Connect with us
Tuesday,21-April-2026

سیاست

کسانوں کے خلاف ’قلعہ بندی‘ ٹھیک نہیں : راہل

Published

on

rahul

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کسان ملک کی طاقت ہیں اور ان کی تحریک کو قلعہ بندی کر کے دبانا خطرناک ہے، اس لئے حکومت کو مسئلے کا حل نکالنے کے لئے کسانوں سے بات چیت کرنی چاہئے۔ مسٹر گاندھی نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کو کسانوں کی بات سننی چاہئے، اور ان کے مطالبات پر مثبت غور کر زراعت سے متعلق قوانین کو واپس لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور کسانوں کو لے کر ملک کوئی حکمت عملی نہیں ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے یہاں قیادت کا فقدان ہے اور ملک کو سنبھالنے کا نظریہ قیادت میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت حالات کو سنبھال نہیں پارہی ہے۔ وزارت داخلہ کی ذمہ داری تھی کہ کوئی بھی عناصر لال قلعہ پر نہیں جا پاتا، لیکن حکومت ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس لئے سماج دشمن عناصر نے لال قلعہ پر جاکر فساد کیا ہے۔ اس معاملے میں حکومت کو جانچ کرنی چاہئے۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ بجٹ میں حکومت نے ملک کے عوام کی اندیکھی کی ہے۔ ملک کے 99 فیصد لوگوں کو حمایت دینے کے بجائے صرف ایک فیصد لوگوں کی مدد کے لئے بجٹ 22-2021 کو تیار کیا گیا ہے۔ حکومت نے کسانوں، چھوٹے صنعت کاروں، فوج اور دیگر اہم شعبوں کے لوگوں کا پیسہ صرف چار پانچ طبقوں کو فائدہ دینے اور ان کو پیسہ دینے کے لئے بجٹ میں انتظام کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ سب سے بڑا بحران یہ ہے کہ چین ہماری سرحد میں گھسا ہے لیکن بجٹ میں چین کو پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ اندر آسکتے ہیں اور جو بھی کرنا ہے کریں، لیکن ہم اپنی فوج کو حمایت نہیں دیں گے۔ بجٹ میں دفاعی شعبہ کے لئے محض تین، چار ہزار کروڑ روپے بڑھائے گئے ہیں۔ اس سے ملک کو فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ حکومت کا فوج کے لئے عزم ہونا چاہئے۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ فوج کی جو بھی ضرورت ہے اسے دیا جانا چاہئے۔ لداخ میں ہماری فوج کھڑی ہے لیکن ان کو پیسہ نہیں دیا جارہا ہے۔ حکومت کو فوج کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مناسب پیسہ دینا چاہئے، لیکن حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جرم

ممبئی مصالحہ کی دکان میں چوری ملازم یوپی سے گرفتار نقدی برآمد

Published

on

Arrest

ممبئی : کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان سے ۱۳ لاکھ ۸۶ ہزار۲۰۰ روپیہ کی چوری کرنے والے ایک ملازم چور کو پولس نے یوپی ایودھیا اترپردیش سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان پر ۸ دنوں کا جمع شدہ پیسہ غلہ میں رکھا ہوا تھا اور دوسرے روز شکایت کنندہ دکان مالک نے غلہ میں پیسہ تلاش کیا تو اسے یہ برآمد نہیں ہوا, اس کے بعد اس نے پولس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروائی اور پولس نے انکوائری کی تو معلوم ہوا کہ دکان پر کام کرنے والا ملازم صبح سے غیر حاضر ہے, جس پر پولس کو شبہ ہوا اور پولیس نے یوپی کے ایودھیا سے اجئے کمار شیام سندر کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے نقدی ۱۰ لاکھ سے زائد برآمد کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی راگسودھا نے حل کر لیا اور پولس نے ملزم کو یوپی سے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : دوٹانکی مولانا شوکت علی مارگ پر فرنیچر فروشوں کے خلاف ‘ای’ وارڈ کی بے دخلی کی کارروائی

Published

on

2-Tank-Road

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘ای’ وارڈ ڈیپارٹمنٹ نے حال ہی میں ‘ای’ ڈیپارٹمنٹ کے تحت مولانا شوکت علی مارگ پر پرانے فرنیچر فروشوں اور دیگر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر (زون 1) چندا جادھو کی رہنمائی اور اسسٹنٹ کمشنرآنند کنکل کی قیادت میں کی گئی۔ ای ڈپارٹمنٹ میں مولانا شوکت علی مارگ پر تجاوزات بالخصوص مرلی دیورا آئی اسپتال سے جے جے اسپتال سگنل تک کے علاقے میں راہگیروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا تھا۔ راہگیروں کو فٹ پاتھ کے بجائے سڑک پر گزرنے پر مجبور ہونا پڑتا تھا جس کی وجہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا۔ اس صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کے ‘ای’ ڈویژن کی کنزرویشن اینڈ انکروچمنٹ ایلیمینیشن ٹیموں نے ممبئی پولیس کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر ایک مہم شروع کی۔ اس بے دخلی کی کارروائی کے دوران فرنیچر فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور سخت کارروائی کی گئی۔ فٹ پاتھوں پر پڑے پرانے فرنیچر کو جے سی بی کی مدد سے موقع پر ہی تباہ کر دیا گیا۔ ساتھ ہی ٹوٹے ہوئے فرنیچر کے فضلے کو بھی فوری طور پر ہٹا دیا گیا۔ فٹ پاتھ پر تمام تجاوزات ہٹا دی گئیں۔ علاوہ ازیں علاقے میں غیر مجاز ہاکروں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ جس کے باعث سڑک کو مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

اس مہم میں 1 جے سی بی، 4 مزدور، 3 افسران اور 2 انجینئروں نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ ناگ پاڑہ پولیس اسٹیشن کے 9 اہلکاروں کو سیکورٹی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ دریں اثنا، ممبئی میونسپل کارپوریشن کا ‘ای’ ڈویژن اس موقع پر ایک بار پھر واضح کر رہا ہے کہ غیر مجاز تعمیرات اور غیر مجاز ہاکروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی جاری رہے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

محافظ کو نشانہ نہ بنائیں… سمیر وانکھیڈے کے کیس میں بامبے ہائیکورٹ کا اہم تبصرہ

Published

on

ممبئی: این سی بی کے زونل ڈایکٹرسمیر وانکھیڈے رشوت ستانی کیس میں بامبے ہائیکورٹ نے سماعت کرتے ہوئے کئی اہم تبصرے کئے ہیں اور ایجنسی سے سوال کئے ہیں جس میں پہلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ ملزم کے بیان پر انکوائری کرسکتے ہیں ؟ این سی بی نے اس سے قبل سمیر وانکھیڈے کی انکوائری سے متعلق بند لفالفے میں ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وانکھیڈے پر انکوائری نواب ملک یا کسی سیاسی دباؤ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ انکوائری نامعلوم شکایت اور خط پر کی جارہی ہے اس کے ساتھ ہی شکایت کنندہ کرن سجنانی بھی سمیر وانکھیڈے کے طریقہ کار پر انکوائری کا مطالبہ کیا تھا جبکہ سمیر وانکھیڈے نے ہی کرن سجنانی کو ڈرگس کیس گرفتار کیا تھا اور اس کے ساتھ اس کے شریک کار سمیر خان کو بھی گرفتار کیا تھا سمیر خان نواب ملک کا داماد ہے سمیر خان کاایک کار حادثہ میں انتقال ہو چکا ہے۔ عدالت سمیر وانکھیڈے سے متعلق تبصرہ کیا گیا ہے کہ سماج میں بہتر کام کرنے والے افسر و محافظ کو نشانہ بنایا جائے یہ تبصرہ عدالت نے سمیر وانکھیڈے پر ملزم کی جانب سے شکایت پر انکوائری پر کیا ہے اس کے ساتھ ہی جس ملزم کی شکایت پر انکوائری کی جارہی ہے اس پر ڈرگس فروشی کا الزام ہے اس کےخلاف الزام ہے کہ وہ اور اس کا پارٹنر ممبئی میں واڈہ پاؤ کی طرح ڈرگس منشیات فروشی کا منصوبہ تیار کر چکے تھے سمیر وانکھیڈے نے ڈرگس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کورڈیلیا کروز کیس میں آرین خان کو گرفتار کیا تھا اس سے ۲۵ کروڑ روپے رشوت طلبی کا بھی ان پر الزام ہے اس میں سی بی آئی نے کیس درج کیا ہے اسی معاملے میں ایک پرائیوٹ عرضی گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ رشوت دینا اور لینا دونوں جرم کے زمرے میں آتا ہے اگر وانکھیڈے نے رشوت وصول کی ہے تو پھر شاہ رخ خان کو بھی اس معاملہ میں ملزم بنایا جائے کیونکہ رشوت دینا بھی جرم ہے اس معاملہ میں ہائیکورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے وانکھیڈے کو راحت پہنچائی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان