Connect with us
Thursday,30-April-2026

سیاست

غیر ذمہ دار کمشنر کی وجہ سے کارپوریشن اور شہر کا نظام درہم برہم

Published

on

gairzima-malegaon

(پریس ریلیز)
مالیگاؤں میونسپل کمشنر دیپک کاسار صاحب جب سے اپنے عہدے پر براجمان ہوئے ہے تب سے اب تک ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کارپوریشن کو برخاست کردیا گیا ہے اور مالیگاؤں شہر میں کوئی انتظامیہ یا ذمہ دار ہے ہی نہیں کارپوریشن میں من موجی کاروبار جاری ہے عوام کی تکلیفوں کو کوئی سننے، دیکھنے، سمجھنے والا موجود نہیں ہے پورے شہر میں گندگی، تعفن، کچروں کے انبار، آوارہ کتّوں کی دھماچوکڑی، مچھروں کی بہتات، ملیریا، کارپوریشن کا آتی کرمن بڑھتا جارہا ہے صاف صفائی کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ناکام ہوچکا ہے و دیگر مسائل سے شہریان جونجھ رہے ہیں اور کمشنر صاحب اکثر کارپوریشن سے غائب رہتے ہے ہفتے میں چار دن غائب کبھی آفس میں صرف ایک گھنٹہ، جمعہ کو ایک گھنٹہ جس کی وجہ سے کارپوریشن کا نظام درہم برہم ہے افسوں میں اکثر آفسر غائب رہتے ہیں کیا مالیگاؤں شہر کو ایسے غیر ذمہ دار کمشنر کی ضرورت ہے؟ کمشنر صاحب کی کارپوریشن سے مسلسل غیر حاضری معنی خیز ہے!
شکایتوں کے انبار ڈپٹی کمشنر و دیگر ادھیکاری صرف جمع کررہے ہیں اور عمل نادارد ہے پچھلے دنوں شہر میں کئی کاموں کی شروعات کی گئی کیا کمشنر صاحب ان کاموں کا جائزہ لینے پہنچنے؟ کتنے کاموں کی کوالٹی ٹیسٹ کروائی؟ کتنی مرتبہ شہر کا دورہ کیا؟ فائلیں گھر پر جمع ہورہی ہے آفس کا کام گھر پر کیوں؟ کیا سرکار انھیں تنخواہ نہیں دیتی؟ کیا یہ پرائیویٹ کمپنی چلارہے ہے؟ عوامی نمائندوں کو بھی بار بار ان کے گھر جانا پڑتا ہے اگر کمشنر صاحب کو تمام کام اپنے بنگلے سے ہی کرنا ہے تو انھیں گھر ہی بیٹھا دیا جائے۔
آخر بنگلے سے کام کاج کرنے کے پیچھے راج کیا ہے؟ مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے کارپوریشن میں بدعنوانی و بھرشٹاچاری کا بھی اندیشہ ہے جنتے دن کمشنر صاحب کارپوریشن سے غیر حاضر تھے انتے دن کی تنخواہ کاٹی جائے اور ان پر سخت کارروائی کی جائے کمشنر صاحب کے اس غیر ذمے دارانہ روے کی وجہ سے شہر کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور اگر کمشنر صاحب اپنی ذمہ داری نہیں نبھا سکتے تو انھیں فوراً معطل کردینا چاہیے ایسے کمشنر کی شہر کو ضوروت نہیں ہے ایماندار فرض شناس کمشنر کی تقرری کی جاۂے ہماری معلومات کے حساب سے گرنا پمپنگ اسٹیشن پر ریپئرنگ کے نام پر 3کروڑ72لاکھ روپے کا ٹینڈر لکالا گیا جبکہ نیا پمپ فٹنگ وغیرہ کرکے گیارنٹی ورانٹی کے ساتھ 50 سے 60لاکھ میں کام ہوجاتا ہے کارپوریشن میں اندھیر نگری چوپٹ راج جاری ہے پچھلے کرونا بلوں میں بھی کروڑوں روپے نکالے گئے بائیو مائننگ، کچروں کے ٹھیکے میں گھپلا کمشنر صاحب کیا کررہے ہے اور کیا کرنا چاہتے ہے؟ اگر انھیں کام کاج نہیں کرنا ہے تو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائے 14 تاریخ کے بعد کمشنر یا ادھیکاری، کرمچاری آفسوں میں نہیں آئے تو ہمارا گاؤں ہے ہم خود سیوا دیں گے اور آفسوں میں بیٹھ کر کام دیکھیں گے اس کے ذمہ دار کمشنر اور پرشاشن رہے گا۔ اسطرح کے مطالبات کو لیکر حفاظت گروپ صدر محمد عارف نوری کی قیادت میں وفد نے ایڈیشنل کلکٹر صاحب سے ملاقات کی اور مکتوب دیا اگر جلد ہی کاروائی نہیں کی گئی تو آنے والے دنوں میں میونسپل کمشنر کے خلاف سخت احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا اس میمورنڈم کی ایک کاپی پالک منتری چھگن بھجبل صاحب کو بھی روانہ کی گئی۔
اس موقع پر محمد عارف نوری، خان باقر حسین،مولانا عبدالرشید مجدی صاحب، سرفراز وائرمین، مشیر احمد، ساجد اختر، محمد صادق کپتان، و دیگر احباب موجود تھے

بین الاقوامی خبریں

ایرانی صدر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر برہم، ٹرمپ اور امریکا کو نیا اتحاد بنانے کا انتباہ

Published

on

IRAN

تہران : ایران نے ایک بار پھر امریکی بحری ناکہ بندی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی سے صورتحال مزید خراب ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے خلیجی خطے میں رکاوٹیں مزید گہرے ہوں گی اور ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روکا جائے گا۔ مسعود کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی ناکہ بندی جاری رہے گی کیونکہ اس نے ایران کو بری طرح گھیر لیا ہے۔ ایسی صورت حال میں ایران کا سخت موقف کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق پیزشکیان نے امریکی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سمندری ناکہ بندی یا پابندیاں لگانے کی کوششیں بین الاقوامی قوانین کی براہ راست خلاف ورزی ہیں اور یقیناً ناکام ہوں گی۔ اس طرح کے اقدامات علاقائی عدم تحفظ کو بڑھاتے ہیں اور کشیدگی کا باعث ہیں۔ وہ خلیج فارس میں پائیدار استحکام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

ایرانی صدر نے آبنائے ہرمز میں ہنگامہ آرائی اور سمندری ٹریفک میں خلل کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔ پیزشکیان نے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ عظیم ایرانی قوم کی مزاحمت کی علامت ہے۔ اس آبی علاقے میں کسی بھی قسم کے عدم تحفظ کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہیں۔ امریکی بحریہ نے گزشتہ تین ہفتوں سے آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اس ناکہ بندی کے ذریعے امریکہ ایران کی تیل کی تجارت کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ تیل کی برآمدات روک کر ایران پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ امریکہ کو لگتا ہے کہ اس سے ایران ایک معاہدے پر راضی ہو جائے گا۔

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے درمیان، امریکہ اس سمندری راستے سے تجارتی جہاز رانی دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک نئے بین الاقوامی اتحاد پر زور دے رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے امریکی سفارت خانوں کو ایک داخلی کیبل بھیجا جس میں سفارت کاروں پر زور دیا گیا کہ وہ دنیا بھر کی حکومتوں کو میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ میں شامل ہونے پر آمادہ کریں۔ میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ ایک امریکی زیر قیادت اتحاد ہے جس کا مقصد معلومات کا اشتراک، سفارتی رابطہ کاری اور پابندیوں کا نفاذ ہے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سفارتی آپریشنز کے مرکز کے طور پر کام کرے گا، اور امریکی سینٹرل کمانڈ ریئل ٹائم میری ٹائم ڈومین معلومات فراہم کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق، کیبل میں کہا گیا ہے، “آپ کی شرکت سے نیوی گیشن کی آزادی کو بحال کرنے اور عالمی معیشت کے تحفظ کے لیے ہماری اجتماعی صلاحیت کو تقویت ملے گی۔” ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ خیال صدر ٹرمپ کے پاس دستیاب بہت سے سفارتی اور پالیسی وسائل میں سے تھا۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو قومی اثاثہ سمجھتا ہے اور ان پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

Published

on

تہران : ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ خلیج فارس کے خطے میں ایک نئی شروعات ہو رہی ہے اور اس کے مستقبل کا تعین امریکہ کے بغیر ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلامی جمہوریہ اپنی ایٹمی اور میزائل صلاحیتوں کو قومی اثاثے کے طور پر محفوظ رکھے گا۔ ایران کے سرکاری میڈیا پر جاری ہونے والے ان کے پیغام میں کہا گیا ہے کہ خامنہ ای نے آبنائے ہرمز پر کسی قسم کے سمجھوتے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خلیج فارس میں امریکیوں کا واحد مقام اس کی گہرائیوں میں ہے اور خطے کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی کی جانب سے یہ پیغام خلیج فارس کے قومی دن کے موقع پر جاری کیا گیا، جو کہ 1622 میں آبنائے ہرمز سے پرتگالی فوجوں کو نکالے جانے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ خامنہ ای نے کہا کہ آبنائے ہرمز صدیوں سے بیرونی طاقتوں کے لیے مقناطیس کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس نے وہاں بہت سے ممالک کو اپنا اثر و رسوخ قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے فروری کے آخر سے ایران کے خلاف امریکی اسرائیل جنگ کے دوران اپنی افواج کے عزم، چوکسی اور حوصلے کو قریب سے دیکھا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خلیج فارس کے خطے کا روشن مستقبل ہوگا، بیرونی مداخلت سے پاک اور اپنے عوام کی ترقی، سہولت اور خوشحالی کے لیے کام کرے گا۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی علاقائی ممالک کے مفاد میں ہو گی اور مقامی قوتوں کے کردار کو تقویت دے گی۔ قابل ذکر ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ کی طویل عرصے سے خطے میں فوجی اور تزویراتی موجودگی ہے، جس کی ایران مسلسل مخالفت کرتا رہا ہے۔ خامنہ ای نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائے گا اور غیر ملکی “لالچ اور بغض” کو ختم کرے گا۔ ان کے مطابق خلیجی خطے کے ممالک کا مستقبل مشترکہ تقدیر سے جڑا ہوا ہے جس میں بیرونی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جاتی۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ملک کے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا۔ وہ ابھی تک عوام کے سامنے نہیں آئے۔ ان کے تمام پیغامات سرکاری ٹی وی پر ایک اینکر بلند آواز سے پڑھتے ہیں۔

تازہ ترین بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عارضی جنگ بندی اور اوپیک سے متحدہ عرب امارات کے انخلاء کے باوجود امن مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس سے سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی ناکہ بندی کے درمیان ایران کے اس دعوے نے کہ وہ آبنائے ہرمز کو نہیں کھولے گا، عالمی ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ خام تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس سے بہت سے ممالک اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔

Continue Reading

بزنس

سینسیکس اور نفٹی 0.7 فیصد گرنے کے ساتھ بازار سرخ رنگ میں بند ہوئے۔

Published

on

ممبئی : ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ جمعرات کو سرخ رنگ میں بند ہوئی کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کی وجہ سے برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں کمی واقع ہوئی۔ اس ہفتے یہ دوسرا تجارتی سیشن ہے جب مقامی مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔ بازار بند ہونے کے وقت، 30 حصص والا بی ایس ای سینسیکس 582.86 پوائنٹس یا 0.75 فیصد گر کر 76,913.50 پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ این ایس ای نفٹی 50 180.10 (0.74 فیصد) پوائنٹس گر کر 23,997.55 پر آ گیا۔ دن کی ٹریڈنگ کے دوران، سینسیکس 77,014.21 پر کھلا اور 77,254.33 کی انٹرا ڈے اونچائی اور 76,258.86 کی انٹرا ڈے نچلی سطح پر بنا۔ نفٹی 50 23,996.95 پر کھلا اور 24,087.45 کی انٹرا ڈے اونچائی اور 23,796.85 کی انٹرا ڈے کم ہے۔ اس عرصے کے دوران وسیع تر بازاروں میں بھی مندی رہی۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس میں 0.98 فیصد کی کمی ہوئی، اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس میں 0.48 فیصد کی کمی ہوئی۔ سیکٹری طور پر، نفٹی آئی ٹی (0.37 فیصد تک) اور نفٹی فارما (0.03 فیصد کا معمولی فائدہ) کو چھوڑ کر، تقریباً تمام شعبے سرخ رنگ میں ٹریڈ کر رہے تھے۔ نفٹی میٹل میں 2.12 فیصد، نفٹی پی ایس یو بینک میں 1.68 فیصد، نفٹی ریئلٹی میں 1.50 فیصد، نفٹی ایف ایم سی جی میں 1.35 فیصد، اور نفٹی فنانشل سروسز میں 1.07 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ نفٹی50 پیک میں، 15 اسٹاک میں اضافہ اور 34 میں کمی ہوئی، جبکہ ایک اسٹاک میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ بجاج آٹو کے حصص میں سب سے زیادہ 5.19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سن فارما، انفوسس، بجاج فائنانس، ٹیک مہندرا، اڈانی پورٹس، ماروتی اور کوٹک بینک کے حصص میں بھی چھلانگ دیکھی گئی۔ جبکہ ٹی ایم پی وی، ایٹرنل، ہندالکو، ایچ یو ایل، ٹاٹا اسٹیل، الٹرا ٹیک سیمنٹ، شری رام فنانس اور ٹرینٹ کے حصص میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں اس خبر کے بعد اضافہ ہوا کہ امریکا نے ایران کی امن تجویز کو مسترد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان