Connect with us
Tuesday,04-August-2026

سیاست

لو جہاد کے نام پر ایک بار پھر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش!

Published

on

yogi

خیال اثر
اتر پردیش کی یوگی حکومت نے لو جہاد کو سنگین. مسئلہ قرار دے کر اس پر قدغن لگانے کے لئے ایک قانونی مسودے کو عدلیہ کے حکم کے خلاف ورزی کرتے ہوئے یوگی سرکار نے اپنی من مانی مبینہ ثبوت دے کر پورے ہندوستان فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دی ہے. الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ ملک کے آئین کے مطابق کسی بھی شخص کو اپنی پسند کی شادی کرنے اور مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی شخص شادی کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے تو اسے یہ حق قانونی طور سے حاصل ہے،سلامت انصاری نے 19؍ اگست 2019 کو پرینکا کھروار نام کی لڑکی سے اسلامی روایت کے مطابق شادی کی تھی۔ شادی کے بعد پرینکا نے اپنا نام عالیہ رکھ لیا تھا۔اس شادی کے خلاف پرینکا کے والد نے سلامت انصاری کے خلاف اغوا اور پاکسو ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ سلامت انصاری نے اس ایف آئی آر کو الہ آباد میں چیلنج کیا تھا.
آخر یہ لو جہاد ہے کیا چیز یا یہ کس بلا کا نام ہے. عام ہندوستانی اس سے ذرا بھی واقفیت نہیں رکھتا اور نہ ہی اس جنجال میں پڑنا چاہتا ہے. آج اقتدار کے زعم میں ہندو توا کے علمبرداران یکے بعد دیگرے ہندوستانی آئین میں تبدیلیاں کرتے ہوئے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے ذریعے ترتیب دئیے گئے اس آئین کو مذاق کا موضوع بنا دیا ہے جس میں ہر مذہب ہر فرقے اور ہر نسل کے افراد کو مناسب نمائندگی دیتے ہوئے ان کے اپنے وضع کردہ قوانین میں دخل اندازی سے گریز کیا گیا تھا. ایک طویل عرصہ تک ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے ذریعے ترتیب دیئے گئے آئین میں کسی بھی طرح کا کوئی رد و بدل نہیں کیا گیا تھا. تاریخ گواہ ہے کہ امبیڈکر کے ذریعے وضع کردہ قوانین ہر مذہب اور ہر فرقے کے لئے مناسب اور متوازن تھے لیکن ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد اقتدار پر قابض بھگوائی پرچم تھامے ہوئے تمام قوانین کو بھگوا رنگ دینے میں اپنی ساری طاقت صرف کررہے ہیں. اس کے پس پردہ کون سے عوامل سرگرداں ہیں اگر بغور اس کا معائنہ کیا جائے تو نظر آئے گا کہ اس کے پس پردہ ساورکر اور گوڈسے جیسے عوامل اور جن سنگھ اور آر ایس ایس سے جڑے ہوئے تھنک ٹینک میں شامل افراد ہیں اور ان تمام لوگوں کا ایک ہی مقصد ہے وہ یہ کہ ہندوستان کی روا داری اور گنگا جمنی تہذیب کو دھیرے دھیرے ختم کرکے ہندوستان کو “ہندو راشٹر “بنا دیا جائے جس میں صرف اور صرف برہمنی سماج اپنے پیر پھیلا کر حکومت کر سکے. ایسا کوئی بھی قانون ہندوستانی تہذیب و تمدن کے منافی ہے. ہندوستان پر مسلمان مغل بادشاہوں نے تقریباً آٹھ سو سال تک حکومت کی ہے لیکن انھوں نے کبھی بھی ایسے کسی کالے قانون کو وضع کرنے اور نفاذ کی کوشش نہیں کی. ہندوستان کی ریاستوں میں یکے بعد دیگرے بھگوائی پرچم لہرانے کے بعد گوڈسے اور ساورکر کے پروردہ افراد کی ہمت بڑھتی جارہی ہے. ان کے سارے ارمان کسی الہڑ دوشیزہ کی توبہ شکن انگڑایوں کی طرح بیدار ہوتے جارہے ہیں. اس طوفان بلا خیز کی بپھری ہوئی موجوں کی رفتار کا اندازہ ان بھاجپائی لیڈران کو شاید نہیں ہے. آج نہیں تو کل ایسے کسی بھی کالے قانون کا نفاذ ایسے تمام افراد کو خش و خاشاک کی طرح اپنے ساتھ بہا لے جائے گا اور یہ ہوگا کہ دنیا ایسے تمام فرقہ پرستوں اور ہندو توا وادیوں کو ڈھونڈتی رہ جائے گی لیکن کہیں بھی ان کا وجود اور نام و نشان نظر نہیں آئے گا اس لئے سیکولرازم پر ایمان و عقیدہ رکھنے والے حساس افراد کو چاہیے کہ ایسے سیاہ قوانین کو وضع کرنے اور رو بہ عمل لانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف میدان عمل ڈٹ جائیں.
ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے صفحات پر آب زر سے رقم ہے کہ ہندوستانی راجاؤں اور مہاراجاؤں نے خود اور اپنے حکومتوں کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنی جواں سال بٹیوں کو مغل بادشاہ اور نوابین کے عقد میں بخوشی دے دیا تھا یہی وجہ تھی کہ اکبر اعظم کے عقد میں آ کر جودھا بائی نامی برہمن خاتون مہارانی جودھا بائی بن کر ہندوستان پر حکومت میں معاون و مدگار رہیں. ایسی مثالیں ہندوستان کے چپے چپے پر بکھری ہوئی ملیں گی. کہیں پر کسی مجبوری کے تحت یا کہیں راضی بہ رضا ہوتے بغیر کسی مجبوری کے غیر مسلم خواتین نے عام و خاص افراد کو اپنا جیون ساتھی منتخب کیا ہے. ایسے بھی بے شمار واقعات منظر عام پر آئے ہیں کہ مختلف النوع شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے مسلم افراد کے پچھے سازش رچتے ہوئے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کو لگایا گیا اور ان غیر مسلم خواتین نے ان مسلم افراد کا سارا مستقبل ملیا میٹ کرکے رکھ دیا. آج لوجہاد کا ہنگامہ برپا کرنے والے افراد کے لئے چند مثالیں دیتے ہوئے انھیں درس عبرت دینے کی کوشش کررہے ہیں. یاد کیجئے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی “سلیم درانی اور نواب پٹوڈی “کی خانگی زندگی کے پوشیدہ گوشے. کہ سلیم درانی کے پچھے بولڈ اداکارہ پروین بابی کو لگایا گیا تو نواب پٹوڈی کو ٹیگور خاندان کی شرمیلا ٹیگور نے اپنے بنگالی حسن کاا سیر بنا لیا تھا. نامور بیڈ منٹن کھلاڑی سید مودی کے تعاقب میں امیتا نامی غیر مسلم خاتون کو لگاکر اس کے کیرئر کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی کا بھی چراغ گل کروا دیا. تازہ ترین مثال ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے نامور کپتان اظہرالدین کی ہے جنھیں سنگیتا بجلانی نامی اداکارہ نے تباہی کے دہانوں تک پہنچا دیا تھا. بیشتر مثالیں ایسی بھی ہیں کہ کئی غیر مسلم خواتین نے مسلمان شوہروں کا انتخاب کرتے ہوئے ان کی آغوش میں جائے پناہ دھونڈ لی. بالی ووڈ کنگ خان شاہ رخ کے دامن سے لپٹ کر گوری نامی غیر مسلم خاتون گوری خان کہلائی. کرن راؤ نامی ہندو خاتون نے عامر خان کے دامن میں خود کو محفوظ و مامون سمجھا. سیف علی خان کے دامن سے لپٹ کر راج کپور خانوادے کی کرینہ کپور نے کرینہ خان کہلانے میں فخر محسوس کیا. یہ ساری مثالیں تو فلم اسٹاروں کی ہیں جن کا کوئی مذہب اور مسلک نہیں ہوتا. اس کے برعکس سیاسی لیڈران کی مثالیں دیں تو سید شاہنواز حیسن اور مختار عباس نقوی کے نام سرخیوں میں آتے ہیں جن کی بیویاں ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہیں. اسی طرح مہاراشٹر کے مرد آہن بالا صاحب ٹھاکرے کی بھانجی نے بھی مسلم لڑکے سے پیار و محبت کرتے ہوئے اپنے خاندان کے بر خلاف شادی کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی مسلم لڑکے کے ساتھ ٹھاکرے پریوار نے بحالت مجبوری اپنی لڑکی کا عقد کردیا. ایسی ہی مثالیں اگر ہم دینے بیٹھے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو جائے گی.ہم نے جو حقیقی مثالیں دیتے ہوئے ہندوستان کے قانون ساز اداروں اور صاحبان اقتدار کو متوجہ کیا ہے وہ مسلم افراد سے شادیاں کرکے ان کے گھروں میں پناہ لینے والی ہندو خواتین کی گھر واپسی کا پروگرام ترتیب دیں. ہمیں یقین ہے کہ ہنسی خوشی مسلم افراد کے ساتھ شادی شدہ زندگی گزارنے والی کوئی بھی ہندو خاتون گھر واپسی کے لئے آسانی سے تیار نہیں ہوگی اور اگر جن سنگھ کے پروردہ افراد نے ایسی کوئی کوشش کی تو انھیں ناکامی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا. اس لئے لو جہاد کی آڑ میں کالے قوانین وضع کرنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ دبی ہوئی راکھ کو نہ کریدیں ورنہ اس میں پنہاں چنگاریاں خود ان کا دامن راکھ کردیں گی.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : رات میں ایم ٹی این ایل کیبل چوری کرنے والا گینگ بے نقاب، دو ایف آئی آر درج، ۷ ملزمین گرفتار اور مفرور ملزمین کی تلاش جاری

Published

on

arrested-

ممبئی : ممبئی ۲ اگست کو خفیہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے، پولیس کی ایک ٹیم نے برکلے پیلس ریلوے کالونی کے سامنے فٹ پاتھ پر دو افراد کو پکیکس اور بیلچے سے زمین کھودتے ہوئے پایا۔ حراست میں لینے کے بعد ان کے دو ساتھی ٹیمپو میں فرار ہو گئے۔ حراست میں لیے گئے دونوں افراد سے گہری پوچھ گچھ میں انکشاف ہوا کہ وہ اور ان کے ساتھی زیر زمین ایم ٹی این ایل کاپر کیبلز چوری کر رہے تھے۔ حکومت کی جانب سے باقاعدہ شکایت درج کرائی گئی، مقدمہ درج کیا گیا، اور ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ٹیم فی الحال فرار ساتھیوں اور ٹیمپو میں لے گئے کیبل کی تلاش کر رہی ہے۔ اس معاملے میں اب تک تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، اور جرم میں استعمال ہونے والے اوزار ضبط کر لیے گئے ہیں۔

۴ اگست کو صبح 04:35 اور 04:42 اے ایم کے درمیان اطلاع ملی کہ لوگ سر جے جے پر برکلے پیلس کی دیوار سے متصل فٹ پاتھ پر جے سی بی اور ایک ٹیمپو کی مدد سے زمین کی کھدائی کر کے ایم ٹی این ایل کیبلز چوری کر رہے ہیں۔ سڑک (جنوب کی طرف جانے والی لین)۔ پولیس کی ایک ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی، اور چار افراد کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔ یہ چار افراد جے سی بی کے ذریعے زمین کی کھدائی کر رہے تھے، تانبے کی تاریں نکال رہے تھے اور انہیں ایک ٹیمپو میں لوڈ کر رہے تھے۔ مجموعی طور پر 55 لاکھ روپے مالیت کی جائیداد جس میں ایک جے سی بی، ایک آئشر ٹیمپو، ایک کار، چوری شدہ 70 میٹر کیبل، اور کیبل کاٹنے کے لیے استعمال ہونے والے اوزار شامل ہیںضبط کر لیے گئے ہیں۔ چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سر جے جے مارگ پولس اسٹیشن نے ایم ٹی این ایل کیبل چوری کے دو معاملات حل کیے ہیں۔ ان مقدمات میں کل سات ملزمان کو گرفتار کر کے اور چوری شدہ املاک کے ساتھ جرم میں استعمال ہونے والے آلات اور گاڑیاں بھی ضبط کر کے، انہوں نے ایک بین ریاستی کیبل چوری سنڈیکیٹ کو ختم کر دیا ہے۔ جرائم کی مکمل تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

روسی ڈرون نے یوکرین میں سبزی فروش کو نشانہ بنایا، زیلنسکی نے الزام لگایا کہ ایسی کارروائیاں روزانہ جاری رہتی ہیں۔

Published

on

Ukrain

نئی دہلی : روسی ڈرون نے منگل کو یوکرین کے شہر کھیرسن میں سبزی فروش پر حملہ کیا۔ یوکرائنی وزارت خارجہ اور صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے جارحانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ روس جنگی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ صدر زیلنسکی اور یوکرین کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔ ویڈیو میں ایک سبزی فروش اپنی گاڑی کے قریب کھڑا ہے جب ایک ڈرون نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ ویڈیو میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ سبزی فروش اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں گاڑی کے ارد گرد بھاگ رہا ہے، ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے، لیکن ڈرون اس پر طاقتور حملہ کرتا ہے۔

یوکرین کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ای ایکس’ پر پوسٹ کیا کہ “روس کس کو نشانہ بنا رہا ہے؟” فوجی اڈہ نہیں بلکہ سویلین کام کر رہے ہیں۔ ایک روسی ڈرون نے یوکرین کے شہر کھیرسن میں جان بوجھ کر ایک عام دکاندار کو نشانہ بنایا۔ حملے میں 52 سالہ شخص زخمی ہوا اور اس کے سر پر چوٹ آئی۔ وزارت نے پوسٹ میں کہا، “یہ معصوم شہریوں کے خلاف خوف اور دہشت پھیلانے کی ایک جان بوجھ کر مہم ہے۔ دنیا کو اسے معمول کے طور پر قبول نہیں کرنا چاہیے۔ مزید، روس پر مزید مضبوط دباؤ کی ضرورت ہے۔ ان جرائم کا جواب نہیں دیا جانا چاہیے۔”

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا۔ زیلینسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “EX” پر پوسٹ کیا، “ایک اور نام نہاد ‘سفاری’ ویڈیو دیکھ کر بہت سے لوگ چونک گئے، جس میں روسی ڈرون کھیرسن میں لوگوں کا شکار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک روسی ڈرون نے جان بوجھ کر کھیرسن میں سبزی بیچنے والے ایک شخص کا پیچھا کیا اور اس کے قریب دھماکہ کیا۔ روسیوں نے خود اس جرم کا اعتراف کر لیا۔” وہ اپنے اعمال پر کوئی پچھتاوا نہیں دکھاتے، بلکہ اس کے بجائے اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کو کس طرح ہراساں اور خوفزدہ کرتے ہیں۔ دھماکے میں وہ شخص زخمی ہوگیا۔ “خیرسن میں شہریوں کے خلاف روسیوں کی طرف سے اس قسم کی ‘سفاری’ تقریباً روزانہ کی جاتی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ دیکھنا چاہیے۔ اسے ہر وہ شواہد دیکھنا چاہیے جس سے ظاہر ہو کہ روس کس حد تک تشدد اور جارحیت میں اترا ہے اور یہ کہ روسی فوجی لوگوں کو مارنے اور ہراساں کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ روس پر دباؤ ڈالے بغیر، اس کی جارحانہ صلاحیتوں کو کمزور کیے بغیر، اور روس کے خلاف ٹھوس حفاظتی ضمانتوں کے بغیر، یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ دنیا اس برائی کے ساتھ امن سے رہ سکتی ہے۔ ہمیں جان بچانے کے لیے پرعزم رہنا چاہیے۔ ہمیں ایسے قدم اٹھانے چاہئیں اور زندگی کی حمایت کرنی چاہیے کہ روس کو حقیقی معنوں میں امن کے بارے میں سوچنا چاہیے، نہ کہ اپنے ڈرون کی ہلاکت خیزی کو بڑھانے کے بارے میں۔

زیلنسکی نے کہا کہ یہ صرف یوکرائن کا مسئلہ نہیں ہے۔ روس کی طرف سے شہریوں کے خلاف یہ ‘سفاری’ یوکرین میں بند ہونی چاہیے اور دوسرے ممالک میں نہیں پھیلنی چاہیے۔ فن لینڈ اور قازقستان، بالٹک ممالک اور پولینڈ، جنوبی قفقاز کا علاقہ، اور جنوبی قفقاز کا علاقہ۔ ملک کے ساتھ ساتھ رومانیہ اور مالڈووا کو حقیقی سلامتی کی ضمانتوں کو یقینی بنانے اور روس کی طرف سے شروع کی گئی جنگ کو ختم کرنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ امن کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے دنیا بھر کے ان تمام لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے جو حقیقی معنوں میں امن کی قدر کرتے ہیں۔ یوکرین کی مدد کرنے والے ہر ایک کا شکریہ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

سماج وادی پارٹی کے رہنما ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر میں ووٹروں کی تصدیق کی آخری تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کیا۔

Published

on

abu-asim

ممبئی : سماج وادی پارٹی کے رہنما اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم سے ملاقات کی اور ایک رسمی میمورنڈم پیش کیا۔ اس میں، انہوں نے انتخابی فہرست کے خصوصی سمری ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کی آخری تاریخ 31 اگست 2026 تک بڑھانے پر زور دیا۔ اپنے میمورنڈم میں اعظمی نے مختلف انتخابی حلقوں میں ووٹر کی تصدیق کے عمل کے دوران پیش آنے والی مختلف عملی اور تکنیکی دشواریوں پر روشنی ڈالی۔ اٹھائے گئے اہم مسائل میں شدید بارش کی وجہ سے شہریوں کو ہونے والی تکلیف اور انتخابی ڈیوٹی پر مامور عملے پر اضافی دباؤ شامل ہے۔ بہت سے بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل اوز) جن میں سے ایک بڑی تعداد اساتذہ کی ہے اپنی باقاعدہ اسکول کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اس دوہری ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں، جس کی وجہ سے شدید تھکن ہے۔ مزید برآں، اعظمی نے لاجسٹک چیلنجز کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بہت سے بی ایل او دور دراز کے علاقوں جیسے کہ رائے گڑھ، تھانے اور بوریولی میں رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے اپنے مقرر کردہ علاقوں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان خطوں میں تارکین وطن اور دوسری ریاستوں کے لوگوں کی زیادہ تعداد کو دیکھتے ہوئے، دستاویزات اور آن لائن تصدیق کے عمل میں وقت درکار ہے، جس کی وجہ سے بی ایل اوز کے لیے مقررہ وقت کے اندر کام مکمل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اعظمی نے خدشہ ظاہر کیا کہ انتظامی اور تکنیکی تاخیر کے نتیجے میں ہزاروں اہل رائے دہندگان ووٹر لسٹ سے باہر رہ سکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے الیکشن کمیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور آخری تاریخ میں توسیع کرے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام اہل شہریوں کا ووٹر لسٹ میں اندراج کیا جا سکے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان