Connect with us
Tuesday,22-September-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں سنی جمیعت الاسلام کے پرچم تلے مشاورتی اجلاس کا انعقاد

Published

on

(خیال اثر)
مالیگاؤں یوں تو بے شمار متعبر و محترم شخصیتات کا گہوارہ رہا ہے. مذہبی, تعلیمی, سماجی, فلاحی اور سیاسی بنیادوں پر اپنی خدمات سے اس شہر کو روشناس کرانے والے افراد نے اپنی بیش بہا خدمات سے اس شہر کو ایک ایسے شہر میں تبدیل کردیا ہے جس کی نظیر بہ مشکل ہی کہیں اور مل پائے گی. مذہبی سطح پر مولانا عبدالحمید نعمانی علیہ رحمہ نے مدرسہ معہد ملت کی بنیاد گزاری کرتے ہوئے شہر میں مذہبی اقدار کے سرخیل کہلائے. اسی طرح مدرسہ بیت العلوم اور مدرسہ اسلامیہ کے بنیاد گزاروں نے بھی بے مثل خدمات سے مذہبی اقدار کا پرچم بلند کیا تھا. خواتین میں دین و مذہب کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے لئے مرحوم مولانا محمد عثمان نے خواتین کے لئے مدرسہ جامعات الصاحات قائم کرتے ہوتے دنیا بھر کی دختران ملت کی مذہبی آبیاری میں نقش اولین کی حیشت سے نمایاں رہے. مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہی کے فرزند مولانا آفتاب نے مدرسہ عثمانیہ کی بنیاد رکھی تھی. آج مدرسہ عثمانیہ کی مالیگاؤں شہر میں تین سو سے زائد شاخیں مذہبی و قرانی تعلیمات کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کررہی ہیں.
اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دارلعلوم حنفیہ سنیہ سے مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے ایک غریب فرد نے اپنی صلاحتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شہر کے دور افتادہ اور ویران علاقے میں مدرسہ دارالعلوم اہل سنت فیض القران کی بنیاد گزاری کی. انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اس دارالعلوم کی بنیاد گزاری تو کردی گئی لیکن نامسائد حالات کے عالم میں اسے کامیابی سے جاری رکھنا پہاڑ کاٹ کر جوئے شیر نکالنے نکالنے کے مترادف تھا. یہ کارنامہ انجام دیا فرہاد وقت بن کر صوفی ملت مرحوم صوفی غلام رسول قادری شطاری علیہ رحمہ نے جنہیں کورونا جیسی خطرناک وبائی بیماری کے ایام میں بروقت طبی امداد مہیا نہ ہونے کی وجہ سے موت کے بے رحم ہاتھوں نے اپنے خالی دامن میں دبوچ لیا تھا. صوفی ملت کیے ناگہانی وصال نے شہر مالیگاؤں سے ایک روشن و منور آفتاب چھین لیا. مرحوم کے وصال سے ہر ذی حساس کے دل میں یہ شعر بازگشت کی صورت گونج اٹھا کہ
ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا
ہر شعبہ حیات میں مرحوم صوفی ملت علیہ رحمہ کی خدمات اظہر من الشمس رہی ہیں. مرحوم کی ہر شعبہ حیات میں ناقابل فراموش اور نمایاں خدمات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے “محبان صوفی ملت “اور “سنی جمیعت الاسلام “نے طے کیا ہے کہ مرحوم کی خدمات کو ایک کتابی شکل میں شائع کرتے ہوئے ان کے کارہائے نمایاں کو روش تاریخ کا زرین باب بنا دیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان کے کارناموں سے فیض حاصل کرتے جائیں کیونکہ مشہور ہے “اپنے اسلاف کو یاد رکھنا ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا زندہ قوموں کی زندہ علامت ہے”.اسی روایت پر عمل کرنے کے لئے گزشتہ کل صوفی ملت کے مکان پر ہی دارالعلوم حنفیہ سنیہ کے موجودہ صدر الحاج محمد یوسف الیاس کی صدارت میں ایک مشاورتی مجلس کا انعقاد کیا گیا. اس مجلس میں پیرزادہ و صاحب زادہ صوفی ملت کے فرزند ارجمند اور سجادہ نشین صوفی نورالعین صابری نے اغراض و مقاصد پیش کرتے ہوئے محبان صوفی ملت سے اس مسئلے پر ان کی آراء طلب کیں. کل جماعتی تنظیم کے صوفی سعید احمد سعدی, سنی جمعیت الاسلام کے ترجمان اطہر حیسن اشرفی, سنی تعزیہ کمیٹی کے جاوید انور, حافظ اسماعیل, صوفی جمیل ٹیلر, خطیب ملت صوفی انیس احمد قادری ,شمس الضحی اسرائیل کے علاوہ شوشل میڈیا سے منسلک منصور اکبر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے صوفی ملت کی زندگی کے نشیب و فراز کا احاطہ کرتے ہوئے نہ صرف ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا بلکہ ان کی روشن و منور کارناموں پر مبنی کتاب کو عملی شکل دینے کے لئے حاضرین سے پر خلوص تعاون کا اعادہ کیا. ساتھ ہی خود بھی اس میں شامل رہنے کے لئے ہر ممکن کوشش کا یقین دلایا. اس سلسلے میں صحافتی حلقوں میں اپنی خدمات انجام دینے والے صحافی برادری سے تعاون طلب کرنے کے لئے ایک مشاورتی مجلس کا انعقاد بھی کل رات کیا گیا. صوفی ملت کی ستیزہ کار زندگی کے حالات اور نشیب و فراز کتابی شکل میں دنیا کے سامنے آنے کے لئے بے قرار و تاب ہے ہو سکتا ہے یہ کتاب صوفی ملت کے اولین عرس کے موقع پر دنیا کے سامنے رونمائی کا شرف حاصل کرلے. مذکورہ میٹنگ میں صوفی ملت کی زندگی پر تحریری مضامین طلب کرنے کے لئے تحریری دعوت نامے کا اجراء صدر مجلس الحاج یوسف الیاس کے ہاتھوں عمل میں آیا. اس موقع پر سیٹھ محمد اکبر اشرفی, فاروق فردوسی, خیال اثر, اشفاق صدیقی, مرغوب عالم, حافظ عرفان رضا, قاری نور محمد کے علاوہ دارالعلوم فیض القران کے دیگر ذمہ داران و مدرسین اول تا آخر موجود تھے.

(جنرل (عام

پی ایم مودی نے دبئی کے حکمران کے بھائی کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا، شاہی خاندان سے تعزیت کی۔

Published

on

Modi..5

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو دبئی کے حکمران کے بھائی شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور سماج کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔ اپنے پیغام میں پی ایم مودی نے شاہی خاندان اور دبئی کے لوگوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا، “عزت مآب شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ معاشرے کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کو آنے والی نسلیں اہمیت دیں گی۔ میں شاہی خاندان اور عوام کے تئیں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں”۔ اس سے پہلے، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی عدالت نے اعلان کیا کہ پیر کی صبح شیخ احمد بن راشد المکتوم کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 76 سال تھی۔ دبئی میں 10 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔” عدالت عالیہ شیخ محمد بن راشد المکتوم، نائب صدر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران نے آج پیر کی صبح مرحوم شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر سوگ منایا ہے۔ آدھے مستول پر، آج پیر، مؤثر،” حکومت دبئی کے میڈیا آفس نے ایکس پر پوسٹ کیا شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بھی اپنے بھائی کو ذاتی خراج تحسین پیش کیا۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم دبئی کے آنجہانی حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ انہوں نے دبئی پولیس اور پبلک سیکیورٹی کے نائب چیئرمین، اے. آر. ایم کے گروپ چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ہولڈنگ، اور ال وصل اسپورٹس کلب کے صدر۔ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، شیخ احمد نے دبئی میں سنٹرل ملٹری بیس میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں الوصل اسپورٹس کلب کی ویب سائٹ کے مطابق، بیس کے کمانڈر ان چیف بن گئے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں شیخ احمد بن راشد المکتوم نے متحدہ عرب امارات میں گھڑ دوڑ کو فروغ دینے کے لیے جبل علی ریس کورس قائم کیا۔ شیخ احمد بن راشد المکتوم 60 سال سے الوصل اسپورٹس کلب کے صدر ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : فلسطینی بچوں سے اظہار ہمدردی پر پولیس کارروائی کے خلاف شکایت

Published

on

FIR

ممبئی : ممبئی کے باندرہ میں ۱۵ ستمبر کو فلسطین اور غزہ کے بچوں کی حمایت واظہار یکجہتی میں پتنگ بازی کے معاملہ میں پولیس ہراسائی اور بلا کسی سمن اور نوٹس کے طلبا و سماجی کارکن کے گھر کی تلاشی لینے کے خلاف ۲۶ سالہ سماجی کارکن اور طالبہ ہرشدا بور اڈے نے پولیس کمشنر سے شکایت کی ہے اور خاطی افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, اس شکایت کے ساتھ انہوں نے متعلق ثبوت بھی پیش کئے ہیں. شام پانچ بجے پولیس واکولہ میں واقع طالبہ کے گھر پر داخل ہوتی ہے اور ۲بجکر ۴۵ منٹ تک تلاشی مہم انجام دیتی ہے. ہرشدا نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ گھر کی تلاشی کا پولیس کے پاس کوئی بھی حکمنامہ نہیں تھا اور پولیس نے پرائیوٹ پنچنامہ کیا ہے جو سراسر غیر قانونی ہے. شکایتی مکتوب میں ہرشا نے بتایا کہ وہ ایک طالبہ ہے اور ممبئی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کے لئے باندرہ میں پتنگ بازی کی تھی جس کے بعد ۱۷ستمبر کو پولیس نے ان کے گھر پہنچ کر تلاشی لی اور انہیں اور ان کے دوستوں و دیگر طلبا کو ہراساں کیا ہے, پولیس کو تلاشی سے قبل قانونی نوٹس دینا چاہئے تھا جو ہر شہری کا حق ہے, لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا جس طرح سے پولیس نے پتنگ بازی پر یہ کارروائی کی ہے یہ دستور کی دفعہ آرٹیکل ۱۹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ آزادی اظہار رائے کا ہر شہری کو حق حاصل ہے ہرشدا نے مطالبہ کیا ہے کہ باندرہ اور واکولہ پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو اور اس معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے۔ اس پورے معاملے کی انکوائری اعلی افسران کی نگرانی میں سائبر سیل کے معرفت کروائی جائے اور جو بھی پولیس اہلکار خاطی ہے ان پر کارروائی ہو۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

Published

on

Mumbai Coastal Road

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان