(جنرل (عام
مالیگاؤں کے حقیقی “صاحب “ساتھی نہال احمد کی برسی پر شہریان کی آنکھیں نم!!!
تحریر : خیال اثر (مالیگاؤں)
ایک دو دن یا برس دو برس کی بات نہیں بلکہ یہ نصف صدی پر محیط وہ داستان پارینہ ہے جو تاریخ کے صفحات پر آب زر سے لکھے جانے کا قابل ہے اور ہر دور میں لکھی جاتی رہے گی.آج اسی داستان پارینہ کا ایک روشن و منور گوشہ نگاہوں میں گردش کررہا ہے. ماہ فروری کی 29 تاریخ کو مالیگاؤں شہر ہی نہیں بلکہ ریاستی اور ملکی سیاست میں پا مردی سے سرگرم عمل رہنے والے ساتھی نہال احمد مولوی محمد عثمان اپنے چاہنے والوں سے ہر رشتہ ,ہر تعلق اور ہر ناطہ توڑ کر سوئے عدم روانہ ہوئے تھے.ساتھی نہال احمد کی ساری زندگی اول تا آخر عوامی خدمات سے معمور تھی اور اس کے لئے انھوں نے بساط سیاست پر اپنے آپ کو سدا ہی متحرک و فعال رکھا تھا .اپنے ابتدائی دنوں سے ہی ملک میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے سیاسی,ملی,تعلیمی,تہذیبی,اور مذہبی تشخص کے لئے اپنی تحریکی ذہنیت کا بے لوث مظاہرہ کرتے ہوئے میدان سیاست میں اپنے انمٹ نشان ثبت کئے ہیں.1949 میں نیا پورہ کی ْآزاد کلب کی جانب سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے بلدیاتی انتخاب میں پہلی بار حصہ لیا لیکن انھیں پہلے ہی انتخاب میں ناکامی ہاتھ آئی چونکہ وہ دن ساتھی نہال احمد کے جوانی کے ایام تھے اس لئے انھوں نے خود کو مایوسی کے پھندوں میں قید ہونے نہ دیا.رفتہ رفتہ وہ عوامی خدمتگار کی حیثیت سے جئے پرکاش نارائن اور رام منوہر لوہیا جیسے مشہور و معروف سوشلیٹ لیڈران سے متاثر ہوتے گئے.جب ان لیڈران نے ملک کے غریبوں کی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کی خاطر ایک سیکولر محاذ کی تشکیل دی تو ریاستی سطح پر ساتھی نہال احمد ریاستی نمائندے کی حیثیت سے فعال ہو گئے.1949 سے 1999 تک کی نصف صدی شہری سیاست اور نہال احمد ایک جان دو قالب رہے .1954 میں بلدیاتی انتخاب میں کامیاب ہو کر کونسلر منتخب ہوئے.1962 صدر بلدیہ کی مسند پر براجمان ہوئے .رفتہ رفتہ ساتھی نہال احمد کا سیاسی دائرہ کار بڑھتا گیا تو 1962.میں ہی اپنے اولین اسمبلی انتخاب میں حصہ لیا لیکن اس بار بھی انھیں شکست حاصل ہوئی.ناکامیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے 1967 میں آخر کار کامیابی نے ان کے قدموں کو بوسہ دیا .1978 میں وزیر روزگار اور ٹیکنکل تعلیم کی وزارت سے سرفراز کئے گئے.1987.میں ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر منتخب کئے گئے.اپنےطویل ترین سیاسی تجربات اور حسن تدبر کی بدولت انھیں اسپیکر کا عہدہ جلیلہ بھی نصیب ہوا لیکن انھوں نے اس بار گراں کا متحمل نہ ہونے کا عذر پیش کرتے ہوئےخود ہی مستعفی ہو گئے تھے.1967.میں رکن.اسمبلی منتخب ہونے کے بعد 1978,1980,1985,1990,1995کل چھ میعاد کے لئے کثیر ووٹوں سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے.مالیگاؤں بلدیہ کو جب کارپوریشن میں تبدیل کیا گیا تو 2002 میں ساتھی نہال احمد کو ہی اولین میئر کا خطاب حاصل ہوا.
ساتھی نہال احمد قانون کی بندشوں سے ہمیشہ ہی جکڑے رہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انھوں نے ہمیشہ ہی قانون کے دائروں میں رہتے ہوئے قانون کو توڑا ہے.سیکولر نظریات کےحامل ہونے کی وجہ سے وہ فرقہ پرستی کے سخت مخالف تھےاور یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کی کثیر آبادی والی بلدیہ میں سیکولر نظریات کے برادران وطن کی نمائندہ شخصیات وٹھل راؤ کاڑے,ڈاکٹر نول رائے شاہ اور دیپک بھونسلے جیسے افراد کو صدر بلدیہ جیسی کرسی تک پہنچایا تھا.ساتھی نہال احمد کی ساری زندگی عوامی فلاح وبہبود کی دست نگر رہی ہے.وزیر اعظم اندرا گاندھی نے جب ہندوستان میں ایمر جنیسی نافذ کی اور مخالف سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو پابند سلاسل کرنا شروع کیا تو نہال احمد بھی اس کالےقانون سے مبرا نہیں رہے.دیڑھ سال کا طویل عرصہ انھیں جیل کی سلاخوں کے پچھے قید و بند کی سزا جھیلنی پڑی تھی.ساتھی نہال احمد کی تحریکیں غریبوں کے حقوق کی عمل داری کا پیرہن لئے ہوئے ہوتی تھیں.راشن دکانوں سے غریب شہریوں کو بروقت راکیل اور اناج سستے داموں میں مہیا ہو ہمیشہ ہی اس سلسلے میں وہ متحرک رہا کرتے تھے.مالیگاؤں شہر میں جیسے جیسے پاور لوموں کی تعداد بڑھتی گئی مزدور پیشہ افراد کی آمد میں اضافہ ہوتا گیا .بے شمار افراد بے سر و سامانی کے عالم میں اپنے اہل و عیال کو لئے جب مالیگاؤں میں وارد ہوئے تو انھیں سر چھپانے کے لئے سائبان مہیا کرنےکا کام ساتھی نہال احمد نے انجام دیا .بھلے ہی انھوں نے مالیگاؤں کی زمین پر کانکریٹ کا جنگل نہیں بویا ہو لیکن بے شمار جھونپڑ پٹیوں کی داغ بیل ضرور ڈالی ہےساتھ ہی ان سلم علاقوں میں انھوں نے پرائمری اسکولوں کی بنیاد گزاری بھی انجام دی ہے.جمہور ہائی اسکول ,ٹی ایم ہائی اسکول ,پیرا ڈائز ہائی اسکول,اے ٹی ٹی ہائی اسکول,جدید انجمن تعلیم ,انجمن معین الطلباء جیسے قدیم عصری اردو اداروں کو پروان چڑھانے کی مخلصانہ کوشش میں اپنی بے پایاں خدمات کا ثبوت دیا ہے.مسلم طبقہ کے نوجوانوں کو جدید تعلیم اور نت نئے روزگار سے منسلک کرنے کے لئے جمہور آئی ٹی آئی اور فارمیسی کالج جیسے بے مثال اداروں کی بنیاد گزاری میں نمایاں کردار ادا کیا ہے.مالیگاؤں میں موجود خواتین کی اولین عالمی دینی درسگاہ جامعات الصالحات سے عالمہ کے کورس سے فراغت حاصل کرنے والی طالبات کی ڈگری کو بی اے کے مساوی قرار دینے کے لئے حکومت وقت سے منظوری دلانے میں بھی ساتھی نہال احمد نے اپنی فعالیت کا عدیم المثال مظاہرہ پیش کیا تھا.اردو ,مراٹھی,فارسی,عربی,انگلش جیسی زبانوں پر عبور اور قانون کی تمام ترگتھیوں سے واقفیت نے انھیں انتہائی زیرک اور شاطر سیاستداں بنا دیا تھا.1938 سے 1943 تک اپنے والدین کے ہمراہ وہ حیدرآباد کے نظام آباد میں بھی سکونت پذیر رہے تھے.ان کے ابتدائی ایام پاور لوم پر مزدوری کرتے ہوئے گزرے تھے تو کچھ عرصہ کرانہ دکان سے بھی منسلک رہے تھے.روزگار کی تلاش میں مالیگاؤں آنے والے لاکھوں افراد کے لئے نئی نئی بستیاں بسانے کا عظیم کارنامہ ساتھی نہال احمد کا مرہون منت ہے.غریب شہریان کو سستے داموں میں ضروریات زندگی مہیا کروانے کے لئے وہ مسلسل جد و جہد کرتے رہے تھے.فرقہ پرستی کے کٹر دشمن ساتھی نہال احمد پر مخالفین نے ہمیشہ ہی بے شمار الزامات عائد کئے ہیں .ان کی ضعیفی ,بیماری اور ناتوانی کو ہدف و ملامت کا نشانہ بنایا گیا لیکن انھوں نے ہر الزام کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے سرخروی حاصل کی.شہر کی گلیوں چوراہوں پر پا پیادہ سفر کرتے ہوئے جب انھیں کوئی تلخ جملہ کہتا تو وہ پلٹ کر دیکھتے اور کچھ کہہ بغیر آگے بڑھ جاتے تھے.سیاست کا اصول ہے کہ ہمیشہ ہی چڑھتے سورج کی پوجا ہوتی ہے .جب کسی سیاستداں یا لیڈر کو کسی عہدے سے نوازا جاتا ہے تو اس کے استقبال کے لئے اس کے چاہنے والے امڈ پڑھتے ہیں لیکن یہ ریکارڈ صرف اور صرف ساتھی نہال احمد کے لئے مختص ہے کہ جب ان کی شوشلیٹ اور سیکولر حکومت ختم ہوئی اور وہ وزارت سے برطرف ہونے کے بعد اپنے آبائی شہر مالیگاؤں کی جانب رخت سفر باندھا تو شہر کے داخلی راستہ موتی باغ ناکہ پر ان کے چاہنے والوں کا اژدھام امڈ آیا تھا .مالیگاؤں شہر چونکہ ہمیشہ ہی ایک حساس شہر قرار دیا گیا ہے .فرقہ پرستی کی بیلیں یہاں ہمشیہ پروان چڑھا کرتی ہیں اور ایسے ہی نامساعد حالات میں ساتھی نہال احمد نے فرقہ پرستی کی ہر داغ بیل کا بحسن خوبی خاتمہ کیا ہے.ساتھی نہال احمد اپنے مخالفین کو ایسے ایسے خوب صورت طنزیہ القابات سے مخاطب کیا کرتے تھے کہ مخالفین بھی وہ طنزیہ القابات سن کر بے ساختہ مسکرا اٹھتے تھے.امن عامہ کے لئے جب بھی مالیگاؤں میں دفعہ 37/1 اور دفعہ 44 کا نفاذ کرتے ہوئے جلسہ جلوس اور عوامی ہجوم جمع کرنے پر بےجا پابندیاں عائد کیں گئیں تب تب ساتھی نہال احمد نے قانون کے دائروں میں رہتے ہوئے اس طرح قانون توڑا کہ قانون کے رکھوالے بھی انگشت بدانداں رہ جاتے تھے. شہری علاقوں میں جلسوں پر پابندی عائد کی گئی تو ساتھی نہال احمد نے درے گاؤں کی پہاڑیوں پر اعلان کے مطابق جلسہ عام کا انعقاد کیا .کبھی اپنی آفس کی گیلری سے کرسی لٹکا کر چلتے پھرتے افراد سے مخاطب ہوئے.جلسوس پر پابندی عائد کی گئی تو فرضی بارات نکال کر جلوس نکالا.شہر کے مصروف ترین مشاورت چوک پر عام جلسے کی اجازت دستیاب نہ ہونے پر ٹیپو سلطان ٹاور کے اوپری منزلہ سے تقریر کرتے ہوئے اپنی اہمیت اور قول و فعل میں ثابت قدم رہنے کا مظاہرہ کیا. عبدالرحمان انتولے جب مہاراشٹر کے وزیر اعلی بنائے گئے تھے جو اندرا گاندھی کے منظور نظر رہے تھے .سیمنٹ اسکنڈل میں جب وہ ملوث ہوئے تو ساتھی نہال احمد نے اسمبلی اجلاس میں گھنٹوں بے تکان وہ احتجاجی تقریر کی تھی کہ اے آر انتولے کو وزارت اعلی سے مستعفی ہونے پر مجبور ہونا پڑا تھا.2006.بم دھماکوں میں ملوث کئے گئے شہر کے اعلی تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کی باعزت رہائی کے لئے ان کے طویل ترین احتجاجی اقدامات تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں.اگر مورخ وقت ساتھی نہال احمد کی خدمات سے رو گردانی کرتےہوئے انھیں فراموش کردےگا تو یہ مورخ کی بد نصیبی ہوگی نہ کہ ساتھی نہال احمد کی. نصف صدی تک متحرک اور فعال رہنے کے بعد جب ساتھی نہال احمد سوئے عدم روانہ ہوئے تو اپنے پچھے اعلی تعلیم یافتہ فرزند ارجمند بلند اقبال اور دختر شان ہند کے علاوہ اپنے قابل داماد مستقیم ڈگنیٹی کو سیاست کے سارے اسرار و رموز ازبر کرکے رخصت ہوئے تھے.آج بھلے ہی بلند اقبال دنیا میں موجود نہیں لیکن مستقیم ڈگینٹی اور شان ہند دونوں ہی اپنے چند اصحاب کے ہمراہ ہر فرقہ پرستی ہر ناانصافی اور تمام کمیشن خوریوں کا سدباب کرنے کے لئے جواں مردی سے ڈٹے ہوئے ہیں.سیاست کے اسرار و رموز سے واقفیت اور مراٹھی زبان پر عبوریت کے علاوہ میونسپل سیاست پر گہری نظر نے آج انھیں اسی مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں کبھی پہلے ساتھی نہال احمد موجود تھےاور ان کی کارکردگی دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج نہیں تو کل یہ دونوں ساتھی نہال احمد کی وراثت کے حقیقی حقدار کہلائیں گے.آج ساتھی نہال احمد کو مرحوم ہوئے پانچ برس مکمل ہونے والے ہیں لیکن لگتا ہے کہ یہ کل ہی کی بات ہے مگر یہ طے ہے کہ آج بھلے ہی وہ جیتی جاگتی شکل میں ہمارے درمیان موجود نہ ہوں لیکن ان کے عملی اقدامات اور ان کے سیاسی اسرار و رموز اور کارکردگی آنے والے ہر دور میں زندہ و جاوید رہیں گے .ساتھی نہال احمد کے نظریات,اصول و ضوابط آنے والےہر دور میں نئےآنے والوں کےلئے نقوش تابندہ رہیں گے.
ممبئی پریس خصوصی خبر
اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔
“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”
پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”
ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔
اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
