Connect with us
Saturday,05-September-2026

سیاست

وزیر اعظم مودی کو کسانوں سے جلد از جلد بات کرنی چاہئے : راہل گاندھی

Published

on

rahul

نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک بھر کے کسان زراعت سے متعلق تینوں قوانین کو سمجھنے لگے ہیں، اور ان کی تحریک تھمنے کے بجائے زیادہ پھیل جائے گی، لہذا وزیر اعظم نریندر مودی کو کسانوں سے بات کر کے جلد از جلد مسئلے کا حل نکالنا چاہئے۔

راہل گاندھی نے یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پورے ملک کے کسان ان قوانین سے پیدا ہونے والے خطرناک حالات کو سمجھنے لگے ہیں۔ اب تک پنجاب، ہریانہ، اترپردیش، راجستھان وغیرہ ریاستوں کے کسان ان تینوں قوانین سے پیدا ہونے والی صورتحال کو سمجھ رہے تھے، اس لئے وہ تحریک چلا رہے ہیں، لیکن اب ملک کے دیگر حصوں کے کسانوں کو بھی ان قانون سے ہونے والی پریشانی سمجھ میں آنے لگی ہے۔ کسانوں کی تحریک نہیں رکے گی بلکہ پورے ملک میں پھیل جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کسان ملک کی آواز ہیں اور ان کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ انہیں نقصان پہنچایا جارہا ہے اور انہیں بحران کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ ان کی چوری ہورہی ہے اور ان کے حقوق چھین لئے جارہے ہیں۔ ان تمام صورتحال کے بیچ وزیر اعظم کو یہ کیسے لگتا ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے اور جن کے خلاف وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہیں، وہ اپنے مطالبات پورے کیے بغیر ہی تحریک کے مقام سے ہٹ جائیں گے۔

کانگریسی قائد نے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی کو یہ سمجھ لیناچاہئے کہ کسانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی وجہ سے ملک کو بہت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اگر ملک کو نقصان سے بچانا ہے تو کسانوں سے ان کو بات کرنی ہوگی اور ان کی بات کو مانتے ہوئے تینوں قوانین کو واپس لینا ہوگا۔ آپ کو کسانوں کی بات سننی ہوگی اور جلد از جلد ان سے بات کرنا ہوگی اور ملک کو بڑے نقصانات کی طرف بڑھنے سے روکنا ہوگا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت صرف چار پانچ سرمایہ داروں کے مفادات کے لئے کام کر رہی ہے اور انہیں کسانوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس حکومت میں عام آدمی کی بات نہیں سنی جارہی ہے اور جو امیر ہے وہ زیادہ امیر ہوتا جارہا ہے اور جو غریب ہے وہ مزید غریب ہوتا جارہا ہے۔

حکومت جس پالیسی پر کام کر رہی ہے اس کی وجہ سے کسان اپنی فصلوں کی قیمت پر کسی سے بات نہیں کرسکیں گے۔ اسے لوٹا جائے گا اور اس کی سننے والا کوئی نہیں ہوگا، لہذا حکومت کو ان قوانین کو واپس لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس صورتحال کو سمجھتی ہے لہذا کسانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف کھڑی ہے۔

کانگریسی رہنما نے کہا کہ دھرنے پر بیٹھے کسانوں کو ڈرایا اور دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ان کے خلاف قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) استعمال کی جارہی ہے۔ حکومت دہلی سے ملحقہ سنگھو بارڈر پر احتجاج کرنے والے کسانوں کے ساتھ غلط سلوک کررہی ہے۔ حکومت کو کسانوں کے ساتھ بد سلوکی کرنے کے بجائے ان کی بات سننی چاہئے اور تینوں قوانین کو واپس لینا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بتانا چاہئے کہ لال قلعے کے اندر جو 50 کسا ن داخل ہوئے تھے ان کو کس نے وہاں جانے کی اجازت دی اور انہیں وہاں جانے کی اجازت کیوں دی گئی؟ انہوں نے کہا کہ غلط کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے لیکن تمام کسانوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہئے۔

سیاست

راہل گاندھی نے پنجاب پولیس کی مبینہ بربریت کے متاثرہ شخص سے ملاقات کی، انصاف کا مطالبہ کیا

Published

on

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے ہفتہ کو پنجاب پولیس کی بربریت کا مبینہ شکار موہن جیت سنگھ سے بات کی۔ موہن جیت سنگھ نے الزام لگایا کہ پولیس کی حراست میں ان پر تشدد کیا گیا، جس میں بجلی کے جھٹکے لگائے جانے اور منشیات کھانے پر مجبور کیا جانا بھی شامل ہے۔ ان الزامات نے سیاسی طوفان برپا کر دیا ہے، تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی دوران، کانگریس نے اعلان کیا کہ ریاست بھر میں اس کے کارکنان وزیر اعلی بھگونت سنگھ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہر جگہ وزیر اعلی بھگونت کو سیاہ جھنڈے دکھائیں گے۔ پارٹی کے ریاستی صدر امریندر سنگھ راجہ وارنگ، جنہوں نے یہاں موہن جیت سنگھ سے ملاقات کی، میڈیا کو بتایا کہ راہول گاندھی نے موہن جیت سنگھ کی طرف سے سچائی کے لیے کھڑے ہونے اور اپنا پیغام پہنچانے میں دکھائے گئے ہمت کی تعریف کی۔ انہوں نے پنجاب میں کانگریس سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ انہیں انصاف ملے۔

ریاستی صدر نے کہا کہ سی ایم مان نے “احمد شاہ ابدالی جیسا برتاؤ” شروع کر دیا تھا اور ان کی الٹی گنتی شروع ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مان پہلے وزیر اعلیٰ نہیں ہیں جنہیں کالا جھنڈا دکھایا گیا ہے، کیونکہ ماضی میں کئی وزرائے اعلیٰ اور حتیٰ کہ وزرائے اعظم کو بھی کالے جھنڈے دکھائے جا چکے ہیں۔ لیکن، انہوں نے مزید کہا کہ مان نے جیسا رد عمل ظاہر کیا کسی نے بھی ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مثالی طور پر چیف منسٹر کو رحمدلی اور وقار کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا اور موہجیت سنگھ کو فون کرکے ان سے پوچھا کہ وہ احتجاج کیوں کررہے ہیں۔ لیکن اس کے بجائے، سی ایم مان نے نوجوانوں پر وحشیانہ پولیس فورس کو اتار دیا، جسے پولیس حراست میں وحشیانہ تھرڈ ڈگری ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے۔

اس کے علاوہ، انہوں نے مزید کہا، پولیس کے وحشیانہ سلوک سے اس کے کان کے پردے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پولیس کی طرف سے واقعے کی انکوائری کا حکم دینے کو مسترد کرتے ہوئے وارنگ نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کو برطرف کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ پولیس میں رہنے کے لائق نہیں ہیں۔ وارنگ نے یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر اے اے پی حکومت دونوں پولس والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی ہے، اگر پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو کانگریس کارروائی شروع کرے گی۔ وارنگ نے کہا کہ کانگریس موہن جیت کے لیے کارروائی اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے گورنر سے ملاقات کر سکتی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

تحفظ ختمِ نبوت کے موضوع پر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء و رضا اکیڈمی کی اہم نشست

Published

on

ممبئی، 5 ستمبر 2026: عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ، اس کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے اور نسلِ نو کو بنیادی اسلامی عقائد سے روشناس کرانے کے مقصد سے آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء اور رضا اکیڈمی کے زیرِ اہتمام چشتی ہندوستانی مسجد، بھائیکلہ، ممبئی میں ایک اہم علمی و دینی نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں شہر کے متعدد علمائے کرام، ائمۂ مساجد، دانشوران اور عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔نشست کی صدارت حضرت علامہ مولانا عبدالجبار ماہر القادری، خطیب و امام چشتی ہندوستانی مسجد نے فرمائی۔ پروگرام کا آغاز مقررہ وقت سہ پہر 3 بجے ہوا۔ نشست میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، اس کے تحفظ کی دینی ذمہ داری اور موجودہ دور میں درپیش فکری و اعتقادی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ 7 ستمبر 2026 کو کربلا مسجد، سنگم نگر، انٹاپ ہل، وڈالا، ممبئی میں بعد نمازِ عشاء منعقد ہونے والی تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے بھی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسیرِ مفتیِ اعظم، بانی و سربراہ رضا اکیڈمی، الحاج محمد سعید نوری نے تحفظِ ختمِ نبوت کے موضوع پر فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی شرعی و اسلامی حیثیت واضح کی۔ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں اس عقیدۂ قطعیہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ کے بعد کسی بھی شخص کا دعوائے نبوت اسلامی عقائد کے سراسر منافی ہے۔

الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ عقیدۂ ختمِ نبوتامتِ مسلمہ کے بنیادی اور قطعی عقائد میں شامل ہے، جس کی حفاظت ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے موجودہ دور کے تقاضوں کے پیش نظر بالخصوص نئی نسل کو عقیدۂ ختمِ نبوت سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ فتنۂ قادیانیت کے مقابلے میں علمی، فکری اور پُرامن انداز میں بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے علمائے کرام اور اہلِ علم سے اپیل کی کہ وہ عقیدۂ ختمِ نبوت کا پیغام نسلِ نو تک مؤثر انداز میں پہنچائیں، تاکہ نوجوان نسل اپنے بنیادی اسلامی عقائد سے مکمل طور پر واقف اور وابستہ رہے۔صدارتی خطاب میں علامہ مولانا عبدالجبار ماہر القادری نے عقیدۂ ختمِ نبوت کی عظمت و اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ تحفظِ ختمِ نبوت محض ایک موضوع نہیں بلکہ ایمان کی بنیادوں سے وابستہ ایک اہم دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے علمائے کرام اور ائمۂ مساجد پر زور دیا کہ وہ اپنے خطابات، تحریروں اور دینی مجالس کے ذریعے عوام تک عقیدۂ ختمِ نبوت کی صحیح تعلیم پہنچاتے رہیں۔ علامہ عبدالجبار ماہر القادری نے علمائے کرام، ائمۂ مساجد اور عاشقانِ رسول سے اپیل کی کہ 7 ستمبر 2026 بروز پیر بعد نمازِ عشاء کربلا مسجد، سنگم نگر، انٹاپ ہل، وڈالا، ممبئی میں منعقد ہونے والی تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں اور اس اہم دینی و اعتقادی اجتماع کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر مولانا عرفان علیمی نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، فتنۂ قادیانیت کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نئی نسل کو اسلامی عقائد سے روشناس کرانا اور فکری و اعتقادی گمراہیوں سے محفوظ رکھنا اہلِ علم کی اہم ذمہ داری ہے۔نشست میں شریک علمائے کرام اور دانشوران نے اس امر پر اتفاق کیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے علمی، فکری اور دعوتی سطح پر مسلسل جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی پاسبانی، اشاعت اور نسلِ نو کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لیے علمی و اصلاحی نشستوں اور اجتماعات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔نشست میں علمائے کرام، دانشوران اور مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ آخر میں ملک و ملت، امتِ مسلمہ اور خصوصاً عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی ماہم میں دہی ہانڈی پر ہندو مسلم ایکتا کی مثال

Published

on

ممبئی میں ہندو مسلم ایکتا کی مثال پیش کرتے ہوئے ماہم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے آستانہ کے داخلی دروازے پر گووندہ پاٹھکوں نے پہلی سلامی پیش کی ہے ۔ درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نےبتایا کہ یہی ہندوستان کا خاصہ ہے کہ یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرتا ہے اور ماہم درگاہ ہندو مسلم اتحاد و ایکتا کا گہوارہ ہے یہاں بلا تفریق و مذہب و ملت ہر کوئی حاضری دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ روایتی انداز میں گووندہ پاٹھک یہاں ہر سال سلامی دیتے ہیں یہ روایت صدیوں سے قائم ہے کیونکہ ہندوستان صوفی سنتوں کا ملک ہے ۔ ممبئی تھانہ میں گوکل اشٹمی دہی ہانڈی کے پس منظر میں پولس نے الرٹ جاری کیا ہے گووندہ پاٹھکوں پر پولس نے نگرانی کے لئے ڈرون کا استعمال کیا دہی ہانڈی کی اونچائی بھی طے کی گئی اس کے علاوہ اونچی دہی ہانڈی میں بچوں کی شمولیت پر پابندی عائد تھی ۔ ممبئی شہر و مضافات میں جوش و خروش کے ساتھ دہی ہانڈی کا تہوار منایا گیا ٹریفک پولس نے بھی اس کے پیش نظر شاہراہوں پر ناکہ بندی کی تھی تاکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جاسکے اس کے تحت ٹریفک پولس نے بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کی ہے ۔

ممبئی شہر میں دہی ہانڈی پر سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے کیا تھا اس مطابق ڈی سی پی راج تلک روشن نے کہا کہ دہی ہانڈی پر پولس پوری طرح سے مستعد ہےاور حالات پر بھی نظر رکھی جارہی ہے اس کے علاوہ ڈرون سے بھی نگرانی جاری ہے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دہی ہانڈی پر قانون کی پاسداری کی بھی اپیل کی ہے ۔ مختلف سرکاری اور بی ایم سی ہسپتالوں سے زخمی گووندوں کے بارے میں دوپہر تک موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق ۲۵ سے زائد گووندہ پاٹھک زخمی ہوئے ہیں جبکہ دہی ہانڈی کا تہوار اب بھی جاری ہے ایسی صورتحال میں مسلسل بی ایم سی کے اسپتال الرٹ موڈ پر ہے اس کے ساتھ ہی پولس بھی الرٹ ہے ممبئی میں دہی ہانڈی کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا البتہ گووندہ پاٹھکوں کے زخمی ہونے کے واقعات رونما ہوئے ہیں کئی کو علاج کے بعد رخصتی دیدی گئی ہے ۔ گووندہ پاٹھکوں نے یہاں ممبئی کے ماہم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے آستانہ سے پہلی سلامی دی اور ہندو مسلم اتحاد و ایکتا کا ثبوت پیش کیا یہ گووندہ منڈل ہر سال اسی طرز پر آستانہ مخدوم پر سلامی دے کر بابا مخدوم اور ماں صاحب کی جئے کا نعرہ بلند کرتا ہے یہ نفرت پرستوں کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہےاس سے یکجہتی اور اتحاد کو فروغ ملتا ہے ۔ پولس نے دہی ہانڈ ی پر سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے جس کے سبب ممبئی میں کسی بھی قسم کا کوئی ناموافق واقعہ پیش نہیں آیا ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان