Connect with us
Thursday,17-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مالیگاؤں ڈیجیٹل میڈیا کے نوجوان صحافیوں سے گرین جرنالزم کی امید : امتیاز خلیل

Published

on

digital-media

مالیگاؤں (نامہ نگار ) لاک ڈاؤن کے دوران جب سب اپنے گھروں میں قید تھے اور سیاسی لیڈران اپنے حجروں سے بیان بازیاں کررہے تھے. تب انتظامیہ من مانی کررہی تھی. شہر کے تمام ہسپتال بند ہوچکے تھے اور غریب عوام لاچار و مجبور تھی. اس وقت شہریان کو شہر کے حالات سے باخبر کرنےکے لیے یوٹیوبرس جان ہتھیلی پر لئے بے لوث صحافتی خدمات انجام دے رہے تھے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا.اس وقت درپیش نازک حالات کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یوٹیوبرس کبھی کسی سیاسی لیڈر کا مہرہ نہیں بنے البتہ انھوں نے خود غرض لیڈران کو اپنے ویڈیوز کے ذریعے بے نقاب ضرور کیا.ساتھ ہی انتظامیہ کی بدعنوانیوں کو اجاگر کیا اورمالیگاؤں کے کاڑھے کو مشہور کیا.

یاد رہے کہ انہیں یوٹیوبرس نے اپنے ویڈیوز کے زریعے اس وقت کے سنگین حالات کو قید کر ریاستی و ملکی سطح پر آواز بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایسے تمام یوٹیوبرس کی خدمات کا اعتراف مالیگاؤں الیکٹرانک میڈیا ورکشاپ میں کیا گیا. پروگرام کے دوران لاک ڈاؤن میں یوٹیوبرز کی صحافتی خدمات پر مبنی ویڈیو بھی پیش کی گئی.

“جس شہر میں زرد صحافت ہوگی اس شہر کا انتظامیہ اور سیاسی لیڈران بدعنوان ہی ہونگے. صحافت ایک ذمہ داری ہے اور صحافی اس بات کا ذمہ دار ہے کہ عوام تک سچ بات پہنچائے. اگر صحافی بننا ہے تو خود سے پوچھ کر صحافت میں قدم رکھو نا کہ کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اور صحافی کا کام تو ہے ہی آئینہ دکھانا.” اسطرح کا اظہار و خیال سینئر صحافی امتیاز خلیل نے الیکٹرانک میڈیا ورکشاپ میں کیا.

مالیگاؤں الیکٹرانک میڈیا کے زیر اہتمام جرنالزم ورکشاپ کا انعقاد پرزم کمپیوٹر اکیڈمی, امان اللہ خان ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی, یارسول اللہ مسجد کے سامنے, کسمبا روڈ پر کل شب کیا گیا تھا. اس پروگرام کی صدارت سینئر صحافی امتیاز خلیل نے کی اور بطور مقرر و مہمانان خصوصی انصاری احسان الرحیم (سینئر صحافی), آصف عبداللہ (ایڈیٹر, سچ بات) شکیل حنیف (اولین بلاگر ہمارا مالیگاؤں), وسیم رضا خان (ایڈیٹر, ہیڈ لائن پوسٹ), اظہر مرزا (نمائندہ, انقلاب ممبئی), اشرف اسرائیل (صحافی, ای ٹی وی بھارت حیدرآباد), نعمان انصاری (صحافی, ای ٹی وی بھارت حیدرآباد) و دیگر نے شرکت کی.

امتیاز خلیل نے شہر مالیگاؤں کے یوٹیوبرس, بلاگرز اینڈ سوشل میڈیا رائٹرز کو صحافی مان کر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ جو کام کررہے ہیں وہ صحافت ہی ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ آپ بنیادی صحافتی اصولوں, زبان و بیان اور پیشہ ورانہ صحافت سیکھیں . انھوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کی جانے والی صحافت, الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا طریقہ کار بہت الگ ہے. موصوف نے مختلف مثالیں دیکر ڈیجیٹل جرنالزم میں کام کرنے کا طریقہ پیش کیا. نیز اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں نوجوان صحافیوں کی رہنمائی بھی کی. موصوف نے کہا کہ انھیں مالیگاؤں الیکٹرانک میڈیا کے وجود میں آنے سے گرین جرنالزم کی امید ہے.

مدعو کردہ مقرر وسیم رضا خان نے مالیگاؤں شہر کے تمام الیکٹرانک میڈیا سے منسلک افراد کو مشورہ دیا کہ پہلے اپنے چینل یا پورٹل کو کسی طرح رجسٹرڈ کر لیں، اس کے بعد میدان صحافت میں کھل کر کام کریں اور انتظامیہ و سرکاری افسران سے سوالات بھی کریں. موصوف نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ ہر طرح کی مدد کرنے کیلئے تیار ہیں.

شکیل حنیف نے موجودہ صحافت کے جدید طریقوں پر نوجوان صحافیوں کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیلئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ کس شعبہ میں آپ نےکام کرنا ہے. یوٹیوب یا بلاگ کس مقصد کے تحت بنانا ہے. جیسے نیوز, اسپورٹس, فٹنیس, کھانا بنانا, ادب, کلچرل و دیگر مختلف شعبوں کا انتخاب کریں. کم ویوز اور منفی کمنٹس ملنے پر احساس کمتری کا شکار ہرگز نہ ہوں. اپنی صلاحیت اور دلچسپی کے مطابق مسلسل محنت و لگن سے معیاری کام کریں، کامیابی ضرورآپ کے قدم چومے گی.

انصاری احسان الرحیم نے اس صحافتی تربیتی ورکشاپ میں شرکت کر کے نوجوان صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی. انھوں نے کہا کہ انہوں نے اس عمر میں بھی سینیئر ہونے کے باوجود جدید صحافت کو سیکھنے کی غرض سے اس ورکشاپ میں شرکت کی. نیز موصوف نےنوجوان صحافیوں کے روشن مستقبل کیلئے نیک خواہشات بھی پیش کیں.

اظہر مرزا نے کہا کہ مالیگاؤں میں ابھی ابھی جس صحافت نے جنم لیا ہے اسے ڈیجیٹل جرنلزم کہتے ہیں. جس میں صحافی یوٹیوب چینلز, بلاگس اور نیوز پورٹلس کا استعمال کر رہے ہیں. موصوف نے اپنے تاثرات میں کہا کہ جو نئے یوٹیوبرز اور بلاگرز ہیں وہ بہت ساری غلطیاں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سماج میں غلط پیغام جارہا ہے. انھیں چاہئے کہ ان غلطیوں کو درست کریں. یوٹیوبرز صرف ویوز کیلئے ویڈیوس نہ بنائیں بلکہ اچھی مثبت خبریں پیش کریں اور صحافت کے ساتھ انصاف کریں یا پھر شعبہ صحافت چھوڑ دیں.

حیدرآباد شہر سے تشریف لائے صحافی اشرف اسرائیل اور نعمان انصاری کا اس پروگرام میں خصوصی استقبال کیا گیا. نیز دونوں صحافیوں نے پیشہ وارانہ تربیت حاصل کرنے بعد پیشہ ورانہ طور پر صحافتی خدمات انجام دینے تک کی رہنمائی پیش کی.

اس کامیاب ورکشاپ کے اغراض و مقاصد کو سینئر صحافی منصور اکبرنے پیش کیا اور نظامت کے فرائض رضوان ربانی نے بخوبی نبھائے.پروگرام کا آغاز عمار انصاری کی قرأت سے ہوا اور اخیر میں کوآرڈینٹر فرنود رومی نے تمام معزز مہمانان کا شکریہ ادا کیا. اس پروگرام میں مشتاق احمد مشتاق, احمد نعیم, آصف فیضی, پرنس رحمان, عمران راشد, جابر شاہ, جاوید شیخ, ریحان اختر, عبداللہ انصاری, عبدالاحد انصاری, شعیب مسعود, محسن حمید اور دیگر یوٹیوبرز, بلاگز اور سوشل میڈیا رائٹرز نے اپنی شرکت درج کروائی.غرضیکہ یہ پروگرام انتہائی کامیابی سے ہمکنار ہوا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائبر سیل کی بڑی کارروائی منظم گروہ کے ۶ اراکین گرفتار ؛ ڈیجیٹل گرفتاری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ؛ ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے

Published

on

ممبئی ؛ممبئی سائبر سیل نے ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو سائبر دھوکہ بازی کے دوران ڈیجیٹل گرفتاری یعنی ڈیجیٹل اریسٹ سے خوفزدہ کر کے جھوٹے کیسوں میں پھنسانے کی دھمکی دے کر متاثرین سے رقومات وصول کیا کرتے تھے ۔ جعلی سم کارڈ 238 کروڑ کے منی لانڈرنگ معاملے میں مقدمہ درج ہونے کا خوف بتا کر سپریم کورٹ کا جعلی نوٹس بھیج کر شکایت کنندہ کو ‘ڈیجیٹل اریسٹ’ میں رکھ کر 1.12 کروڑ کی مالی دھوکہ دہی کی گئی۔ اس معاملے میں انڈس انڈ بینک کے آپریشنل منیجر ہیڈ سمیت آئی ٹی شعبہ کے ویب ڈویلپر سمیت کل 6 ملزمان کو پکڑنے کرنے میں پولیس کو کامیابی ملی۔نارتھ سائبر پولیس بی این ایس دفعہ 204, 308(7), 61(2), 318(4), 319(2), 336(2), 336(3), 338, 340(2), 238 آئی ٹی ایکٹ دفعہ 66, 66 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں متاثرہ دہیسرکے رہائشی 68 سالہ بزرگ شہری شکایت کنندہ کو تاریخ ۳۰ جولائی ۲۰۲۶ سے ۱۲ ستمبر ۲۰۲۶ کے درمیان واٹس ایپ ویڈیو کال کرکے خود کی شناخت بھارتیہ دور سنچار ویبھاگ سے بتائی اور شکایت کنندہ کے سم کارڈ کا استعمال کرکے اس پر کل 238 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کا گھوٹالہ کرنے کے بارے میں شکایت کنندہ کے خلاف دہلی میں منی لانڈرنگ کا کیس درج ہوا ہے اس بارے میں شکایت کنندہ کو سپریم کورٹ نوٹس بھیج کر اس جرم میں شکایت کنندہ کوگرفتاری کی دھمکی دےکر اسے ڈیجیٹل اریسٹ میں رکھ کر شکایت کنندہ کی کل 1,12,26,000/- روپے کی مالی دھوکہ دہی کی انتہائی حساس جرم میں ملزمان نے خود کی شناخت پوری طرح سے چھپا کر منظم طریقے سے پولیس افسر ہونے کا بہانہ بنا کر، پولیس وردی پہن کر سرکاری اتھارٹی، قومی جانچ ایجنسیوں کے نام، مہر، لیٹر ہیڈ استعمال کرکے شکایت کنندہ کو بار بار گرفتاری کا ڈر دکھا کر ویڈیو کال کرکے بینک کھاتے میں رقم طلب کر کے دھوکہ دہی کی ہےدھوکہ دہی کی رقم قبول کرنے کے لیے سائبر ملزمان نے الگ الگ افراد/کمپنی کے نام پر موجود الگ الگ بینکوں کے کرنٹ اکاؤنٹس کی دستیابی کرکے ان کا استعمال کیا ہے اور نارتھ سائبر پولیس تھانہ، ممبئی کی تفتیشی ٹیم نے مذکورہ سائبرجرم کی مہارت سے، کوشش میں تسلسل رکھ کر مثبت تفتیش کرکے ملزمان کے جرم کا طریقہ کار سمجھ کر جرم میں استعمال کیے گئے پہلی سطح کے بینک اکاؤنٹ کی بنیاد پر مزید معلومات لے کر ڈیجیٹل اریسٹ میں دھوکہ دہی کی رقم قبول کرنے کے لیے کرنٹ بینک اکاؤنٹ خریدفروخت کرنے والے اور دھوکہ دہی کی رقم کو لیئر کرنے والے ملزمان کی تلاش کرکے انہیں گرفتار کیا ہے اور گرفتار شدگان کے قبضے سے 02 لیپ ٹاپ، 20 موبائل فون، 25 مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹس، اے ٹی ایم کارڈس، پاس بک، آدھار کارڈس، ایسا برآمد کیا ہے گرفتار شدگان ملزمین میں

1) راجیش کمار موہن لال جین،عمر 54 سال، تعلیم 12 ویں پاس، رہنے والا 301/ دادا صاحب پھالکے روڈ، دادر مشرق، ممبئی بینک اکاؤنٹ ہولڈر 2) محمد طارق انور مومن، عمر 49 سال، تعلیم 12 ویں پاس، رہنے والا 01/ ساجن بلڈنگ، نایاگاؤں کراس روڈ، شترو نجے ٹاور کے پاس، دادر مشرق، ممبئی مختلف افراد کے بینک اکاؤنٹ کھولنے والا اور بینک اکاؤنٹ آگے سپلائی کرنے والا3) شیکھر مکیش تیاگی، عمر 28 سال، تعلیم ب کوم, بی ایم اے، رہنے والا پرتیکشا نگر، سائن، ممبئی انڈس انڈ بینک آپریشنل منیجر4) گورو مہیش گوئل، عمر 40 سال، بی ای, آئی آئی ٹی دہلی، رہائشی رہیجہ ہائٹس، گوریگاؤں مشرق، ممبئی ویب ڈیولپرباندرہ پولیس تھانہ پربھادیوی دفعہ 420, 409, 120(بی), 34 کے تحت مقدمہ درج ہے 5) اجے کمار کالی پرساد شرما عمر 35 سال تعلیم بی اے، رہائشی بھیونڈی روڈ کالہیر ضلع تھانے موبائل کے ذریعہ آگے ایکسیس دینے والا6) چنتن کمار سوریش بھائی دیسائی عمر 46 سال تعلیم- بی اے، رہنے والا ایس بی آئی بینک کے عقب مورا بگل رانادیل روڈ سورت گجرات موبائل یہاں ساتھیوں کے ذریعہ شکایت کنندہ کی رقم کی لیئرنگ کرنے والا)

جرم کی انجام دہی کا ملزمان کا طریقہ کار ابھے دیو گولڈ پرالی اس کمپنی کا گرفتار ملزم نمبر 01 ڈائریکٹر ہے۔ مذکورہ کمپنی کا انڈس انڈ بینک اکاؤنٹ رجسٹرڈ ہے۔ مذکورہ کھاتے سے گرفتار ملزم نمبر 01 کا موبائل لنک ہے تو دوسرے ڈائریکٹر کا موبائل لنک ہے۔ گرفتار ملزم نمبر 02 نے دادر مشرق یہاں کی موبائل شاپ سے دو نئے موبائل خریدے ان میں سے ایک موبائل میں ابھے دیو گولڈ پرالی کمپنی کا دوسرا ڈائریکٹر اس کے مذکورہ بینک اکاؤنٹ سے لنک والاسم کارڈ ڈالا تو دوسرے موبائل میں گرفتار ملزم نمبر 01 مذکورہ بینک اکاؤنٹ سے لنک والا سم کارڈ ڈالا دونوں موبائل گرفتار ملزم نمبر 02 نے انڈس انڈ بینک کے آپریشنل منیجر ہیڈ گرفتار ملزم نمبر 03 کے قبضے میں دیئے ۔ گرفتار ملزم نمبر 03 نے مذکورہ دو موبائل فون میں سے مذکورہ کھاتے کا دوسرا ڈائریکٹر اس کے بینک سے لنک والا سم کارڈ موبائل فون خود کے پاس رکھ کر وہ گرفتار ملزم نمبر 05 کے قبضے میں دیدیا۔ تو گرفتار ملزم نمبر 01 کے مذکورہ بینک کھاتے سے لنک والا سم کارڈ موبائل فون میں ڈال کر مذکورہ موبائل فون گرفتار ملزم نمبر 04 (ویب ڈیولپر) کے قبضے میں دیا اس نے وہ گرفتار ملزم نمبر 06 کے قبضے میں دیا۔ گرفتار ملزم نمبر 06 نے ممبئی سے ہوائی جہاز سے دہلی جا کر وہاں سے بجنور اترپردیش یہاں اس کے ساتھیوں کی مدد سے مذکورہ کھاتے پر شکایت کنندہ کے بینک اکاؤنٹ کی رقم ٹرانسفر کرکے لے کر شکایت کنندہ کو ڈیجیٹل اریسٹ اس سائبر فراڈ معاملے میں کل 1,12,26,000/- روپے کی سائبر دھوکہ دہی کی ہے۔

شہریوں سے اپیل ڈیجیٹل اریسٹ اس سائبر دھوکہ دہی سے محفوظ رہنےہدایات پر عمل کریں۔پولیس/سی بی آئی/ای ڈی/آر بی آئی یا کوئی بھی سرکاری ادارہ ڈیجیٹل گرفتاری نہیں کرتا ،قانون میں ڈیجیٹل گرفتاری ایسی کوئی بھی دفعہ نہیں ہے۔انجان افراد کی ویڈیو کال قبول نہ کریں یا کبھی بھی پیسے نہ بھیجیں خاندان کے کسی بھی فرد کے برتاؤ یا موڈ میں تبدیلی نظر آئے تو اس پر دھیان دیں۔ اگر آپ ڈیجیٹل اریسٹ کے شکار ہوئے ہیں، تو اپنے خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کو یا پولیس کو فوری معلومات دیں۔اگر آپ کو ڈیجیٹل اریسٹ کے بارے میں کوئی بھی کال آئے، تو فوری قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں یا مدد کے لیے 100/1930 اس ہیلپ لائن نمبر پر کال کریں یا http://www.cybercrime.gov.in پر شکایت درج کروائیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : بائیکلہ ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن و چڑیا گھر میں جاری مختلف منصوبوں اور اقدامات کا معائنہ کے لئے میونسپل کمشنر کا دورہ

Published

on

ممبئی ؛میونسپل کمشنر اشونی بھڈے نے آج (17 ستمبر 2026) بائیکلہ (مشرقی) میں واقع ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر کا دورہ کیا تاکہ وہاں جاری مختلف منصوبوں اور اقدامات کا جائزہ لے سکیں۔ دورے کے دوران،اشونی بھڈے نے باغ میں ہبسکس (گڑہل) کی نمائش کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے حصے کے طور پر اور وزیر اعظم شری نریندر مودی کی سالگرہ کی یاد میں احاطے کے اندر ’سینچری پام‘ کا پودا بھی لگایا۔ مزید برآں، انہوں نے گارڈن اور چڑیا گھر کے احاطے میں تعمیر کیے جا رہے ’ٹنل ایکویریم‘ (سرنگ نما ایکویریم) کی تعمیراتی پیش رفت کا معائنہ کیا اور جنوری 2027 تک تعمیراتی کام مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

اس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے، ڈپٹی کمشنر (باغات) اجیت کمار امبی، ڈائریکٹر (چڑیا گھر) ڈاکٹر سنجے ترپاٹھی، گارڈن سپرنٹنڈنٹ جتیندر پردیشی کے ساتھ دیگر متعلقہ عہدیداران اور عملہ موجود تھا۔ویرماتا جیجابائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر میں ہبسکس کی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس نمائش میں مختلف رنگوں کے ہبسکس پھولوں کی تقریباً 50 اقسام پیش کی گئی ہیں۔ یہ نمائش عوام کے لیے کھلی ہے۔ اس موقع پر، محترمہ اشونی بھیڈے نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نمائش کا دورہ کریں اور مختلف رنگوں میں ہبسکس پھولوں کی اقسام کا مشاہدہ کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : سنجے گاندھی نیشنل پارک میں شیرنی بجلی (ٹی2) کی موت

Published

on

ممبئی سنجے گاندھی نیشنل پارک انتظامیہ شیرنی بجلی (ٹی2) کے اموت کا اعلان کرتی ہے، جس کی عمر تقریباً 18 سال 4 ماہ تھی اور جو 16 ستمبر 2026 کو رات 9:45 بجے بڑھاپے سے متعلق صحت کے مسائل کی وجہ سے انتقال کر گئی۔ وہ 2016 سے سنجے گاندھی کنبہ کی ایک محبوب رکن رہی ہے۔ ان سالوں میں، اس نے لاکھوں زائرین کے دلوں کو گرویدہ کیا۔پچھلے مہینے سے، اس کی خوراک میں بتدریج کمی دیکھی گئی، جس کے بعد اس کی صحت کی قریب سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ مغربی مہاراشٹر کی ٹیکنیکل ویٹرنری ایڈوائزری ٹیم کی رہنمائی اور تکنیکی مشورے کے تحت ویٹرنری آفیسر کے ذریعہ مناسب ویٹرنری اور معاون انتظام فراہم کیا جا رہا تھا۔ ان کی انتھک طبی کوششوں اور مسلسل نگرانی کے باوجود، بجلی نے 16 ستمبر 2026 کو رات 9:45 بجے پرامن طور پر آخری سانس لی۔بجلی کو 11 جولائی 2016 کو پینچ ٹائیگر ریزرو سے سنجے گاندھی نیشنل پارک لایا گیا تھا اور وہ دس سال سے زیادہ عرصے تک ایس جی این پی کی دیکھ بھال اور حفاظت میں رہی۔ سنجے گاندھی نیشنل پارک کے ساتھ اس کا طویل تعلق پارک کے وائلڈ لائف مینجمنٹ، کنزرویشن ایجوکیشن اور قید جانوروں کی دیکھ بھال کی کوششوں کا ایک اہم حصہ تھااگرچہ بجلی (ٹی2) کا انتقال بڑھاپے کی وجہ سے ہوا، موت کی صحیح وجہ معلوم کرنے کے لیے معیاری پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ ایس جی این پی انتظامیہ تمام وائلڈ لائف سے اور عشاق جانور سے اپیل کرتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بجلی (ٹی2) کی یادیں اور تصاویر شیئر کریں تاکہ ہم اس کی میراث اور وائلڈ لائف کنزرویشن میں اس کے تعاون کا احترام کر سکیں ایک بار پھر پارک انتظامیہ شیرنی بجلی (ٹی2) کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ یہاں اطلاع سنجے گاندھی نیشنل پارک انتظامیہ، بوریولی، ممبئی نے دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان