(جنرل (عام
مالیگاؤں ڈیجیٹل میڈیا کے نوجوان صحافیوں سے گرین جرنالزم کی امید : امتیاز خلیل
مالیگاؤں (نامہ نگار ) لاک ڈاؤن کے دوران جب سب اپنے گھروں میں قید تھے اور سیاسی لیڈران اپنے حجروں سے بیان بازیاں کررہے تھے. تب انتظامیہ من مانی کررہی تھی. شہر کے تمام ہسپتال بند ہوچکے تھے اور غریب عوام لاچار و مجبور تھی. اس وقت شہریان کو شہر کے حالات سے باخبر کرنےکے لیے یوٹیوبرس جان ہتھیلی پر لئے بے لوث صحافتی خدمات انجام دے رہے تھے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا.اس وقت درپیش نازک حالات کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یوٹیوبرس کبھی کسی سیاسی لیڈر کا مہرہ نہیں بنے البتہ انھوں نے خود غرض لیڈران کو اپنے ویڈیوز کے ذریعے بے نقاب ضرور کیا.ساتھ ہی انتظامیہ کی بدعنوانیوں کو اجاگر کیا اورمالیگاؤں کے کاڑھے کو مشہور کیا.
یاد رہے کہ انہیں یوٹیوبرس نے اپنے ویڈیوز کے زریعے اس وقت کے سنگین حالات کو قید کر ریاستی و ملکی سطح پر آواز بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایسے تمام یوٹیوبرس کی خدمات کا اعتراف مالیگاؤں الیکٹرانک میڈیا ورکشاپ میں کیا گیا. پروگرام کے دوران لاک ڈاؤن میں یوٹیوبرز کی صحافتی خدمات پر مبنی ویڈیو بھی پیش کی گئی.
“جس شہر میں زرد صحافت ہوگی اس شہر کا انتظامیہ اور سیاسی لیڈران بدعنوان ہی ہونگے. صحافت ایک ذمہ داری ہے اور صحافی اس بات کا ذمہ دار ہے کہ عوام تک سچ بات پہنچائے. اگر صحافی بننا ہے تو خود سے پوچھ کر صحافت میں قدم رکھو نا کہ کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اور صحافی کا کام تو ہے ہی آئینہ دکھانا.” اسطرح کا اظہار و خیال سینئر صحافی امتیاز خلیل نے الیکٹرانک میڈیا ورکشاپ میں کیا.
مالیگاؤں الیکٹرانک میڈیا کے زیر اہتمام جرنالزم ورکشاپ کا انعقاد پرزم کمپیوٹر اکیڈمی, امان اللہ خان ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی, یارسول اللہ مسجد کے سامنے, کسمبا روڈ پر کل شب کیا گیا تھا. اس پروگرام کی صدارت سینئر صحافی امتیاز خلیل نے کی اور بطور مقرر و مہمانان خصوصی انصاری احسان الرحیم (سینئر صحافی), آصف عبداللہ (ایڈیٹر, سچ بات) شکیل حنیف (اولین بلاگر ہمارا مالیگاؤں), وسیم رضا خان (ایڈیٹر, ہیڈ لائن پوسٹ), اظہر مرزا (نمائندہ, انقلاب ممبئی), اشرف اسرائیل (صحافی, ای ٹی وی بھارت حیدرآباد), نعمان انصاری (صحافی, ای ٹی وی بھارت حیدرآباد) و دیگر نے شرکت کی.
امتیاز خلیل نے شہر مالیگاؤں کے یوٹیوبرس, بلاگرز اینڈ سوشل میڈیا رائٹرز کو صحافی مان کر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ جو کام کررہے ہیں وہ صحافت ہی ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ آپ بنیادی صحافتی اصولوں, زبان و بیان اور پیشہ ورانہ صحافت سیکھیں . انھوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کی جانے والی صحافت, الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا طریقہ کار بہت الگ ہے. موصوف نے مختلف مثالیں دیکر ڈیجیٹل جرنالزم میں کام کرنے کا طریقہ پیش کیا. نیز اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں نوجوان صحافیوں کی رہنمائی بھی کی. موصوف نے کہا کہ انھیں مالیگاؤں الیکٹرانک میڈیا کے وجود میں آنے سے گرین جرنالزم کی امید ہے.
مدعو کردہ مقرر وسیم رضا خان نے مالیگاؤں شہر کے تمام الیکٹرانک میڈیا سے منسلک افراد کو مشورہ دیا کہ پہلے اپنے چینل یا پورٹل کو کسی طرح رجسٹرڈ کر لیں، اس کے بعد میدان صحافت میں کھل کر کام کریں اور انتظامیہ و سرکاری افسران سے سوالات بھی کریں. موصوف نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ ہر طرح کی مدد کرنے کیلئے تیار ہیں.
شکیل حنیف نے موجودہ صحافت کے جدید طریقوں پر نوجوان صحافیوں کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیلئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ کس شعبہ میں آپ نےکام کرنا ہے. یوٹیوب یا بلاگ کس مقصد کے تحت بنانا ہے. جیسے نیوز, اسپورٹس, فٹنیس, کھانا بنانا, ادب, کلچرل و دیگر مختلف شعبوں کا انتخاب کریں. کم ویوز اور منفی کمنٹس ملنے پر احساس کمتری کا شکار ہرگز نہ ہوں. اپنی صلاحیت اور دلچسپی کے مطابق مسلسل محنت و لگن سے معیاری کام کریں، کامیابی ضرورآپ کے قدم چومے گی.
انصاری احسان الرحیم نے اس صحافتی تربیتی ورکشاپ میں شرکت کر کے نوجوان صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی. انھوں نے کہا کہ انہوں نے اس عمر میں بھی سینیئر ہونے کے باوجود جدید صحافت کو سیکھنے کی غرض سے اس ورکشاپ میں شرکت کی. نیز موصوف نےنوجوان صحافیوں کے روشن مستقبل کیلئے نیک خواہشات بھی پیش کیں.
اظہر مرزا نے کہا کہ مالیگاؤں میں ابھی ابھی جس صحافت نے جنم لیا ہے اسے ڈیجیٹل جرنلزم کہتے ہیں. جس میں صحافی یوٹیوب چینلز, بلاگس اور نیوز پورٹلس کا استعمال کر رہے ہیں. موصوف نے اپنے تاثرات میں کہا کہ جو نئے یوٹیوبرز اور بلاگرز ہیں وہ بہت ساری غلطیاں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سماج میں غلط پیغام جارہا ہے. انھیں چاہئے کہ ان غلطیوں کو درست کریں. یوٹیوبرز صرف ویوز کیلئے ویڈیوس نہ بنائیں بلکہ اچھی مثبت خبریں پیش کریں اور صحافت کے ساتھ انصاف کریں یا پھر شعبہ صحافت چھوڑ دیں.
حیدرآباد شہر سے تشریف لائے صحافی اشرف اسرائیل اور نعمان انصاری کا اس پروگرام میں خصوصی استقبال کیا گیا. نیز دونوں صحافیوں نے پیشہ وارانہ تربیت حاصل کرنے بعد پیشہ ورانہ طور پر صحافتی خدمات انجام دینے تک کی رہنمائی پیش کی.
اس کامیاب ورکشاپ کے اغراض و مقاصد کو سینئر صحافی منصور اکبرنے پیش کیا اور نظامت کے فرائض رضوان ربانی نے بخوبی نبھائے.پروگرام کا آغاز عمار انصاری کی قرأت سے ہوا اور اخیر میں کوآرڈینٹر فرنود رومی نے تمام معزز مہمانان کا شکریہ ادا کیا. اس پروگرام میں مشتاق احمد مشتاق, احمد نعیم, آصف فیضی, پرنس رحمان, عمران راشد, جابر شاہ, جاوید شیخ, ریحان اختر, عبداللہ انصاری, عبدالاحد انصاری, شعیب مسعود, محسن حمید اور دیگر یوٹیوبرز, بلاگز اور سوشل میڈیا رائٹرز نے اپنی شرکت درج کروائی.غرضیکہ یہ پروگرام انتہائی کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : ۸ سالہ بچہ کے والدین کا ٹی شرٹ سے سراغ، جوگیشوری سے گمشدہ بچہ صحیح سلامت والدین کے سپرد، ممبئی پولس کا عظیم کارنامہ

ممبئی پولس نے ایسے گمشدہ بچہ کو والدین کو تلاش کر کے اس بچہ ان کے سپرد کیا جو خصوصی بچہ تھا اور نام و پتہ بتانے سے قاصر تھا ٹی شرٹ سے پولس نے بچہ کے والدین کا سراغ لگایا۔ ممبئی 30 جولائی، 2026 کو جوگیشوری پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں، پولیس نائیک مِسل کی فوری کارروائی کے نتیجے میں لڑکے کے والدین کا کامیاب سراغ لگایا گیا, گشت کے دوران گمشدہ بچہ برآمد کرلیا گیا۔ 30 جولائی 2026، تقریباً ۴ بجے ‘یولے چائے’ کی دکان کے سامنے، سبھاش روڈ، جوگیشوری (مشرق)، ممبئی پیدل گشت کے دوران، پولیس نائیک مسال کو ایک لڑکا ملا، جس کی عمر تقریباً 7 سے 8 سال تھی، روتا ہوا اور اکیلا راستہ بھٹک گیا تھا۔ ابتدائی پوچھ گچھ کرنے اور اس کا نام اور پتہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ لڑکا بول نہیں سکتا۔ وہ صرف “ابا” (باپ) اور “اماں” (ماں) کے الفاظ ادا کرنے کے قابل تھا۔ پولیس نائک میسل نے لڑکے کی ٹی شرٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اس پر لکھا ہوا پایا۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن ہندی اسکول، جوگیشوری ایسٹ، ممبئی۔ انہوں نے فوری طور پر مذکورہ میونسپل اسکول کا دورہ کیا اور وہاں کے ایک استاد لکش کمار نندیشور سے رابطہ کیا۔ ٹیچر نے بتایا کہ لڑکا اس وقت اس مخصوص اسکول میں کلاسز میں نہیں جا رہا تھا، داخلے کے وقت اسے ٹی شرٹ جاری کی گئی تھی۔ اگرچہ اس لڑکے کا فی الحال وہاں داخلہ نہیں ہوا تھا، لیکن اسکول کے داخلے کے ریکارڈ میں دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس وقت ‘سوپن اسپیشل انگلش میڈیم اسکول’ میں زیر تعلیم ہے۔ اس اسکول سے رابطہ کرنے پر، نیہا ٹنڈولکر نامی ایک ٹیچر نے لڑکے کی شناخت کی اور اس کے والدین کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں والدین کی شناخت ریاض احمد اکبر علی انصاری کے نام سے ہوئی ہے۔ بچے کا نام محمد شہباز انصاری عمر: 8 سال کی اطلاع دی گئی ہے بچہ ٹھیک سے بول یا پڑھ نہیں سکتا۔ والدین کا بیان لڑکا سہ پہر 3:00 بجے کے قریب میگھواڑی علاقے کے باندرہ پلاٹ میں اپنے گھر سے نکلا تھا اور اس کے والدین اسے تلاش کر رہے تھے۔
بچے کے والدین کو فوری طور پر جوگیشوری پولیس اسٹیشن میں طلب کیا گیا۔ اس کے بعد بچے کو بحفاظت ان کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ اطلاع اقبال شکلگر سینئر پولیس انسپکٹر، جوگیشوری پولیس اسٹیشن نے دی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بی ایم سی سیاحوں کے لیے اعلیٰ معیار اور جامع سہولیات فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے : میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے

ممبئی : ملک کے اندر اور بیرون ملک سے آنے والوں سیاحوں اورمہمانوں کے لیے ایک اہم سیاحتی مقام ہے ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) شہر بھر کے مختلف سیاحتی مقامات پر اعلیٰ معیار کی اور جامع سہولیات جیسے کہ صفائی، خوبصورتی، حفاظتی اقدامات، اشارے، عوامی بیت الخلاء، پینے کے پانی کی سہولیات، اور ڈیجیٹل معلوماتی نظام فراہم کرنے پر خصوصی زور دے رہی ہے۔ ممبئی کے ثقافتی، تاریخی اور ورثے کے اثاثوں کو سیاحوں کے سامنے زیادہ مؤثر طریقے سے دکھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ بی ایم سی کا مقصد ممبئی کی سیاحتی صلاحیت کو بڑھانا اور مقامی شہریوں اور ملک اور دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں دونوں کے لیے ایک اعلیٰ معیار، اطمینان بخش تجربہ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ سیاحوں کی رہنمائی اور سہولیات کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ممبئی ٹورازم’ کے حوالے سے ایک مشترکہ میٹنگ آج (31 جولائی 2026) بی ایم سی ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی، جس میں ممبئی میونسپل کارپوریشن، مہاراشٹر ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم ٹی ڈی سی) اور ممبئی سٹی کے کلکٹر شامل تھے۔میٹنگ میں ممبئی سٹی ڈسٹرکٹ کلکٹر آنچل گوئل نے شرکت کی۔ ، ایڈیشنل کلکٹر بپا صاحب تھوراٹ، بی ایم سی کے ڈپٹی کمشنر (کمشنر آفس) شری پرشانت گائیکواڑ، ضلع منصوبہ بندی افسرسنجے کمار شندے، ایم ٹی ڈی سی کے جنرل منیجر چندر شیکھر جیسوال، اور بزنس ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی سربراہ مانسی کوٹھارے سمیت دیگر شریک تھے شروع میں مہاراشٹر ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم ٹی ڈی سی) کے جنرل منیجر مسٹر چندر شیکھر جیسوال نے ڈیجیٹل پریزنٹیشن کے ذریعے ممبئی کی سیاحت کے بارے میں معلومات پیش کیں۔
میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ ممبئی کے باشندوں کو بنیادی سہولیات اور خدمات فراہم کرنا میونسپل کارپوریشن کا بنیادی فرض ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کارپوریشن سیاحت سے متعلق سرگرمیاں اور پروموشنل کوششیں بھی کر رہی ہے۔ ممبئی میں سیاحت کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت اور طاقت ہے۔ میونسپل کارپوریشن سیاحوں کو راغب کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے اور ایم ٹی ڈی سی کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے ان کوششوں کو مزید بڑھایا جائے گا۔ شہر میں اضافی سیاحتی مقامات کو ترقی دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں کی جائیں گی۔ محترمہ بھیڈے نے یہ بھی تجویز کیا کہ ایم ٹی ڈی سی کو سیاحوں اور شہریوں کو قابل اعتماد معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک سرشار ویب سائٹ تیار کرنی چاہیے۔
ایم ٹی ڈی سی کے جنرل منیجرچندر شیکھر جیسوال نے کہا کہ حکومت مہاراشٹر ریاست بھر میں سیاحت کو فروغ دینے اور ترقی دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ایم ٹی ڈی سی کے بنیادی مقاصد میں سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانا، اسٹریٹجک منصوبے بنانا، اور پائیدار سیاحتی اقدامات کو نافذ کرنا شامل ہے۔ ممبئی جیسا ہلچل مچانے والا شہر سیاحوں کی توجہ کا بھرپور ورثہ رکھتا ہے۔ مقامی خود حکومتی اداروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ خاص طور پر میونسپل کارپوریشنز کے لیے ماحولیاتی سیاحت اور ایڈونچر ٹورازم کو فروغ دینے میں پہل کریں جیسوال نے زور دیا کہ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کو اس سلسلے میں قیادت کرنی چاہئے اور اپنا مثبت تعاون بڑھانا چاہئے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بامبے ہائیکورٹ : وانکھیڈے کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری پر روک، این سی بی سے جواب طلب، ملزم کی شکایت پر افسر پر کارروائی ناپسندیدہ عمل

ممبئی : بامبے ہائیکورٹ نے آئی آر ایس افسر سمیر وانکھیڈے کے خلاف ڈپارٹمنٹل اور محکمہ جاتی انکوائری اور ہراسائی پر روک لگانے کا حکم دیا ہے سمیر وانکھیڈے نے این سی بی کی انکوائری کو چلینج کیا تھا جس پر عدالت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا کہ آیا ایک افسر کو ایک گمنام خط کی بنیاد پر متعدد انکوائریاں شروع کی گئی ہیں اس سے افسر کا حوصلہ پست ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی وانکھیڈے کو عدالت نے راحت دیتے ہوئے انکوائری پر روک کے ساتھ تحفظ فراہم کیا ہے۔ ایک اہم پیش رفت میں، بمبئی ہائی کورٹ کے جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس کمل کھتا نے سخت تشویش کا اظہار کیا جس میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے گمنام شکایات کی بنیاد پر اپنے ہی سابق زونل ڈائریکٹر سمیر دنیا دیو وانکھیڑے کے خلاف متعدد انکوائریاں شروع کی, سماعت کے دوران، بنچ نے این سی بی کو وانکھیڈے کے خلاف شروع کی گئی کارروائی کی بنیاد پر وسیع سوالات کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے سوال کیا کہ ایک تفتیشی افسر کے خلاف محض ایک ملزم شخص کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور گمنام شکایات کی بنیاد پر کارروائی کیسے کی جا سکتی ہے، خاص طور پر جب اس طرح کی کارروائیوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کو کمزور کرنے کا اثر ہو اس ادارہ کو بھی متاثر کیا جاسکتا ہے۔ رٹ پٹیشن گمنام شکایات سے پیدا ہونے والے وانکھیڈے کے خلاف جاری کردہ متعدد ابتدائی تحقیقاتی نوٹس کو چیلنج کرتی ہے۔ بنچ نے این سی بی سے ایک مناسب سوال بھی کیا کہ آیا ملزم نے یہ الزامات اپنی ابتدائی گرفتاری کے وقت یا تفتیش کے دوران لگائے تھے عدالت نے سوال کیا کہ اس طرح کے الزامات بعد میں ہی کیوں سامنے آئے اور وضاحت طلب کی کہ آخر میں ان پر کیوں غور کیا گیا۔ عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ اگر ملزم کو تفتیشی افسران کے خلاف الزامات لگانے کی اجازت دی جائے اور محکمے کی جانب سے ایسے الزامات پر آسانی سے کارروائی کی جائے تو اس سے فوجداری انصاف کی انتظامیہ میں افراتفری پھیل جائے گی۔ بنچ نے ریمارکس دیئے کہ اس طرح کے کورس سے اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں ایماندار افسروں کے حوصلے پست ہوں گے اور یہ ایک خطرناک اور مکمل طور پر ناپسندیدہ مثال قائم ہو گی جس سے ملزم تفتیشی افسران کو محض اس لیے نشانہ بنا سکیں گے کہ انہوں نے اپنے قانونی فرائض سرانجام دیے تھے۔ بنچ نے این سی بی سے گمنام شکایات پر نافذ قوانین کے باوجود وانکھیڈے کے خلاف بار بار کارروائی شروع کرنے اور ایجنسی نے اپنے ہی ایک افسر کے خلاف کارروائی کرنے کے طریقہ پر بھی سوال کیا۔ عدالت نے جواب دہندہ ایجنسی کے اس طرح کے الزامات پر افسوس اور کارروائی کرنے کے طرز عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ سماعت کے دوران، عدالت نے مشاہدہ کیا کہ سمیر وانکھیڑے کے خلاف شروع کی گئی بار بار کی جانے والی کارروائی درخواست گزار کو سراسر ہراساں کرنے کے مترادف ہے اور اس طرح کی شکایات کی بنیاد پر اسے لگاتار پوچھ گچھ کرنے کے جواز پر سوال اٹھایا۔ فریقین کو طوالت سے سننے کے بعد، بامبے ہائی کورٹ نے کہا کہ حتمی سماعت کے لیے رٹ پٹیشن کو قبول کیاجاتا ہے اس کے ساتھ ہی وانکھیڈے کو عبوری راحت اور تحفظ فراہم کیا جاتا ہے جب تک درخواست پر حتمی فیصلہ نہیں ہو گی یہ راحت برقرار رہے گی۔
آج کی کارروائی ایماندار سرکاری ملازمین کو من مانی اور پریشان کن کارروائیوں سے بچانے میں ایک اہم پیشرفت کی نشاندہی کرتی ہے عدالت کی طرف سے دیے گئے مشاہدات اس بات کو یقینی بنانے کی وسیع تر عوامی اہمیت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تفتیشی افسران تاخیر یا گمنام الزامات کی بنیاد پر شروع کی جانے والی انتقامی کارروائیوں کے خطرے کے بغیر بلا خوف و خطر اپنے قانونی فرائض ادا کرنے کے قابل ہیں۔ سمیر وانکھیڈے نے مسلسل کہا ہے کہ ان کے خلاف شروع کی گئی کارروائی من مانی، بددیانتی، قانونی طور پر غیر پائیدار اور انتظامی عمل کا غلط استعمال ہے۔ درخواست میں گمنام شکایات کی بنیاد پر ان کے خلاف جاری کیے گئے ابتدائی انکوائری نوٹس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
