Connect with us
Friday,28-August-2026

(جنرل (عام

قوم کی ایک بیٹی کی تلاش کیلئے گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں کے ساتھ تعاون کریں

Published

on

missing

مالیگاؤں (خیال اثر)

22 نومبر 2020 سے مالیگاؤں کی رہنے والی 20 سالہ تنزیلا اپنے ماں باپ سے کسی بات پر خفا ہوکر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے گھر چھوڑ کر کہیں چلی گئی ہے.لاپتہ جواں سال تنزیلا کا کہنا تھا کہ میں اگر گھر چھوڑ کر چلی گئی تو پھر کبھی لوٹ کر نہیں آوں گی. والدین کی جانب سے تنزیلا کے گمشدہ ہونے کے بعد پہلے این سی شکایت 22 نومبر کو شام میں عائشہ نگر پولیس اسٹیشن میں کی گئی اس کے بعد جب تنزیلا نہیں ملی تو پھر عائشہ نگر پولیس اسٹیشن میں 28 نومبر گمشدگی کی شکایت درج کروائی گئی اور جب سے تنزیلا گھر چھوڑ کر گئی ہے تب سے والدین مسلسل اپنے لخت جگر کی تلاش کیلئے دربدر بھٹکتے رہے ہیں. ہر گلی ہر محلہ ہر رشتے دار کے گھر تنزیلا کو تلاش کرتے رہے ہیں تو وہیں گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کے روح رواں انصاری ضیاء الرحمن مسکان کی جانب سے بھی روزِ اول سے ہی سوشل میڈیا پر پوسٹ وائرل کیے بغیر تنزیلا کی تلاش کیلئے بہت سی حکمت عملی کا راستہ اختیار کیا گیا. مہاراشٹر کے الگ الگ شہروں میں تلاش کرنے کا کام جنگی پیمانے پر جاری ہے. تنزیلا کی تلاش کیلئے بیرون شہروں کے لاج ہوسٹل مسافر خانہ بس اسٹینڈ ریلوے اسٹیشن اور دیگر پبلک پوائنٹ کے علاوہ ہر وہ جگہ جہاں سے امید ہو کہ یہاں پر تنزیلا مل سکتی ہے وہاں پر تنزیلا کو تلاش کیا جارہا ہے.
جہاں گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ اپنی کوشش میں کوشاں ہے وہیں عائشہ نگر پولیس اسٹیشن کا عملہ بھی تنزیلا کی تلاش کیلئے اپنی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرلیا ہے. عائشہ نگر پولیس اسٹیشن کے عملہ کی جانب سے تنزیلا کی تلاش کیلئے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے وہیں گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ نے بھی بالآخر جب تنزیلا 22 دنوں تک جب نہیں ملی تو اس کی تلاش نہیں ہوسکی تو پھر گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کی جانب سے بحالت مجبوری سوشل میڈیا پر اردو ,مراٹھی اور انگلش زبان میں تنزیلا کی گمشدہ ہونے کی پوسٹ بناکر سوشل میڈیا پر پوسٹ وائرل کی گئی مگر ابھی تک 20 سالہ تنزیلا کی تلاش کے تعلق سے کوئی بھی سراغ نہیں لگ سکا ہے. اگر آپ اپنے اطراف کے علاقوں میں اور اپنے آس پاس کے ریلوے اسٹیشن ,بس اسٹینڈ ,مسافر خانے ,یتیم خانے ,لڑکیوں کے مدرسے ,لڑکیوں کے ہوسٹل یا وہ مقام جہاں آپ کو شک ہو کہ یہاں پر تنزیلا مل سکتی ہے تو برائے مہربانی تنزیلا کی تلاش کیلئے ہماری مدد کریں. اگر آپ کو تنزیلا کہیں نظر آئے یا اگر آپ کو کوئی معلومات ہو تو اور آپ آپ کا نام راز رکھنا چاہتے ہوں تو یا تنزیلا کے تعلق سے آپ کو کوئی معلومات ہو تو برائے مہربانی ایک روتی ہوئی ماں کی کے تڑپتے ہوئے دل کو چین و سکون دیکر اللہ رب العزت کی خوشنودی کیلئے ان نمبرات پر رابطہ کرنے کی گزارش کی ہے.انصاری ضیاء الرحمن مسکان,سردار مارکیٹ کے سامنے محمد علی روڈ مالیگاؤں.موبائل نمبر 9270021180,عزیز ریاض گولڈن نگر ,موبائل نمبر 9226389042.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

(جنرل (عام

بھارت نے سیلاب سے متاثرہ نیپال کو امدادی سامان کی دوسری کھیپ سونپی

Published

on

بھارت نے جمعرات کو 37.5 ٹن انسانی امداد اور قدرتی آفات سے متعلق امدادی مواد، ادویات اور خوراک کے پیکٹوں کی دوسری کھیپ نیپال کے حوالے کی تاکہ مہلک سیلاب کے بعد ہمالیائی قوم کی امداد اور بچاؤ کی کوششوں میں مدد کی جا سکے۔ پن، نیپال کے سیلاب سے نجات اور بچاؤ کی کوششوں میں مدد کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے وزیر، ہندوستان نیپال اور اس کے لوگوں کے ساتھ کھڑا رہنے کے لیے پرعزم ہے۔”

بدھ کے روز، ہندوستان نے تباہ کن سیلاب سے ہمالیائی قوم کے ردعمل میں مدد کے لیے نیپال کو 10 ٹن ایچ اے ڈی آر مواد اور ضروری ادویات بھیجیں۔ نیپال میں ہندوستان کے سفیر نوین سریواستو نے بدھ کی شام دیر گئے نیپال کے ثقافت، سیاحت اور شہری ہوابازی کے وزیر کھڑک راج پاوڈل کو امدادی سامان سونپا۔ جمعرات کو وزیر خارجہ (ای اے ایم) ایس جے شنکر نے خارجہ سکریٹری وکرم مصری، وزارت کے سینئر عہدیداروں اور ہندوستان کے سیلاب سے متعلق سفیروں کے ساتھ جائزہ میٹنگ کی۔ نیپال میں صورتحال

ای اے ایم جے شنکر نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہندوستانیوں کی حالت اور بہبود کا پتہ لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایکس پر میٹنگ کے بارے میں تفصیلات کا اشتراک کرتے ہوئے، ای اے ایم جے شنکر نے کہا، “خارجہ سکریٹری، ٹیم ایم ای اے اور کھٹمنڈو اور بیجنگ میں ہمارے سفیروں کے ساتھ نیپال سیلاب کی تباہی پر ایک جائزہ میٹنگ کی۔ سیلاب سے متاثرہ علاقے۔”

انہوں نے مزید کہا، “ایم ای اے اس سلسلے میں مختلف وزارتوں، ریاستی حکومتوں، ٹور آپریٹرز اور پراجیکٹ حکام کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے۔ ہم نیپالی فریق کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، دونوں پہلوؤں پر اور امدادی کوششوں پر،” انہوں نے مزید کہا۔ چین کے تبت کے علاقے میں شروع ہونے والا زبردست سیلاب، دریائے بھوٹے کوشی میں بہہ گیا، جس سے بدھ کو نیپال میں تباہی کا ایک بڑا راستہ نکلا ہے۔ نیپال پولیس نے جمعرات کی سہ پہر کو اس بات کی تصدیق کی کہ کوشی سیلاب 270 تک پہنچ گیا ہے، کئی نیچے دھارے والے اضلاع سے لاشیں اب بھی برآمد کی جا رہی ہیں۔

سب سے زیادہ لاشیں، 108، جنوبی میدانی علاقوں کے ضلع چتوان سے برآمد ہوئیں، اس کے بعد نوالپاراسی مشرقی سے 62، دھاڈنگ سے 27 اور راسووا سے، پولیس کے مطابق۔ نیپالی حکومت نے کہا کہ 800 سے زائد افراد سیلاب کے بعد انسانی بستیوں، کسٹم دفاتر، بجلی کے انفراسٹرکچر اور دیگر علاقوں میں بجلی کے انفراسٹرکچر کے علاقوں سے رابطہ سے باہر ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

نتیش کمار نے پٹنہ کے مزارات پر چادر چڑھائی

Published

on

عید میلاد النبی کے موقع پر بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جمعرات کے روز پٹنہ کے پھلواری شریف میں واقع تاریخی خانقاہ مجیبیہ کا دورہ کیا، انہوں نے صدر پیر حضرت مولانا آیت اللہ قادری صاحب سے ملاقات کی اور خانقاہ کے بانی حضرت مولانا قادری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ پر چادر چڑھائی۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بہار اور ملک کی خوشحالی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی سالوں سے خانقاہ مجیبیہ کا دورہ کر رہے ہیں اور مزار کے ساتھ ایک دیرینہ تعلق کا اشتراک کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اس جگہ کا دورہ کرنے سے انہیں سکون کا احساس ہوا۔

خانقاہ کے منیجر حضرت مولانا منہاج الدین قادری مجیبی اور ایم ایل اے شیام راجک نے سابق وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کمپلیکس کے اندر مذہبی مقامات کا دورہ کیا اور چادر پوشی کی تقریب میں شرکت کی۔ ان کی آمد کی خبر پھیلتے ہی بڑی تعداد میں عقیدت مند اور مکین جمع ہو گئے۔ نتیش کمار نے عید میلاد النبی کے موقع پر لوگوں کو مبارکباد دی اور انہیں مبارکباد دی۔

قبل ازیں، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی کارگزار صدر تیجسوی پرساد یادو نے پٹنہ شہر کے متن گھاٹ پر واقع خانقاہ بارگاہ عشق تکیہ شریف کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چادر چڑھائی اور بہار کی امن، خوشحالی، خوشی اور ترقی کے لیے دعا کی۔ یہ تاریخی مزار ریاست کی مختلف صوفی روایات سے جڑا ہوا ہے۔ سالانہ عرس کے دوران علاقہ۔ اس جگہ پر حضرت خواجہ رکن الدین عشق کا مزار ہے اور ٹیپو سلطان کے خاندان سے بھی اس کا تاریخی تعلق ہے۔ ٹیپو سلطان کے پڑپوتے شہزادہ محمد کریم شاہ اپنے خاندان کے کئی دیگر افراد کے ساتھ کمپلیکس میں دفن ہیں۔

تیجسوی یادو نے بدھ کی شام کو پٹنہ کے پھلواری شریف میں خانقاہ مجیبیہ بھی جا کر درگاہ پر چادر چڑھائی اور ریاست کی خوشحالی کی دعا کی۔ عید میلاد النبی پر نتیش کمار اور تیجسوی یادو کے دورے سے بہار کی مذہبی ترقی کے لیے امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی ترقی کے پیغامات ملے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

دہلی : فسادات کے سلسلے میں جیل میں بند عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں دہلی پولیس نے ہائی کورٹ میں جواب کیا داخل۔

Published

on

Umar / Shrjeel

نئی دہلی : دہلی پولیس نے 2020 کے دہلی فسادات کی سازش کیس کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے۔ عدالت میں جواب داخل کرواتے ہوئے پولیس نے عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت کی بھی مخالفت کی۔ پچھلی سماعت (31 جولائی) میں دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے اس معاملے میں جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ جمعرات کو سماعت کے دوران دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ شرجیل امام اور عمر خالد دہلی فسادات کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ پولیس کے پاس ان کے خلاف فسادات کی منصوبہ بندی کرنے، لوگوں کو اکٹھا کرنے اور فسادات میں اسٹریٹجک کردار ادا کرنے سے متعلق اہم ثبوت ہیں۔

دہلی پولیس نے یہ بھی کہا کہ دو افراد کی نئی ضمانت کی درخواستیں اپنے آپ میں “غیر قانونی” اور گمراہ کن ہیں۔ دہلی پولیس نے کہا کہ جنوری میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں شریک ملزمان کو ضمانت دی تھی، لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کو دہلی فسادات میں ان کے مختلف کرداروں کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یو اے پی اے کی دفعہ 43 ڈی (5)، جو کہ ضمانت کی سخت شرائط فراہم کرتی ہے، اس کیس میں لاگو ہے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ اپنے جنوری کے فیصلے میں، سپریم کورٹ نے ضمانت مسترد کرتے وقت نئی ضمانت کے لیے دو شرائط عائد کی تھیں۔ پولیس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عمر اور شرجیل کیس کے اہم گواہوں کی گواہی کے بعد یا فیصلے کے ایک سال بعد ضمانت کی نئی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شرط پوری نہیں کی گئی۔ اس لیے اس مرحلے پر ان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت نہ کی جائے۔ یہ معاملہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو لے کر شمال مشرقی دہلی میں 2020 کے فسادات سے متعلق ہے، جس میں 50 سے زیادہ لوگ ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ خالد اور شرجیل اس کیس میں گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان