Connect with us
Thursday,13-August-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

بھیونڈی کے شمسی ظہیرملا کو مثالی خدمات کی بنیاد پر ملے درجنوں ایوارڈ، کینسر کے متاثرین کی مدد کرنے پر ملک وبیرون ملک پذیرائی

Published

on

بھیونڈی شہر کے سوداگر محلہ سے اپنی انسانی خدمات اور مریضوں کی ہمدردی و امداد کا جذبہ لے کر اٹھنے والے ایک ہونہار نوجوان کو آج نا صرف ملک بلکہ بیرون ممالک سے بھی پذیرائی مل رہی ہے۔اسی طرح ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں اعزازات اور ایوارڈ سے بھی نوازا جارہا ہے ،کینسر ایڈ اینڈ ریسرچ فاونڈیشن کے چیئرمین شمسی ملا St. Xavier’s college, Mumbai, کے سابق پروفیسراورآرٹس شعبےکےصدر اےاے قاضی کے بھتیجے اورکینسر کے ماہر سرجن ڈاکٹر ریحان قاضی جو لندن میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں کے ماموں زاد بھائی ہیں شمسی ملا اس وقت ممبئی ومضافات کے علاوہ پورے ملک سے آنے والے کینسر کے مریضوں کی بڑی آس بنے رہتے ہیں۔ اس ضمن میں شمسی ملا کہتے ہیں کہ 19 برس قبل کینسر ایڈ فاونڈیشن اینڈ ریسرچ(CARF) کی ابتداء پروفیسر اے اے قاضی صاحب اور انکی اہلیہ سابق پرنسپل انجمن اسلام ممبئی ،رشیدہ قاضی صاحبہ نے کی تھی اور اسی سوچ کے تحت انھوں نے اپنے بیٹے ریحان قاضی کو کینسر سرجن بنایا تھا تاکہ کینسر متاثرین کابخوبی علاج ومعالجہ اور دیکھ ریکھ ہوسکے ان سے ہوتی ہوئی یہ ذمہ داری میرے ناتواں کندھوں پر آئی تو وقت اور حالات و قومی ضرورت نے مجھے حوصلہ دیا ممبئی کے اہل خیر حضرات اور بڑے ڈاکٹروں نے ہمت بڑھائی جس سے گزشتہ تقریبا 19برسں قبل مختصر پیمانے پر شروع کیا گیا یہ کام آج ایک گھنا اور تناور درخت بن چکا ہے، جہاں پوری ریاست اور پورے ملک سے بالخصوص کینسر کے متاثرین مہنگا علاج ہونے کے سبب کینسر ایڈ اینڈ ریسرچ فاونڈیشن کا رخ کرتے ہیں وہیں فاونڈیشن اب تک تقریبا 13 ہزار کینسر متاثرین کے علاج ومعالجہ پر تقریبا 20 کروڑ روپے خرچ کرچکا ہے جسکےلیےشمسی صاحب اپنے تمام Donorsکا شکریہ ادا کرتےہیں۔
ممبئی کے با ٔیکلہ اور وکرولی میں سی۔ اے۔آر ۔ایف (کارف) کینسر ایڈ اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کا آفس ہے جہاں فاونڈیشن کے چیٔرمین شمسی ملا کےساتھ فاونڈیشن کی سی ای او سویتا ناتھانی بھی اپنی بہترین کارکردگی انجام دےرہی ہیں ۔فاونڈیشن کی ٹیمیں آنے والے متاثرین کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ فاؤنڈیشن کے چئیرمین شمسی ملا نے بتایا کہ ہمیں جو بھی امداد آتی ہے بذریعہ چیک ہوتی ہےنقد ہم قبول نہیں کرتے اسی طرح ہم ضرورت مند مریضوں کی مدد بھی صرف چیک کے ذریعے ہی کرتے ہیں اور اس اسپتال یا ڈاکٹر کے نام کا ہی امدادی چیک دیا جاتا ہے جس کے پاس مریض کا علاج جاری ہو یا جہاں اس کے آپریشن کی تیاری کے تمام دستاویزات موجود ہوں شمسی ملا کہتے ہیں کہ کینسر کی کوئی واحد وجہ ابھی تک دریافت نہیں ہوئی ہے مگر مریضوں سے موصول ہونے والی معلومات پر تحقیقات کرنے سے جو باتیں سامنے آتی ہیں ان میں نشہ خوری بطور خاص سگریٹ۔تمباکو۔گٹکا ۔شراب وغیرہ زیادہ اہم ہیں انھوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں سے جو کینسر متاثرین سامنے آرہے ہیں ان میں بیس سے چالیس برس کی عمرکے لوگ زیادہ ہیں مگر بچوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے اور خواتین میں بھی بطور خاص پستان(Breast Cancer) اور بچہ دانی کا کینسر (CervicalCancer)زیادہ پایا جارہا ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ دیگر بڑی بیماریوں سے بچنے کے لئے عمومی بیداری مہم بھی چلائی جاتی ہے مگر جس تیز رفتاری سے کینسر بڑھ رہا ہے اور مریضوں کو لقمئہ اجل بنا رہا ہے اتنی شد ومد سے اسے روکنے یا بچنے پر زور نہیں دیا جا رہا ہے جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ کینسر کے مریضوں کی زیادہ تعداد وہ ہےجوچوتھی اسٹیج میں پہنچ جانے کے بعد ہم تک اور بڑے ڈاکٹروں تک پہنچتے ہیں انھوں نے بتایا کہ انہی حالات کے پیش نظر یہ کوشش کی گئی ہے کہ ممبئی کے بیشتر بڑے ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے ذمہ داران مسلسل کینسر کے سلسلے میں کونسلنگ بھی کرتے ہیں۔ ابھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے آن لائن ہر بدھ کو دوپہر تین بجے سے پانچ بجے کے درمیان لائیو فیس بک پر تمام بڑے ڈاکٹروں کی میٹنگ اور کونسلنگ بھی ہوتی ہے تاکہ سب کے تجربات اور معلومات سے خود ڈاکٹر اور عوام بھی استفادہ حاصل کرسکیں انھوں نے بتایا کہ بھیونڈی شہر میں بھی کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں خاص وجہ بھیونڈی شہر کا چاروں طرف سے کیمیکل گوداموں سے گھرا ہونا اور ان میں مسلسل آگ زنی کے واقعات۔پوری بھیونڈی میں بلڈنگوں کے اوپر موبائل فون کے پھیلے ٹاوروں کا جال۔اور تھانہ۔ممبرا۔کلیان وغیرہ میں ہونے والی سختی کے بعد بھیونڈی شہر میں قائم ہونے والے منشیات کے اڈے اور نوجوانوں کا نشہ خوری میں ملوث ہونا بھی بڑا سبب ہے جبکہ کیمیکل آلود غذائیں بھی جان لیوا بنتی جارہی ہیں۔ موصوف نے بتایا کہ کینسر بدن کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے جبکہ بلڈ کینسر کے مریضوں کی تعداد بھیونڈی میں کم ہے مگرگلےکا کینسر کافی تعدادمیں پایاجارہاہے اور لوگوں کو تیسرے اور چوتھے اسٹیج میں آکر فکر شروع ہوتی ہے لیکن جب بھی بدن میں کہیں سوجن۔پورے بدن میں مسلسل تھکاوٹ۔اوندھا پھوڑا۔منہ میں آنے والے چھالے۔پیشاب۔پائخانے میں خون مواد کا آنا چھاتی یا بچہ دانی میں گانٹھ وغیرہ نظر آئے تو فورا ڈاکٹروں سے رابطہ کرنا چاہئے اور اسے کینسر کے نظریے سے بھی دیکھنا چاہئے کسی زمانے میں عرب تاجروں اور سوداگروں کی آمد وآماجگاہ بنے بھیونڈی کے سوداگر اور بندر (بندر گاہ)محلہ کے ظہیر ملا کے گھر میں آنکھیں کھولنے والا شمسی آج مکمل شمس ( سورج ) بن کر کینسر متاثرین کی تاریک زندگی میں امید کی کرن بن کر اجالا پھیلانے کا کام کررہا ہے شمسی ملا کو ان کی بہترین خدمات کے اعتراف میں اب تک درجنوں ایوارڈ مل چکے ہیں جن میں بیرون ملک سے بھی ایوارڈ ملے ہیں ۔ملنے والے اعزازات میں بطور خاص بھارت وکاس رتن۔بھارت جوتی پرسکار ہیلتھ کئر ایکسیلینٹ۔ممبئی گلوبل ایوارڈ۔نوبل ایشین آف دی ایئر 2018 ایوارڈ۔بھارتیہ جنتا پارٹی دکچھن ممبئی او۔بی۔سی۔ایوارڈ۔کوالٹی ایکسیلینٹ 2018 ایوارڈ۔آل انڈیا سیلوٹ 2019 ایوارڈ۔پرائڈ سٹی ایوارڈ 2019 ۔شمسی ملا کہتے ہیں کہ نا صرف ممبئی مہاراشٹر بلکہ دیگر ریاستوں سے بھی کینسر کا علاج کرانے کے لئے لوگ ہمارے فاونڈیشن سے رابطہ کرتے ہیں اور ہمارے فاؤنڈیشن کے حسن انتظام اور صاف شفاف کارکردگی کے پیش نظر ہمیں بھی اہل خیر اللہ کے بندے ان مریضوں پر خرچ کرنے کے لئے اپنی رقومات فراہم کرتے ہیں ہمیں بڑی خوشی ہوتی ہے جب معلوم پڑتا ہے کہ فلاں مریض کا آپریشن کامیاب ہوا اور اس نے نئی زندگی شروع کردی۔
شمسی ملا کہتے ہیں کہ ضرورت مند تو بھیونڈی میں بہت ہیں اور ہماری فاؤنڈیشن بھر پور تعاون بھی کررہی ہے مگر نا چاہتے ہوئے بھی کہنا پڑتا ہے کہ بھیونڈی سے تعاون نہیں مل رہا ہے لوگوں سے اپیل ہے کہ اہل خیر اور متمول افراد دست تعاون بڑھائیں تاکہ کمزور ضرورت مند مریضوں کی مدد ہوسکے دینے والوں کو اللہ مزید نوازتے ہیں ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

بین الریاستی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک پر مشتمل دو الگ الگ کارروائیوں میں چرس ٹرما ڈول ادویات نشہ آور شے ضبط 02 گرفتار

Published

on

Drugs

ممبئی : مخصوص معلومات کی بنیاد پر، این سی بی ممبئی نے 108 کلو گرام وزنی کوڈین بیسڈ کف سرپ (سی بی سی ایس) کی 1080 بوتلیں ضبط کیں اور ٨ اگست کو ممبئی میں این شیخ کو گرفتار کیا۔ اس نے روپوشی کی کوشش کی تھی، ضبط شدہ سی بی سی ایس بوتلیں گجرات سے ممبئی کے درمیان چلنے والی مسافر بس کے ذریعے منتقل کی جا رہی تھیں۔ ضبط شدہ منشیات کو ممبئی، بھیونڈی اور ملحقہ علاقوں میں فروخت کیا جانا تھا اسپاٹ تفتیش کے دوران گجرات میں مقیم ڈسٹری بیوٹر کی شناخت کی گئی۔ فوری طور پر فالو اپ ٹیم گجرات روانہ ہوئی اور وسیع فیلڈ نگرانی کے بعد، وڈودرا، گجرات میں ایک ڈسٹری بیوٹر اور اس کا گودام واقع تھا جہاں سے مزید 13938 سی بی سی ایس بوتلیں اور 12,240 ٹراماڈول گولیاں ضبط کی گئیں۔ سی بی سی ایس بوتلوں کے ڈائیورشن کے نشانات سے بچنے کی کوشش میں، متعدد سی بی سی ایس بوتلوں کے بیچ نمبروں میں چھیڑ چھاڑ پائی گئی۔ مزید برآں، جعلی رسیدوں سمیت متعدد مجرمانہ دستاویزات جو کہ این آر ایکس یعنی نارکوٹکس پر مبنی ادویات کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھیں، بھی ضبط کی گئیں۔

تفتیش کے دوران، یہ نوٹ کیا گیا کہ این شیخ، جو بنیادی طور پر مہاراشٹر کے ضلع تھانے کے بھیونڈی علاقے سے کام کر رہا تھا، اس سے پہلے مہاراشٹر پولیس نے ایک اور این ڈی پی ایس کیس میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے آپریشن کا علاقہ بھیونڈی تھا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ گجرات میں مقیم ڈسٹری بیوٹر پولیس کے ذریعے درج کیے گئے این ڈی پی ایس کیسوں میں مطلوب ہے۔

ٹراماڈول اور سی بی سی ایس سختی سے نسخے پر مبنی اوپیئڈ ادویات ہیں جن کا طبی استعمال جائز ہے۔ ٹراماڈول مرکزی اعصابی نظام (سی این ایس) کو تبدیل کرتا ہے اور درد کو سنبھالنے کے لیے سمجھتا ہے۔ اس کا غیر تجویز کردہ استعمال سانس لینے، تیز دل کی دھڑکن کی شرح کا سبب بنتا ہے جو مہلک نتائج کا باعث بنتا ہے۔ اس کے شدید انخلا کے اثرات ہیں جو اسے منشیات کے استعمال کے لیے خطرناک مادہ بناتا ہے۔ سی بی سی ایس عام طور پر عام کھانسی اور سردی کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، کوڈین ایک اوپیئڈ ہونے کی وجہ سے نشہ آور اور سی این ایس کو متاثر کرنے والے اثرات رکھتا ہے جس کی زیادہ مقدار سانس کے شدید مسائل، جگر اور گردے کو مہلک نتائج کے ساتھ نقصان پہنچا سکتی ہے۔

مخصوص معلومات کی بنیاد پر، این سی بی ممبئی نے ۱۲ اگست کو گھاٹ کوپر، ممبئی میں اے جے شیخ نامی ایک خاتون کے گھر کی تلاشی کے دوران 1.060 کلو گرام چرس ضبط کی۔ ضبط شدہ چرس کو گھریلو سامان میں چھپایا گیا تھا اور اسے حال ہی میں ممبئی اور ملحقہ علاقوں میں فروخت کرنے کے لیے خریدا گیا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ منشیات کے نفاذ کے سخت اقدامات اور آئندہ تہواروں کےموسم کی وجہ سے چرس کی آمد کو کافی حد تک روک دیا گیا تھا جس کی وجہ سے پکڑی گئی چرس کو اے جے شیخ اور اس کے منشیات کے ساتھیوں نے مہنگے داموں فروخت کر کے موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے خریدا تھا۔ منشیات کے دیگر اہم ساتھیوں کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے ان کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔

چرس ایک قدرتی طور پر تیار کی جانے والی دوا ہے جس میں زیادہ طاقتور ٹی ایچ سی ہوتی ہے جو عام طور پر اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر میں اگائے جانے والے بھنگ کے پودے سے حاصل کی جاتی ہے۔ چرس کا طویل استعمال یادداشت پر مضر اثرات کے ساتھ علمی اور اضطراری نشوونما کو متاثر کرتا ہے۔ دونوں کیسز کی تفتیش جاری ہے۔ دونوں آپریشن منشیات کے منظم گروہوں کو ختم کرنے اور منشیات کے ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے والے عادی مجرموں کو نشانہ بنانے میں این سی بی کی مسلسل کوششوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گزشتہ 15 برسوں میں پہاڑی کھسکنے کے مسئلے کا کوئی حل نہیں، شہر و مضافات 22,483 خاندان خطرناک علاقوں میں مقیم

Published

on

landslide

ممبئی پہاڑی گرنے سے جان و مال کا نقصان، نیز معاشی نقصان ممبئی میں کوئی نئی بات نہیں، اس کے باوجود ریاستی حکومت گزشتہ 15 سالوں میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گزشتہ 34 سالوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 340 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

ممبئی کے 36 اسمبلی حلقوں میں سے 25 میں، پہاڑی علاقوں میں 257 مقامات کو خطرناک کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے۔ آر ٹی آئی کارکن انیل گلگلی نے بتایا کہ ممبئی سلم امپروومنٹ بورڈ نے ترجیحی بنیادوں پر 22,483 شناخت شدہ جھونپڑیوں میں سے 9,657 کو منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔ باقی ماندہ جھونپڑیوں کو محفوظ بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی تاکہ پہاڑیوں کے گرد حفاظتی دیواریں تعمیر کی جائیں۔ گلگلی نے پہلے مہاراشٹر حکومت کو مانسون کے موسم میں 327 مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

1992 سے 2026 کے درمیان لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں 340 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ ممبئی سلم امپروومنٹ بورڈ نے نقل مکانی کی سفارش کی تھی۔ 2010 میں ایک جامع سروے کیا گیا تھا۔ اگر اس وقت کارروائی کی جاتی تو ان پہاڑی علاقوں کے مکینوں کی ہلاکتوں کو روکا جا سکتا تھا۔ بورڈ کی رپورٹ اور انل گلگلی کی خط و کتابت کے بعد، اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوان نے یکم ستمبر 2011 کو شہری ترقیات کے محکمے کو ایک ایکشن پلان بنانے کا حکم دیا۔ تاہم، اس کے بعد 15 سال گزر چکے ہیں، اور محکمہ شہری ترقی نے ابھی تک اس پر کام شروع نہیں کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، کسی نے بھی چیف منسٹر کی ہدایت کے مطابق ‘ایکشن ٹیکن پلان’ (اے ٹی پی) تیار نہیں کیا،

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں چار دنوں کے اندر انتخابی فہرستوں کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کو مکمل کرے : چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم

Published

on

SIR

ممبئی : 17 اگست، 2026، انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے حصے کے طور پر گھر گھر جا کر وزٹ (حاضری) کرنے اور گنتی کے فارم بھرنے کا آخری دن ہے۔ نتیجتاً، مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر، ایس چوکلنگم نے ممبئی میں تمام الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ای آر اوز) کو زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرنے اور بقیہ چار دن کی مدت کے اندر پورے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ چوکلنگم نے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ہیڈ کوارٹر میں آج (12 اگست 2026) کو منعقدہ میٹنگ کے دوران ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے (ممبئی سٹی اور مضافات) کے اندر خصوصی گہری نظرثانی پروگرام سے متعلق جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس میٹنگ کے دوران عہدیداروں سے خطاب کیا۔

ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نمایاں طور پر موجود تھے۔ اس کے علاوہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورما-لاونگیرے بھی موجود تھیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگرایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ڈسٹرکٹ کلکٹر (ممبئی سٹی ڈسٹرکٹ) آنچل گوئل، اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ضلع کلکٹر (ممبئی مضافاتی ضلع) سوربھ کٹیار کے ساتھ تمام الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (ای آر اوز) اور ممبئی کے متعلقہ افسران اس موقع پر موجود تھے۔

مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر، ایس چوکلنگم نے کہا کہ ووٹرز کے سوالات کو فوری طور پر حل کرنے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ جو بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل اوز) کے ذریعے ‘بک اے کال’ کی سہولت کے ذریعے موصول ہوتے ہیں۔ انتخابی حلقوں کے خصوصی گہرے نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت گنتی کے فارم کے بارے میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیر التواء گنتی فارموں کی وصولی اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو تیز کیا جانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پورا طریقہ کار مقررہ مدت کے اندر مکمل ہو جائے۔ ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے ‘نشان زدہ انتخاب کنندگان’ کے معاملات کو سنبھالنے میں زیادہ مستعدی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے کہ اہل نشان زد ووٹرز کے نام ڈرافٹ رول میں شامل ہوں جبکہ فوت شدہ ووٹرز کے ناموں کو خارج کر دیا جائے۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ گنتی کے فارموں کی وصولی، ڈیجیٹائزیشن اور گھر گھر دوروں میں صرف چند دن باقی ہیں، انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ بقیہ مدت کے دوران اس پورے عمل کو تیزی سے اور مؤثر طریقے سے مکمل کرنے کے لیے ٹھوس کوششیں کریں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان