سیاست
ہندوستان میں آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی جیسے معیاری تعلیمی ادارے کی سخت ضرورت۔ منیش سسودیا
سرسیدکی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا ہے کہ ہندوستان میں آکسفورڈ اور کیمیبرج یونیورسٹی جیسے معیاری تعلیمیکے قیام کی سخت ضرورت ہے۔یہ بات انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی الومنی ایسوسی ایشن کی طرف سے گزشتہ دنوں قطر کے دوحہ میں منعقدہ سرسید ڈے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے تعلیم کے میدان میں سرسید احمد خاں کے ناقابل فراموش اور عظیم کام کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے تعلیم کے ہمہ جہت پہلو کا احاطہ کرتے ہوئے تعلیم کے کارواں کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے ہندوستان میں کیمبرج اور آکسفورڈ کالج کی طرح معیاری تعلیم گاہوں کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہاکہ یہاں ایسی تعلیمی اداروں اور کالجوں اور یونیورسٹی کی سخت ضرورت ہے تاکہ یہاں بھی معیاری تعلیم سب کے لئے آسانی سے مہیا ہوسکیں۔
مہمان خصوصی مسٹر سسودیا نے اے ایم یو الومنی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ان گروپوں نے یونیورسٹی میں ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں کی دل کھول کر حمایت اور تعاون کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ اے ایم یو کو سابق طلبہ اور ہمدردوں سے جو مدد مل رہی ہے وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ ان کے توقعات سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہاکہ اٹھارویں صدی کے مفکر، فلسفی اور دانشور سرسید احمد خاں کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے الومنائی جس طرح کام کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔
انہوں نے تمام شعبہائے حیات میں صحت مند رو یہ اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ زندگی کے معاملات میں ہر چیز کے ساتھ صحًت مند رویہ ہونا چاہئے اور ہمارے تعلیمی نظام کو سچا ئی پر مبنی اور ایماندارانہ اور تیاری پر مبنی ایک فریم ورک متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی انہوں نے اے ایم یو الومنی قطر کی تعریف کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سرسید ڈے کے موقع پر انہیں اپنے خیالات کے اشتراک کا موقع دیا۔
قطر میں ہندوستان کے سفیر اور مہمان اعزازی ڈاکٹر دیپک متل نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرسید احمد خان دنیا کے سب سے بڑے ماہر تعلیم تھے اور انہیں اس تقریب کا حصہ بننے پر بہت خوشی محسوس ہورہی ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں اے ایم یو الومنی ایسوسی ایشن قطر کی تعلیمی، سماجی خدمت اور کھیلوں میں کامیابیوں کو شمارکراتے ہوئے یونیورسٹی کے 100 سال مکمل ہونے اور سرسید ڈے کے موقع پر سابق طلباء کو مبارکباد پیش کی۔ اسی کے ساتھ سماجی خدمات کے لئے الومنی ایسی ایشن کی حوصلہ افزائی کی۔
اے ایم یو الومنی ایسوسی ایشن قطر کے صدر جاوید احمد نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سرسید احمد خان کو بھارت رتن سے نوازے جانے مطالبہ کیا۔انہوں نے کہاکہ تعلیم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے قوم کی ترقی میں ان کے تعاون اورخدمات کے اعتراف میں انہیں بھارت رتن سے نوازا جائے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سے یہ ہمارا دیرینہ مطالبہ ہے۔ انہوں نے سرسید احمد خاں کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ہندو مسلم اتحاد کی مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ سر سید احمد خاں نے ہندو اور مسلمان خوبصورت دلہن کی دو آنکھیں قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان میں سے کسی کی بھی کمزوری دلہن کا حسن خراب کردے گی۔ سرسید کے افکار اور وژن نے برطانوی حکمرانی کے دوران اور آزادی کے بعد ہندوستانیوں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مسٹر ایم ایس بخاری، سرپرست اے ایم یو الومنی ایسوسی ایشن قطر نے کہا کہ قطر میں رہنے والے تمام الومنی کو ا مشن کی تکمیل کے لئے اکٹھا ہونا چاہئے۔ انہوں نے کمیونٹی خدمات کے سلسلے میں اے ایم یو الومنی قطر کی زبردست کاوشوں کی تعریف کی۔ اے ایم یو الومنی ایسوسی ایشن قطرکے جنرل سکریٹری مسٹر فرمان خان نے الومنی ایسوسی ایشن کی سرگرمیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہاکہ کووڈ کے وبائی دور میں اس نے حتی المقدور تما محاذ پر کام کیا اور پریشان حال لوگوں کے تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کی۔
آئی سی بی ایف کے صدر پی این بابو راجن نے کہا کہ اے ایم یو الومنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنے پروگرام کے ساتھ سفارت خانے کے سب سے بڑے ادارے کے ساتھ بھی وابستہ ہیں۔ کووڈ -19 میں الومنی ایسوسی ایشن نے ہندوستان میں فوڈ کی تقسیم کی مہم شروع کی تھی اور قطر میں بھی آئی سی بی ایف اور ہندوستانی سفارتخانے کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرتے ہوئے وندیے بھارت مشن کے لئے کھانے کی تقسیم، ادویات، میڈیکل کیمپ وغیرہ کے لئے تعاون کیا۔
پروفیسر ایم ایم سفیان بیگ نے سر سید احمد خان کے وژن اور مشن کے بارے میں بات کی۔اس کے علاوہ ایس آر ایچ فاطمی، فرسٹ سکریٹری سفارت خانہ قطر،مسٹر وسیم احمد قاضی، پروفیسر شہپر رسول وائس چیرمین دہلی اردو اکیڈمی، مسٹر وجیہ الدین سینئر ایڈیٹر ٹائمس آف انڈیا، مسٹر شہاب الدین احمد چیرمین بزم صدف انٹرنیشنل اور ڈاکٹر آشنا نصرت جوائنٹ سکریٹری الومنی ایسوسی ایشن نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔
سیاست
ایکناتھ شندے کا دھڑا ہی اصل شیوسینا ہے، یو بی ٹی ممبران پارلیمنٹ کی آمد کا خیرمقدم کرتی ہے: شائنا این سی

ممبئی : شیو سینا کی لیڈر شائنا این سی نے دعویٰ کیا کہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا مسلسل مضبوط ہو رہی ہے، اور حالیہ سیاسی پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ ریاست میں وہی شیوسینا ہی ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے ارکان پارلیمنٹ کے شنڈے دھڑے میں شامل ہونے کی خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے، انہوں نے ادھو ٹھاکرے اور ایم پی سنجے راوت پر بھی سخت حملہ کیا۔
شائنا این سی نے پیر کو آئی اے این ایس کو بتایا کہ مہاراشٹر کی سیاست میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ صرف ایک شیو سینا ہے، اور وہ شیوسینا ہے جس کی قیادت ایکناتھ شندے کر رہے ہیں۔ پارٹی کی طاقت اس وقت ظاہر ہوئی جب 40 ایم ایل اے ایکناتھ شندے کے ساتھ اسمبلی میں شامل ہوئے اور بعد کے انتخابات میں شیوسینا کی شاندار کارکردگی نے ایکناتھ شندے کی قیادت میں اپنی عوامی حمایت کو بھی ثابت کیا۔
ادھو ٹھاکرے کو نشانہ بناتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بتانا چاہئے کہ ہندو ہردئے سمراٹ بالاصاحب ٹھاکرے کا نظریہ کہاں تھا جب انہوں نے 2019 کے اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس اور این سی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی فائدے کے لیے اس وقت ٹھاکرے کے نظریے کو نظر انداز کیا گیا تھا، اور اب نظریہ کی بات کی جا رہی ہے۔
شیو سینا (یو بی ٹی) کے ممبران پارلیمنٹ کے شنڈے دھڑے میں شامل ہونے کے امکان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، شینا این سی نے کہا کہ اگر کسی پارٹی کے دو تہائی ممبران اسمبلی یا ایم ایل ایز دوسرے گروپ میں شامل ہو جاتے ہیں، تو آئین اور انسداد انحراف قانون کے تحت انضمام کا انتظام ہے۔ یو بی ٹی کی قیادت کو خود کا جائزہ لینا چاہیے کہ ان کے ایم پی، ایم ایل اے اور کونسلر پارٹی کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ جب کارکنوں اور عوامی نمائندوں کا احترام نہیں کیا جاتا، اور بات چیت کی جگہ الزامات اور گالی گلوچ سے لے لی جاتی ہے، تو لوگ فطری طور پر دوسرے آپشنز تلاش کرتے ہیں۔
شائنا این سی نے سنجے راوت کے اس بیان پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا کہ بھگوان رام کے آشیرواد سے اقتدار میں آنے والی بی جے پی اب رام کی لعنت سے بے دخل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سنجے راوت مسلسل ایسے بیانات دے رہے ہیں جو ان کی سیاسی مایوسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ راوت کا واحد مقصد ادھو ٹھاکرے کی پارٹی کو نقصان پہنچانا ہے، اور ان کے بیانات سیاسی سنجیدگی سے عاری ہیں۔
سیاست
مہاراشٹر: ادھو ٹھاکرے منحرف ہونے والے ممبران پارلیمنٹ کے حلقوں کا دورہ کریں گے۔

ممبئی ، شیو سینا-یو بی ٹی پارٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے 27 سے 29 جون تک ان حلقوں کا ایک وسیع دورہ کریں گے جہاں سے پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں چلے گئے ہیں۔ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور سامنا کے ایگزیکٹو ایڈیٹر سنجے راوت کے ذریعہ جاری کردہ ایک ریلیز کے مطابق، یہ دورہ ریاست کے کئی اہم اضلاع کا احاطہ کرے گا، اور پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کو ہر مقام کے لیے مخصوص ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
یہ دورہ چھ ممبران پارلیمنٹ – اومراجے نمبالکر (دھراشیو)، سنجے پاٹل (ملوند نارتھ ایسٹ)، سنجے جادھو (پربھنی)، سنجے دیشمکھ (یوتمال)، ناگیش پاٹل اشتیکر (ہنگولی)، اور بھاؤصاحب وکچورے (شرڈی) کے کچھ ہی دن بعد ہوا ہے، جنہوں نے پچھلے ہفتے بغاوت کرتے ہوئے حقیقت میں شمولیت کا اشارہ کیا۔ ٹھاکرے پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ان حلقوں کا دورہ کریں گے اور عوامی طور پر ان ووٹروں سے معافی مانگیں گے جنہوں نے 2024 کے عام انتخابات کے دوران اب منحرف ہونے والے ایم پیز کو ووٹ دیا تھا۔
ٹھاکرے 27 جون کو یوتمال میں اپنا دورہ شروع کریں گے، جہاں سینئر لیڈر بشمول ایم پی اروند ساونت، ایم ایل اے سنجے ڈیرکر، رابطہ سربراہ راجندر گائیکواڑ، اور ضلعی سربراہان پروین شندے، کشور انگلے، اور سنجے نکھادے تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔ اس کے بعد وہ واشم جائیں گے۔ ایم پی ساونت، ایم ایل اے ڈیرکر، رابطہ سربراہ دلیپ جادھو اور ضلع سربراہ بالاجی وانکھیڈے کوآرڈینیشن سنبھال رہے ہیں۔ پارٹی سربراہ دوپہر میں ہنگولی جائیں گے۔ ایم ایل سی اور اپوزیشن کے سابق لیڈر امباداس دانوے، رابطہ سربراہ ببن راؤ تھوراٹ، اور ضلعی سربراہ سندیش دیشمکھ، اجے پاٹل، اور گوپو ساونت وہاں ذمہ داریوں کی قیادت کریں گے۔ پارٹی سربراہ رات پربھنی میں گزاریں گے۔
دورے کا دوسرا مرحلہ 28 جون کو پربھنی شہر کے دورے سے شروع ہوگا۔ ایم ایل سی دانوے، ایم ایل اے راہول پاٹل، رابطہ سربراہ پردیپ کمار کھوپڑے، اور ضلع سربراہ ڈاکٹر وویک ناوندر مقامی انتظامات کو سنبھالیں گے۔ ٹھاکرے دوپہر میں دھاراشیو کے لیے روانہ ہوں گے۔ دانوے، ایم ایل اے کیلاش پاٹل، اور رابطہ سربراہ سنیل کٹمور انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ دن کا اختتام چھترپتی سمبھاجی نگر میں رات بھر قیام کے ساتھ ہوگا۔ دورے کے آخری دن، 29 جون، ٹھاکرے مقدس شہر شرڈی کا دورہ کریں گے۔ راؤت، رابطہ سربراہ اور ایم ایل سی سنیل شندے، ضلعی سربراہ سچن کوٹے، اور جگدیش چودھری کو اس مرحلے کی نگرانی کا کام سونپا گیا ہے۔
پارٹی سربراہ ممبئی روانہ ہوں گے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ پورے دورے کا منصوبہ پورے مہاراشٹر میں پارٹی کارکنوں کو متحد کرنے اور اہم سیاسی اتحادوں سے پہلے نچلی سطح پر تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے، متحدہ شیوسینا کے 60 ویں یوم تاسیس پر اپنی پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں سے جذباتی اپیل کرتے ہوئے، ٹھاکرے نے گزشتہ جمعہ کو کہا تھا کہ اگر ان کے لیڈران منحرف اراکین اسمبلی کے ان پر لگائے گئے الزامات کو سچ مانتے ہیں، تو وہ شیو سینا-یو بی ٹی کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
