Connect with us
Thursday,04-June-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مالیگاؤں صنعت پارچہ بافی پر مندی کے مہیب سائے دراز، 7 روزہ پاور لوم بند کا پہلا دن کامیاب,پر شور دھڑکنیں تھم گئیں

Published

on

(خیال اثر)
مالیگاؤں کی صنعت پارچہ بافی پاور لوم پر شور آوازوں سے متحرک اور رواں دواں رہتی ہے. جس دن یہ پر شور آوازیں تھم جاتی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ زندگی بھی تھم کر رہ گئی ہے شہر کے بیشتر بنکروں نے از خود اپنے کارخانوں پر تالا لگاتے ہوئے بند کا حصہ بن کر خود کو محفوظ و مامون رکھنے کی کوشش کی لیکن ایسے بھی چند بنکر بند کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی تو ان کے پاور لوم کارخانوں کو بند کرنے کے لئے چند شر پسند عناصر نے زبردستی کرتے ہوئے ساز و سامان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی. ایسی اطلاع شہر میں عام ہوتے ہی پاور لوم تنظیموں کے ذمہ داران نے ایسے کسی بھی فعل کی مذمت کرتے ہوئے صبر و تحمل سے بند کو کامیاب کرنے کی اپیل ظاہر کی.
مالیگاؤں کی صنعت پارچہ بافی کے حالات ہمیشہ ہی دگر گوں رہتے ہیں. سوتی دھاگوں اور تیار کپڑوں کی خریدی کرنے والے تاجیران ہمیشہ سے ہی بنکروں کا استحصال کرتے آئے ہیں. کبھی سوتی دھاگے بنکروں کی قوت خرید سے باہر چلے جاتے ہیں تو کبھی تیار کپڑوں فروختگی انھیں خسارے سے دوچار کئے رہتی ہے. بیرون ریاست کے کپڑا بیوپاری کروڑوں روپیے کے تیار کپڑے خرید کر راہ فرار اختیار کر لیتے ہیں. ایسا ہونے پر دھوکہ دہی کے شکار بنکر اپنا دل مسوس کر اپنی زمین جائداد فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. بہت سے واقعات ایسے بھی رونما ہوئے ہیں کہ جن پاور لوم کارخانوں کو بنکر رات دن اپنا لہو پلا کر جاری و ساری رکھا کرتے تھے ان کارخانون کی فروختگی کے بعد ان ہی پاور لوم کارخانوں میں انھیں مزدور کی حیثیت سے اپنی اور اہل خانہ کی کفالت پر مجبور ہونا پڑا ہے. حالیہ وقت میں پاور لوم صنعت پر زبردستی لادی گئی مندی کے مہیب سائے اپنا گھیرا تنگ کرتے نظر آ رہے ہیں. اسے محسوس کرتے ہوئے مالیگاؤں شہر کی مختلف پاور لوم تنظیموں نے باہم مشوروں سے 7دنوں کے لئے پاور لوم کارخانوں کو مکمل طریقے سے بند رکھنے کا لائحہ عمل ترتیب دیا ہے جس پر عمل آوری کرتے ہوئے آج بروز منگل صبح 8 بجے سے شہر کے بیشتر بنکروں نے اپنے پاور لوم کارخانوں کو مکمل طور پر بند رکھتے ہوئے پاور لوم بنکر تنظیموں کے بند کو تقویت پہنچائی ہے.
ماضی میں بھی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں. ہر بار اس سنگین مسئلے کا حل پاور لوم کارخانوں کو بند رکھتے ہوئے نکالا گیا ہے. اس کے بر عکس دیکھا جائے تو ماضی کی بہ نسبت آج کی صورتحال انتہائی سنگین صورت کی حامل ہے کیونکہ کورونا جیسی وبائی بیماری اور زبردستی نافذ شدہ لاک ڈاؤن نے تمام ہی شعبہ حیات کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے. ایسے حالات میں مذکورہ 7 دنوں کا بند پاور لوم مزدوری سے منسلک افراد پر بھکمری کے سائے اپنا ڈیرہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں. پاور لوم بنکر تنظیموں کو شہری لیڈران اور حکومت کے ذمہ داران سے ملتے ہوئے اس سنگین مسئلے کا دیر پا اور ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینے کی کوشش کرنا چاہیے. ان نامسائد حالات میں مندی اور بند کے مہیب سائے اگر طویل ہوتے ہیں تو مالیگاؤں کی پاور لوم صنعت کی پر شور دھڑکنیں منجمد ہو کر شہر کی پارچہ بافی صنعت کو اسی طرح گور غریباں کے حوالے کردیں گی جس طرح بنارس شہر کی مشہور عالم بنارسی ساڑیوں کی صنعت کو زندہ در گور کردیا گیا ہے. آج مالیگاؤں کی پاور لوم صنعت اپنے اس 7روزہ بند کے ذریعے شہری لیڈران اور ارباب حکومت کی جانب ان کی توجہ کے طلبگار ہیں .اب دیکھنا یہ ہے کہ صنعت پارچہ بافی کو زندہ رکھنے کے لئے میدان عمل میں آ کر کون کردار کا غازی بنتا ہے یا پھر سبھی بلند بانگ دعوے کرنے والے غازئ گفتار بن کر خوشنما اور تسلی آمیز بیانات تک محدود رہیں گے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ہوائی اڈہ پر حجاج کرام کا سامان نہ ملنے سے افراتفری، حج کمیٹی کی لاپروائی کا نتیجہ، ائیرپورٹ پر حجاج کرام کو سامان بھیجنے کی یقین دہانی

Published

on

Air-Port

ممبئی : ممبئی حج کمیٹی آف انڈیا کی لاپروائی کے سبب ممبئی ہوائی اڈہ پر حجاج کرام کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مکہ معظمہ جدہ میں حجاج کرام کا سامان بیگیج کو جمع کرنے کے بعد ان کا سامان اب غائب ہے جس کے سبب ممبئی ہوائی اڈہ پر حجاج کرام نے حج کمیٹی کے انتظامات پر سوال اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ یکم مئی کو حج کمیٹی نے سامان جمع کیا تھا لیکن اب تک ممبئی سامان نہیں پہنچا ہے۔ حج کمیٹی کی بدنظمی کے سبب مہاراشٹر اور ملک کے حجاج کرام کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ بھوپال، بھساول، اورنگ آباد، مالیگاؤں سمیت ممبئی کے حجاج کرام کو سامان میسر نہ ہونے کے سبب ائیر پورٹ پر افراتفری کے ساتھ حاجیوں میں اضطراب پایا جا رہا ہے, جبکہ حجاج کرام نے حج کمیٹی پر بدنظمی کا الزام عائد کیا۔

حاجی نذر عا لم نے کہا کہ یکم مئی کو ہی حجاج کا سامان جمع کر لیا گیا تھا لیکن جب ہم ائیر پورٹ پہنچے کو سامان نہیں پہنچا ہمیں یہ یقین دلایا گیا تھا کہ سامان ائیر پورٹ پہنچ جائے گا, لیکن اب تک سامان کا کوئی پتہ ٹھکانہ نہیں ہے۔ سامان نہ ملنے کی وجہ سے حجاج کرام افراتفری کا شکار ہو گئے اور ممبئی ایئرپورٹ پر ہنگامہ بپا ہو گیا۔ اللہ کی مہمانوں کا سامان نہ ملنے سے ممبئی میں اضطراب پایا جارہا ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا نے یکم مئی کو ان کا سامان جمع کیا تھا اور انہیں بتایا تھا کہ ان کا سامان انہیں ممبئی ایئرپورٹ پر پہنچا دیا جائے گا۔ جب حجاج کرام ممبئی ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا سامان ابھی نہیں پہنچا اور ان کا سامان ان کے گھروں تک پہنچا دیا جائے گا۔ مہاراشٹر کے مختلف حصوں مثلاً مالیگاؤں، اورنگ آباد، دھولیہ، جالنا، امراوتی، ناگپور سے حجاج کرام ممبئی کے ہوائی اڈے پر پہنچے تھے اور انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کا سامان محفوظ ہے اور انہیں کب ملے گا؟ ممبئی ایئرپورٹ پر حاجیوں کا ہنگامہ بدستور جاری ہے۔ حج کمیٹی انتظامیہ نے ائیر پورٹ پر حجاج کرام کو بتایا ہے کہ ان کا بیگیج محفوظ ہے اور جلد ہی سامان انہیں موصول ہوگا ممبئی میں حجاج کرام کاُ سامان نہ ملنے پر حجاج کرام میں ناراضگی ہے جبکہ حج کمیٹی کی بدنظمی کے سبب ہزاروں حجاج کرام پریشان ہے۔

Continue Reading

(Monsoon) مانسون

اس مانسون کے دوران سمندر میں 24 اونچی لہریں اٹھیں گی، ہائی ٹائیڈز کے حوالے سے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل

Published

on

hightide

ممبئی : اس مانسون کے دوران یعنی جون سے ستمبر تک 4 ماہ کے دوران سمندر میں 24 اونچی لہریں اٹھیں گی۔ اونچی لہر کا مطلب ہے کہ اس جوار کے دوران سمندر میں ساڑھے چار میٹر سے زیادہ اونچی لہریں اٹھیں گی۔ اس میں جوار کی تاریخ اور وقت کے ساتھ ساتھ سمندر میں اٹھنے والی لہروں کی اونچائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، اس مانسون میں سب سے زیادہ لہریں 16 جولائی 2026 کو اٹھیں گی۔ میونسپل انتظامیہ نے ایک بار پھر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام دنوں میں تیز لہر کے دوران ساحلوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور اس سلسلے میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

جون 2026

  1. اتوار، 14.06.2026 اے ایم – 11.24 AM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.65
  2. پیر، 15.06.2026 پی ایم – 12.14 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.80
  3. منگل، 16.06.2026 پی ایم – 01.05 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.87
  4. بدھ، 17.06.2026 پی ایم – 01.55 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.86
  5. جمعرات، 16.06.2026 پی ایم – 01.55 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.86 18.06.2026 پی ایم – 02.44 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.79
  6. جمعہ، 19.06.2026 پی ایم – 03.32 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.64

جولائی 2026

  1. پیر، 13.07.2026 اے ایم – 11.14 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.53
  2. منگل، 14.07.2026 پی ایم – 12.04 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.73
  3. بدھ، 15.07.2026 پی ایم – 12.51 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.85
  4. جمعرات، 16.07.2026 پی ایم – 01.36 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.89
  5. جمعہ، 17.07.2026 پی ایم – 02.19 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.83
  6. ہفتہ، 18.07.2026 پی ایم – 03.00 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.66

اگست 2026

  1. بدھ، 12.08.2026 اے ایم – 11.48 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.68
  2. جمعرات، 13.08.2026 پی ایم – 12.28 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.81
  3. جمعہ، 14.08.2026 پی ایم – 01.07 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.83
  4. ہفتہ، 15.08.2026 پی ایم – 01.44 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.73
  5. اتوار، 16.08.2026 پی ایم – 02.19 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.50

ستمبر 2026

  1. جمعرات، 10.09.2026 اے ایم – 11.26 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.57
  2. جمعہ، 11.09.2026 پی ایم – 12.00 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.65
  3. ہفتہ، 12.09.2026 پی ایم – 12.34 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.61
  4. اتوار، 13.09.2026 آدھی رات – 01.02 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.51
  5. پیر، 28.09.2026 آدھی رات – 00.38 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.51
  6. منگل، 29.09.2026 آدھی رات – 01.14 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.59
  7. بدھ، 30.09.2026 آدھی رات – 01.53 بجے۔ لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.56
Continue Reading

(Tech) ٹیک

گوریگاؤں-ملنڈ لنک روڈ پروجیکٹ : فیز 3-بی کے تحت جڑواں سرنگوں کی تعمیر کے لیے ٹنل بورنگ مشین کے اسپیئر پارٹس کو شافٹ سے جوڑنے کا کام زوروں پر۔

Published

on

tunnel boring machine

ممبئی : پہلی ٹنل بورنگ مشین کو جوڑنے کا کام جون کے دوسرے ہفتے تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ اس دوران دوسری ٹنل بورنگ مشین کو جوڑنے کا کام متوازی طور پر زوروں پر ہے۔ پروجیکٹ کی جگہ پر پہلی ٹنل بورنگ مشین کے پورے سسٹم کو انسٹال کرنے کے بعد، اس کی کارکردگی، حفاظت اور تمام سسٹمز کے مناسب کام کو جانچنے کے لیے ایک سائٹ ایکسیپٹنس ٹیسٹ (ایس اے ٹی) کرایا جائے گا۔ اس میں بنیادی طور پر مکینیکل، الیکٹریکل، ہائیڈرولک، کنٹرول اور حفاظتی نظام کی جانچ شامل ہوگی۔ مقررہ معیار کے مطابق تمام ٹیسٹ تسلی بخش پائے جانے کے بعد اصل سرنگ کی کھدائی شروع کر دی جائے گی۔

گوریگاؤں میں دادا صاحب پھالکے چتر نگری سے ملنڈ کے کھنڈی پاڑا تک جڑواں اور زیر زمین سرنگیں تعمیر کی جائیں گی۔ یہ جڑواں سرنگیں، جو ایک دوسرے کے متوازی ہیں، ہر ایک کی لمبائی 4.70 کلومیٹر ہے۔ سنجے گاندھی قومی پناہ گاہ کے علاقے میں ان متوازی سرنگوں کا قطر 14.20 میٹر اور 13 میٹر ہے۔

دونوں سرنگوں کی کھدائی طے شدہ شیڈول کے مطابق شروع کر دی گئی ہے اور اکتوبر 2028 سے پہلے سرنگوں کی کھدائی کو مکمل کرنے کا مقصد مقرر کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر، میونسپل کارپوریشن اس منصوبے کو دسمبر 2028 تک مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان