Connect with us
Sunday,12-April-2026

سیاست

حکومت آئندہ ہونے والے اسمبلی اجلاس میں مسلم ریزرویشن بل پیش کرے : حسین دلوائی

Published

on

مہاراشٹرا اسمبلی کے 14 اور15 دسمبر2020 کو ممبئی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں مسلم ریزرویشن بل ( تحفظات بل براۓ مسلم) پیش کرکے مسلمانوں کو ریزرویشن دیا جائے، تاکہ مسلمانوں کی موجودہ اقتصادی، تعلیمی اور دیگر مختلف شعبہ ہاۓ زندگی میں پسماندگی اور پچھڑے پن کو دور کیا جا سکے۔اس طرح کا مطالبہ سینئر کانگریسی قائد اور سابق ریاستی وزیر و سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی نےکیا۔
سچرکمیٹی، محمودالرحمٰن کمیتی اور رنگناتھ مشرا کمیٹی کے پیش کردہ اعداد وشمار، تجزیوں اور سفارشات کا حوالہ دے کر حسین دلوائی نے ایک بیان میں کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی اور پچھڑے پن کے وضاحت کی اب مزید کوئی گنجائیش اور ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے، حتکہ مسلمانوں کے ریزرویشن کے تعلق سے ہائی کورٹ بھی یہ مشاہدہ کرچکا ہے کہ مختلف میدانوں میں مسلمانوں کی پسماندگی ایک حقیقت ہے، اور عدالت نے کہا ہے کہ، اگر حکومت چاہے تو مسلمانوں کو ریزرویشن دے سکتی ہے۔ اس لیے مہاراشٹرا کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو اس سلسلے میں سنجیدگی اور مثبت انداز فکر اپنا کر مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے لیےٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔
مہاراشٹرا میں ریزرویشن سے متعلق موجودہ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے حسین دلوائی نے کہا کہ آج مہاراشٹرا میں صرف مراٹھا ریزرویشن کی بات کی جا رہی ہے، اور ہر جگہ صرف اور صرف مراٹھا ریزریوشن کا ذکر ہو رہا ہے، اور اس مسلماںوں کو ریزرویشن دیئے جانے کے مطالبے کو یکسر نظرانداز کر کے اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ مراٹھا ریزرویشن کے خلاف نہیں ہیں، لیکن مسلمانوں کے ریزرویشن کے مسئلہ کو پس پشت ڈال دینے کے موجودہ حکومت کے طرز عمل سے متفکر و تشویش میں مبتلا ہیں۔
مہا وکاس اگھاڑی حکومت کی حلیف جماعتیں راشڑوادی کانگریس اور کانگریس پارٹی کی جانب سے انکے انتخابی منشوروں میں مسلمانوں کو ریزرویشن دیۓ جانےسے متعلق راۓدہندگان سے کیےگئے وعدوں کو یاد دلاتے ہوئے حسین دلوائی نے کہا کہ اب یہ جماعتیں ایوان اقتدار میں بیٹھی ہیں۔ اور اب انکا یہ اخلاقی فرض ہے کہ وہ اپنے وعدوں کا پاس و لحاظ کرے اور سیاسی بصیرت سے کام لیکر مسلمانوں کو زیرزویشن دیئے جانے کے لیے، مضبوط اور مستحکم بنیادوں پرکوئی لائحہ عمل تیار کریں اور اس پر عمل کرکے اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسلمانوں کو انکا حق مل جائے۔
مسلم نوجوانوں کی قابلیت اور صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے اپنے بیان میں یہ بھی وضاحت کی کہ، مسلم نوجوان آج مختلف مسابقتی امتحانات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، آج جو نتائیج سامنے آ رہے ہیں وہ گزشتہ کے مقابلے میں کافی بہتر ہیں۔ اگر ان مسلم نوجوانوں کو زیزرویشن کا فائدہ ملے تو وہ اور بھی بہتر طور پر ملک و ملت کی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ میں زیرِالتواء ایک مقدمہ کا حوالہ دیتے ہوئے حسین دلوائی نے کہا کہ ، سپریم کورٹ میں ریزرویشن سے متعلق اس مقدمہ کے فیصل ہونے تک، حکومت مسلمانوں کے تعلیمی ریزرویشن کے لیے قدم آگے بڑھاۓ اور آئیندہ ہونے والے اسمبلی اجلاس میں مسلمانوں کے ریزرویشن کا بل پیش کرکے اسے منظور کرے۔

سیاست

یو سی سی وقت کی ضرورت ہے، ممتا کو خوشامد کی سیاست ترک کرنی چاہئے : شائنا این سی

Published

on

ممبئی : شیو سینا کی لیڈر شائنا این سی نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر سخت حملہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے بارے میں جھوٹی داستانیں پھیلانا بند کریں۔ ممبئی میں آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے شیو سینا لیڈر شائنا این سی نے کہا، “یکساں سول کوڈ وقت کی ضرورت ہے۔ آپ ووٹ بینک کی سیاست کیوں کھیل رہے ہیں اور سیوڈو سیکولرازم کا کھیل کھیل رہے ہیں؟ ہم ایک یکساں سول کوڈ لانا چاہتے ہیں تاکہ تمام شہریوں کو یکساں انصاف ملے اور کوئی خوشامد نہ ہو۔” ناری شکتی وندن ایکٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس ملک کی خواتین کو اس تاریخی قدم کے لیے 27 سال انتظار کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سلسلے میں واضح سیاسی ارادہ ظاہر کیا ہے۔ شائنا این سی نے کہا کہ یہ بل خواتین کو صنفی مساوات کو یقینی بنا کر تاریخ رقم کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ شیوسینا کے رہنما نے پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان محض کٹھ پتلی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شیو سینا کی لیڈر شائنا این سی نے کہا کہ پاکستان کو پہلے اپنے ملک میں پنپنے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، جنہیں وہاں محفوظ پناہ گاہیں مل رہی ہیں، اس سے پہلے کہ وہ بین الاقوامی معاملات میں ثالثی کرنے پر غور کرے۔ نوآبادیاتی ذہنیت پر سوال اٹھاتے ہوئے، شائنا این سی نے پوچھا کہ ہم اب بھی نوآبادیاتی ذہنیت کے ساتھ کیوں جی رہے ہیں۔ شہروں کے نام تبدیل کرنے کا اقدام خوش آئند ہے۔ شہروں کا نام چھترپتی شیواجی مہاراج اور اہلیہ بائی ہولکر جیسی عظیم شخصیات کے نام پر رکھنا ایک مثبت سمت ہے۔ مہاراشٹر میں، اورنگ آباد کا نام بدل کر سمبھاجی نگر اور احمد نگر کا نام بدل کر اہلیہ نگر کرنا اس سمت میں خوش آئند قدم ہے۔ اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ خواتین ریزرویشن بل پر کانگریس کی میٹنگ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی جس نے ’’ناری شکتی وندن‘‘ اور خواتین ریزرویشن بل کو سب سے زیادہ عرصہ تک روک رکھا تھا، اب وہ جھوٹے بہانے بنا رہی ہے۔ 27 سال گزرنے کے بعد بھی پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی محض 13-14 فیصد ہے۔ ناری شکتی وندن ایکٹ کے تحت خواتین کے لیے 181 نشستیں مختص کی جائیں گی۔ اگر کانگریس واقعی ترقی پسند ہے تو اسے خواتین کی حمایت میں کھڑا ہونا چاہیے، جو ہندوستان کی 50 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ پی ایم مودی کے دراندازی کے بیان کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ وہ جماعتیں جو دراندازوں کو پناہ دے رہی ہیں اور بنگلہ دیش سے غیر قانونی تارکین وطن کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں، انہیں سمجھنا چاہئے کہ مودی حکومت اور این ڈی اے ہندوستانی شہریوں کے مفادات کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ووٹ بینک کی سیاست کی خاطر دراندازوں کی حفاظت نہیں کریں گے، جو ہندوستان کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

وعدے توڑنے کی امریکہ کی عادت کو ہم نہیں بھولے، ایران نے امن مذاکرات کے دوران سخت موقف اختیار کر لیا

Published

on

تہران : امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کے درمیان ایران نے سخت موقف اپنایا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ملک امریکہ کے ماضی کے ٹوٹے ہوئے وعدوں کو “بھولے نہیں اور نہ بھولے گا”۔ یہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے باوجود گہرے عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی مذاکرات کے ایک دور سے نتیجہ کی توقع نہیں تھی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں اسماعیل بقائی نے کہا، “ہمارے لیے سفارت کاری ایرانی سرزمین کے محافظوں کے مقدس جہاد کا تسلسل ہے۔ ہم امریکہ کے ٹوٹے ہوئے وعدوں اور غلط کاموں کے تجربات کو نہیں بھولے ہیں اور نہ بھولیں گے، جس طرح ہم ان کے اور تیسری جنگ کے دوران غاصب حکومت کے ذریعے کیے گئے گھناؤنے جرائم کو معاف نہیں کریں گے۔” تاہم ایران نے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی بارہا امریکہ کے ساتھ اعتماد کی کمی کو برقرار رکھا ہے۔ بات چیت کو شدید اور طویل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “اسلام آباد میں ایرانی وفد کے لیے آج کا دن ایک مصروف اور طویل دن تھا۔ پاکستان کی اچھی کوششوں اور ثالثی سے ہفتے کی صبح شروع ہونے والی شدید بات چیت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی جس میں دونوں فریقین کے درمیان متعدد پیغامات اور متن کے تبادلے ہوئے۔” ایرانی وفد کے پختہ عزم پر زور دیتے ہوئے، باقی نے کہا، “ایرانی مذاکرات کار ایران کے حقوق اور مفادات کے دفاع کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں، تجربے اور علم کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ ہمارے بزرگوں، عزیزوں اور ہم وطنوں کے بھاری نقصان نے ایرانی قوم کے مفادات اور حقوق کو آگے بڑھانے کے ہمارے عزم کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کیا ہے۔” ایران کے مضبوط موقف کا اعادہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، “کوئی چیز ہمیں اپنے پیارے ملک اور عظیم ایرانی تہذیب کے لیے اپنے عظیم تاریخی مشن کو انجام دینے سے نہیں روک سکتی اور نہ ہی روک سکتی ہے۔ ایران اپنے قومی مفادات اور اپنی فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے سفارت کاری سمیت تمام ذرائع استعمال کرے گا۔” بقائی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی بات چیت میں آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام، جنگ کی تلافی، پابندیوں سے نجات اور جاری علاقائی تنازعات کے خاتمے جیسے اہم امور پر توجہ مرکوز کی گئی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس سفارتی عمل کی کامیابی کا دارومدار دوسرے فریق کے خلوص اور نیک نیتی، ضرورت سے زیادہ مطالبات اور غیر قانونی اپیلوں سے گریز اور ایران کے جائز حقوق اور مفادات کا احترام کرنے پر ہے۔ مذاکرات کے اس نئے دور کے اختتام پر ایران اور امریکا پاکستان کی تجویز پر مذاکرات کا ایک اور دور کریں گے جس کا وقت اور مقام ابھی طے نہیں ہوا ہے۔ بات چیت، جو دوپہر ایک بجے شروع ہوئی۔ ہفتہ کو مقامی وقت کے مطابق، پیغامات اور متن کے مسودے کے مسلسل تبادلے کے ساتھ، 14 گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔ ایرانی میڈیا نے بتایا کہ یہ مذاکرات مسلسل اختلافات کے درمیان ہوئے۔ اگرچہ کچھ ابتدائی پیشرفت ہوئی ہے، لیکن سنگین اختلافات باقی ہیں، بنیادی طور پر ایران کے کہنے کی وجہ سے امریکہ کی طرف سے عائد کردہ مضحکہ خیز اور ضرورت سے زیادہ شرائط ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

این سی بی ممبئی بین الریاستی گانجا اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب کیا، ناگپور سے 210 کلو گانجہ ضبط اور 04 گرفتار

Published

on

ممبئی : ممبئی اپریل ۱۱ کو مخصوص انٹیلی جنس پر عمل کرتے ہوئے، ایک این سی بی نے پی کمار اور آر کمار کو ناگپور، مہاراشٹرا میں مغربی بنگال کے رجسٹریشن والے ٹرک سے زیر حراست لیا تلاشی کے دوران دھاتی چادروں کے جائز کارگو میں چھپایا گیا 210 کلو گرام گانجہ برآمد کر کے ضبط کر لیا گیا۔ مسلسل پوچھ گچھ پر، اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ضبط شدہ منشیات اڈیشہ کے سمبل پور علاقے سے حاصل کی گئی تھی، جو کہ غیر قانونی گانجے کی سپلائی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ناگپور کے دو گانجا ڈسٹری بیوٹرز پاٹل اور ورما کو مزید کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔ تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ 210 کلو گرام گانجے کی ضبط کی گئی یہ کھیپ مہاراشٹر کے مختلف مقامات جیسے ناگپور، امراوتی، اکولہ، ناسک، پونے اور ممبئی پر تقسیم کی گئی تھی جہاں سے اسے آخری گاہکوں اور مقامی دکانداروں کو خوردہ فروخت کیا جانا تھا۔ اس زاویے پر مزید تفتیش جاری ہے۔ یہ آپریشن منشیات کے منظم گروہوں کو ختم کرنے اور منشیات کے ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے والے عادی مجرموں کو نشانہ بنانے میں این سی بی کی مسلسل کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ بیورو صحت عامہ کی حفاظت اور 2047 تک “نشا مکت بھارت” کے وژن کو برقرار رکھنے کے اپنے مشن میں ثابت قدم ہے۔ شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ منشیات سے متعلق کسی بھی معلومات کی اطلاع مانس نیشنل نارکوٹکس ہیلپ لائن (ٹول فری نمبر: 1933) کے ذریعے دے کر اپنا کردار ادا کریں۔ اطلاع دینے والوں کی شناخت کو سختی سے صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان