Connect with us
Sunday,20-September-2026

(جنرل (عام

مسلمان اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر بچوں کو اعلی تعیلم دلوائیں: مولانا ارشد مدنی

Published

on

maulana-arshad-madni

نئی دہلی(پریس ریلیز)
ہر سال کی طرح سال 2021,2022 کے لئے بھی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشدمدنی نے آج تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ پیٹ پر پتھرباندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں اور اب ہمیں ایسے اسکولوں کی ضرورت ہے جس میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے دنیاوی تعلیم حاصل کرسکیں۔ یہ بات انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے ہمیں انتہائی مسرت کا احساس ہورہا ہے کہ ہماری اس ادنی ٰسی کوشش سے بہت سے ایسے ذہین اور محنتی بچوں کا مستقبل کسی حدتک سنور سکتاہے جنہیں اپنی مالی پریشانیوں کی وجہ سے اپنے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ انہوں نے کہاکہ پورے ملک میں جس طرح کی مذہبی اور نظریاتی جنگ اب شروع ہوئی ہے اس کا مقابلہ کسی ہتھیار یاٹکنالوجی سے نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس جنگ میں سرخروئی حاصل کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے مزین کرکے اس لائق بنادیں کہ وہ اپنے علم اور شعور کے ہتھیار سے اس نظریاتی جنگ میں مخالفین کوشکست سے دوچارکرکے کامیابی اور کامرانی کی وہ منزلیں سرکرلیں جن تک ہماری رسائی سیاسی طورپر محدود اور مشکل سے مشکل تربنادی گئی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ آزادی کے بعد آنے والی تمام سرکاروں نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم کے میدان سے باہر کردیا، سچرکمیٹی کی رپورٹ اس کی شہادت دیتی ہے جس میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ مسلمان تعلیم کے شعبہ میں دلتوں سے بھی پیچھے ہیں۔ مولانامدنی نے سوال کیا کہ کیا یہ خودبخودہوگیا یا مسلمانوں نے جان بوجھ کر تعلیم سے کنارہ کشی اختیارکی؟ ایساکچھ بھی نہیں ہوا بلکہ اقتدارمیں آنے والی تمام سرکاروں نے ہمیں تعلیمی پسماندگی کاشکار بنائے رکھا۔ انہوں نے شاید یہ بات محسوس کرلی تھی کہ اگر مسلمان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھے تو اپنی صلاحیتوں اور لیاقت سے وہ تمام اہم اعلیٰ عہدوں پر فائزہوجائیں گے، چنانچہ تمام طرح کے حیلوں اور رکاوٹوں کے ذریعہ مسلمانوں کو تعلیم کے قومی دھارے سے الگ تھلگ کردینے کی کوششیں ہوتی رہیں۔

انہوں نے زوردیکر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان پیٹ پر پتھرباندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔ ہمیں ایسے اسکولوں اور کالجوں کی اشدضرورت ہے جن میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے اعلیٰ دنیاوی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیاز کے بغیر حاصل کرسکیں، جو حالات ہیں ان میں مسلمانوں کو قیادت کی نہیں بلکہ ان کے اندر تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ پیداکرنے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی مقصدکے تحت جمعیۃعلماء ہند ضرورت مند طلبہ کو کئی برس سے تعلیمی وظائف دینے کا اہتمام کررہی ہے تاکہ وسائل کی کمی یا غربت کی وجہ سے ذہین اور ہونہار بچے تعلیم سے محروم نہ رہ جائیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ رواں سال 2021-2022 کے وظیفے کے لئے فارم پر کرنے کی تاریخ 30جنوری 2021 ہے۔ فارم ویب سائٹ ” ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ۔ جمعیت علماء ہند ۔ ڈاٹ کام ” سے اپلوڈکیا جاسکتاہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ وہ طلباء جو کسی سرکاری یامعروف ادارے سے انجینئرنگ، میڈیگل، ایجوکیشن، جرنلزم سے متعلق یا کوئی بھی ٹیکنکل یا پروفیشنل کورس کررہے ہوں اور گزشتہ امتحان میں جنہوں نے کم سے کم 70فیصدنمبرحاصل کئے ہوں، وہ وظیفے کے اہل ہوں گے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

Published

on

Mumbai Coastal Road

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک شخص کا رابطہ منقطع ہوا، جس کی وجہ سے اس کی گھبرائی ہوئی بیوی نے اغوا کی کرائی ایف آئی آر درج۔

Published

on

I.-Airport

پونے : ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ایک تاجر کا رابطہ ختم ہوگیا۔ اس کی مسلسل ناقابل رسائی اس کی بیوی کو پریشان کر دیا اور اس نے اس کے اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی۔ بیوی نے امیگریشن کے مسائل کا بہانہ بنایا تھا۔ اس نے یہ اس حقیقت کو چھپانے کے لیے کیا کہ اس سفر میں ایک خاتون دوست بھی اس کے ساتھ تھی، جب کہ گھر میں اس نے بتایا تھا کہ یہ سفر خالصتاً کاروباری مقاصد کے لیے تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ 46 سالہ شخص، جو لانڈری کا کاروبار کرتا ہے، نے 14 ستمبر کو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ کوالالمپور جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ منصوبہ اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب امیگریشن حکام کو پتہ چلا کہ خاتون جس پاسپورٹ پر سفر کر رہی تھی، وہ پرانا ہے اور اسے پہلے ہی گمشدہ قرار دے دیا گیا تھا۔

قانونی پیچیدگیوں کے خوف سے اور اس ڈر سے کہ اس کی بیوی کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کسی دوسری عورت کے ساتھ سفر کر رہا ہے، اس نے مبینہ طور پر امیگریشن کے مسائل کے بارے میں ایک کہانی گھڑ لی۔ سہار پولیس اسٹیشن کے ایک افسر کے مطابق، جب تاجر کی خاتون دوست کو امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے روکا تو اس نے اپنا سفر منسوخ کر دیا، اپنا موبائل فون بند کر دیا اور اس کے ساتھ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس چلا گیا۔ تاہم، ایئرپورٹ سے نکلنے سے پہلے، اس نے اپنی اہلیہ کو لینڈ لائن سے فون کیا اور بتایا کہ اسے امیگریشن کے مسائل کی وجہ سے اپنا موبائل فون حوالے کرنا پڑا۔ افسر نے بتایا کہ اگلے دن اس نے اپنی بیوی سے واٹس ایپ ویڈیو کال پر مختصر بات کی اور وہی کہانی دہرائی۔ جب اس کا فون بعد میں ناقابل رسائی تھا، تو اس کی بیوی بدھ کو پولیس کے پاس گئی، جس کے بعد اس کی شکایت کی بنیاد پر اغوا کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ بدھ کی رات، ایف آئی آر کے بارے میں جاننے کے بعد، وہ شخص سہار پولیس اسٹیشن گیا اور اس نے اعتراف کیا کہ اس نے امیگریشن کے مسائل کے بارے میں کہانی گھڑ لی ہے۔ افسر نے کہا کہ پولیس دو ہفتوں کے اندر عدالت میں سی سمری کلوزر رپورٹ داخل کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ درجہ بندی اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی مقدمہ کسی حقیقی غلط فہمی کی وجہ سے درج کیا گیا ہو یا جب کیس نہ تو مکمل طور پر سچا ہو اور نہ ہی مکمل طور پر غلط ہو۔

Continue Reading

(جنرل (عام

پاسپورٹ کی میعاد کے لیے قوانین میں تبدیلی : نئے اصول کے تحت 15 سال سے کم عمر کے بچوں کا پاسپورٹ 18 سال کا بچہ نہیں ہو جاتا کارآمد رہے گا۔

Published

on

Passport

نئی دہلی : حکومت نے 15 سال سے کم عمر کے بچوں کے پاسپورٹ سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ اب اس عمر سے کم عمر بچوں کو جاری کیا جانے والا 36 صفحات پر مشتمل معیاری پاسپورٹ پانچ سال یا جب تک بچہ 18 سال کا نہیں ہو جاتا، جو بھی پہلے ہو، کارآمد رہے گا۔ وزارت خارجہ نے پاسپورٹ (ترمیمی) قواعد، 2026 کو مطلع کیا ہے، جو جمعرات کو گزٹ آف انڈیا میں شائع ہونے کے بعد نافذ ہوا تھا۔ اگر کسی بچے کو 12 سال کی عمر میں پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، تو اس کا پاسپورٹ پانچ سال تک کارآمد رہے گا، یعنی جب تک کہ وہ 17 سال کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔ تاہم، اگر کوئی بچہ 14 سال کا ہے، تو اس کا پاسپورٹ اس وقت تک کارآمد رہے گا جب تک کہ وہ 18 سال کا نہ ہو جائے۔ یہ تبدیلی پاسپورٹ رولز، 1980 کے رول 12(1اے) میں کی گئی ہے۔

اس سے قبل، حکومت نے پاسپورٹ خدمات کی فیسوں میں بھی نظر ثانی کی تھی، جو 1 جولائی سے لاگو ہوتی ہے۔ 36 صفحات پر مشتمل عام بالغ پاسپورٹ کی نئی درخواست یا تجدید کی فیس اب 2,500 ہے، جو کہ پہلے 1,500 تھی۔ 60 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 2000 روپے سے بڑھا کر 3500 روپے کر دی گئی ہے۔ تتکال سروس کے تحت 36 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 5,000 اور 60 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 6,000 کر دی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان