Connect with us
Monday,05-October-2026

سیاست

غیر ذمہ دار کمشنر کی وجہ سے کارپوریشن اور شہر کا نظام درہم برہم

Published

on

gairzima-malegaon

(پریس ریلیز)
مالیگاؤں میونسپل کمشنر دیپک کاسار صاحب جب سے اپنے عہدے پر براجمان ہوئے ہے تب سے اب تک ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کارپوریشن کو برخاست کردیا گیا ہے اور مالیگاؤں شہر میں کوئی انتظامیہ یا ذمہ دار ہے ہی نہیں کارپوریشن میں من موجی کاروبار جاری ہے عوام کی تکلیفوں کو کوئی سننے، دیکھنے، سمجھنے والا موجود نہیں ہے پورے شہر میں گندگی، تعفن، کچروں کے انبار، آوارہ کتّوں کی دھماچوکڑی، مچھروں کی بہتات، ملیریا، کارپوریشن کا آتی کرمن بڑھتا جارہا ہے صاف صفائی کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ناکام ہوچکا ہے و دیگر مسائل سے شہریان جونجھ رہے ہیں اور کمشنر صاحب اکثر کارپوریشن سے غائب رہتے ہے ہفتے میں چار دن غائب کبھی آفس میں صرف ایک گھنٹہ، جمعہ کو ایک گھنٹہ جس کی وجہ سے کارپوریشن کا نظام درہم برہم ہے افسوں میں اکثر آفسر غائب رہتے ہیں کیا مالیگاؤں شہر کو ایسے غیر ذمہ دار کمشنر کی ضرورت ہے؟ کمشنر صاحب کی کارپوریشن سے مسلسل غیر حاضری معنی خیز ہے!
شکایتوں کے انبار ڈپٹی کمشنر و دیگر ادھیکاری صرف جمع کررہے ہیں اور عمل نادارد ہے پچھلے دنوں شہر میں کئی کاموں کی شروعات کی گئی کیا کمشنر صاحب ان کاموں کا جائزہ لینے پہنچنے؟ کتنے کاموں کی کوالٹی ٹیسٹ کروائی؟ کتنی مرتبہ شہر کا دورہ کیا؟ فائلیں گھر پر جمع ہورہی ہے آفس کا کام گھر پر کیوں؟ کیا سرکار انھیں تنخواہ نہیں دیتی؟ کیا یہ پرائیویٹ کمپنی چلارہے ہے؟ عوامی نمائندوں کو بھی بار بار ان کے گھر جانا پڑتا ہے اگر کمشنر صاحب کو تمام کام اپنے بنگلے سے ہی کرنا ہے تو انھیں گھر ہی بیٹھا دیا جائے۔
آخر بنگلے سے کام کاج کرنے کے پیچھے راج کیا ہے؟ مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے کارپوریشن میں بدعنوانی و بھرشٹاچاری کا بھی اندیشہ ہے جنتے دن کمشنر صاحب کارپوریشن سے غیر حاضر تھے انتے دن کی تنخواہ کاٹی جائے اور ان پر سخت کارروائی کی جائے کمشنر صاحب کے اس غیر ذمے دارانہ روے کی وجہ سے شہر کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور اگر کمشنر صاحب اپنی ذمہ داری نہیں نبھا سکتے تو انھیں فوراً معطل کردینا چاہیے ایسے کمشنر کی شہر کو ضوروت نہیں ہے ایماندار فرض شناس کمشنر کی تقرری کی جاۂے ہماری معلومات کے حساب سے گرنا پمپنگ اسٹیشن پر ریپئرنگ کے نام پر 3کروڑ72لاکھ روپے کا ٹینڈر لکالا گیا جبکہ نیا پمپ فٹنگ وغیرہ کرکے گیارنٹی ورانٹی کے ساتھ 50 سے 60لاکھ میں کام ہوجاتا ہے کارپوریشن میں اندھیر نگری چوپٹ راج جاری ہے پچھلے کرونا بلوں میں بھی کروڑوں روپے نکالے گئے بائیو مائننگ، کچروں کے ٹھیکے میں گھپلا کمشنر صاحب کیا کررہے ہے اور کیا کرنا چاہتے ہے؟ اگر انھیں کام کاج نہیں کرنا ہے تو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائے 14 تاریخ کے بعد کمشنر یا ادھیکاری، کرمچاری آفسوں میں نہیں آئے تو ہمارا گاؤں ہے ہم خود سیوا دیں گے اور آفسوں میں بیٹھ کر کام دیکھیں گے اس کے ذمہ دار کمشنر اور پرشاشن رہے گا۔ اسطرح کے مطالبات کو لیکر حفاظت گروپ صدر محمد عارف نوری کی قیادت میں وفد نے ایڈیشنل کلکٹر صاحب سے ملاقات کی اور مکتوب دیا اگر جلد ہی کاروائی نہیں کی گئی تو آنے والے دنوں میں میونسپل کمشنر کے خلاف سخت احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا اس میمورنڈم کی ایک کاپی پالک منتری چھگن بھجبل صاحب کو بھی روانہ کی گئی۔
اس موقع پر محمد عارف نوری، خان باقر حسین،مولانا عبدالرشید مجدی صاحب، سرفراز وائرمین، مشیر احمد، ساجد اختر، محمد صادق کپتان، و دیگر احباب موجود تھے

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کستوربا مارگ پولس ۱۰۰چوری شدہ موبائل برآمد، اصل مالکان کے سپرد

Published

on

Mobile-Recovery

ممبئی کستوربا مارگ پولیس تھانہ کی حد سے چوری شدہ اور گمشدہ موبائل فون کے بارے میں موصول شکایتوں کے سلسلے میں سی ای آئی آر پورٹل کے ذریعے دستیاب معلومات کا تجزیہ کرکے اور موبائل فون کی تکنیکی تفتیش کی گئی۔مذکورہ تکنیکی تفتیش کے دوران موبائل فون کی معلومات، آئی ایم ای آئی نمبر اور اس کا استعمال کرنے والے شخص کی معلومات کی تصدیق کرکے کستوربا مارگ پولیس تھانے کے پولیس افسر اور اہلکاروں نے ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر ریاستوں میں تلاش کرکے کل 100 موبائل فون برآمد کیے ہیں۔ برآمد کیے گئے 100 موبائل فون کی اندازاً کل قیمت 22,70,658/- روپے اتنی ہے۔ مذکورہ برآمد 100 موبائل میں سے 18 موبائل شکایت کنندہ / مالکان کو ان کے فون واپس کیے گئے ہیں جن میں 1) راجندر پوری 2) خوش ساو 3) کرپا لودھیا 4) شریا ساٹم 5) اتل ساٹھے 6) پریانکا مستری 7) بنو ترنگ 8) پریم گپتا 9) آدیا شیخ 10) شویتا شاہ 11) سندھیا پنڈت 12) دیپک ساوڈیکر 13) سوربھ جھانگڑ 14) کیتن شیٹے 15) اونکار راؤت 16) جیالال یادو 17) لکشمی اپا کرپا گری 18) پروین دوبے اور باقی شہریوں کو ان کے موبائل فون واپس کرنے کی کارروائی جاری ہے۔ مذکورہ کارکردگی ڈی سی پی شمالی پری منڈل 3، ممبئی-راجانے کستوربا مارگ پولیس تھانہ، بالاصاحب بنکرانجام دی ہے۔

Continue Reading

سیاست

مدھیہ پردیش : انوپ پور میں ایک شخص نے لاٹھی سے خاندان کے چار افراد کو قتل کر دیا اور چار دیگر کو زخمی کر دیا۔

Published

on

death

انوپ پور : مدھیہ پردیش کے انوپ پور ضلع کے ایک گاؤں میں ہفتہ کے روز ایک 32 سالہ شخص نے مبینہ طور پر اپنے کنبہ کے چار افراد کو ہلاک اور چار دیگر کو زخمی کر دیا، پولیس نے بتایا۔ یہ واقعہ مقامی تھانے کی حدود میں واقع آمودا گاؤں میں پیش آیا، جہاں ملزم کی شناخت پریم سنگھ گونڈ کے طور پر ہوئی تھی، اپنی ماں کے ساتھ اپنے نانا نانی کے گھر میں رہ رہا تھا۔ گنگارام نے جمعہ کی رات، جس کے بعد گاؤں والوں نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے روک لیا۔ ہفتہ کی صبح 4 بجے سے 5 بجے کے درمیان اس کی ماں، انوپیا بائی نے اسے کھول دیا، جس کے بعد اس نے مبینہ طور پر قریب پڑی ایک لاٹھی اٹھائی اور کنبہ کے افراد پر حملہ کیا، پولیس نے بتایا۔ اس کی نانی، بھنی بائی اور گوند سنگھ (7)، دادی، گوند، 7 اور گوندل (7)۔ اس حملے میں ماں، انوپیا بائی (50) کی موت ہوگئی۔ پریم سنگھ نے اپنے ماموں چین سنگھ اور اس کی دو بیٹیوں چنچل (6) اور بھارتی (3) پر بھی حملہ کیا۔

اس کے ماموں کی دوسری بیٹی مونیکا بھی شدید زخمی تھی اور بعد میں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی، جس سے مرنے والوں کی تعداد چار ہوگئی۔ چین سنگھ، چنچل اور بھارتی شاہڈول اسپتال میں زیر علاج ہیں، جب کہ پجاری گنگارام بھی پہلے حملے میں زخمی ہونے والے زخمیوں کی طبی دیکھ بھال کر رہے ہیں، پولیس نے بتایا۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کی ایک ٹیم علاقے میں پہنچ گئی اور سنگھ کو علاقے میں گھیرے میں لے لیا گیا۔ حراست میں لیا گیا ہے، اور ایک فرانزک ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں،” ایک پولیس اہلکار نے بتایا۔ حملے کے پیچھے محرکات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

Continue Reading

سیاست

مغربی بنگال کے اشوک نگر میں ٹی ایم سی رہنما اور ان کے والد پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے۔

Published

on

Death

کولکتہ : ترنمول کانگریس کے ایک مقامی رہنما اور اس کے والد ہفتہ کو مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع کے اشوک نگر میں ان کی رہائش گاہ پر پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے، پولیس نے بتایا۔ مرنے والے ترنمول لیڈر کی شناخت سنجے راوت کے طور پر کی گئی ہے۔ اس کے والد، کمل راؤت، جو ایک بزرگ شہری تھے، کی لاش بھی اسی کمرے کے ایک بستر سے برآمد ہوئی تھی، ایک ضلعی پولیس افسر نے بتایا۔ “جس وقت والد کی لاش برآمد ہوئی، وہ زندہ تھے، انہیں اسپتال لے جایا گیا، لیکن وہ جلد ہی دم توڑ گئے،” ایک ضلعی پولیس افسر نے تصدیق کی۔ اشوک نگر اسمبلی حلقہ، نارائن گوسوامی۔

سنجے (49) اور اس کے والد (72) اشوک نگر کلیان گڑھ میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 13 کے رہائشی تھے۔ مقامی لوگوں نے میڈیا والوں کو بتایا کہ سنیچر کی دوپہر سنجے کی لاش گھر کی بالکونی سے لٹکی ہوئی ملی تھی، “کمل راؤت کو گھر سے بے ہوشی کی حالت میں برآمد کیا گیا، اسے اشوک نگر اسٹیٹ جنرل اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا، ابتدائی طور پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ کمل نے نیند کی گولیاں کھائی تھیں، جب کہ سنجے نے بتایا کہ ایک مقامی باشندے نے خود کو نیند کی گولیاں کھائیں”۔

پولیس نے باپ بیٹے کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے بھجوا دیں۔ “ان کی موت کے پیچھے اصل وجوہات کا پتہ پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا،” ایک ضلع پولیس افسر نے کہا۔ مقامی سطح پر ترنمول کانگریس کے ایک سرگرم رہنما ہونے کے علاوہ، سنجے راوت برآمدی درآمد کے کاروبار میں بھی شامل تھے۔ کچھ مقامی باشندوں نے بتایا کہ ماضی قریب میں وہ کاروبار سے متعلق کچھ نقصانات کی وجہ سے پریشان تھا۔ سنجے غیر شادی شدہ تھا۔ اس کے والد اس کے ساتھ رہتے تھے۔ ابتدائی طور پر، پولیس کو شبہ ہے کہ سنجے نے اپنے والد کو نیند کی گولیاں کھلانے کے بعد خودکشی کی ہو گی۔ تاہم اشوک نگر پولیس نے باپ بیٹے کی موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے تفصیلی تحقیقات شروع کردی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان