Connect with us
Tuesday,23-June-2026

جرم

سفاک ماں نے اپنے کمسن لخت جگر کا ہاتھ پیر باندھ کر انتہائی بے دردی سے قتل کردیا

Published

on

bhiwandi-katal

خیال اثر مالیگانوی

خواتین نو مہینوں تک اپنی کوکھ میں بچوں کی پرورش و پرداخت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں. پیدائش کے بعد اپنے لخت جگر کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے انھیں پروان چڑھاتی ہیں خود بھوکے رہ کر اپنے بچوں کے بھوکے شکم کو بھرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں. اپنے بچوں کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کے لئے شب و روز کڑی سے کڑی محنت کرنے میں بھی پچھے نہیں ہٹتی ہیں. اس دوران حائل تمام پریشانیوں کا بے جگری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی اولاد کو سماج و معاشرہ کا نمائندہ فرد بنانے میں کوشاں رہتی ہیں. جب جب بھی بچہ چاند کی طلب میں اپنی ماؤں کو پریشان کرتا ہے تو پانی میں چاند کا عکس دکھا کر اسے بہلانے کی کوشش کرتی آئی ہیں. زمانے کے تمام سرد گرم خود جھیلتی ہے لیکن راہ کی ہر دشواری سے اپنی اولاد کو محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے لیکن جب یہی ماں توہم پرستی اور اندھ وشواش کی بلندیوں پر جا پہنچتی ہیں تو رونگٹے کھڑے دینے والے واقعات رونما ہوتے ہیں.

ایسا ہی ایک دلدوز واقعہ کیرالا کے پالا کڑ میں پیش آیا جس میں ایک بے رحم ماں نے اپنی کوکھ سے جنم لینے والے 6 سالہ بیٹے امین کا گلا کاٹ کر بے رحمی سے قتل کردیا. بتایا جاتا ہے کہ سنیچر کی رات قاتل ماں شاہدہ کا بڑا بیٹا سلیمان اور 6 سالہ کمسن امین ایک ہی کمرے میں ساتھ سوئے ہوئے تھے جبکہ بے رحم ماں شاہدہ اپنے ایک اور بیٹے عادل کے ساتھ دوسرے کمرے میں سو رہی تھی. سنیچر کی رات گزرنے والی تھی اور اتوار کا سورج اپنی تابناک کرنیں بکھیرنے کی تیاری میں مصروف تھا کہ ظالم ماں شاہدہ اچانک نیند سے بیدار ہوئی اور دوسرے کمرے میں بڑے بیٹے سلیمان کے ساتھ سوئے ہوئے 6سالہ امین کو نیند سے جگاتے ہوئے باتھ روم لے گئی جہاں اس درندہ صفت ماں نے اپنے کمسن بیٹے کے پہلے تو کسی جانور کی طرح ہاتھ پیر باندھے اور پھر جس طرح کسی جانور کو ذبح کیا جاتا ہے بالکل اسی طرز پر کسی قصاب کی طرح تیز دھار چاقو سے اپنے ہی بیٹے کا انتہائی بے رحمانہ طریقے سے گلا کاٹ ڈالا .معصوم بچہ درد سے تلملاتا رہا, تڑپا رہا. اسے آخر تک یقین نہیں ہو رہا تھا کہ جس ماں نے 9 ماہ اپنی کوکھ میں رکھ کر جنم دیا ہے وہی آج اس کی جان لینے پر آمادہ ہو جائے گی. معصوم بچے کی آخری سانس بھی ماں کہہ کر پکار رہی تھی لیکن شاید ایک ماں کی ممتا پر شیطان کا غلیظ سایہ پڑ چکا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ ظالم ماں نے اپنے معصوم کو موت کے گھاٹ اتار دیا.

اس کے بعد بھی اس ظالم ماں نے اپنے اس قاتلانہ فعل کو چھپانے کی بجائے خود ہی پولیس کو یہ بتاتے ہوئے اطلاع کی کہ اس نے اپنے معصوم بیٹے کو اللہ کی خوشنودی کے لئے قتل کردیا ہے. پولیس کو اطلاع دینے کے بعد یہ ظالم و جابر ماں شاہدہ اپنے مکان کے دروازے پر بےباکی سے کھڑی پولیس کی آمد کا انتظار کرتی رہی اور پھر خود ہی اپنے آپ کو پولیس کے سپرد کردیا. تفتیش کے دوران یہ معلومات دستیاب ہوئی کہ ایک روز قبل ہی اس نے اپنے ایک پڑوسی سے پولیس اسٹیشن کا نمبر حاصل کیا تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنے بیٹے کو قربان کرنے کی کھچڑی اس قصاب ماں کے دل میں کئی دنوں سے پک رہی تھی اور جب یہ کھیچڑی تیار ہوئی تو بالاخر اس نے اپنی ہی کوکھ سے جنم لینے والے کمسن بیٹے کا انتہائی سفاکانہ طریقہ سے قتل کرتے ہوئے خود کو پولیس کے حوالے کردیا. بیٹے کو قتل کرنے کے بعد یہ بے رحم ماں آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی بے رحمی اور سفاکی کی سزا بھگتنے کے انتظار میں ہے. یہ دل دوز واقعہ اندھ وشواش کا نتیجہ ہے یا اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ. بہرحال جو بھی ہے آنے والے دنوں میں واقعہ سے پردہ جب اٹھے گا تو اس قاتلانہ فعل پر آمادہ کرنے والے فرد کو بھی بےنقاب کرنا انتہائی ضروری ہے اور جو سزا اس قاتل ماں کے لئے عدالت مختص کرے گی وہی سزا اس قاتلانہ فعل پر آمادہ کرنے والے فرد پر بھی عائد کرتے ہوئے اسے بھی کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے.

انسانیت اور ماں کی عزت و عفت کو شرمسار کر دینے والا یہ واقعہ کیرالا جیسی تعلیم یافتہ ریاست میں پیش آنا دلالت کرتا ہے کہ توہم پرستی اور اندھ وشواش جہل اور اعلی تعلیم نہ دیکھتے ہوئے سبھی مکتب فکر کے افراد کو اپنا گرویدہ بنا کر اس بری طرح سے اپنے حصار میں جکڑ لیتیاہے کہ مائیں بھی اپنی اولاد کو بے دردی سے جانوروں کی طرح ذبح کرنے پر باآسانی آمادہ ہوجاتی ہیں .ہو سکتا ہے کہ قانون و عدلیہ اس سفاک ماں کو کڑی سے کڑی سزا کا حقدار قرار دے لیکن بے رحمی سے قتل کیا گیا معصوم و کمسن بچہ تو دوبارہ واپس نہیں آ سکتا. یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کار بد پر مجبور کرنے والا فرد پھر کسی دوسری ماں کو اپنے بس میں کرتے ہوئے اپنے ہی بیٹے کو بے رحمی سے قتل کرنے پر آمادہ کردے اس لئے قانون کے رکھوالوں کو چاہیے کہ انتہائی باریک بینی سے اپنے کمسن بیٹے کو ماں کے ہاتھوں قتل کرنے پر مجبور کرنے والے مجرم فرد کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرکے سارے رازوں پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرے نیز انصاف کا خون ہونے سے قانون کو محفوظ رکھتے ہوئے اصل مجرم کو سزا دینے کی کوشش میں حد درجہ بےباکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام عقدہ فاش کرے نہ کہ اصل مجرم کو صاف بچا لے جایا جائے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تفریح

فلمساز اور فیشن اسٹائلسٹ ریا انیل کپور کے زیورات چوری ہو گئے۔

Published

on

ممبئی میں فلمساز اور فیشن اسٹائلسٹ ریا انیل کپور کے کرائے کے زیورات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ممبئی کے سہار پولیس اسٹیشن نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس کی شکایت کے مطابق ریا کپور کے میک اپ آرٹسٹ کے ہینڈ بیگ سے ₹ 1.35 کروڑ مالیت کی ہیروں سے جڑی بالیاں اس وقت چوری ہوئیں جب وہ نیویارک میں ایک فیشن شو میں جا رہی تھیں۔ بالیاں ممبئی کے مہتا اینڈ گوینکا جیولرز سے کرائے پر لی گئی تھیں۔ ممبئی کے معروف میک اپ آرٹسٹ سویلین سنگھ نے گزشتہ سات سالوں سے ریا انیل کپور کے ساتھ کام کیا ہے۔ ریا کپور کو 29 اپریل کو نیویارک میں ہونے والے ’’نیٹ گالا‘‘ فیشن شو ایونٹ میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس کی پوری ٹیم اس کے ساتھ تھی۔

ممبئی کے مہتا جیولرز اور گوینکا جیولرز سے ریا کپور کے ساتھ ان کی میک اپ ٹیم کے ساتھ مہنگی بالیوں کے دو جوڑے کرائے پر لیے گئے تھے۔ سویلین سنگھ نے ان ڈبوں کو اپنے ہینڈ بیگ میں رکھا تھا۔ سبھی نے 27 اپریل کی رات 10:25 بجے ایمریٹس کی پرواز سے ممبئی سے اڑان بھری۔ یہ ٹیم 28 اپریل کی شام 5:30 بجے ممبئی سے نیویارک کے کینیڈی ایئرپورٹ پہنچی۔ وہاں سے سب ہوٹل پیئر نیویارک میں اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔

جب سویلین سنگھ نے ٹیم کی ایک رکن شیریں کو بالیاں دینے کے لیے ڈبوں کو کھولا تو انھیں خالی پایا۔ مہتا جیولرز سے زمرد کے پتھر کی ہیرے کی سونے کی بالیاں، جن کی مالیت 6.6 ملین روپے ہے، اور گوئنکا جیولرز سے زیمبیائی پتھر کی گولڈ بارڈر والی بالیاں، جن کی مالیت ₹6.9 ملین تھی۔ ممبئی واپس آنے پر، سویلین سنگھ نے سہار پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے چوری کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ میک اپ آرٹسٹ سویلین سنگھ کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ شکایت کنندہ ریا کپور کی ٹیم کے ساتھ نیویارک جا رہا تھا جب 1.35 کروڑ روپے کی کرائے کی بالیاں چوری ہو گئیں۔ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک کی پوری ٹائم لائن کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ ممبئی پولیس اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ چوری ممبئی کے ہوائی اڈے پر، فلائٹ میں ہوئی یا نیویارک پہنچنے کے بعد۔

Continue Reading

تفریح

سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں اللو ارجن کو طلب، 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم

Published

on

نامپلی فوجداری عدالت نے سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں معروف ٹالی ووڈ اداکار اللو ارجن کو سمن جاری کرتے ہوئے انہیں 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

یہ پورا واقعہ 4 دسمبر 2024 کا ہے، جب فلم “پشپا 2: دی رول” کے پریمیئر کے دوران حیدرآباد کے سندھیا تھیٹر میں ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔ اس واقعہ نے ریاست بھر میں صدمے کی لہر دوڑادی اور حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کردیئے۔

اس معاملے میں کل 23 لوگوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، جن میں اللو ارجن کو ملزم نمبر 11 کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

تفتیش کے دوران پولیس نے ابتدائی طور پر تھیٹر انتظامیہ سے وابستہ 10 افراد کو ملزم نامزد کیا۔ کیس میں اداکار کی سیکیورٹی کے لیے تعینات آٹھ باؤنسر بھی شامل تھے۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ تمام ملزمان کے عدالت میں پیش ہونے کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگا۔

4 دسمبر 2024 کو، اللو ارجن پریمیئر شو میں شرکت کے لیے سندھیا تھیٹر پہنچے۔ جیسے ہی ان کی موجودگی کی خبر پھیلی، تھیٹر کے باہر اور اندر ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیا۔ ہجوم پر قابو پانے کی کوشش کی گئی لیکن حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گئے اور بھگدڑ مچ گئی۔ اس واقعے کے دوران ایک خاتون، جس کی شناخت ایم ریوتی کے نام سے ہوئی، کی موت ہوگئی، جب کہ اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔

پولیس نے اس معاملے میں سنگین الزامات درج کیے ہیں جن میں قصوروار قتل بھی شامل ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ ہجوم پر قابو پانے اور حفاظتی انتظامات میں لاپرواہی کے باعث حادثہ پیش آیا، اور مختلف سطحوں پر ذمہ داری کا تعین ہونا باقی ہے۔

اس واقعے کے بعد، اللو ارجن کو 13 دسمبر 2024 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، اسے نامپلی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ تاہم، ان کے وکلاء نے اسی دن ہائی کورٹ کا رخ کیا اور انہیں عبوری ضمانت دے دی گئی۔ اگلے دن اسے جیل سے رہا کر دیا گیا۔ بعد میں انہیں باقاعدہ ضمانت دے دی گئی۔

تفتیش کے دوران، 24 دسمبر کو اللو ارجن سے پولس نے تقریباً تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ یہ پوچھ گچھ سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس کی تیار کردہ ویڈیو کی بنیاد پر کی گئی۔

پولیس نے اس معاملے میں کل 23 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔

Continue Reading

تفریح

دہلی ہائی کورٹ نے سلمان خان کی درخواست پر سماعت ملتوی، ‘بلیک ہرن’ کیس میں اگلی تاریخ یکم جولائی مقرر کی

Published

on

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی طرف سے فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” کی ریلیز پر روک لگانے کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے اگلی سماعت کی تاریخ یکم جولائی مقرر کی ہے۔

فلم پروڈیوسرز نے عدالت میں کہا کہ انہیں ابھی تک سلمان خان کی جانب سے دائر کی گئی مکمل پٹیشن کی کاپی نہیں ملی۔ انہیں صرف ایک درخواست کی کاپی فراہم کی گئی تھی۔ جسٹس مدھو جین نے سلمان خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ درخواست کی مکمل کاپی دوسرے فریق کو فراہم کی جائے۔

اس سے قبل کی سماعت میں عدالت نے فلم کے پروڈیوسر امیت جانی اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔

یہ سارا تنازعہ فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” سے متعلق ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سلمان خان کے بہت زیر بحث کالے ہرن کے شکار کے کیس پر مبنی ہے۔ سلمان خان کا الزام ہے کہ فلم میں ان کا نام، تصویر اور شخصیت کو بغیر اجازت کے استعمال کیا گیا ہے، جو ان کے ذاتی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فلم کے پوسٹر میں ایسے عناصر ہیں جو براہ راست سلمان خان کی عوامی شناخت سے مشابہت رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں فلم کی ریلیز، تشہیر اور یہاں تک کہ ڈیجیٹل اسٹریمنگ پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

سلمان خان نے یہ پٹیشن پروڈیوسر امیت جانی، جانی فائر فاکس فلمز، ڈائریکٹر بھارت شرینے، اکشے پانڈے اور پروجیکٹ سے وابستہ دیگر کے خلاف دائر کی تھی۔

’بلیک بک: بیٹل فار لیگیسی‘ کی پہلی جھلک اور ٹیزر میں سلمان خان سے متاثر ایک کردار کا نام آیان خان ہے۔ ایان خان کا کردار اداکار کاشف اقبال خان نے ادا کیا ہے۔ سامعین نے اس کی ظاہری شکل، چلنے کا انداز، اور ہر اشارہ سلمان سے ایک حیرت انگیز مشابہت پایا۔ کاشف اقبال خان کو سلمان خان جیسا بریسلٹ پہنے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں

Continue Reading
Advertisement

رجحان