Connect with us
Friday,23-October-2026
تازہ خبریں

جرم

سفاک ماں نے اپنے کمسن لخت جگر کا ہاتھ پیر باندھ کر انتہائی بے دردی سے قتل کردیا

Published

on

bhiwandi-katal

خیال اثر مالیگانوی

خواتین نو مہینوں تک اپنی کوکھ میں بچوں کی پرورش و پرداخت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں. پیدائش کے بعد اپنے لخت جگر کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے انھیں پروان چڑھاتی ہیں خود بھوکے رہ کر اپنے بچوں کے بھوکے شکم کو بھرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں. اپنے بچوں کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کے لئے شب و روز کڑی سے کڑی محنت کرنے میں بھی پچھے نہیں ہٹتی ہیں. اس دوران حائل تمام پریشانیوں کا بے جگری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی اولاد کو سماج و معاشرہ کا نمائندہ فرد بنانے میں کوشاں رہتی ہیں. جب جب بھی بچہ چاند کی طلب میں اپنی ماؤں کو پریشان کرتا ہے تو پانی میں چاند کا عکس دکھا کر اسے بہلانے کی کوشش کرتی آئی ہیں. زمانے کے تمام سرد گرم خود جھیلتی ہے لیکن راہ کی ہر دشواری سے اپنی اولاد کو محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے لیکن جب یہی ماں توہم پرستی اور اندھ وشواش کی بلندیوں پر جا پہنچتی ہیں تو رونگٹے کھڑے دینے والے واقعات رونما ہوتے ہیں.

ایسا ہی ایک دلدوز واقعہ کیرالا کے پالا کڑ میں پیش آیا جس میں ایک بے رحم ماں نے اپنی کوکھ سے جنم لینے والے 6 سالہ بیٹے امین کا گلا کاٹ کر بے رحمی سے قتل کردیا. بتایا جاتا ہے کہ سنیچر کی رات قاتل ماں شاہدہ کا بڑا بیٹا سلیمان اور 6 سالہ کمسن امین ایک ہی کمرے میں ساتھ سوئے ہوئے تھے جبکہ بے رحم ماں شاہدہ اپنے ایک اور بیٹے عادل کے ساتھ دوسرے کمرے میں سو رہی تھی. سنیچر کی رات گزرنے والی تھی اور اتوار کا سورج اپنی تابناک کرنیں بکھیرنے کی تیاری میں مصروف تھا کہ ظالم ماں شاہدہ اچانک نیند سے بیدار ہوئی اور دوسرے کمرے میں بڑے بیٹے سلیمان کے ساتھ سوئے ہوئے 6سالہ امین کو نیند سے جگاتے ہوئے باتھ روم لے گئی جہاں اس درندہ صفت ماں نے اپنے کمسن بیٹے کے پہلے تو کسی جانور کی طرح ہاتھ پیر باندھے اور پھر جس طرح کسی جانور کو ذبح کیا جاتا ہے بالکل اسی طرز پر کسی قصاب کی طرح تیز دھار چاقو سے اپنے ہی بیٹے کا انتہائی بے رحمانہ طریقے سے گلا کاٹ ڈالا .معصوم بچہ درد سے تلملاتا رہا, تڑپا رہا. اسے آخر تک یقین نہیں ہو رہا تھا کہ جس ماں نے 9 ماہ اپنی کوکھ میں رکھ کر جنم دیا ہے وہی آج اس کی جان لینے پر آمادہ ہو جائے گی. معصوم بچے کی آخری سانس بھی ماں کہہ کر پکار رہی تھی لیکن شاید ایک ماں کی ممتا پر شیطان کا غلیظ سایہ پڑ چکا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ ظالم ماں نے اپنے معصوم کو موت کے گھاٹ اتار دیا.

اس کے بعد بھی اس ظالم ماں نے اپنے اس قاتلانہ فعل کو چھپانے کی بجائے خود ہی پولیس کو یہ بتاتے ہوئے اطلاع کی کہ اس نے اپنے معصوم بیٹے کو اللہ کی خوشنودی کے لئے قتل کردیا ہے. پولیس کو اطلاع دینے کے بعد یہ ظالم و جابر ماں شاہدہ اپنے مکان کے دروازے پر بےباکی سے کھڑی پولیس کی آمد کا انتظار کرتی رہی اور پھر خود ہی اپنے آپ کو پولیس کے سپرد کردیا. تفتیش کے دوران یہ معلومات دستیاب ہوئی کہ ایک روز قبل ہی اس نے اپنے ایک پڑوسی سے پولیس اسٹیشن کا نمبر حاصل کیا تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنے بیٹے کو قربان کرنے کی کھچڑی اس قصاب ماں کے دل میں کئی دنوں سے پک رہی تھی اور جب یہ کھیچڑی تیار ہوئی تو بالاخر اس نے اپنی ہی کوکھ سے جنم لینے والے کمسن بیٹے کا انتہائی سفاکانہ طریقہ سے قتل کرتے ہوئے خود کو پولیس کے حوالے کردیا. بیٹے کو قتل کرنے کے بعد یہ بے رحم ماں آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی بے رحمی اور سفاکی کی سزا بھگتنے کے انتظار میں ہے. یہ دل دوز واقعہ اندھ وشواش کا نتیجہ ہے یا اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ. بہرحال جو بھی ہے آنے والے دنوں میں واقعہ سے پردہ جب اٹھے گا تو اس قاتلانہ فعل پر آمادہ کرنے والے فرد کو بھی بےنقاب کرنا انتہائی ضروری ہے اور جو سزا اس قاتل ماں کے لئے عدالت مختص کرے گی وہی سزا اس قاتلانہ فعل پر آمادہ کرنے والے فرد پر بھی عائد کرتے ہوئے اسے بھی کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے.

انسانیت اور ماں کی عزت و عفت کو شرمسار کر دینے والا یہ واقعہ کیرالا جیسی تعلیم یافتہ ریاست میں پیش آنا دلالت کرتا ہے کہ توہم پرستی اور اندھ وشواش جہل اور اعلی تعلیم نہ دیکھتے ہوئے سبھی مکتب فکر کے افراد کو اپنا گرویدہ بنا کر اس بری طرح سے اپنے حصار میں جکڑ لیتیاہے کہ مائیں بھی اپنی اولاد کو بے دردی سے جانوروں کی طرح ذبح کرنے پر باآسانی آمادہ ہوجاتی ہیں .ہو سکتا ہے کہ قانون و عدلیہ اس سفاک ماں کو کڑی سے کڑی سزا کا حقدار قرار دے لیکن بے رحمی سے قتل کیا گیا معصوم و کمسن بچہ تو دوبارہ واپس نہیں آ سکتا. یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کار بد پر مجبور کرنے والا فرد پھر کسی دوسری ماں کو اپنے بس میں کرتے ہوئے اپنے ہی بیٹے کو بے رحمی سے قتل کرنے پر آمادہ کردے اس لئے قانون کے رکھوالوں کو چاہیے کہ انتہائی باریک بینی سے اپنے کمسن بیٹے کو ماں کے ہاتھوں قتل کرنے پر مجبور کرنے والے مجرم فرد کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرکے سارے رازوں پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرے نیز انصاف کا خون ہونے سے قانون کو محفوظ رکھتے ہوئے اصل مجرم کو سزا دینے کی کوشش میں حد درجہ بےباکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام عقدہ فاش کرے نہ کہ اصل مجرم کو صاف بچا لے جایا جائے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جرم

دہلی کے گووند پوری میں تصادم کے دوران فائرنگ، 3 زخمی

Published

on

gun-shoot

نئی دہلی : ایک چونکا دینے والے واقعے میں، دہلی کے گووند پوری علاقے میں ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس میں دو گروپوں کے درمیان تصادم کے بعد مبینہ فائرنگ اور چاقو سے کم از کم تین افراد زخمی ہو گئے، حکام نے جمعرات کو بتایا۔ پولیس کے مطابق گووند پوری میں آشا کرن اپارٹمنٹ کے قریب فائرنگ کے حوالے سے پی سی آر کال موصول ہوئی۔ واقعہ سے علاقہ مکینوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ موقع سے دو خالی کارتوس اور دو چاقو برآمد ہوئے ہیں۔ زخمیوں کی شناخت سنجو بھیشدھری عرف کمار بھیشدھری، منصور عالم اور نتن کے طور پر کی گئی ہے۔ بھیش دھاری کو گولی لگنے سے چوٹ آئی اور اسے اپولو ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جبکہ 40 سالہ منصور عالم کو معمولی چوٹیں آئیں اور انہیں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔

تیسرے شکار نتن کو ایمس ٹراما سینٹر میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کے زخموں کی نوعیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس ملزمان کی شناخت اور سراغ لگانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام نے بتایا کہ ستمبر میں، شمال مشرقی دہلی کے نند نگری علاقے میں نامعلوم افراد نے تین گھروں کے باہر فائرنگ کی اور آس پاس کھڑی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی۔ واقعہ سے علاقہ مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی اور جائے وقوعہ کی تفتیش کی۔ فائرنگ کا واقعہ نند نگری تھانے کے علاقے ڈی ٹو بلاک میں پیش آیا، جہاں نامعلوم شرپسندوں نے تین گھروں کو نشانہ بنایا اور اندھا دھند فائرنگ کی۔ اہل خانہ بال بال بچ گئے۔

ایک ویڈیو میں نامعلوم حملہ آوروں کو فائرنگ اور پتھراؤ کرتے دکھایا گیا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی نے بتایا کہ تقریباً 50 نامعلوم افراد نے ان کے گھر پر حملہ کیا۔ ان سب نے ماسک پہنے ہوئے تھے۔ خاتون نے کہا کہ “ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ کون ہیں۔ سات سال قبل میری بیٹی کے حوالے سے ایک تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔ تب سے، میرے گھر کے باہر اکثر فائرنگ اور پتھراؤ ہوتا رہا ہے۔ میرے بیٹوں کو مارا پیٹا جاتا ہے۔ ہمیں جھوٹے مقدمات کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ مجھے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ میرے بچوں کو گولی مار دیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “جمعہ کی رات کو بھی ہمارے تین گھروں پر حملہ کیا گیا۔ فائرنگ اور پتھراؤ ہو رہا تھا۔ خاندان کے تمام افراد اوپر تھے، اگر ہم اوپر نہ ہوتے تو کسی کی جان جا سکتی تھی۔ ہمارے بچوں کو مسلسل خطرہ ہے۔”

Continue Reading

جرم

کانپور میں شخص کی موت پر اہل خانہ کا قتل کا الزام، لاش سڑک پر رکھ کر ہائی وے جام کر دیا

Published

on

کانپور : اتر پردیش کے کانپور کے ہنومنت وہار تھانے کے علاقے میں 37 سالہ بیرو سنگھ بھدوریا کی موت نے ایک بڑا تنازعہ کھڑا کردیا ہے، کیونکہ اس کے اہل خانہ نے پولیس کے اس اکاؤنٹ کو مسترد کردیا ہے کہ اس کی موت سڑک حادثے میں ہوئی تھی اور الزام لگایا تھا کہ اس کا قتل کیا گیا ہے۔ جمعرات کو لواحقین نے اس کی لاش ہمیر پور کی طرف جانے والی شاہراہ پر رکھ کر احتجاج کیا اور اس کی موت کے مبینہ ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ایک عینی شاہد، جس کی شناخت راہول کے طور پر کی گئی ہے، نے پولیس کے واقعات پر سوال اٹھانے اور دعویٰ کیا کہ بیرو کی موت حادثاتی نہیں بلکہ دانستہ حرکت کا نتیجہ ہونے کے بعد کیس نے نیا موڑ لیا ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق بیرو سنگھ بھدوریا فوڈ پروڈکٹس کی ایک کمپنی میں سیلز مین کے طور پر کام کرتا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کا کچھ دن پہلے راجویر اور میوالل کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا، دونوں کھدے پور نئی بستی کے رہنے والے تھے، جس کے بعد مبینہ طور پر دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی جاری تھی۔

اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ منگل کی رات بیرو دسہرہ میلہ دیکھنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے جب میوالل ایک کار میں موقع پر پہنچے۔ ان کے اکاؤنٹ کے مطابق، راجویر سمیت تین دوسرے آدمی بھی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ گروپ نے مبینہ طور پر بیرو کو روکا اور اس پر حملہ کیا۔ جب اس نے فرار ہونے کی کوشش کی تو انہوں نے اسے کار سے ٹکر مار دی۔ اہل خانہ نے مزید الزام لگایا کہ پھر ان افراد نے اسے گاڑی کی چھت پر بٹھایا اور بھگا دیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مقتول کی اہلیہ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے شوہر کی ایک حادثے میں موت ہوئی ہے، اور کہا کہ میں کہہ رہی ہوں کہ یہ حادثہ نہیں تھا، یہ قتل تھا، پانچ لوگوں نے کیا تھا، وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ حادثہ تھا، لیکن یہ کوئی حادثہ نہیں تھا، یہ پانچ لوگوں کا قتل تھا۔ عینی شاہد راہول نے پولیس کے اکاؤنٹ کو بھی چیلنج کیا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ واقعے کے ارد گرد کے حالات معمول کے سڑک حادثے کے بجائے دانستہ حرکت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے ذاتی طور پر لوگوں کو گاڑی سے بھاگنے سے پہلے بیرو کو گاڑی کی چھت پر رکھتے ہوئے دیکھا تھا۔ راہول نے کہا، “پولیس واقعات کی ترتیب کو غلط انداز میں پیش کر رہی ہے۔ یہ ایک معمول کا سڑک حادثہ نہیں تھا، بلکہ قتل کا معاملہ تھا۔ میں نے ذاتی طور پر لوگوں کو دیکھا ہے کہ لوگ اس شخص کو کار کی چھت پر بٹھا کر بھاگ جاتے ہیں،” راہول نے کہا۔

اس نے مزید الزام لگایا کہ گاڑی کے آگے بڑھتے ہی بیرو کے ہاتھ کار کی اگلی کھڑکیوں کے کھلنے میں پھنس گئے تھے۔ راہول نے مزید کہا، “اس شخص کے دونوں ہاتھ کار کی اگلی کھڑکی کے کھلنے کے اندر پھنسے ہوئے تھے۔ گاڑی کو آگے بڑھایا گیا، اور ملزم کے موقع سے فرار ہونے سے پہلے اس شخص کو بعد میں پھینک دیا گیا۔” تاہم اہل خانہ اور عینی شاہد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنا باقی ہے اور ان کی سچائی کا تعین پولیس کی جانب سے مکمل تفتیش سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک کار کو تیز رفتاری سے سفر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ الزام ہے کہ واقعہ کے وقت راہل موٹر سائیکل پر گاڑی کا تعاقب کر رہا تھا۔ اس کیس سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے، جس میں اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں نصب 12 سے زائد سرویلنس کیمروں نے واقعات کی پوری ترتیب کو قید کر لیا ہے۔ اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ ممکنہ شواہد کی دستیابی کے باوجود، پولیس نے ابتدائی طور پر مقدمہ کو “نامعلوم گاڑی” کی وجہ سے ہونے والی موت کے طور پر درج کیا اور اسے ٹکر مارنے کا واقعہ قرار دیا۔

انہوں نے معاملے کی ابتدائی ہینڈلنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ کیس کی تحقیقات قتل کے نقطہ نظر سے کی جائے اور ذمہ دار پائے جانے والے تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ واقعے کے بعد بیرو کو اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے تقریباً 3 بجے مردہ قرار دیا۔ بدھ کو. اس کی موت کے بعد خاندان کی طرف سے ان لوگوں کے خلاف مکمل تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا گیا جن پر وہ ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ پولیس موثر کارروائی نہیں کر رہی ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے احتجاجاً بیرو کی لاش کے ساتھ ہائی وے کو بلاک کر دیا۔ مظاہرے کے دوران وہ ملزمان کی فوری گرفتاری اور سخت کارروائی کے اپنے مطالبے پر ڈٹے رہے اور ان کے تحفظات دور ہونے تک پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ پولیس اہلکاروں کی مداخلت اور اہل خانہ کو مناسب کارروائی کی یقین دہانی کے بعد بالآخر ہائی وے کی ناکہ بندی ختم کردی گئی۔ یقین دہانی کے بعد اہل خانہ نے لاش کو سڑک سے ہٹا دیا، جس سے ٹریفک کی آمدورفت بحال ہو گئی۔ فی الحال، متاثرہ کے اہل خانہ اور عینی شاہد راہول دونوں کا کہنا ہے کہ بیرو کی موت سڑک حادثے کے بجائے قتل کا نتیجہ تھی۔

تحقیقات جاری ہیں، مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Continue Reading

جرم

نسلی تعصب پر مبنی بدسلوکی کی وائرل ویڈیو کے معاملے میں دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی

Published

on

نئی دہلی : دہلی پولیس نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والے امیر شوکین کے خلاف تریپورہ کے ایک فرد کی نسلی ہراسانی اور تذلیل کے ایک مبینہ واقعے کے سلسلے میں ایک فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی ہے، جسے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے۔ یہ تریپورہ پولیس کی جانب سے متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ دہلی پولیس نے بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 192، 196، 352، اور 353 کے تحت صدر بازار پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا ہے۔ اس سے قبل، شوکین نے سوشل میڈیا پر توہین آمیز ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد معافی مانگی تھی اور اس پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ ایک فیس بک پوسٹ میں، شوکین نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو اسکرپٹ کی گئی تھی اور اس میں جو شخص دکھایا گیا تھا وہ اسے جانتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شخص پہلے احمد آباد میں ایک دوست کے کیفے میں کام کر چکا تھا اور اس تبادلے کو ایک مزاحیہ ویڈیو قرار دیا جس میں دونوں لوگ مذاق کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا کسی کی توہین کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ عامر شوکین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہو۔ حکام نے بتایا کہ اس سے قبل آئی پی سی (انڈین پینل کوڈ) کی دفعہ 323، 324، 504، اور 506 کے تحت متاثرین کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے، تریپورہ اسٹوڈنٹس فورم دہلی نے دہلی پولیس کو ایک باضابطہ شکایت پیش کی تھی، جس میں ایف آئی آر کے اندراج اور معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ پیش رفت مرکزی وزیر کرن رجیجو کے سوشل میڈیا پر اس معاملے کو اٹھانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اپنی شکایت میں، تریپورہ اسٹوڈنٹس فورم دہلی (ٹی ایس ایف ڈی) نے سوشل میڈیا مواد بنانے والے کے ذریعہ فرد کے ساتھ مبینہ سلوک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، پولیس سے فوری مداخلت کی درخواست کی۔

“تریپورہ اسٹوڈنٹس فورم دہلی (ٹی ایس ایف ڈی) کی جانب سے، ہم انسٹاگرام پر گردش کرنے والی ایک پریشان کن ویڈیو میں آپ کی فوری مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے یہ باضابطہ شکایت جمع کراتے ہیں جس میں مبینہ طور پر تریپورہ کے ایک فرد کو سوشل میڈیا مواد کے تخلیق کار کے ذریعہ جنسی زیادتی، ہراساں کرنے اور توہین آمیز سلوک کا نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے،” شکایت میں کہا گیا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ، اگر تحقیقات کے ذریعے ثابت ہوتا ہے، تو الزامات فرد کے وقار، جسمانی خود مختاری اور حفاظت کے ساتھ ساتھ شمال مشرق کے لوگوں کے نسلی امتیاز اور ہراساں کیے جانے کے خلاف تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کریں گے۔ فورم نے یہ بھی الزام لگایا کہ ویڈیو میں نسلی طور پر تضحیک آمیز تاثرات شامل ہیں، جن میں ‘چنکی’ اور ‘چینی’ شامل ہیں، جو فرد کی طرف ہدایت کی گئی ہیں۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ “اس طرح کے تاثرات، جب کسی شخص کو اس کی سمجھی جانے والی نسلی یا علاقائی شناخت کی وجہ سے اس کی تذلیل یا تذلیل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو نسلی تعصب، وقار اور مساوی سلوک کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں۔” فورم نے ویڈیو میں تریپورہ کا حوالہ دینے کے لیے توہین آمیز زبان کے مبینہ استعمال پر مزید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے نہ صرف متعلقہ فرد بلکہ ریاست کے لوگوں کی توہین قرار دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان