Connect with us
Saturday,24-October-2026
تازہ خبریں

سیاست

دین کی خاموش خدمت انجام دینے والا ایک چھوٹا سا مدرسہ ایسا بھی جہاں بڑی عمر کی خواتین بھی ختم قرآن کی سعادت حاصل کر رہی ہیں

Published

on

madrasa

مالیگاؤں (نامہ نگار) مالیگاؤں کے عائشہ نگر نامی علاقے میں واقع سونیا گاندھی کالونی کے ایک فلیٹ میں خواتین اور بچیوں کے لیے ایک مدرسہ گزشتہ پندرہ برسوں سے جاری ہے، جو ہزار کھولی کے مدرسہ اہل سنت عربیہ نورالعلوم کی ایک شاخ ہے ، شیخ غلام رسول آپریٹر، ڈاکٹر رئیس احمد رضوی اور عقیل بھائی رکشہ والے کی زیر نگرانی یہ مدرسہ ایسی خاموش خدمات انجام دے رہا ہے جو بہت متاثر کن ہے ، رضا اکیڈمی اور مدرسہ تہذیب البنات کی سرپرستی بھی اس مدرسے کو حاصل ہے .رضا اکیڈمی کے شکیل احمد سبحانی نے بتایا کہ گزشتہ دنوں نور باغ جانا ہوا، سونیا گاندھی کالونی کا وہ مدرسہ یاد آیا اور ہم لوگ وہاں پہنچ گئے ، جہاں مدرسہ اہل سنت تہذیب البنات سے شعبہ ء عالمیت میں سند فراغت حاصل کرنے کے بعد سے صبیحہ کوثر خدمت دین انجام دے رہی ہیں ، اپنی معلمہ صاحبہ کو دیکھ کر آس پاس کی بچیاں بھی مدرسے میں جمع ہوگئیں ، میں نے ان بچیوں سے پوچھا کہ تمہارے اس مدرسے سے اس بستی میں دین کی کیسی خدمت ہورہی ہے؟ سب نے بتایا کہ آس پاس کی چند گلیوں کے لیے یہ مدرسہ دینی تعلیم کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے ، صرف ہم ہی نہیں بلکہ ہمارے محلے کی جو بچیاں شادی ہوجانے کے سبب اس محلے کو چھوڑ چکی ہیں ان سبھوں نے بھی اسی مدرسہ میں قرآن شریف پڑھنے کی سعادت پائی اور دین کی تعلیم حاصل کی ، اسی دوران ان بچیوں نے بتایا کہ ہمارے اس مدرسے کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں جہاں چھوٹی چھوٹی بچیاں علم دین حاصل کرتی ہیں ، وہیں بڑی عمر کی خواتین بھی مدرسہ پڑھتی ہی. میں نے دریافت کیا کہ کیا مطلب ؟ کیا وہ روزانہ مدرسہ آتی ہیں یا ہفتہ واری درس میں شریک ہوتی ہیں ، بچیوں نے بتایا کہ روزانہ مدرسہ بھی آتی ہیں اور درس میں بھی شریک ہوتی ہیں می‍ں نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی بات ہے لیکن وہ مدرسہ آتی ہیں تو کچھ پڑھتی بھی ہیں یا یوں ہی کچھ وعظ و نصیحت سن کر چلی جاتی ہیں. اس سوال پر مدرسے کی معلمہ صبیحہ کوثر نے بتایا کہ اس ماہ کے آخری عشرے میں جب ہمارے اس مدرسے کا سالانہ جلسہ ہوگا تو کمسن بچیوں کے ساتھ ساتھ پانچ بڑی عمر کی خواتین کو بھی ناظرہ ختم قرآن کی سند دی جائے گی …….
میں نے دریافت کیا کہ بڑی عمر کا مطلب کیا؟
تیس چالیس برس ….. ؟
تو صبیحہ آپا نے بتایا کہ دو خواتین پچاس برس کے قریب اور دو خواتین پچپن برس کے آس پاس ہیں ، جنہوں نے اسی مدرسے میں حروف کی پہچان کی اور اب ختم قرآن کر رہی ہیں، یہ سن کر عجیب سی خوشی محسوس ہوئی اور میں نے فوراً کہا کہ کیا انہیں ابھی مدرسے میں بلایا جا سکتا ہے؟ تاکہ ہم بھی دیکھیں کہ کس طرح وہ قرآن پڑھتی ہیں اور جان سکیں کہ اس عمر میں انہیں کس طرح علم دین حاصل کرنے کی ترغیب ملی ؟ صبیحہ آپا نے کہا کیوں نہیں ؟ بچے ابھی انہیں بلا لائیں گے ، پانچ دس منٹوں میں ہی اپنی زندگی کی چار پانچ دہائیوں کو عبور کر لینے والی اس مدرسے کی وہ تمام طالبات اپنے مادر علمی میں موجود تھیں ، جو اپنی مثال آپ ہیں.
ان کے آتے ہی میں نے جو چند سوالات کیے وہ یہ تھے
سوال : کیا آپ سب بھی اس مدرسہ میں پڑھتی ہیں
جواب : جی ہاں، ہم اسی مدرسے میں پڑھتی ہیں
سوال : اپنا نام اور عمر بتائیں
جواب : ذکیہ شیخ خلیل ( 32 سال ) نسیم بانو سراج علی( 42 سال) رئیسہ شیخ سلیم ( 47 سال) رحیمہ بی شیخ سلیم ( 52 سال) قمرالنساء عبدالسلام ( 55 سال)
سوال : کیا آپ سب ہمارے سامنے قرآن کریم پڑھ سکتی ہیں ؟
جواب : بالکل پڑھ سکتی ہیں .
سوال : قرآن پاک کا کون سا پارہ آپ سب بہ آسانی پڑھ سکتی ہیں ؟جواب : آپ جو بھی پارہ کہو، ہم سنانے کی کوشش کریں گے.
انتہائی پر اعتماد انداز میں جس طرح ان پانچوں خواتین نے جواب دیا ، اس کے بعد اس بات کی قطعی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی تھی کہ ان سے قرآن کریم سنا جائے ، لیکن چونکہ اس عنوان پر ایک مضمون قلمبند کرنے کا ذہن میں نے بنا لیا تھا اس لیے بہتر یہی تھا کہ قرآن کی کچھ آیتیں ان سے سن لی جائیں تاکہ جو کچھ لکھا جائے وہ مشاہدات پر مبنی ہو. اس لیے ہم نے یکے بعد دیگرے ان پانچوں خواتین سے قرآن کریم کو متعدد مقامات سے سنا اور دیکھا کہ واقعی جو کچھ انہوں نے کہا تھا اسی کے مطابق وہ قرآن کریم کی تلاوت بھی کر رہی تھیں .
جب قرآن پاک پڑھنے کا سلسلہ ختم ہوا تو پھر کچھ سوالات ہم نے ان سے کیے . پہلا سوال تھا .کتنے دنوں سے آپ سب مدرسہ آرہی ہیں .کسی نے کہا دیڑھ سال کسی نے دو سال، جب پوچھا گیا کہ اتنی عمر گزر جانے کے بعد مدرسہ آنے کا خیال کیسے پیدا ہوا، تو انہوں نے بتایا کہ اس مدرسے کی معلمہ صبیحہ کوثر نے ہماری ذہن سازی کی، ہمیں ہمت و حوصلہ دیا اور بتایا کہ علم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے، صبیحہ کوثر کی ان باتوں نے ہمیں قرآن کریم پڑھنے اور دین کو سمجھنے کا ایسا موقع دیا جسے ہم کبھی بھول نہیں سکتے .انہوں نے بتایا کہ ہم سے قبل بھی محلے کی کچھ بزرگ خواتین نے صبیحہ کوثر کے پاس اس مدرسے میں قرآن کریم پڑھا تھا ، وہ خواتین ہمارے لیے رہنما ثابت ہوئیں .
سوال : اب جب کہ آپ سب قرآن کریم پڑھنا سیکھ چکی ہیں تو کیسا محسوس ہو رہا ہے ؟
جواب : ہم سب بہت خوش ہیں کہ ہم نے قرآن کریم پڑھ کر اپنے لیے توشہ ء آخرت جمع کر لیا ہے ،
سوال : یہ تو ایک چھوٹا سا مدرسہ ہے لیکن دین کی بڑی خدمت یہاں سے ہو رہی ہے ، اس کے متعلق کیا کچھ کہنا چاہیں گے آپ.
جواب : ہم چاہیں گے کہ یہ مدرسہ بڑا ہوجائے اور دین کی مزید خدمت یہاں سے ہو ، لیکن ہماری نظر میں یہ چھوٹا سا مدرسہ ہی بہت بڑا ہے اس لیے کہ یہیں سے ہم لوگوں نے قرآن کریم کو پڑھنا سیکھا ، اگر یہ مدرسہ اور یہ معلمہ نہیں ہوتی تو شاید ہم قرآن کریم پڑھنے کی اس نعمت سے محروم ہو جاتے جو ہمیں حاصل ہوئی.
سوال : اپنے محلے کی ان ماؤں بہنوں کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گی ، جو کسی وجہ سے علم دین حاصل کرنے سے محروم رہے .
جواب : ہم ان سے یہی کہیں گے کہ مایوس نہ ہوں بلکہ ڈر، خوف اور جھجھک کو چھوڑ کر ہماری طرح وہ بھی اس یقین کے ساتھ مدرسہ آئیں کہ ہمیں بھی قرآن کریم پڑھنا ہے اور علم دین حاصل کرنا ہے . یہ تھے ایسی ماؤں بہنوں کے احساسات اور جذبات جو اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ گزار لینے کے بعد علم دین حاصل کرنے کی جانب متوجہ ہوئی تھیں اور اس راہ میں کامیابی کے بعد وہ اس قدر خوش ہیں کہ اپنے مدرسے کے لیے اور دین کی خدمت کا بہترین جذبہ رکھنے والی اپنی فرض شناس معلمہ کا شکر ادا کرنے کے لیے جن کے پاس الفاظ نہیں ہیں. یقینی طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں اس مدرسہ کے سرپرست اور ذمہ داران جنہوں نے زندگی کی بہت ساری مصروفیات کے باوجود اس مدرسے کو فراموش نہیں کیا ، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے وطفیل اس کی بہترین جزا انہیں عطا فرمائے . آمین. اس مدرسے میں بیٹھے بیٹھے جو بات میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی وہ یہی تھی کہ کیا ہی بہتر ہوتا اگر مدرسے سے متصل کوئی اور فلیٹ بھی حاصل کرکے اس مدرسے کو وسیع کردیا جاتا .میں سمجھتا ہوں مدرسہ عربیہ نورالعلوم کے منتظمین و ذمہ داران اگر غلام رسول بھائی آپریٹر، ڈاکٹر رئیس احمد رضوی اور عابد بھائی رکشہ والے کی سرپرستی میں اس جانب متوجہ ہوتے ہیں تو یہ کام کچھ مشکل نہیں ، برسہا برس سے جو مدرسہ دین کی خاموش خدمت انجام دے رہا ہے ، اس کی ترقی کے لیے قوم کے مخیر حضرات بھی ان شاء اللہ تعالٰی اپنا دست تعاؤن دراز کریں گے .

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

دادر آنجہانی ماں صاحب مینا تائی ٹھاکرے فلاور مارکیٹ اور سیناپتی باپٹ مارگ کے آس پاس سے 12 غیر مجاز تعمیرات، عارضی شیڈز وغیرہ کا انہدام

Published

on

Dadar-Flower-Market

ممبئی پیدل چلنے والوں راہگیروں کی فٹ پاتھوں پر بلا رکاوٹ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) ’پیڈیسٹرین فرسٹ‘ نامی اقدام پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں، آج (23 اکتوبر، 2026) دادار میں ’آنجہانی ماں صاحب مینا تائی ٹھاکرے فلاور مارکیٹ‘ کے قریب اور ’سیناپتی باپٹ مارگ‘ پر کارروائی کی گئی۔ اس کارروائی کے دوران 12 غیر مجاز تعمیرات جن میں ترپال کے عارضی شیڈز اور غیر قانونی چبوترے شامل ہیں کو ہٹایا گیا، اور ساتھ ہی فٹ پاتھوں پر رکاوٹ بننے والے 60 پھیری والوں (ہاکرس) کو بھی وہاں سے ہٹایا گیا۔ یہ آپریشن بی ایم سی کے ’جی-نارتھ‘ -وارڈ کی جانب سے انجام دیا گیا۔

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی رہنمائی میں، بی ایم سی ’پیڈیسٹرین فرسٹ‘ اقدام کو مؤثر طریقے سے نافذ کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد فٹ پاتھوں کو غیر مجاز پھیری والوں اور تجاوزات سے پاک کرنا ہے تاکہ وہاں کسی قسم کی رکاوٹ نہ رہے۔ اس تناظر میں، ڈپٹی میونسپل کمشنر (زون-2) پرشانت سپکالے کی رہنمائی اور اسسٹنٹ کمشنر (جی-نارتھ وارڈ) یوگیش دیسائی کی قیادت میں مذکورہ بالا کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس کے تحت دادار میں ’آنجہانی ماں صاحب مینا تائی ٹھاکرے فلاور مارکیٹ‘ کے قریب اور ’سیناپتی باپٹ مارگ‘ پر موجود 12 غیر مجاز تعمیرات، عارضی شیڈز، غیر قانونی چبوتروں اور فٹ پاتھوں پر رکاوٹ بننے والے 60 پھیری والوں کو ہٹا دیا گیا۔ اس موقع پر پولیس کی مناسب نفری بھی تعینات تھی۔

دریں اثنا، میونسپل کارپوریشن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے کہ فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لیے کھلے اور قابلِ استعمال رہیں۔ چنانچہ، میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ فٹ پاتھوں پر کوئی بھی غیر مجاز تعمیر نہ کی جائے اور نہ ہی وہاں کوئی ایسا سامان رکھا جائے جس سے پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہو۔ اگر اس طرح کی کوئی خلاف ورزی پائی گئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

خشک کچرے کو الگ کرنے والے مراکز کو جدید بنانے اور عوامی بیت الخلاء کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے ہدایات جاری : ایڈیشنل میونسپل کمشنر

Published

on

BMC-Offie

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے کچرا جمع کرنے اور اسے ٹھکانے لگانے (منتقل کرنے) کا ایک مؤثر نظام وضع کیا ہے۔ اس نظام کو انتظامی وارڈ کی سطح پر بھی اتنی ہی مستعدی اور کارکردگی کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما نے ہدایت دی ہے کہ ’گاربیج ولنریبل پوائنٹس‘ (جی وی پیز) یعنی وہ مقامات جہاں کچرا جمع ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے — کو ختم کرنے، تعمیراتی اور مسماری (سی اینڈ ڈی) کے ملبے کے مناسب انتظام کو یقینی بنانے، اور عوامی بیت الخلاء کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ مزید برآں، انہوں نے زور دیا کہ پوری انتظامیہ ممبئی میں صفائی ستھرائی کے حوالے سے معزز بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان ہدایات کے مطابق ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے صفائی ستھرائی میں نمایاں بہتری جلد از جلد نظر آئے۔ یہ ہدایات آج (23 اکتوبر 2026) ورلی میں واقع بی ایم سی کے کمانڈ سینٹر میں ڈاکٹر وپن شرما کی صدارت میں منعقدہ ’سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ‘ (شعبہ انتظامِ ٹھوس فضلہ) کے ایک جائزہ اجلاس کے دوران دی گئیں۔ اجلاس میں جوائنٹ میونسپل کمشنرز، ڈپٹی میونسپل کمشنرز، اسسٹنٹ میونسپل کمشنرز اور دیگر متعلقہ عہدیداران نے شرکت کی۔

برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی میونسپل کمشنر، اشونی بھیڈے کی ہدایات کے بعد، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما کی رہنمائی اور ڈپٹی کمشنر (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) شری کرن دیگھاوکر کی نگرانی میں، ممبئی میں صفائی ستھرائی اور ٹھوس فضلہ کے انتظام (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ آج منعقدہ جائزہ اجلاس کے دوران، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری اقدامات (انٹیاتیوس) کو مزید تیز کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ ڈاکٹر وپن شرما نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ کام کاج کی باقاعدگی سے نگرانی کریں، زیر التوا امور کا جائزہ لیں اور باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں تاکہ ممبئی کے صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مقرر کردہ اہداف کا حصول یقینی بنایا جا سکے۔

کوڑا کرکٹ پھینکنے کے ممکنہ مقامات (ہاٹ سپاٹ) کے خاتمے پر توجہ :
ممبئی بھر میں کوڑا کرکٹ پھینکنے کے ممکنہ مقامات (جنہیں ‘گاربیج ولنریبل پوائنٹس’ یا جی وی پیز کہا جاتا ہے) کی نشاندہی کرنے اور انہیں نقشے پر لانے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ ان مقامات کی سی سی ٹی وی (سی سی ٹی وی) کے ذریعے باقاعدگی سے نگرانی کی جانی چاہیے، اور متعلقہ انتظامی وارڈز کو چاہیے کہ وہ کوڑا جمع ہونے کی بنیادی وجوہات کا تجزیہ کریں تاکہ مستقل حل تلاش کیے جا سکیں۔ پہلے مرحلے میں ایسے 286 مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں سے 102 کو ختم کیا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر شرما نے زور دیا کہ ان مقامات کو دوبارہ بننے سے روکنے کے لیے، کوڑا ٹھکانے لگانے کے ضوابط کی بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جانی چاہیے۔

خشک کچرے کو الگ کرنے والے مراکز کو جدید بنانے کی کوششیں :
ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے دائرہ اختیار میں خشک کچرے کو الگ کرنے والے 55 مراکز ہیں، جن میں سے 46 فی الحال فعال ہیں۔ یہ مراکز روزانہ تقریباً 137.32 میٹرک ٹن خشک کچرا اکٹھا کرتے ہیں۔ ان مراکز کو جدید بنانے پر زور دیا جانا چاہیے تاکہ خشک کچرے کو اکٹھا کرنے، الگ کرنے اور ری سائیکل کرنے کے عمل کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ ڈاکٹر وپن شرما نے ہدایت کی ہے کہ ان مراکز میں دستیاب سہولیات، کچرے کو سنبھالنے کے نظام اور کچرے کے ریکارڈ کی درستگی کا جائزہ لیا جائے اور ضروری بہتری لائی جائے۔

تعمیراتی اور مسماری (سی اینڈ ڈی) کے ملبے کے انتظام میں سخت نگرانی کو یقینی بنانا :
ممبئی میں روزانہ 8,500 میٹرک ٹن سے زیادہ تعمیراتی اور مسماری کا ملبہ پیدا ہوتا ہے۔ فی الحال، یہاں موجود دو مراکز میں روزانہ 1,200 میٹرک ٹن ملبہ پروسیس (پراسیس) کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ متعلقہ حکام کو باہمی ہم آہنگی سے کام کرنا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تعمیراتی ملبے کو اس کے پیدا ہونے کی جگہ پر ہی الگ کیا جائے، اسے مجاز ذرائع سے منتقل کیا جائے اور مناسب طریقے سے پروسیس کیا جائے۔ ڈاکٹر وپن شرما نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ملبے کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے، متعلقہ پروجیکٹ سائٹس کی رجسٹریشن اور ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنایا جائے، اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے۔

عوامی بیت الخلاء کی سہولیات میں مؤثر بہتری :
میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں واقع عوامی بیت الخلاء میں صفائی ستھرائی، پانی کی فراہمی، بجلی اور پلمبنگ کے کنکشنز، ضروری مرمت، اور شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات کی دستیابی پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ متعلقہ محکموں کو ان سہولیات کا معائنہ کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ضروری مرمت اور تزئین و آرائش کا کام جلد از جلد مکمل کر لیا جائے۔ مزید برآں، وپن شرما نے کہا کہ نئے اور جدید عوامی بیت الخلاء کے لیے تجویز کردہ منصوبوں کا باقاعدہ اور منظم جائزہ لیا جانا چاہیے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن کا محکمہ تعلیم ‘آتش بازی، آلودگی سے پاک ماحول’ عوامی بیداری مہم کے تحت مختلف سرگرمیوں کا انعقاد

Published

on

Students

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں تہواروں اور تہواروں کے دوران فضائی اور صوتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے میونسپل کارپوریشن کے محکمہ تعلیم کے ذریعے ‘آتش بازی آلودگی سے پاک ماحول’ عوامی بیداری مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد طلبہ میں تہواروں کو ماحول دوست طریقے سے منانے کی عادت، آلودگی کے مضر اثرات کو سمجھانا اور سماجی ذمہ داری کا شعور بیدار کرنا ہے۔ یہ مہم میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ بامبے ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق اور حکومت کے ماحولیاتی رہنما خطوط کے مطابق چلائی جارہی ہے۔ طلباء کو پٹاخوں سے پیدا ہونے والی فضائی اور صوتی آلودگی، شہریوں کی صحت پر مضر اثرات اور بچوں، بزرگ شہریوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ پٹاخوں سے پیدا ہونے والے فضلہ اور ماحولیات کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں بھی آگاہی پیدا کی جائے گی۔ اس مہم کے تحت اسکولوں میں مختلف تعلیمی اور عوامی آگاہی کی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔

ویڈیو، ریلز مقابلہ :
طلباء پٹاخوں سے پیدا ہونے والی آلودگی، صحت پر منفی اثرات اور پٹاخوں سے پاک تہواروں کی اہمیت کے موضوعات پر مختصر ویڈیوز اور ریل تیار کریں گے۔

پوسٹر اور بینر مقابلہ :
طلباء کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ پوسٹرز اور بینرز تیار کریں جن پر مبنی پیغامات ‘ہمیں پٹاخے نہیں، ہمیں صاف ہوا چاہیے’، ‘آلودگی سے پاک تہوار، صحت مند زندگی ہے، پٹاخوں سے پاک تہوار، ماحولیاتی تحفظ، شور کی آلودگی پر قابو پانے اور سماجی ذمہ داری جیسے موضوعات پر موثر نعرے تیار کرنے کے لیے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔

بیداری ریلی اور عہد :
اسکول کے احاطے میں طلبہ کی شرکت سے عوامی بیداری ریلی نکالی جائے گی۔ طلباء کو پٹاخے سے پاک تہوار منا کر ماحولیات کے تحفظ کا عہد بھی دیا جائے گا۔

اسٹریٹ پلے اور آگاہی پروگرام :
پٹاخوں کے مضر اثرات اور تہواروں کو ماحول دوست طریقے سے منانے کی اہمیت پر مبنی اسٹریٹ پلے، تقریر، مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔

والدین اور کمیونٹی کی شرکت :
طلباء کی تیار کردہ ویڈیوز، ریلیز، پوسٹرز اور نعروں کے ذریعے والدین اور مقامی شہریوں میں بیداری پیدا کی جائے گی۔

طلبہ ایک عہد لیں گے :
طلباء کے ذریعے والدین اور کمیونٹی تک ماحولیاتی تحفظ کا پیغام پہنچانے پر زور دیا جائے گا۔ اسکول کے احاطے میں عوامی بیداری کی سرگرمیوں کو نافذ کرکے پٹاخوں سے پاک تہوار منانے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنے کی اپیل کی جائے گی۔ اس کے لیے تمام طلبہ اسکول کے نصاب کے حصے کے طور پر ایک اجتماعی عہد لیں گے۔ اس طرح کی سرگرمیاں طلباء میں ماحول دوست طرز زندگی، سماجی بیداری اور صحت عامہ کی ذمہ داری کو فروغ دینے میں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ اس مہم کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ تہوار مناتے ہوئے ماحول کی حفاظت کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے محکمہ تعلیم کے ذریعہ اسکولوں میں لاگو کی جانے والی یہ سرگرمیاں طلباء میں ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں بیداری کو تقویت دینے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے طلباء، والدین اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پٹاخوں کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے تہواروں کو ماحول دوست، محفوظ اور پر لطف انداز میں منانے میں تعاون کریں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان