Connect with us
Sunday,11-October-2026

(جنرل (عام

امت مسلمہ کیلئے خبرِ غم، خاموش مجاہد شیخ محمد امین سراج کا وصال

Published

on

shaikh-mohammed-amin-siraj

ترکی کے معروف فقیہ و محدث اور سردارِ علما شیخ محمد امین سراج حنفی توقادی، استانبولی کا کل بروزِ جمعہ وصال ہو گیا۔ ان کی عمر 94 سال تھی۔ عالَمِ اسلام کی قباے خلافت چاک کرنے والے “ترکِ ناداں” مصطفی کمال پاشا کے تاریک دور میں 1348ھ/1929ء میں مشرقی ترکی میں شیخ امین ‘سِراج’ کی ولادت ہوئی۔ شیخ نے دس سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا۔ اور پھر “مسجد سلطان محمد فاتح”(استنبول) کے مشائخ سے دینی علوم کی تحصیل کی۔ آگے چل کر استنبول کی یہی مسجد آپ کا مرکزِ تعلیم و تبلیغ بنی۔
وہاں ان کے اساتذہ میں شیخ علی حیدر آفندی، شیخ خسرو آفندی، شیخ سلیمان آفندی، اور چلتی پھرتی لائبریری علامہ مصطفی لطفی آفندی وغیرہ ہیں۔
اعلی تعلیم کے لیے شیخ، جامعہ ازہر مصر گئے اور ۱۹۵۸ء میں کلیۃ الشریعہ سے فارغ ہوئے۔نثار مصباصحی کے مطابق مصر ہی میں علامہ زاہد کوثری سے تعلیم و اجازات حاصل کیں۔ اور وہیں پر شیخ الاسلام علامہ مصطفی صبری کی بھی زیارت کی اور ان سے استفادہ کیا۔
شیخ امین سراج، سلطنتِ عثمانی کے آخری شیخ الاسلام علامہ مصطفی صبری توقادی اور سیفِ احناف علامہ محمد زاہد کوثری کے آخری شاگرد تھے۔ موجودہ وقت میں ان دونوں اکابر کی یہ واحد یادگار تھے۔ علامہ کوثری نے اپنی وفات (1371ھ) سے 20 دن قبل انھیں اپنی تمام مرویات و مسموعات کی “اجازت” عطا کی تھی۔ اس طرح شیخ امین سراج، امام کوثری کے آخری شاگرد تھے۔ سات سال قبل علامہ وہبی سلیمان غاوجی البانی حنفی کی وفات ہوئی۔ یہ بھی امام کوثری کے معروف شاگردوں میں سے تھے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ جس طرح استفادہ و اجازت کے اعتبار سے شیخ امین سراج، علامہ کوثری کے آخری شاگرد ہیں، اسی طرح وفات کے اعتبار سے بھی آخری ہیں، اور شاید اب روئے زمین پر علامہ کوثری کے کوئی شاگرد باقی نہیں۔ واللہ اعلم۔ مصر سے واپسی کے فورا بعد 1958 سے اب تک لگاتار 62 سال تک “جامع مسجد سلطان محمد فاتح” میں شیخ نے تدریس و تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ مسلسل 62 سال تک علومِ دین کی تعلیم اور ہزاروں بلکہ لاکھوں تلامذہ کی جماعت ایک عظیم کارنامہ ہے۔ شیخ امین سراج سے امام محمد زاہد کوثری کے علوم و اسانید کی اجازت لینے والے تلامذۂ اجازت پوری روئے زمین پر بکھرے ہوئے ہیں۔ علامہ ابو البرکات حق النبی سکندری اور ڈاکٹر ابو بکر محمد باذیب توقادی -حفظہما اللہ- کے ذریعے تقریبا ۳ سال قبل خاکسار کو بھی حضرت کی جانب سے امام زاہد کوثری کے مجموعۂ مرویات “التحریر الوجیز فیما یبتغیہ المستجیز” کی “اجازت” حاصل ہوئی تھی۔ شیخ کے بہت سے ذاتی محاسن کے ساتھ، فتنہ اور بدمذہبی کے اس دور میں شیخ کا تصلبِ دینی و مذہبی ان کا ایک نمایاں وصف ہے۔ شیخ امین سراج -رحمہ اللہ- عقیدۂ اہلِ سنت(اشاعرہ و ماتریدیہ) پر التزام اور پابندی سے قائم رہنے کی شرط لگا کر ہی اپنے تلامذہ اور مستجیزین(اجازت طلب کرنے والوں) کو “اجازت” دیتے تھے۔
اپنے کو “اتاترک” کہلوانے والے مصطفی کمال پاشا اور اس کے پس رو لبرلز کے سیکولر ترکی میں اسلام و سنیت اور تعلیمِ دینی کی بقا و احیا میں کلیدی کردار ادا کرنے والوں میں شیخ امین سراج اور ان کے تلامذہ بھی ہیں۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ ترکی کی اسلامی شبیہ کی بحالی اور ترک معاشرے میں دینیات کے اِحیا و نشأۃِ ثانیہ میں جن مشائخ نے بنیادی رول ادا کیا ہے ان میں شیخ امین سراج کا نام اگر سرِ فہرست نہیں تو دو چار علما کی پہلی فہرست میں ضرور رہے گا۔
آپ کے تلامذہ ترکی کے متعدد اہم دینی و سیاسی مناصب پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ترکی سے باہر بھی آپ کے سیکڑوں بلکہ ہزاروں تلامذہ دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

شیخ – رحمہ اللہ – نے 1989ء میں عالمِ اسلام کے اکابر علما کے ساتھ فلسطین کے بارے میں ایک مشترکہ فتوی جاری کیا جس میں فلسطین کے کسی بھی حصے سے دست برداری کو حرام قرار دیا۔
(افسوس ! آج کل کے کچھ خائن شیوخ، فلسطین پر قابض یہودی قوم اور غاصب و جبری ملک اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن اور تعلقات استوار کرنے کو جائز قرار دے رہے ہیں۔)
شیخ امین سراج کے معروف شاگرد علامہ محمد عوّامہ انھیں “المجاہد الصامت” (خاموش مجاہد) کہتے ہیں۔ کیوں کہ شیخ، خاموشی سے زمینی سطح پر اہلِ سنت کے عقیدہ و علوم کی ترویج کے لیے جہدِ پیہم کرتے رہے ہیں۔ ترکی میں سیکولرزم کے فروغ اور اسلامیات پر پابندی کے اس تاریک دور میں آپ نے بہت دنوں تک سمندر میں کشتی پر جا کر اپنے تلامذہ کو درس دیا تھا تاکہ اس وقت کے ترکی کی لادینی حکومت کے جبر و ظلم سے بھی بچے رہیں اور اسلامیات کے احیاے نَو کا سلسلہ بھی جاری رہے۔اللہ عزوجل ان کی مغفرت فرمائے، تمام خدمات قبول فرمائے، درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں انبیا و صدیقین اور شہدا کا پڑوس عطا فرمائے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

(جنرل (عام

سعودی اتحاد کا ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے کا سخت جواب دینے کا اعلان

Published

on

ریاض : یمن میں سعودی زیرقیادت اتحاد نے اتوار کے روز سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافر ٹرمینل کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے حملے کا سختی سے جواب دینے کا عزم ظاہر کیا، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔ المالکی نے حملے کو ایک گھناؤنا فعل قرار دیا جو انسانی اصولوں، اقدار اور اخلاقیات کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق اسے “دہشت گردانہ حملہ” قرار دے کر سختی سے جواب دے گی۔ دیگر، جیسا کہ یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب نے بڑے ہوائی اڈوں پر حملوں کا تبادلہ جاری رکھا۔

سعودی ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری اور آٹھ غیر ملکی باشندے شامل ہیں – دو بنگلہ دیشی اور ایک ایک امریکہ، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان سے۔ زخمی متعدد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ اتھارٹی نے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہوائی اڈے پر آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے، حفاظتی انتظامات بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔ سعودی عرب کی خودمختاری کے دفاع میں یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے حملے کی مذمت کی۔ نئی دہلی نے کہا کہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے “ناقابل قبول” ہیں اور فوری طور پر دشمنی بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ دن، بشمول 10 اکتوبر کو ہونے والا بزدلانہ حملہ، جس میں جانوں کے ضیاع، زخمیوں اور املاک کو نقصان پہنچا۔

ہم مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتے ہیں۔” “شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر پر بار بار حملے مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں اور اسے فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے،” بیان میں کہا گیا ہے، “ہم ان کی خودمختاری کے دفاع میں سعودی عرب کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں، اور امید کرتے ہیں کہ اس سے خطے میں امن اور معمول کی واپسی ہوگی۔”

Continue Reading

(جنرل (عام

حیدرآباد میں پانچ سالہ بچی اغوا کے بعد قتل، برطرف سکیورٹی گارڈ کی تلاش جاری

Published

on

حیدرآباد : ایک زرعی سائنسدان کی پانچ سالہ بیٹی کو سکندرآباد کے ایک متمول برادری میں مبینہ طور پر سیکورٹی گارڈ کے ذریعہ اغوا کرکے قتل کردیا گیا، پولیس نے اتوار کو بتایا۔ لڑکی جسے ہفتہ کی شام اغوا کیا گیا تھا، کوکورم، بولارم میں واقع ولا آرکڈس کے ایک کلب ہاؤس کے تہھانے میں مردہ حالت میں پائی گئی تھی، جہاں خاندان اس کے ہاتھ اور ٹانگوں کو دیکھ رہا تھا۔ مبینہ طور پر اغوا کار نے لڑکی کے گھر والوں کو فون کرکے 20 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ اگرچہ وہ رقم ادا کرنے پر راضی ہو گئے، تاہم ملزم نے بعد میں اپنا فون بند کر دیا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ سکیورٹی گارڈ نے تاوان کا مطالبہ کرنے کے بعد بچے کو قتل کیا۔ مشتبہ شخص کی شناخت وکرم کے نام سے ہوئی ہے، جو گیٹڈ کمیونٹی میں سیکیورٹی گارڈ کے طور پر ملازم تھا۔

موسی اوریلی (5) ملکاجگیری کمشنریٹ کے بولارم پولیس اسٹیشن کی حدود میں کوکور میں ولا آرکڈس میں اپنے ولا کے قریب ہفتہ کی شام کھیلتے ہوئے لاپتہ ہوگئی۔ پولیس نے لڑکی کے والدین کی شکایت پر مقدمہ درج کرکے بچے کا سراغ لگانے کی کارروائی شروع کردی۔پولیس کی ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ وکرم لڑکی کا پیچھا کرنے سے پہلے خصوصی ٹیم تشکیل دے رہا تھا۔ وکرم، جس کا فون مبینہ طور پر سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے قریب بند تھا۔

پولیس کی کئی ٹیموں نے ہفتے کی رات آس پاس کے علاقوں میں تلاشی لی۔ تلاشی کارروائیوں کے ایک حصے کے طور پر ڈرون کیمرے بھی لگائے گئے تھے۔ پولیس ٹیموں نے سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے آس پاس کے لاجز اور ہوٹلوں کو چیک کیا تھا۔ پولیس مشتبہ شخص کا سراغ لگانے اور بچے کی موت کا سبب بننے والے واقعات کے سلسلے کو قائم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھی۔ مکینوں کے مطابق دو دن قبل سیکورٹی گارڈ کو خرابی کی وجہ سے نوکری سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس پر شبہ ہے کہ اس نے رنجش کی وجہ سے بچے کو اغوا کر کے قتل کیا تھا، کیونکہ اوریلو کے دادا اس کمیٹی کا حصہ تھے جس نے بہت سے رہائشیوں کی شکایات کے بعد وکرم کو برطرف کیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس فوری طور پر مجرم کو گرفتار کرے اور اسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

دہلی کے جھنڈے والان میں سی جے پی کے زیرِ حراست مظاہرین کو لے جانے والی بس پر پتھراؤ کیا گیا۔

Published

on

نئی دہلی : نئی دہلی کے جھنڈےوالان علاقے میں ہفتے کے روز حراست میں لیے گئے افراد کو لے جانے والی ایک بس پر پتھراؤ کیا گیا جب پولیس کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مجوزہ احتجاج کے لیے جنتر منتر کے قریب پہنچنے والے لوگوں کو حراست میں لے رہی تھی۔ بس پر پتھراؤ کیا گیا، جس سے پولیس نے مزید کارروائی کا اشارہ کیا۔ تاہم، پولیس انہیں دوبارہ حراست میں لینے میں کامیاب رہی اور بعد ازاں انہیں مقررہ مقام پر بھیج دیا گیا، حکام نے بتایا۔ دریں اثنا، جھنڈے والان میٹرو اسٹیشن کے آس پاس سیکورٹی کے انتظامات کو مضبوط کیا گیا ہے، جہاں صورتحال کو سنبھالنے اور مزید خلل کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری تعیناتی اور ٹریفک پابندیاں برقرار ہیں۔

اس واقعے کے نتیجے میں جھنڈےوالان اور اس کے آس پاس ٹریفک کا نمایاں رخ بھی بدل گیا، جس کی وجہ سے علاقے میں گاڑیوں کی نقل و حرکت میں تبدیلی آئی کیونکہ پولیس نے اپنی حفاظتی کارروائیاں جاری رکھی تھیں۔ اس دوران، پولیس نے ہفتہ کو قومی دارالحکومت میں 1,000 سے زیادہ مظاہرین کو حراست میں لے لیا جب وہ مبینہ طور پر چیف الیکشن کمشنر جی ایس سی ای ایس کمار کے خلاف سی جے پی کی طرف سے بلائے گئے ایجی ٹیشن میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ مجوزہ احتجاج کے پیش نظر کیپٹل ریجن (این سی آر)۔ حکام نے امن و امان کو برقرار رکھنے اور مظاہرین کو جنتر منتر پر مقررہ مقام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے اضافی انتظامات کیے ہیں۔ پولیس نے جمعہ کو کہا کہ سی جے پی کے احتجاج کے لیے اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا ہے کیونکہ منتظمین قانونی ہدایات کی تعمیل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور پہلے احتجاج کے دوران ان کے اپنے اقدامات۔

سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے، سی جے پی کے ترجمان سورو داس اور آشوتوش رنکا کے ساتھ، جب وہ جنتر منتر پر احتجاج سے پہلے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے (آئی جی آئی اے) پہنچے تو حراست میں لے لیا گیا۔ سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والے دھرو راٹھی کو بھی گروگرام میں ان کی رہائش گاہ پر حراست میں لیا گیا۔ چیف جسٹس کے ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ کے مطابق، سادہ کپڑوں میں تقریباً 50 پولیس اہلکار صبح 8 بجے گروگرام میں راٹھی کی رہائش گاہ پر پہنچے اور انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان