Connect with us
Thursday,20-August-2026

سیاست

دین کی خاموش خدمت انجام دینے والا ایک چھوٹا سا مدرسہ ایسا بھی جہاں بڑی عمر کی خواتین بھی ختم قرآن کی سعادت حاصل کر رہی ہیں

Published

on

madrasa

مالیگاؤں (نامہ نگار) مالیگاؤں کے عائشہ نگر نامی علاقے میں واقع سونیا گاندھی کالونی کے ایک فلیٹ میں خواتین اور بچیوں کے لیے ایک مدرسہ گزشتہ پندرہ برسوں سے جاری ہے، جو ہزار کھولی کے مدرسہ اہل سنت عربیہ نورالعلوم کی ایک شاخ ہے ، شیخ غلام رسول آپریٹر، ڈاکٹر رئیس احمد رضوی اور عقیل بھائی رکشہ والے کی زیر نگرانی یہ مدرسہ ایسی خاموش خدمات انجام دے رہا ہے جو بہت متاثر کن ہے ، رضا اکیڈمی اور مدرسہ تہذیب البنات کی سرپرستی بھی اس مدرسے کو حاصل ہے .رضا اکیڈمی کے شکیل احمد سبحانی نے بتایا کہ گزشتہ دنوں نور باغ جانا ہوا، سونیا گاندھی کالونی کا وہ مدرسہ یاد آیا اور ہم لوگ وہاں پہنچ گئے ، جہاں مدرسہ اہل سنت تہذیب البنات سے شعبہ ء عالمیت میں سند فراغت حاصل کرنے کے بعد سے صبیحہ کوثر خدمت دین انجام دے رہی ہیں ، اپنی معلمہ صاحبہ کو دیکھ کر آس پاس کی بچیاں بھی مدرسے میں جمع ہوگئیں ، میں نے ان بچیوں سے پوچھا کہ تمہارے اس مدرسے سے اس بستی میں دین کی کیسی خدمت ہورہی ہے؟ سب نے بتایا کہ آس پاس کی چند گلیوں کے لیے یہ مدرسہ دینی تعلیم کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے ، صرف ہم ہی نہیں بلکہ ہمارے محلے کی جو بچیاں شادی ہوجانے کے سبب اس محلے کو چھوڑ چکی ہیں ان سبھوں نے بھی اسی مدرسہ میں قرآن شریف پڑھنے کی سعادت پائی اور دین کی تعلیم حاصل کی ، اسی دوران ان بچیوں نے بتایا کہ ہمارے اس مدرسے کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں جہاں چھوٹی چھوٹی بچیاں علم دین حاصل کرتی ہیں ، وہیں بڑی عمر کی خواتین بھی مدرسہ پڑھتی ہی. میں نے دریافت کیا کہ کیا مطلب ؟ کیا وہ روزانہ مدرسہ آتی ہیں یا ہفتہ واری درس میں شریک ہوتی ہیں ، بچیوں نے بتایا کہ روزانہ مدرسہ بھی آتی ہیں اور درس میں بھی شریک ہوتی ہیں می‍ں نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی بات ہے لیکن وہ مدرسہ آتی ہیں تو کچھ پڑھتی بھی ہیں یا یوں ہی کچھ وعظ و نصیحت سن کر چلی جاتی ہیں. اس سوال پر مدرسے کی معلمہ صبیحہ کوثر نے بتایا کہ اس ماہ کے آخری عشرے میں جب ہمارے اس مدرسے کا سالانہ جلسہ ہوگا تو کمسن بچیوں کے ساتھ ساتھ پانچ بڑی عمر کی خواتین کو بھی ناظرہ ختم قرآن کی سند دی جائے گی …….
میں نے دریافت کیا کہ بڑی عمر کا مطلب کیا؟
تیس چالیس برس ….. ؟
تو صبیحہ آپا نے بتایا کہ دو خواتین پچاس برس کے قریب اور دو خواتین پچپن برس کے آس پاس ہیں ، جنہوں نے اسی مدرسے میں حروف کی پہچان کی اور اب ختم قرآن کر رہی ہیں، یہ سن کر عجیب سی خوشی محسوس ہوئی اور میں نے فوراً کہا کہ کیا انہیں ابھی مدرسے میں بلایا جا سکتا ہے؟ تاکہ ہم بھی دیکھیں کہ کس طرح وہ قرآن پڑھتی ہیں اور جان سکیں کہ اس عمر میں انہیں کس طرح علم دین حاصل کرنے کی ترغیب ملی ؟ صبیحہ آپا نے کہا کیوں نہیں ؟ بچے ابھی انہیں بلا لائیں گے ، پانچ دس منٹوں میں ہی اپنی زندگی کی چار پانچ دہائیوں کو عبور کر لینے والی اس مدرسے کی وہ تمام طالبات اپنے مادر علمی میں موجود تھیں ، جو اپنی مثال آپ ہیں.
ان کے آتے ہی میں نے جو چند سوالات کیے وہ یہ تھے
سوال : کیا آپ سب بھی اس مدرسہ میں پڑھتی ہیں
جواب : جی ہاں، ہم اسی مدرسے میں پڑھتی ہیں
سوال : اپنا نام اور عمر بتائیں
جواب : ذکیہ شیخ خلیل ( 32 سال ) نسیم بانو سراج علی( 42 سال) رئیسہ شیخ سلیم ( 47 سال) رحیمہ بی شیخ سلیم ( 52 سال) قمرالنساء عبدالسلام ( 55 سال)
سوال : کیا آپ سب ہمارے سامنے قرآن کریم پڑھ سکتی ہیں ؟
جواب : بالکل پڑھ سکتی ہیں .
سوال : قرآن پاک کا کون سا پارہ آپ سب بہ آسانی پڑھ سکتی ہیں ؟جواب : آپ جو بھی پارہ کہو، ہم سنانے کی کوشش کریں گے.
انتہائی پر اعتماد انداز میں جس طرح ان پانچوں خواتین نے جواب دیا ، اس کے بعد اس بات کی قطعی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی تھی کہ ان سے قرآن کریم سنا جائے ، لیکن چونکہ اس عنوان پر ایک مضمون قلمبند کرنے کا ذہن میں نے بنا لیا تھا اس لیے بہتر یہی تھا کہ قرآن کی کچھ آیتیں ان سے سن لی جائیں تاکہ جو کچھ لکھا جائے وہ مشاہدات پر مبنی ہو. اس لیے ہم نے یکے بعد دیگرے ان پانچوں خواتین سے قرآن کریم کو متعدد مقامات سے سنا اور دیکھا کہ واقعی جو کچھ انہوں نے کہا تھا اسی کے مطابق وہ قرآن کریم کی تلاوت بھی کر رہی تھیں .
جب قرآن پاک پڑھنے کا سلسلہ ختم ہوا تو پھر کچھ سوالات ہم نے ان سے کیے . پہلا سوال تھا .کتنے دنوں سے آپ سب مدرسہ آرہی ہیں .کسی نے کہا دیڑھ سال کسی نے دو سال، جب پوچھا گیا کہ اتنی عمر گزر جانے کے بعد مدرسہ آنے کا خیال کیسے پیدا ہوا، تو انہوں نے بتایا کہ اس مدرسے کی معلمہ صبیحہ کوثر نے ہماری ذہن سازی کی، ہمیں ہمت و حوصلہ دیا اور بتایا کہ علم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے، صبیحہ کوثر کی ان باتوں نے ہمیں قرآن کریم پڑھنے اور دین کو سمجھنے کا ایسا موقع دیا جسے ہم کبھی بھول نہیں سکتے .انہوں نے بتایا کہ ہم سے قبل بھی محلے کی کچھ بزرگ خواتین نے صبیحہ کوثر کے پاس اس مدرسے میں قرآن کریم پڑھا تھا ، وہ خواتین ہمارے لیے رہنما ثابت ہوئیں .
سوال : اب جب کہ آپ سب قرآن کریم پڑھنا سیکھ چکی ہیں تو کیسا محسوس ہو رہا ہے ؟
جواب : ہم سب بہت خوش ہیں کہ ہم نے قرآن کریم پڑھ کر اپنے لیے توشہ ء آخرت جمع کر لیا ہے ،
سوال : یہ تو ایک چھوٹا سا مدرسہ ہے لیکن دین کی بڑی خدمت یہاں سے ہو رہی ہے ، اس کے متعلق کیا کچھ کہنا چاہیں گے آپ.
جواب : ہم چاہیں گے کہ یہ مدرسہ بڑا ہوجائے اور دین کی مزید خدمت یہاں سے ہو ، لیکن ہماری نظر میں یہ چھوٹا سا مدرسہ ہی بہت بڑا ہے اس لیے کہ یہیں سے ہم لوگوں نے قرآن کریم کو پڑھنا سیکھا ، اگر یہ مدرسہ اور یہ معلمہ نہیں ہوتی تو شاید ہم قرآن کریم پڑھنے کی اس نعمت سے محروم ہو جاتے جو ہمیں حاصل ہوئی.
سوال : اپنے محلے کی ان ماؤں بہنوں کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گی ، جو کسی وجہ سے علم دین حاصل کرنے سے محروم رہے .
جواب : ہم ان سے یہی کہیں گے کہ مایوس نہ ہوں بلکہ ڈر، خوف اور جھجھک کو چھوڑ کر ہماری طرح وہ بھی اس یقین کے ساتھ مدرسہ آئیں کہ ہمیں بھی قرآن کریم پڑھنا ہے اور علم دین حاصل کرنا ہے . یہ تھے ایسی ماؤں بہنوں کے احساسات اور جذبات جو اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ گزار لینے کے بعد علم دین حاصل کرنے کی جانب متوجہ ہوئی تھیں اور اس راہ میں کامیابی کے بعد وہ اس قدر خوش ہیں کہ اپنے مدرسے کے لیے اور دین کی خدمت کا بہترین جذبہ رکھنے والی اپنی فرض شناس معلمہ کا شکر ادا کرنے کے لیے جن کے پاس الفاظ نہیں ہیں. یقینی طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں اس مدرسہ کے سرپرست اور ذمہ داران جنہوں نے زندگی کی بہت ساری مصروفیات کے باوجود اس مدرسے کو فراموش نہیں کیا ، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے وطفیل اس کی بہترین جزا انہیں عطا فرمائے . آمین. اس مدرسے میں بیٹھے بیٹھے جو بات میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی وہ یہی تھی کہ کیا ہی بہتر ہوتا اگر مدرسے سے متصل کوئی اور فلیٹ بھی حاصل کرکے اس مدرسے کو وسیع کردیا جاتا .میں سمجھتا ہوں مدرسہ عربیہ نورالعلوم کے منتظمین و ذمہ داران اگر غلام رسول بھائی آپریٹر، ڈاکٹر رئیس احمد رضوی اور عابد بھائی رکشہ والے کی سرپرستی میں اس جانب متوجہ ہوتے ہیں تو یہ کام کچھ مشکل نہیں ، برسہا برس سے جو مدرسہ دین کی خاموش خدمت انجام دے رہا ہے ، اس کی ترقی کے لیے قوم کے مخیر حضرات بھی ان شاء اللہ تعالٰی اپنا دست تعاؤن دراز کریں گے .

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی آن لائن گیمنگ، کرکٹ بیٹنگ اور کیسینو کے نام پر سائبر فراڈ کا پردہ فاش، بین الریاستی ریکیٹ میں پانچ خواتین بھی شامل، ۲۵ کروڑ سے زائد کا لین دین

Published

on

Cyber-Froud

ممبئی : سائبر جرائم کے معاملات میں ملوث ایک ایسے گروہ کو پولس نے بے نقاب کیا ہے جو گیمنگ ایپ سمیت متعدد ایپس کے معرفت دھوکہ دہی میں ملوث تھا۔ ڈونگری پولس نے 319(4)، 317، 3(5) بھارتیہ نیائے سنہیتا، 2023 اور دفعہ 66(ک)، 66(ڈی) انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ، 2000 کے تحت کیس درج کیا تھا۔ ڈونگری پولیس اسٹیشن سائبر ٹیم کو موصول ہونے والی قابل اعتماد اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی منصوبہ بندی کے تحت تفتیش سے سائبر فراڈ کے لیے میول بینک اکاؤنٹس فراہم کرنے والے منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ مالی دھوکہ دہی کا شکار افراد کو نفع کا لالچ دے کر ان کے نام پر بینک اکاؤنٹس کھلوائے جاتے تھے اور ان اکاؤنٹس کے پاس بک، ڈیبٹ کارڈ، چیک بک، سم کارڈ وغیرہ اپنے قبضے میں لے کر انہیں سائبر فراڈ کے مالی لین دین کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ممبئی کے گوونڈی، مانخورد، ڈونگری علاقے کے ساتھ نوی ممبئی کے بیلا پور، پنویل اور عثمان آباد میں بھی تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ خفیہ معلومات کی بنیاد پر سینڈھرسٹ روڈ ریلوے اسٹیشن کے باہر، ڈاکٹر مہیشوری روڈ، ڈونگری، ممبئی میں کارروائی کر کے تفتیش کے دوران کل 03 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن کی شناخت نکھل کمل کمار جسوانی، عمر 28 سال، پپریا، ضلع ہوشنگ آباد، مدھیہ پردیش، راہل شیاملال پروانی، عمر 32 سال، مدھیہ پردیش، جے بہاری لال تیرتھانی، عمر 26 سال، کٹنی، مدھیہ پردیش کے طور پر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اب تک کی تفتیش میں کل 05 مطلوب ملزمان کا پتہ چلا ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔ ان میں 03 خواتین کو بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 35(3) کے تحت نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے نام جیوتی پاٹل جیا ڈونگے نشا ڈونگے یہ للو بھائی کمپاؤنڈ، مانخورد کے رہائشی ہے۔ تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان سے اب تک42 بینک پاس بک، 70 ڈیبٹ کارڈ، 36 سم کارڈ، 23 موبائل فون، 03 لیپ ٹاپ، 09 ٹیب، 12 بینک کٹ، 01 موٹر کار۔ کل اندازاً ₹40 لاکھ کا مال ضبط کیا گیا ہے۔ ضبط کیے گئے ڈیجیٹل آلات میں موجود معلومات کا تکنیکی تجزیہ کیا جا رہا ہے، جس سے اس نیٹ ورک سے متعلق مزید افراد اور لین دین کے سامنے آنے کا امکان ہے۔ کل ضبط 990 بینک اکاؤنٹس میں سے 17 بینک اکاؤنٹس سے 28 سائبر جرائم/شکایات کا انکشاف تفتیش کے دوران ضبط 990 بینک اکاؤنٹس میں سے اب تک 17 بینک اکاؤنٹس کی معلومات متعلقہ بینکوں سے حاصل کی گئی ہیں۔ ان اکاؤنٹس میں مالی لین دین، دستیاب تکنیکی معلومات اور مختلف ریاستوں میں درج سائبر جرائم/شکایات کی چھان بین کرنے پر معلوم ہوا کہ پورے ملک کی مختلف ریاستوں میں درج 28 سائبر جرائم کے ملزمان کا تعلق ان اکاؤنٹس سے ہے۔ باقی کھاتوں کی تفتیش سے مزید جرائم، مشکوک مالی لین دین اور متعلقہ افراد کے نیٹ ورک کے سامنے آنے کا امکان ہے۔

ان میں درج ذیل جرائم ان کے خلاف سائبر متعدد ریاستوں میں بھی درج ہیں جن میں
1) مہاراشٹر – 02، بشمول نائروپولیس پولیس اسٹیشن، ضلع تھانے – 01، خادیشور پولیس اسٹیشن، تھانے، نوی ممبئی – 09
2) کرناٹک – 09
3) تلنگانہ – 06
4) دہلی – 02
5) مدھیہ پردیش – 02
6) اترپردیش – 05
7) کیرالہ – 02
8) تامل ناڈو – 02
9) گجرات – 02
10) جموں کشمیر – 01
11) مغربی بنگال – 03 اس کی وجہ سے ڈونگری پولیس اسٹیشن میں درج اس جرم کی تفتیش صرف ممبئی تک محدود نہ رہ کر ملک کی مختلف ریاستوں تک پہنچ گئی ہے۔
25 کروڑ 49 لاکھ کا مالی لین دین


ابتدائی معلومات کے مطابق متعلقہ 17 بینک اکاؤنٹس میں ڈیڑھ سے دو ماہ کے عرصے میں تقریباً 25 کروڑ 49 لاکھ کا مالی لین دین ہوا ہے۔ اس رقم کے منبع، لین دین کی سمت، مستفید ہونے والے اکاؤنٹس، متعلقہ افراد اور سائبر جرائم سے تعلق کے بارے میں گہری مالیاتی تفتیش جاری ہے۔ سائبر ملزمین کے خلاف ڈونگری سائبر ٹیم کی مؤثر کارروائی خفیہ معلومات کا درست جمع کرنا، تکنیکی تفتیش، بینک لین دین کا سراغ لگانا، ڈیجیٹل شواہد کا تجزیہ اور براہ راست کارروائی کے مؤثر امتزاج کے ساتھ ڈونگری سائبر ٹیم نے سائبر فراڈ کے لیے میول بینک اکاؤنٹس کا غلط استعمال کرنے والے بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہے۔ اس کارروائی سے سائبر فراڈ میں ہونے والے مالی لین دین کی زنجیر کا سراغ لگانے اور ملک کے مختلف حصوں میں متعلقہ جرائم کے باہمی تعلق کو بے نقاب کرنے میں اہم مدد ملی ہے۔


شہریوں کے لیے اہم اپیل ؛شہری کسی بھی شخص کے لالچ میں آ کر اپنا بینک اکاؤنٹ، پاس بک، ڈیبٹ کارڈ، چیک بک، سم کارڈ، موبائل فون، او ٹی پی, پن یا انٹرنیٹ بینکنگ کی معلومات دوسروں کو استعمال کے لیے نہ دیں۔ اپنے بینک اکاؤنٹ میں مشکوک لین دین نظر آنے پر فوراً متعلقہ بینک سے رابطہ کر کے پولیس کو اطلاع دیں۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی ڈی سی پی منیش کلوانے نے ڈونگری میں منعقدہ پریس کانفرنس میں دی ہے یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی رہنمائی میں اے سی پی تنویر شیخ اور ڈونگری کے سنئیر پولس انسپکٹر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

جاپانی وزیر دفاع کا دہلی میں گرمجوش استقبال، راج ناتھ سنگھ سے ملاقات آج

Published

on

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو اپنے جاپانی ہم منصب شنجیرو کوئزومی کا نئی دہلی میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی بات چیت کے لیے استقبال کیا۔

جاپانی وزیر دفاع کا استقبال سنگھ نے بھارتی آرمی چیف جنرل دھیرج سیٹھ، بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرشنا سوامیناتھن اور بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ سمیت سینئر حکام اور دفاعی اہلکاروں کی موجودگی میں کیا۔

کوئزومی نے نئی دہلی میں قومی جنگی یادگار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔ یہ دورہ ہندوستان اور جاپان کی طرف سے دو طرفہ دفاعی تعاون کو گہرا کرنے اور ہند بحرالکاہل کے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کی کوششوں کے درمیان ہوا ہے۔ فریم ورک، جاپان کی جانب سے دفاعی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تین اصولوں پر نظر ثانی کے بعد۔

کوئزومی بدھ کو اپنے پہلے ہندوستان کے دورے پر ممبئی پہنچے تھے۔ پہنچنے پر، انہوں نے ممبئی میں مغربی بحریہ کی کمان میں گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ ممبئی کے اپنے دورے کے دوران، جاپانی وزیر دفاع نے نیول ڈاکیارڈ میں واقع گورو استمبھ پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔ مزید برآں، انہوں نے دیسی جہاز آئی این ایس چنئی کا دورہ کیا۔

کوئزومی نے ہندوستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن اور فلیگ آفیسر کمانڈنگ ان چیف، ویسٹرن نیول کمانڈ، وائس ایڈمرل سنجے واتسائن کے ساتھ بات چیت کی۔ وزارت دفاع کے مطابق وفد کو ہندوستانی بحریہ کے کردار اور ذمہ داریوں اور آپریشنل صلاحیتوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی، “بھارت میں خوش آمدید، جاپان کے وزیر دفاع، وزیر کوئیزومی! 2 روزہ پروگرام کا آغاز کل ممبئی میں ویسٹرن نیول کمانڈ کے دورے سے ہوا۔ جاپان-ہندوستان سمندری تعاون کو آگے بڑھانے کے بارے میں نتیجہ خیز بات چیت ہوئی”۔ جمعرات.

ہندوستان اور جاپان ایک آزاد، کھلے، لچکدار اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کی تعمیر کے مشترکہ وژن کا اشتراک کرتے ہیں، وزارت دفاع نے کہا۔”جاپانی وزیر دفاع کا دو روزہ دورہ دو طرفہ دفاعی تعاون میں بڑھتی ہوئی رفتار کی نشاندہی کرتا ہے اور شراکت کو مزید وسعت دینے کے لیے دونوں فریقوں کے عزم کی عکاسی کرتا ہے،” اس نے مزید کہا۔

Continue Reading

سیاست

جھارکھنڈ: بھرتی امتحانات منسوخ ہونے پر طلبہ ہائی کورٹ پہنچ گئے، آج 3 بجے سماعت

Published

on

22 بھرتی امتحانات کو منسوخ کرنے کے جھارکھنڈ حکومت کے فیصلے کے خلاف متاثرہ امیدواروں کی طرف سے شروع کی گئی قانونی جنگ تیز ہو گئی ہے، اب تک ہائی کورٹ میں دائر اس اقدام کو چیلنج کرنے والی چار درخواستوں کے ساتھ۔ درخواستوں کی سماعت جمعرات کو سہ پہر تین بجے ہونے کا امکان ہے۔ عرضی گزاروں میں 11ویں سے 13ویں جے پی ایس سی کمبائنڈ سول سروسز ایگزامینیشن، جے ایس ایس سی-سی جی ایل اور فوڈ سیفٹی آفیسر امتحان میں کامیاب امیدوار شامل ہیں۔ درخواستیں کامیاب امیدواروں نے دائر کی ہیں جن میں اودھیش کمار، دیپ مالا، سونم کماری اور سوربھ سنگھ سمیت دیگر شامل ہیں۔

امیدواروں کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ حکومت نے یکطرفہ طور پر امتحانات اور بعد میں ہونے والی تقرریوں کو انہیں اپنا کیس پیش کرنے کا موقع دیے بغیر منسوخ کر دیا۔ ان امیدواروں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے انتخاب کے بعد پہلے ہی سرکاری ملازمت میں شمولیت اختیار کر لی تھی، اور حکومت کے فیصلے نے ان کی ملازمت کو براہ راست خطرے میں ڈال دیا ہے۔ درخواست گزاروں نے اپنے دفاع میں فطری انصاف کے اصولوں کو بھی مدعو کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ تحقیقات کے دوران مشکوک کردار ادا کرنے والے کسی بھی امیدوار کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے، لیکن انفرادی انکوائری یا سماعت کے بغیر تمام کامیاب امیدواروں کو ملازمتوں سے ہٹانا ناانصافی ہوگی۔

ان کا موقف ہے کہ انہوں نے مقررہ طریقہ کار کے مطابق امتحانات میں شرکت کی، میرٹ لسٹوں پر پوزیشنیں حاصل کیں اور بعد ازاں انہیں سرکاری عہدوں پر تعینات کیا گیا۔ جے ایس ایس سی -سی جی ایل کیس میں، کچھ درخواست گزاروں نے یہ بھی دلیل دی ہے کہ امتحانی نتائج کا اعلان ہائی کورٹ کے سابقہ ​​احکامات کی تعمیل میں کیا گیا تھا، جس سے حکومت کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے جے ایس خان کے بعد ہونے والے امتحانات کو منسوخ کرنے کا حکومتی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ مختلف مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں سی آئی ڈی اور ایس آئی ٹی کی تحقیقات کے نتائج پر مبنی 22 بھرتی امتحانات۔

متاثرہ امتحانات میں کئی آسامیوں کے لیے بھرتی کا احاطہ کیا گیا ہے، جن میں جے پی ایس سی 11ویں-13ویں کمبائنڈ سول سروسز ایگزامینیشن اور جے ایس ایس سی -سی جی ایل کے ساتھ ساتھ سول جج، ڈپٹی کلکٹر، فوڈ سیفٹی آفیسر، ڈرگ انسپکٹر، اسسٹنٹ پروفیسر، لیکچرر، اسسٹنٹ انجینئر، فاریسٹ رینج آفیسر کے اسسٹنٹ انجینئر، فاریسٹ رینج آفیسر اور اسسٹنٹ سرویس شامل ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان