Reading
Advertisement

رجحان