Connect with us
Wednesday,12-August-2026
تازہ خبریں

سیاست

غیر ذمہ دار کمشنر کی وجہ سے کارپوریشن اور شہر کا نظام درہم برہم

Published

on

gairzima-malegaon

(پریس ریلیز)
مالیگاؤں میونسپل کمشنر دیپک کاسار صاحب جب سے اپنے عہدے پر براجمان ہوئے ہے تب سے اب تک ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کارپوریشن کو برخاست کردیا گیا ہے اور مالیگاؤں شہر میں کوئی انتظامیہ یا ذمہ دار ہے ہی نہیں کارپوریشن میں من موجی کاروبار جاری ہے عوام کی تکلیفوں کو کوئی سننے، دیکھنے، سمجھنے والا موجود نہیں ہے پورے شہر میں گندگی، تعفن، کچروں کے انبار، آوارہ کتّوں کی دھماچوکڑی، مچھروں کی بہتات، ملیریا، کارپوریشن کا آتی کرمن بڑھتا جارہا ہے صاف صفائی کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ناکام ہوچکا ہے و دیگر مسائل سے شہریان جونجھ رہے ہیں اور کمشنر صاحب اکثر کارپوریشن سے غائب رہتے ہے ہفتے میں چار دن غائب کبھی آفس میں صرف ایک گھنٹہ، جمعہ کو ایک گھنٹہ جس کی وجہ سے کارپوریشن کا نظام درہم برہم ہے افسوں میں اکثر آفسر غائب رہتے ہیں کیا مالیگاؤں شہر کو ایسے غیر ذمہ دار کمشنر کی ضرورت ہے؟ کمشنر صاحب کی کارپوریشن سے مسلسل غیر حاضری معنی خیز ہے!
شکایتوں کے انبار ڈپٹی کمشنر و دیگر ادھیکاری صرف جمع کررہے ہیں اور عمل نادارد ہے پچھلے دنوں شہر میں کئی کاموں کی شروعات کی گئی کیا کمشنر صاحب ان کاموں کا جائزہ لینے پہنچنے؟ کتنے کاموں کی کوالٹی ٹیسٹ کروائی؟ کتنی مرتبہ شہر کا دورہ کیا؟ فائلیں گھر پر جمع ہورہی ہے آفس کا کام گھر پر کیوں؟ کیا سرکار انھیں تنخواہ نہیں دیتی؟ کیا یہ پرائیویٹ کمپنی چلارہے ہے؟ عوامی نمائندوں کو بھی بار بار ان کے گھر جانا پڑتا ہے اگر کمشنر صاحب کو تمام کام اپنے بنگلے سے ہی کرنا ہے تو انھیں گھر ہی بیٹھا دیا جائے۔
آخر بنگلے سے کام کاج کرنے کے پیچھے راج کیا ہے؟ مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے کارپوریشن میں بدعنوانی و بھرشٹاچاری کا بھی اندیشہ ہے جنتے دن کمشنر صاحب کارپوریشن سے غیر حاضر تھے انتے دن کی تنخواہ کاٹی جائے اور ان پر سخت کارروائی کی جائے کمشنر صاحب کے اس غیر ذمے دارانہ روے کی وجہ سے شہر کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور اگر کمشنر صاحب اپنی ذمہ داری نہیں نبھا سکتے تو انھیں فوراً معطل کردینا چاہیے ایسے کمشنر کی شہر کو ضوروت نہیں ہے ایماندار فرض شناس کمشنر کی تقرری کی جاۂے ہماری معلومات کے حساب سے گرنا پمپنگ اسٹیشن پر ریپئرنگ کے نام پر 3کروڑ72لاکھ روپے کا ٹینڈر لکالا گیا جبکہ نیا پمپ فٹنگ وغیرہ کرکے گیارنٹی ورانٹی کے ساتھ 50 سے 60لاکھ میں کام ہوجاتا ہے کارپوریشن میں اندھیر نگری چوپٹ راج جاری ہے پچھلے کرونا بلوں میں بھی کروڑوں روپے نکالے گئے بائیو مائننگ، کچروں کے ٹھیکے میں گھپلا کمشنر صاحب کیا کررہے ہے اور کیا کرنا چاہتے ہے؟ اگر انھیں کام کاج نہیں کرنا ہے تو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائے 14 تاریخ کے بعد کمشنر یا ادھیکاری، کرمچاری آفسوں میں نہیں آئے تو ہمارا گاؤں ہے ہم خود سیوا دیں گے اور آفسوں میں بیٹھ کر کام دیکھیں گے اس کے ذمہ دار کمشنر اور پرشاشن رہے گا۔ اسطرح کے مطالبات کو لیکر حفاظت گروپ صدر محمد عارف نوری کی قیادت میں وفد نے ایڈیشنل کلکٹر صاحب سے ملاقات کی اور مکتوب دیا اگر جلد ہی کاروائی نہیں کی گئی تو آنے والے دنوں میں میونسپل کمشنر کے خلاف سخت احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا اس میمورنڈم کی ایک کاپی پالک منتری چھگن بھجبل صاحب کو بھی روانہ کی گئی۔
اس موقع پر محمد عارف نوری، خان باقر حسین،مولانا عبدالرشید مجدی صاحب، سرفراز وائرمین، مشیر احمد، ساجد اختر، محمد صادق کپتان، و دیگر احباب موجود تھے

بین الاقوامی خبریں

پاکستان کے بلوچستان میں باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں نے مستقبل کے بارے میں سوالات کھڑے کر دیے، باغی 85 فیصد علاقے پر کنٹرول کا دعویٰ کر رہے۔

Published

on

BALOCH

کوئٹہ : پاکستان کے بلوچستان میں صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔ بلوچ مزاحمت کار پاکستانی فوج اور پولیس پر ٹارگٹ حملے کر رہے ہیں۔ ان حملوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ باغیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بلوچستان کا بیشتر حصہ پاکستان سے آزاد کرالیا ہے۔ وہ بلوچستان میں ایک الگ جھنڈے اور آئین کے ساتھ اپنی حکومت قائم کرنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ بلوچستان میں سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے چین میں تناؤ میں بھی اضافہ کیا ہے، کیونکہ یہ صوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کا مرکز ہے۔

بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) اور ان سے وابستہ گروپوں نے پاکستانی فوج پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ان گروہوں نے مختلف علاقوں میں بیک وقت حملے کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس صلاحیت نے پاکستانی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستانی فوج بلوچستان کے کئی علاقوں سے پسپائی اختیار کر چکی ہے۔ بلوچ مزاحمت کاروں نے افغانستان کے ساتھ سرحد بالخصوص افغانستان کے ساتھ سرحد کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی فوج کے کئی بنکرز اور چوکیوں کو تباہ کر دیا ہے اور وہاں اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔

بلوچ باغی پاکستانی فوج کے قافلوں، فوجی اڈوں اور سی پیک سے متعلقہ منصوبوں پر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسٹریٹجک مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں گوادر کے آس پاس کے علاقے اور ریکوڈک جیسے معدنی وسائل کے منصوبے شامل ہیں۔ بلوچ باغی ہٹ اینڈ رن کے ہتھکنڈوں سے آگے بڑھ رہے ہیں اور گھات لگا کر حملے اور خودکش حملے سمیت مزید جدید ترین فوجی آپریشن کر رہے ہیں۔ ان حملوں نے پاکستانی فوج کے حوصلے پست کر دیے ہیں، جس سے ان کے صوبے میں داخل ہونے کا خدشہ ہے۔

بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے پاکستان پر اقتصادی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ انہوں نے کوئٹہ تفتان شاہراہ کو بلاک کر دیا ہے۔ ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والی گاڑیوں کو پنکچر کیا جا رہا ہے اور ان کے ٹائروں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ یہ پاکستان اور چین کو بلوچستان کے قیمتی وسائل نکالنے سے روکتا ہے۔ کئی بارودی سرنگیں بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ خضدار، تربت اور دالبندین سمیت متعدد علاقوں میں فرنٹیئر کور اور پاکستانی فوج کے قافلوں پر 48 سے زائد حملوں میں 35 سے زائد سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے تقریباً 12 اضلاع جن میں کیچ، کوئٹہ، نوشکی اور گوادر شامل ہیں، باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بلوچستان کا تقریباً 85 فیصد حصہ پاکستانی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے۔

بلوچستان میں باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں نے سی پیک کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گوادر پورٹ، سی پی ای سی کا ایک اہم منصوبہ، بلوچستان میں واقع ہے۔ سی پیک منصوبہ پاکستان کو بلوچستان کے راستے چین کے سنکیانگ سے ملاتا ہے۔ بلوچستان قدرتی گیس، کوئلہ، تانبے اور سونے کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ چین نے اس صوبے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ لہذا، اگر بلوچستان غیر مستحکم ہو جاتا ہے، تو یہ چین کے سی پی ای سی کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، جس میں اس نے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں سائبر فراڈ، ایک کروڑ سے زائد کی ٹھگی، ۷ ملزمین گرفتار

Published

on

ARRESTED..8

ممبئی : سائبر پولس اسٹیشن نے ایک ایسے سائبر جرائم کا معمہ حل کرنے کا دعوی کیا ہے, جس میں شکایت کنندہ کو وہاٹس اپ پر۲ اپریل سے ۱۸ اپریل ۲۰۲۶ تک ڈیجیٹل اریسٹ کر کے منی لانڈنگ کیس میں پھنسانے کی دھمکی دی تھی اور فرضی الیکٹرانک ڈستاویزات ارسال کر کے آن لائن ایک کروڑ ۶۷ لاکھ ۴۰ ہزار کی دھوکہ دہی کی تھی, اس معاملہ میں ٹیکنیکل تفتیش کے دوران پولس نے۷ ملزمین کو گرفتار کیا ہے, جس کی شناخت سنجے ہیرا لال ۵۷ سالہ جو او ٹی پی تیار کیا کرتا تھا، ۳۲ سالہ خاتون ملزمہ دھوکہ کی رقم ٹھکانہ لگایا کرتی تھی، رشی رام چندر مینا ۳۸ بینک اکاؤنٹ میں دھوکہ دہی کی رقومات کی منتقلی کیا کرتا تھا، نوشاد علی ۳۱ سالہ شکایت کنندہ اور متاثرہ کو ڈیجیٹل اریسٹ کرنے کے ساتھ ڈیجیٹل طریقے سے اس گروہ میں کام کیا کرتا تھا, محمد خالد حفیظ الدین سیف ۲۷ ڈیجیٹل ماہر، جوگیش مہتا ۴۳ سالہ اور زبیر حسین کو اپنے اکاؤنٹ میں دھوکہ دہی کی رقم جمع کرنے میں تعاون کیا کرتے تھے ملزمین کے قبضے سے ۲۷ موبائل، ۲ لیپ ٹاپ، ۵ ڈیجیٹل سائن ڈیوائس ۶۱۳ متعدد کمپنیوں کے سم کارڈ ۱۰ چیک بک ۲ پاس بک ۲ اے ٹی ایم کارڈ ضبط کیے ہیں ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈیجیٹل اریسٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور ایسے میں نامعلوم سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر رابطہ نہ رکھیں, اگر کوئی ڈیجیٹل اریسٹ کی دھمکی دیتا ہے تو پر یقین نہ کرے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ملاوٹی دودھ فروخت کرنے والا گروہ بے نقاب… کرائم برانچ کی کاروائی، اب تک ۴ ملزمین گرفتار، مشین اور اسباب ضبط

Published

on

arrested...-1

ممبئی : نامور دودھ کمپنی میں گندہ پانی کر ملاؤٹی دودھ تیار کرنے والے گروہ کو ممبئی کرائم برانچ نے بے نقاب کیا تھا اور دہیسر میں نامور کمپنی کے دودھ میں ملاؤٹ کرنے والے ملزمین کو گرفتار کیا تھا امول اور تازہ دودھ کی تھیلیوں میں ملاؤٹی دودھ بھر کر اسے فروخت کیا جاتا تھا۔ اس معاملہ میں دو ملزمین کو ۹ جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد تفتیش میں پیش رفت میں یہ انکشاف ہوا کہ وسئی میں امول اور نامور کمپنیوں کی تھیلیاں طبع کی جاتی ہے اور اس گروہ کا ماسٹر مائنڈ کو تلنگانہ سے گرفتار کیا گیا دودھ کی تھیلیاں تیار کرنے والی مشین کو ۱۰ لاکھ روپے کو بھی ضبط کیا گیا ہے۔ یہ ممبئی شہر و مضافات میں ۲۰۲۱ سے دودھ میں ملاوٹ کر رہے تھے اور ملاؤٹی دودھ کی فروخت کی جارہی تھی. اس معاملہ میں کل ۴ ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں پولس نے چھاپہ مار کارروائی میں ملاؤٹی دودھ کی تھیلیاں اور دیگر اسباب ضبط کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی کرائم برانچ کی یونٹ ۱۲ نے انجام دی تھی. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے اور ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان