Connect with us
Wednesday,30-September-2026
تازہ خبریں

مہاراشٹر

مالیگاؤں کی قدیم آگرہ روڈ کا تعمیری کام جاری لیکن ٹریفک نظام درہم برہم

Published

on

roadkaam

(خیال اثر) ایک طویل عرصہ سے آگرہ روڑ کی تعمیر کا مسئلہ سنگین رخ اختیار کئے ہوئے ہے. شہر کے سبھی لیڈران نے اس روڈ کی تعمیر کے لئے کوششیں کی ہیں لیکن تا ہنوز اس بدنصیب روڈ کی تعمیر میں رخنہ اندازی حائل ہوتی جارہی ہے. یہ مصروف ترین شاہراہ ٹریفک اژدہام میں آج اپنی تنگ دامانی کا شکوہ کررہی ہے. عام دنوں کے علاوہ خصوصاً جمعہ کا دن مالیگاؤں شہر کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل رہا کرتا ہے. حالیہ دنوں فلائے اوور بریج کی آدھی ادھوری تعمیر اور اس سے لگ کر غیر قانونی تجاؤزات کے علاوہ بے ترتیب پارکنگ بھی آمد و رفت میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سبب بنی ہوئی ہیں. اس روڈ پر بے ہنگم ٹریفک کو ترتیب سے رواں دواں رکھنے کے لئے ٹریفک پولیس بھی شاذ و نادر ہی نظر آتی ہے. اگر اتفاق سے کبھی اس روڈ پر ٹریفک پولیس متحرک دکھائی دیتی ہے تو اسے صرف اور صرف اپنے مالی فوائد کی فکر سوار رہتی ہے. شمالی رخ سے آنے والی مہا منڈل کی تمام بسیں بس اسٹیشن میں نہ روکتے ہوئے آگرہ روڑ پر روک کر سواریاں اتارنے کا کام کرتی ہیں. اس طرح جب کبھی بھی مہامنڈل کی بسیں روڈ پر رکتی ہیں تو دور تک دیگر گاڑیوں کی قطاریں آمد و رفت کو مسسدود کرتے ہوئے ٹریفک نظام کو درہم برہم کرکے رکھ دیتی ہیں جس سے مسافرین کے علاوہ راہگیروں کو ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے. مرے پر سو درے کے مصداق ان دنوں اس روڈ کی تعمیر کے لئے جے سی بی مشین اور روڈ رولر کے ذریعے نکیلے پتھر بچھا کر اسے ہموار کرنے کا کام کیا جارہا ہے اس طرح ایک جانب سے سفر میں مصروف تمام سواریوں اور رہگیروں خصوصاً خواتین مسافرین کو مجبوراً غلط رخ پر بے ترتیبی سے آنے جانے کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے ایسے حالات میں اگر زندگی اور موت کی کشکمش میں مبتلا کسی مریض کو لے جانے والی ایمبولنیس بے ترتیب و بے ہنگم ٹریفک میں پھنستی ہے تو جان کنی کے عالم میں مبتلا مریض کی جان پر بن آتی ہے. ٹریفک پولیس کی اہلیت پر سوالیہ نشان لگاتا ہوا ٹریفک کا یہ بے ہنگم نظام چیخ چیخ کر ان کی تساہلی اور لاپرواہی کا ثبوت دے رہا ہے. اس مصروف ترین شاہراہ پر جے سی بی اور روڈ رولر جیسی ہاتھی نما مشینوں کے علاوہ دیگر ساز و سامان لانے والی دیو ہیکل گاڑیوں کی رخنہ اندازی کی وجہ سے یہ شاہراہ موت کی شاہراہ بنتی جارہی ہے. اس شاہراہ پر آمد و رفت میں مصروف مسافرین اپنی جان اپنی ہی ہتھیلوں پر رکھتے ہوئے سفر کرنے پر مجبور کردیئے گئے ہیں جبکہ اس مصروف ترین روڈ پر ٹریفک کا شور و غل اور آمد و رفت کو کم کرنے کے لئے ایک عدد بائے پاس روڈ بھی تعمیر کی گئی ہے لیکن شمال سے مغرب کی جانب سفر کرنے والی سامان سے لدی ہوئی تمام مال ٹرکیں وسط شہر سے گزرنے والی اسی روڈ کو قابل استعمال بناتی ہیں.ٹریفک پولیس محمکہ کو چاہیے کہ جس مقام پروسط شہر کی یہ مصروف ترین شاہراہ اور بائی پاس شاہراہ کا سنگم موجود ہے وہیں پر موجود رہتے ہوئے مغربی سمت میں جانے والی مال گاڑیوں کو بائی پاس روڈ سے گزرنے کا بندو بست کریں تب ہی شہر کے درمیانی حصے سے گزرنے والی اس آگرہ روڈ کا بے ہنگم ٹریفک ختم ہوگا. یہ بھی حقیقت ہے کہ اس روڈ پر بے ہنگم اور بے ترتیب ٹریفک کی وجہ سے سینکڑوں جانیں تلف ہو چکی ہیں. اتنی کثیر تعداد میں جانوں کا اتلاف ہونے کے باوجود شہری لیڈران اور محمکہ پولیس ہوش کے ناخن نہیں لے رہے ہیں.

ممبئی پریس خصوصی خبر

سماج وادی پارٹی کا ایس آئی آر ‘ (ووٹر لسٹ) گھوٹالے میں ملوث گیانیش کمار کے خلاف پر زور احتجاج

Published

on

ممبئی : آج ممبئی میں سماج وادی پارٹی کے مرکزی دفتر پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت پارٹی کے ممبئی/مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابو عاصم اعظمی نے کی۔ اس مظاہرے میں گیانیش کمار کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا گیا، جنہیں ‘ایس آئی آر ‘ گھوٹالے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس گھوٹالے کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام خارج کر دیے گئے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کمار کو سخت ترین سزا دے اور اس بات پر زور دیا کہ انتخابات عدالتی نگرانی میں منصفانہ طور پر منعقد کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سماج وادی پارٹی ملک بھر میں اس معاملے کی شدید مخالفت کرتی ہے اور احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ احتجاج میں ریاستی ورکنگ صدر یوسف ابراہانی، چیف جنرل سیکریٹری معراج صدیقی، ریاستی جنرل سیکریٹری فرحان اعظمی، ویمنز ونگ کی صدر رخسانہ صدیقی اور یوتھ ونگ کے صدر ریاض خان سمیت پارٹی کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

65 سالہ ضعیف شخص کی رہائی کی راہ ہموار، بامبے ہائی کورٹ سے بڑی راحت

Published

on

mumbai-high-court

ممبئی : دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ایک 65 سالہ ضعیف شخص کی جیل سے رہائی کی راہ آج بامبے ہائی کورٹ نے ہموار کردی ہے۔ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سارنگ وجئے کمار کوتوال اور جسٹس رنجیت سنہا راجا بھوسلے نے ملزم کفیل احمد کو بیرون مہاراشٹر کے ضامندار کو عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے، اس سے قبل بامبے ہائی کورٹ نے اسے بطور ضامن کسی مقامی شخص کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ملزم کفیل احمد نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت کے دوران ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً ایک سال قبل ضمانت منظور کیئے جانے کے باوجود ملزم ابتک جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہے کیونکہ ملزم کا تعلق صوبہ بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی نہیں ہے جو اس کی ضمانت لے سکے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کی عمر 65/ سال ہوچکی ہے، ملزم پہلے ہی کئی طرح کی بیماریوں سے جیل میں پریشان ہے لہذا ملزم کی ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی جائے۔ عدالت نے پہلے تو جھجک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سنگین الزامات کا سامنا کررہا ہے لہذا اس کی ضمانت کی شرائط میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی لیکن پھر بعد میں ایڈوکیٹ متین شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو راحت دے دی۔ حالانکہ سرکاری وکیل نے ضمانت کی شرائط میں تبدیلی کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی تھی۔ خیال رہے کہ دو ہفتہ قبل ملزم کفیل احمد کے لڑکے نے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کرکے اس کے ضعیف والد کی جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B ,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک، کفیل احمد محمد ایوب انصاری، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔ سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ملکیت کا تنازع : وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگا دیا

Published

on

Waris-Pathan

ممبئی خلافت ہاؤس پر ایم آئی ایم کے قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا بھارت ماتا کی جئے کے نعرہ کے ساتھ ایم آئی ایم کے قفل کو توڑ کر طالبات اور راشٹریہ مسلم منچ کے کارکنان نے داخلہ لیا اس سے قبل سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگایا تھا اور اس دوران خلافت ہاؤس کے ٹرسٹی اور کارگزار صدر سرفراز آرزو اور وارث پٹھان کے مابین لفظی جھڑپ بھی ہوئی تھی آج راشٹریہ مسلم منچ نے قفل توڑ کر وارث پٹھان کے اس عمل کو غیر قانون قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وارث پٹھان کون ہوتا ہے, یہاں تالا لگانے والا۔ وارث پٹھان نے بتایا کہ چونکہ خلافت ہاؤس وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور یہ وقف کی ملکیت ہے اس لئے یہاں تعمیراتی کام پر روک لگانے کیلئے انہوں نے بطور احتجاج یہ قفل لگایا ہے جبکہ سر فراز آزرو نے اسی دوران کہا تھا کہ یہ وقف کی جگہ یا ملکیت ہے تو وقف ڈیڈ بتائی جائے وقف کی نوٹس کے بعد وارث پٹھان نے بائیکلہ خلافت ہاؤس کو تالا لگایا تھا لیکن آج اس قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا اور خلافت ہاؤس میں داخلہ لیا۔ سر فراز آرزو نے بتایا کہ خلافت ہاؤس میں فلک شگاف عمارت کی تعمیر ہوگی اور یہاں اسپتال اور کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ وقف کی ملکیت سے متعلق خلافت ہاؤس تنازع کا شکار ہے لیکن خلافت ہاؤس نے اس ملکیت کو وقف کی ملکیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے, جبکہ وقف بورڈ نے نوٹس جاری کیا ہے اور خلافت ہاؤس سے گوشوارہ طلب کیا ہے۔ خلافت ہاؤس کے تعمیراتی کاموں پر روک لگانے کیلئے وارث پٹھان نے اسے مقفل کیا تھا جو آج کھول دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان