Connect with us
Wednesday,30-September-2026

(جنرل (عام

بھیونڈی کے شمسی ظہیرملا کو مثالی خدمات کی بنیاد پر ملے درجنوں ایوارڈ، کینسر کے متاثرین کی مدد کرنے پر ملک وبیرون ملک پذیرائی

Published

on

بھیونڈی شہر کے سوداگر محلہ سے اپنی انسانی خدمات اور مریضوں کی ہمدردی و امداد کا جذبہ لے کر اٹھنے والے ایک ہونہار نوجوان کو آج نا صرف ملک بلکہ بیرون ممالک سے بھی پذیرائی مل رہی ہے۔اسی طرح ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں اعزازات اور ایوارڈ سے بھی نوازا جارہا ہے ،کینسر ایڈ اینڈ ریسرچ فاونڈیشن کے چیئرمین شمسی ملا St. Xavier’s college, Mumbai, کے سابق پروفیسراورآرٹس شعبےکےصدر اےاے قاضی کے بھتیجے اورکینسر کے ماہر سرجن ڈاکٹر ریحان قاضی جو لندن میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں کے ماموں زاد بھائی ہیں شمسی ملا اس وقت ممبئی ومضافات کے علاوہ پورے ملک سے آنے والے کینسر کے مریضوں کی بڑی آس بنے رہتے ہیں۔ اس ضمن میں شمسی ملا کہتے ہیں کہ 19 برس قبل کینسر ایڈ فاونڈیشن اینڈ ریسرچ(CARF) کی ابتداء پروفیسر اے اے قاضی صاحب اور انکی اہلیہ سابق پرنسپل انجمن اسلام ممبئی ،رشیدہ قاضی صاحبہ نے کی تھی اور اسی سوچ کے تحت انھوں نے اپنے بیٹے ریحان قاضی کو کینسر سرجن بنایا تھا تاکہ کینسر متاثرین کابخوبی علاج ومعالجہ اور دیکھ ریکھ ہوسکے ان سے ہوتی ہوئی یہ ذمہ داری میرے ناتواں کندھوں پر آئی تو وقت اور حالات و قومی ضرورت نے مجھے حوصلہ دیا ممبئی کے اہل خیر حضرات اور بڑے ڈاکٹروں نے ہمت بڑھائی جس سے گزشتہ تقریبا 19برسں قبل مختصر پیمانے پر شروع کیا گیا یہ کام آج ایک گھنا اور تناور درخت بن چکا ہے، جہاں پوری ریاست اور پورے ملک سے بالخصوص کینسر کے متاثرین مہنگا علاج ہونے کے سبب کینسر ایڈ اینڈ ریسرچ فاونڈیشن کا رخ کرتے ہیں وہیں فاونڈیشن اب تک تقریبا 13 ہزار کینسر متاثرین کے علاج ومعالجہ پر تقریبا 20 کروڑ روپے خرچ کرچکا ہے جسکےلیےشمسی صاحب اپنے تمام Donorsکا شکریہ ادا کرتےہیں۔
ممبئی کے با ٔیکلہ اور وکرولی میں سی۔ اے۔آر ۔ایف (کارف) کینسر ایڈ اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کا آفس ہے جہاں فاونڈیشن کے چیٔرمین شمسی ملا کےساتھ فاونڈیشن کی سی ای او سویتا ناتھانی بھی اپنی بہترین کارکردگی انجام دےرہی ہیں ۔فاونڈیشن کی ٹیمیں آنے والے متاثرین کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ فاؤنڈیشن کے چئیرمین شمسی ملا نے بتایا کہ ہمیں جو بھی امداد آتی ہے بذریعہ چیک ہوتی ہےنقد ہم قبول نہیں کرتے اسی طرح ہم ضرورت مند مریضوں کی مدد بھی صرف چیک کے ذریعے ہی کرتے ہیں اور اس اسپتال یا ڈاکٹر کے نام کا ہی امدادی چیک دیا جاتا ہے جس کے پاس مریض کا علاج جاری ہو یا جہاں اس کے آپریشن کی تیاری کے تمام دستاویزات موجود ہوں شمسی ملا کہتے ہیں کہ کینسر کی کوئی واحد وجہ ابھی تک دریافت نہیں ہوئی ہے مگر مریضوں سے موصول ہونے والی معلومات پر تحقیقات کرنے سے جو باتیں سامنے آتی ہیں ان میں نشہ خوری بطور خاص سگریٹ۔تمباکو۔گٹکا ۔شراب وغیرہ زیادہ اہم ہیں انھوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں سے جو کینسر متاثرین سامنے آرہے ہیں ان میں بیس سے چالیس برس کی عمرکے لوگ زیادہ ہیں مگر بچوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے اور خواتین میں بھی بطور خاص پستان(Breast Cancer) اور بچہ دانی کا کینسر (CervicalCancer)زیادہ پایا جارہا ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ دیگر بڑی بیماریوں سے بچنے کے لئے عمومی بیداری مہم بھی چلائی جاتی ہے مگر جس تیز رفتاری سے کینسر بڑھ رہا ہے اور مریضوں کو لقمئہ اجل بنا رہا ہے اتنی شد ومد سے اسے روکنے یا بچنے پر زور نہیں دیا جا رہا ہے جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ کینسر کے مریضوں کی زیادہ تعداد وہ ہےجوچوتھی اسٹیج میں پہنچ جانے کے بعد ہم تک اور بڑے ڈاکٹروں تک پہنچتے ہیں انھوں نے بتایا کہ انہی حالات کے پیش نظر یہ کوشش کی گئی ہے کہ ممبئی کے بیشتر بڑے ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے ذمہ داران مسلسل کینسر کے سلسلے میں کونسلنگ بھی کرتے ہیں۔ ابھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے آن لائن ہر بدھ کو دوپہر تین بجے سے پانچ بجے کے درمیان لائیو فیس بک پر تمام بڑے ڈاکٹروں کی میٹنگ اور کونسلنگ بھی ہوتی ہے تاکہ سب کے تجربات اور معلومات سے خود ڈاکٹر اور عوام بھی استفادہ حاصل کرسکیں انھوں نے بتایا کہ بھیونڈی شہر میں بھی کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں خاص وجہ بھیونڈی شہر کا چاروں طرف سے کیمیکل گوداموں سے گھرا ہونا اور ان میں مسلسل آگ زنی کے واقعات۔پوری بھیونڈی میں بلڈنگوں کے اوپر موبائل فون کے پھیلے ٹاوروں کا جال۔اور تھانہ۔ممبرا۔کلیان وغیرہ میں ہونے والی سختی کے بعد بھیونڈی شہر میں قائم ہونے والے منشیات کے اڈے اور نوجوانوں کا نشہ خوری میں ملوث ہونا بھی بڑا سبب ہے جبکہ کیمیکل آلود غذائیں بھی جان لیوا بنتی جارہی ہیں۔ موصوف نے بتایا کہ کینسر بدن کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے جبکہ بلڈ کینسر کے مریضوں کی تعداد بھیونڈی میں کم ہے مگرگلےکا کینسر کافی تعدادمیں پایاجارہاہے اور لوگوں کو تیسرے اور چوتھے اسٹیج میں آکر فکر شروع ہوتی ہے لیکن جب بھی بدن میں کہیں سوجن۔پورے بدن میں مسلسل تھکاوٹ۔اوندھا پھوڑا۔منہ میں آنے والے چھالے۔پیشاب۔پائخانے میں خون مواد کا آنا چھاتی یا بچہ دانی میں گانٹھ وغیرہ نظر آئے تو فورا ڈاکٹروں سے رابطہ کرنا چاہئے اور اسے کینسر کے نظریے سے بھی دیکھنا چاہئے کسی زمانے میں عرب تاجروں اور سوداگروں کی آمد وآماجگاہ بنے بھیونڈی کے سوداگر اور بندر (بندر گاہ)محلہ کے ظہیر ملا کے گھر میں آنکھیں کھولنے والا شمسی آج مکمل شمس ( سورج ) بن کر کینسر متاثرین کی تاریک زندگی میں امید کی کرن بن کر اجالا پھیلانے کا کام کررہا ہے شمسی ملا کو ان کی بہترین خدمات کے اعتراف میں اب تک درجنوں ایوارڈ مل چکے ہیں جن میں بیرون ملک سے بھی ایوارڈ ملے ہیں ۔ملنے والے اعزازات میں بطور خاص بھارت وکاس رتن۔بھارت جوتی پرسکار ہیلتھ کئر ایکسیلینٹ۔ممبئی گلوبل ایوارڈ۔نوبل ایشین آف دی ایئر 2018 ایوارڈ۔بھارتیہ جنتا پارٹی دکچھن ممبئی او۔بی۔سی۔ایوارڈ۔کوالٹی ایکسیلینٹ 2018 ایوارڈ۔آل انڈیا سیلوٹ 2019 ایوارڈ۔پرائڈ سٹی ایوارڈ 2019 ۔شمسی ملا کہتے ہیں کہ نا صرف ممبئی مہاراشٹر بلکہ دیگر ریاستوں سے بھی کینسر کا علاج کرانے کے لئے لوگ ہمارے فاونڈیشن سے رابطہ کرتے ہیں اور ہمارے فاؤنڈیشن کے حسن انتظام اور صاف شفاف کارکردگی کے پیش نظر ہمیں بھی اہل خیر اللہ کے بندے ان مریضوں پر خرچ کرنے کے لئے اپنی رقومات فراہم کرتے ہیں ہمیں بڑی خوشی ہوتی ہے جب معلوم پڑتا ہے کہ فلاں مریض کا آپریشن کامیاب ہوا اور اس نے نئی زندگی شروع کردی۔
شمسی ملا کہتے ہیں کہ ضرورت مند تو بھیونڈی میں بہت ہیں اور ہماری فاؤنڈیشن بھر پور تعاون بھی کررہی ہے مگر نا چاہتے ہوئے بھی کہنا پڑتا ہے کہ بھیونڈی سے تعاون نہیں مل رہا ہے لوگوں سے اپیل ہے کہ اہل خیر اور متمول افراد دست تعاون بڑھائیں تاکہ کمزور ضرورت مند مریضوں کی مدد ہوسکے دینے والوں کو اللہ مزید نوازتے ہیں ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پولس کی آپریشن شودھ مہم

Published

on

Police

ممبئی شہر میں ریکارڈ پر موجود اغواء/اختطاف شدہ 18 سال سے کم عمر کے لڑکے اور لڑکی (بچے) اور گمشدہ 18 سال سے اوپر کے مرد/خاتون کے بارے میں خصوصی تلاش مہم کرنے کے لیے تاریخ ۲۹ ستمبر سے ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۶ اس مدت میں ممبئی شہر میں “آپریشن شودھ 5” اس تلاش مہم کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مذکورہ مدت میں ممبئی شہر سے 18 سال سے کم عمر کے گمشدہ زیادہ سے زیادہ لڑکے اور لڑکیاں اور 18 سال سے اوپر کی گمشدہ خاتون/مرد ملنے کے لیے پولیس تھانہ سطح پر زیادہ سے زیادہ کوشش کی جائے گی۔ مذکورہ مہم کامیاب ہونے کے لیے ممبئی کے شہریوں نے پولیس اور گمشدہ/اختطاف/اغواء کے سلسلے میں کام کرنے والی مختلف غیر سرکاری تنظیموں کو مدد کرنے سے زیادہ سے زیادہ گمشدہ/اختطاف شدہ بچوں، خواتین/مردوں کی تلاش لینے میں مدد ہوگی۔ اس لیے ممبئی کے تمام شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آس پاس میں مشکوک چھوٹے لڑکے/لڑکیاں گمشدہ خواتین/مرد ملنے پر اگر ان کے بارے میں کچھ معلومات کی حصولیابی پر نیچے دی گئی معلومات متعلقہ محکموں کو دے کر مذکورہ اقدام کو اچھے طریقے سے نافذ کرنے کے لیے ممبئی پولیس کی مدد کریں۔ کسی بھی مشکوک چھوٹے لڑکے اور لڑکی یا گمشدہ خاتون/مرد ملنے پر ان سے پوچھ گچھ کریں اور کچھ مشکوک لگنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں اور مذکورہ گمشدہ شخص/بچوں کو فوری قریبی پولیس تھانے لے جائیں۔

۲۹ ستمبر سے ۱۶ اکتوبر اس مدت میں ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ، راستے پر بھیک مانگنے والے یا کچرا جمع کرنے والے چھوٹے لڑکے/لڑکیاں، مذہبی مقامات، ہسپتال، ہوٹل، دکانیں وغیرہ جگہوں پر کام کرنے والے چھوٹے لڑکے/لڑکیاں ملنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔علاقے میں چھوٹے لڑکے/لڑکیاں کام کر رہے ہیں ایسا ملنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔> ریلوے اسٹیشن کے باہر کا علاقہ/بس اسٹینڈ کے باہر کا علاقہ اس جگہ پر بے وارث حالت میں چھوٹے لڑکے/لڑکیاں یا خاتون/مرد ملنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔اپنے رہائشی علاقے میں رشتہ داروں کے پاس رہنے والے چھوٹے لڑکے/لڑکیاں، خاتون/مرد کے بارے میں کچھ شک ہونے پر اس بارے میں فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔کوئی بھی کم عمر لڑکا یا لڑکی مشکوک لگنے پر اس بارے میں https://missionvatsalya.wcd.gov.in اس ویب سائٹ پر جا کر کھویا۔پایا اس پورٹل پر لڑکے اور لڑکی کا فوٹو اپ لوڈ کریں۔اپنے آس پاس کے علاقے میں کوئی چھوٹے لڑکے گھر کا کام کرتے ہوئے ملنے پر اس بارے میں فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کی میئر، ڈپٹی میئر اور میونسپل کمشنر نے ماحول دوستی کو برقرار رکھنے کی پہل کرنے پر گنیش عقیدت مندوں کا کیا شکریہ ادا

Published

on

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) کی جانب سے کیے گئے بہترین اقدامات اور ماحول دوست گنیش اتسو کی اپیل پر پرجوش ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، ممبئی کے شہریوں اور گنیش منڈلوں نے حیرت انگیز طور پر 97.27 فیصد مورتیاں مصنوعی تالابوں میں وسرجن کیں۔ یہ وسرجن بی ایم سی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ 383 مصنوعی تالابوں میں کیا گیا۔ ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے، ڈپٹی میئرسنجے گھاڑی اور میونسپل کمشنر اشونی بھڈے نے تہوار کو ماحول دوست رکھنے کی پہل کرنے پر تمام عقیدت مندوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اس سال کے گنیش اتسو کے دوران، برہن ممبئی کے علاقے میں کل 1,97,382 گنیش مورتیوں کا وسرجن کیا گیا۔ ان میں سے 1,92,237 مورتیاں (جن کی اونچائی 6 فٹ تک تھی) 383 مصنوعی تالابوں میں وسرجن کی گئیں اس تعداد میں 1,22,391 ‘پلاسٹر آف پیرس’ (پی او پی) کی مورتیاں اور 69,846 ‘شادو’ مٹی (قدرتی مٹی) کی مورتیاں شامل تھیں۔ دریں اثنا، 6 فٹ سے زیادہ اونچی 5,382 مورتیاں وسرجن کے 67 قدرتی مقامات پر وسرجن کی گئیں؛ اس زمرے میں 5,259 پی او پی مورتیاں اور 123 ‘شادو’ مٹی کی مورتیاں شامل تھیں۔ اس سال کے شری گنیش اتسو کے لیے ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے اور ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی کی رہنمائی اور میونسپل کمشنر اشونی بھڈے کی ہدایات کے تحت مختلف اقدامات کیے گئے؛ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھاکنے کی قیادت اور ڈپٹی کمشنر (زون 2) گنیش اتسو کوآرڈینیٹر شری پرشانت سپکالے کی نگرانی میں یہ اقدامات کیے گئے۔ممبئی کے قدرتی آبی ذخائر پر مورتی وسرجن کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے، انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ شری گنیش کی مورتیاں مصنوعی تالابوں میں وسرجن کریں۔ اس کے نتیجے میں، شہر بھر میں مختلف مقامات پر مصنوعی تالاب قائم کیے گئے، جن میں کھلے پلاٹ، پارکس اور شہریوں کے گھروں کے قریب موجود گراؤنڈز شامل تھے۔ اس اقدام کو فروغ دینے کے لیے عوامی آگاہی کی مؤثر مہمات بھی چلائی گئیں۔ نتیجتاً، مورتی وسرجن کے دوران مختلف ساحلوں پر ہجوم میں نمایاں کمی آئی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی انتظامیہ نے اس سال مصنوعی تالابوں کے لیے وسیع انتظامات کیے تھے۔ ممبئی بھر میں کل 383 مصنوعی تالاب دستیاب کرائے گئے تھے، اس کے علاوہ سمندری کناروں، ساحلوں اور دیگر مقامات پر وسرجن کے لیے 67 قدرتی مقامات بھی موجود تھے۔

6 فٹ تک کی اونچائی والی گنیش کی مورتیوں کے وسرجن کے لیے مصنوعی تالابوں کے استعمال کا اختیار دیا گیا تھا۔ بی ایم سی کی جانب سے فراہم کردہ مصنوعی تالابوں کے اس اختیار کو اس سال زبردست پذیرائی ملی مصنوعی تالابوں میں وسرجن کی جانے والی 6 فٹ تک کی اونچائی والی مورتیوں میں 1,22,391 ‘پلاسٹر آف پیرس’ (پی او پی) کی مورتیاں اور 69,846 ‘شادو’ (شادو) مٹی کی مورتیاں شامل تھیں۔ اس طرح، کل 1,92,237 مورتیاں (6 فٹ تک اونچی) مصنوعی تالابوں میں وسرجن کی گئیں۔ دریں اثنا، چھ فٹ سے زیادہ اونچی مورتیوں کے لیے قدرتی وسرجن کے مقامات کا استعمال کیا گیا۔ ان مقامات پر کل 5,382 مورتیاں وسرجن کی گئیں جن میں 5,259 ‘پلاسٹر آف پیرس’ (پی او پی) اور 123 ‘شادو’ مٹی سے بنی مورتیاں شامل تھیں۔ماحول دوست گنیش اتسو کو فروغ دینے کے لیے، میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ نے تہوار کے آغاز سے کافی پہلے ہی مختلف اقدامات نافذ کر دیے تھے۔ ماحول دوست مورتیاں تیار کرنے کے لیے مجسمہ سازوں کو 940 میٹرک ٹن سے زیادہ ‘شادو’ مٹی مفت فراہم کی گئی تھی۔ مزید برآں، ان مورتیوں کی تیاری کے لیے 25,400 لیٹر ماحول دوست پینٹ مفت فراہم کیا گیا۔میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ نے مورتیوں کے وسرجن (پانی میں بہانے کے عمل) کے لیے بڑے پیمانے پر افرادی قوت اور مشینری تعینات کی۔ وسرجن کی تقریب کو محفوظ اور خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے 25,000 سے زائد افسران اور عملے کے ارکان ڈیوٹی پر مامور تھے اس طرح، کل 1,92,237 مورتیاں (6 فٹ تک اونچی) مصنوعی تالابوںامات، اور سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ و مہاراشٹر پولوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے جاری کردہ رہنما خطوط کی تعمیل میں، میونسپل کارپوریشن انتظامیہ نے اس سال کے گنیش اتسو کے لیے مختلف اقدامات کیے۔ ان اقدامات میں مصنوعی تالابوں کی فراہمی، ماحول دوست مورتیاں بنانے کی حوصلہ افزائی، وسرجن کے مقامات پر حفاظتی انتظامات، ‘نرمالیہ’ (مذہبی رسومات میں پیش کی جانے والی اشیاء) کو جمع کرنا، اور وسرجن کے بعد مورتیوں کے مواد کو اکٹھا کرنے اور اس کے انتظام کا عمل شامل تھا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یونیفارم سول کوڈ کمیٹی میں اقلیتی برادری کے نمائندے کو بطور مشیر مقرر کیا جائے، رکن اسمبلی رئیس شیخ نے محکمہ قانون و عدلیہ کو میمورنڈم کیا پیش

Published

on

ممبئی : ریاستی حکومت کی جانب سے ریٹائرڈ آئی اے ایس (آئی اے ایس) افسر مسٹر شتروگھن سنگھ کو یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کمیٹی کا مشیر مقرر کیے جانے کے بعد، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ اقلیتی برادری کے کسی نمائندے کو یو سی سی مسودہ کمیٹی میں بطور مشیر اور رکن مقرر کیا جائے۔ مہاراشٹر کے لیے مجوزہ یونیفارم سول کوڈ کا مسودہ تیار کرتے وقت عمل کو وسیع، سب کو شامل کرنے والا اور شفاف بنانے کے لیے یہ اقدام انتہائی ضروری ہے۔ریاست کے محکمہ قانون و عدلیہ کے پرنسپل سیکریٹری سوپنل کھاٹی کو ذاتی طور پر پیش کیے گئے ایک خط میں، رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ یو سی سی مسودہ کمیٹی میں مشیر کی حالیہ تقرری کے پیش نظر، حکومت کو کمیٹی میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کسی اہل فرد کو مشیر مقرر کرنے پر غور کرنا چاہیے۔

“اس سے یہ یقینی بنانے میں مدد ملے گی کہ مسودہ سازی اور مشاورت کے عمل کے دوران پرسنل لا (ذاتی قوانین)، خاندانی معاملات اور مجوزہ یو سی سی مسودے کے عملی اثرات کے حوالے سے مناسب نقطہ نظر کو پوری طرح مدنظر رکھا جائے۔”گزشتہ ہفتے، رکن اسمبلی رئیس شیخ نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھ کر یو سی سی کمیٹی میں اقلیتی برادری کے رکن کی تقرری پر زور دیا تھا۔ اپنے خط میں، رکن اسمبلی شیخ نے نشاندہی کی کہ معزز جسٹس (ریٹائرڈ) آر سی چوہان کے استعفے کے بعد کمیٹی میں ایک نشست خالی ہوئی ہے۔ یو سی سی مسودہ کمیٹی کو ایسے موضوعات پر کام کرنا ہے جو شہریوں کی ذاتی اور خاندانی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں جن میں شادی، طلاق، وراثت، گود لینے کا عمل اور دیگر متعلقہ شہری معاملات شامل ہیں۔ لہٰذا، مجوزہ خاکہ تیار کرتے وقت مہاراشٹر کی متنوع برادریوں کے تجربات، خدشات، خیالات اور نقطہ نظر کو مدنظر رکھنا انتہائی اہم ہے۔ ایم ایل اے شیخ نے محکمہ قانون و عدلیہ کے پرنسپل سیکریٹری کو لکھے گئے ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ مسودہ کمیٹی (ڈرافٹنگ کمیٹی) میں موجود خالی آسامی کو پُر کرنے کے لیے اقلیتی برادری، بالخصوص مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے کسی مناسب اہل فرد کو مقرر کیا جائے۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ کمیٹی مشاورت کے عمل کے دوران مہاراشٹر کی آبادی کے تمام طبقات جن میں اقلیتی برادریاں، خواتین، قانونی ماہرین، مذہبی و سماجی تنظیمیں، سول سوسائٹی کے گروہ اور عوام شامل ہیں کو اپنے خیالات کے اظہار کا شفاف موقع فراہم کرے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان