Connect with us
Sunday,02-August-2026

سیاست

حکومت آئندہ ہونے والے اسمبلی اجلاس میں مسلم ریزرویشن بل پیش کرے : حسین دلوائی

Published

on

مہاراشٹرا اسمبلی کے 14 اور15 دسمبر2020 کو ممبئی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں مسلم ریزرویشن بل ( تحفظات بل براۓ مسلم) پیش کرکے مسلمانوں کو ریزرویشن دیا جائے، تاکہ مسلمانوں کی موجودہ اقتصادی، تعلیمی اور دیگر مختلف شعبہ ہاۓ زندگی میں پسماندگی اور پچھڑے پن کو دور کیا جا سکے۔اس طرح کا مطالبہ سینئر کانگریسی قائد اور سابق ریاستی وزیر و سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی نےکیا۔
سچرکمیٹی، محمودالرحمٰن کمیتی اور رنگناتھ مشرا کمیٹی کے پیش کردہ اعداد وشمار، تجزیوں اور سفارشات کا حوالہ دے کر حسین دلوائی نے ایک بیان میں کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی اور پچھڑے پن کے وضاحت کی اب مزید کوئی گنجائیش اور ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے، حتکہ مسلمانوں کے ریزرویشن کے تعلق سے ہائی کورٹ بھی یہ مشاہدہ کرچکا ہے کہ مختلف میدانوں میں مسلمانوں کی پسماندگی ایک حقیقت ہے، اور عدالت نے کہا ہے کہ، اگر حکومت چاہے تو مسلمانوں کو ریزرویشن دے سکتی ہے۔ اس لیے مہاراشٹرا کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو اس سلسلے میں سنجیدگی اور مثبت انداز فکر اپنا کر مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کے لیےٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔
مہاراشٹرا میں ریزرویشن سے متعلق موجودہ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے حسین دلوائی نے کہا کہ آج مہاراشٹرا میں صرف مراٹھا ریزرویشن کی بات کی جا رہی ہے، اور ہر جگہ صرف اور صرف مراٹھا ریزریوشن کا ذکر ہو رہا ہے، اور اس مسلماںوں کو ریزرویشن دیئے جانے کے مطالبے کو یکسر نظرانداز کر کے اسے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ مراٹھا ریزرویشن کے خلاف نہیں ہیں، لیکن مسلمانوں کے ریزرویشن کے مسئلہ کو پس پشت ڈال دینے کے موجودہ حکومت کے طرز عمل سے متفکر و تشویش میں مبتلا ہیں۔
مہا وکاس اگھاڑی حکومت کی حلیف جماعتیں راشڑوادی کانگریس اور کانگریس پارٹی کی جانب سے انکے انتخابی منشوروں میں مسلمانوں کو ریزرویشن دیۓ جانےسے متعلق راۓدہندگان سے کیےگئے وعدوں کو یاد دلاتے ہوئے حسین دلوائی نے کہا کہ اب یہ جماعتیں ایوان اقتدار میں بیٹھی ہیں۔ اور اب انکا یہ اخلاقی فرض ہے کہ وہ اپنے وعدوں کا پاس و لحاظ کرے اور سیاسی بصیرت سے کام لیکر مسلمانوں کو زیرزویشن دیئے جانے کے لیے، مضبوط اور مستحکم بنیادوں پرکوئی لائحہ عمل تیار کریں اور اس پر عمل کرکے اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسلمانوں کو انکا حق مل جائے۔
مسلم نوجوانوں کی قابلیت اور صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے اپنے بیان میں یہ بھی وضاحت کی کہ، مسلم نوجوان آج مختلف مسابقتی امتحانات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، آج جو نتائیج سامنے آ رہے ہیں وہ گزشتہ کے مقابلے میں کافی بہتر ہیں۔ اگر ان مسلم نوجوانوں کو زیزرویشن کا فائدہ ملے تو وہ اور بھی بہتر طور پر ملک و ملت کی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ میں زیرِالتواء ایک مقدمہ کا حوالہ دیتے ہوئے حسین دلوائی نے کہا کہ ، سپریم کورٹ میں ریزرویشن سے متعلق اس مقدمہ کے فیصل ہونے تک، حکومت مسلمانوں کے تعلیمی ریزرویشن کے لیے قدم آگے بڑھاۓ اور آئیندہ ہونے والے اسمبلی اجلاس میں مسلمانوں کے ریزرویشن کا بل پیش کرکے اسے منظور کرے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی وزیر خارجہ نے برطانیہ کو خبردار کیا : ‘امریکہ کو فوجی امداد فراہم نہ کریں’

Published

on

Iranian-Foreign-Minister

تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تعاون کے خلاف ہے۔ ہفتہ کو ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، عراقچی نے یہ بات برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دفاعی معاہدوں کے تحت تعاون سمیت “جارح ممالک” کے ساتھ کوئی بھی تعاون “ناقابل قبول” ہوگا۔

عراقچی نے برطانوی حکومت کی ایران کے بارے میں “غیر منصفانہ اور غلط” پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لندن کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر لیبل لگانے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف پیدا ہونے والے دو تنازعات میں اس کی “ملوثیت” کا حوالہ دیا۔ انہوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف کے کنونشن کے تحت، کسی ملک کی سرزمین اور سہولیات کو دوسرے ملک کے خلاف غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا جارحیت ہے اور حملہ آور ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ ارغچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل شروع کیا اور جون میں واشنگٹن کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا تھا، لیکن واشنگٹن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک آپریشنل میکانزم قائم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ تیسرے فریق کی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ دریں اثنا، ملی بینڈ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔

گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے پیشرو کی جانب سے قائم کردہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران سے متعلق کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ 28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور دیگر ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے کیے، جس میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور عام شہری مارے گئے۔ ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کے ساتھ جواب دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان