(جنرل (عام
بھیونڈی کے شمسی ظہیرملا کو مثالی خدمات کی بنیاد پر ملے درجنوں ایوارڈ، کینسر کے متاثرین کی مدد کرنے پر ملک وبیرون ملک پذیرائی
بھیونڈی شہر کے سوداگر محلہ سے اپنی انسانی خدمات اور مریضوں کی ہمدردی و امداد کا جذبہ لے کر اٹھنے والے ایک ہونہار نوجوان کو آج نا صرف ملک بلکہ بیرون ممالک سے بھی پذیرائی مل رہی ہے۔اسی طرح ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں اعزازات اور ایوارڈ سے بھی نوازا جارہا ہے ،کینسر ایڈ اینڈ ریسرچ فاونڈیشن کے چیئرمین شمسی ملا St. Xavier’s college, Mumbai, کے سابق پروفیسراورآرٹس شعبےکےصدر اےاے قاضی کے بھتیجے اورکینسر کے ماہر سرجن ڈاکٹر ریحان قاضی جو لندن میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں کے ماموں زاد بھائی ہیں شمسی ملا اس وقت ممبئی ومضافات کے علاوہ پورے ملک سے آنے والے کینسر کے مریضوں کی بڑی آس بنے رہتے ہیں۔ اس ضمن میں شمسی ملا کہتے ہیں کہ 19 برس قبل کینسر ایڈ فاونڈیشن اینڈ ریسرچ(CARF) کی ابتداء پروفیسر اے اے قاضی صاحب اور انکی اہلیہ سابق پرنسپل انجمن اسلام ممبئی ،رشیدہ قاضی صاحبہ نے کی تھی اور اسی سوچ کے تحت انھوں نے اپنے بیٹے ریحان قاضی کو کینسر سرجن بنایا تھا تاکہ کینسر متاثرین کابخوبی علاج ومعالجہ اور دیکھ ریکھ ہوسکے ان سے ہوتی ہوئی یہ ذمہ داری میرے ناتواں کندھوں پر آئی تو وقت اور حالات و قومی ضرورت نے مجھے حوصلہ دیا ممبئی کے اہل خیر حضرات اور بڑے ڈاکٹروں نے ہمت بڑھائی جس سے گزشتہ تقریبا 19برسں قبل مختصر پیمانے پر شروع کیا گیا یہ کام آج ایک گھنا اور تناور درخت بن چکا ہے، جہاں پوری ریاست اور پورے ملک سے بالخصوص کینسر کے متاثرین مہنگا علاج ہونے کے سبب کینسر ایڈ اینڈ ریسرچ فاونڈیشن کا رخ کرتے ہیں وہیں فاونڈیشن اب تک تقریبا 13 ہزار کینسر متاثرین کے علاج ومعالجہ پر تقریبا 20 کروڑ روپے خرچ کرچکا ہے جسکےلیےشمسی صاحب اپنے تمام Donorsکا شکریہ ادا کرتےہیں۔
ممبئی کے با ٔیکلہ اور وکرولی میں سی۔ اے۔آر ۔ایف (کارف) کینسر ایڈ اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کا آفس ہے جہاں فاونڈیشن کے چیٔرمین شمسی ملا کےساتھ فاونڈیشن کی سی ای او سویتا ناتھانی بھی اپنی بہترین کارکردگی انجام دےرہی ہیں ۔فاونڈیشن کی ٹیمیں آنے والے متاثرین کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ فاؤنڈیشن کے چئیرمین شمسی ملا نے بتایا کہ ہمیں جو بھی امداد آتی ہے بذریعہ چیک ہوتی ہےنقد ہم قبول نہیں کرتے اسی طرح ہم ضرورت مند مریضوں کی مدد بھی صرف چیک کے ذریعے ہی کرتے ہیں اور اس اسپتال یا ڈاکٹر کے نام کا ہی امدادی چیک دیا جاتا ہے جس کے پاس مریض کا علاج جاری ہو یا جہاں اس کے آپریشن کی تیاری کے تمام دستاویزات موجود ہوں شمسی ملا کہتے ہیں کہ کینسر کی کوئی واحد وجہ ابھی تک دریافت نہیں ہوئی ہے مگر مریضوں سے موصول ہونے والی معلومات پر تحقیقات کرنے سے جو باتیں سامنے آتی ہیں ان میں نشہ خوری بطور خاص سگریٹ۔تمباکو۔گٹکا ۔شراب وغیرہ زیادہ اہم ہیں انھوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں سے جو کینسر متاثرین سامنے آرہے ہیں ان میں بیس سے چالیس برس کی عمرکے لوگ زیادہ ہیں مگر بچوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے اور خواتین میں بھی بطور خاص پستان(Breast Cancer) اور بچہ دانی کا کینسر (CervicalCancer)زیادہ پایا جارہا ہے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ دیگر بڑی بیماریوں سے بچنے کے لئے عمومی بیداری مہم بھی چلائی جاتی ہے مگر جس تیز رفتاری سے کینسر بڑھ رہا ہے اور مریضوں کو لقمئہ اجل بنا رہا ہے اتنی شد ومد سے اسے روکنے یا بچنے پر زور نہیں دیا جا رہا ہے جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ کینسر کے مریضوں کی زیادہ تعداد وہ ہےجوچوتھی اسٹیج میں پہنچ جانے کے بعد ہم تک اور بڑے ڈاکٹروں تک پہنچتے ہیں انھوں نے بتایا کہ انہی حالات کے پیش نظر یہ کوشش کی گئی ہے کہ ممبئی کے بیشتر بڑے ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے ذمہ داران مسلسل کینسر کے سلسلے میں کونسلنگ بھی کرتے ہیں۔ ابھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے آن لائن ہر بدھ کو دوپہر تین بجے سے پانچ بجے کے درمیان لائیو فیس بک پر تمام بڑے ڈاکٹروں کی میٹنگ اور کونسلنگ بھی ہوتی ہے تاکہ سب کے تجربات اور معلومات سے خود ڈاکٹر اور عوام بھی استفادہ حاصل کرسکیں انھوں نے بتایا کہ بھیونڈی شہر میں بھی کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں خاص وجہ بھیونڈی شہر کا چاروں طرف سے کیمیکل گوداموں سے گھرا ہونا اور ان میں مسلسل آگ زنی کے واقعات۔پوری بھیونڈی میں بلڈنگوں کے اوپر موبائل فون کے پھیلے ٹاوروں کا جال۔اور تھانہ۔ممبرا۔کلیان وغیرہ میں ہونے والی سختی کے بعد بھیونڈی شہر میں قائم ہونے والے منشیات کے اڈے اور نوجوانوں کا نشہ خوری میں ملوث ہونا بھی بڑا سبب ہے جبکہ کیمیکل آلود غذائیں بھی جان لیوا بنتی جارہی ہیں۔ موصوف نے بتایا کہ کینسر بدن کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے جبکہ بلڈ کینسر کے مریضوں کی تعداد بھیونڈی میں کم ہے مگرگلےکا کینسر کافی تعدادمیں پایاجارہاہے اور لوگوں کو تیسرے اور چوتھے اسٹیج میں آکر فکر شروع ہوتی ہے لیکن جب بھی بدن میں کہیں سوجن۔پورے بدن میں مسلسل تھکاوٹ۔اوندھا پھوڑا۔منہ میں آنے والے چھالے۔پیشاب۔پائخانے میں خون مواد کا آنا چھاتی یا بچہ دانی میں گانٹھ وغیرہ نظر آئے تو فورا ڈاکٹروں سے رابطہ کرنا چاہئے اور اسے کینسر کے نظریے سے بھی دیکھنا چاہئے کسی زمانے میں عرب تاجروں اور سوداگروں کی آمد وآماجگاہ بنے بھیونڈی کے سوداگر اور بندر (بندر گاہ)محلہ کے ظہیر ملا کے گھر میں آنکھیں کھولنے والا شمسی آج مکمل شمس ( سورج ) بن کر کینسر متاثرین کی تاریک زندگی میں امید کی کرن بن کر اجالا پھیلانے کا کام کررہا ہے شمسی ملا کو ان کی بہترین خدمات کے اعتراف میں اب تک درجنوں ایوارڈ مل چکے ہیں جن میں بیرون ملک سے بھی ایوارڈ ملے ہیں ۔ملنے والے اعزازات میں بطور خاص بھارت وکاس رتن۔بھارت جوتی پرسکار ہیلتھ کئر ایکسیلینٹ۔ممبئی گلوبل ایوارڈ۔نوبل ایشین آف دی ایئر 2018 ایوارڈ۔بھارتیہ جنتا پارٹی دکچھن ممبئی او۔بی۔سی۔ایوارڈ۔کوالٹی ایکسیلینٹ 2018 ایوارڈ۔آل انڈیا سیلوٹ 2019 ایوارڈ۔پرائڈ سٹی ایوارڈ 2019 ۔شمسی ملا کہتے ہیں کہ نا صرف ممبئی مہاراشٹر بلکہ دیگر ریاستوں سے بھی کینسر کا علاج کرانے کے لئے لوگ ہمارے فاونڈیشن سے رابطہ کرتے ہیں اور ہمارے فاؤنڈیشن کے حسن انتظام اور صاف شفاف کارکردگی کے پیش نظر ہمیں بھی اہل خیر اللہ کے بندے ان مریضوں پر خرچ کرنے کے لئے اپنی رقومات فراہم کرتے ہیں ہمیں بڑی خوشی ہوتی ہے جب معلوم پڑتا ہے کہ فلاں مریض کا آپریشن کامیاب ہوا اور اس نے نئی زندگی شروع کردی۔
شمسی ملا کہتے ہیں کہ ضرورت مند تو بھیونڈی میں بہت ہیں اور ہماری فاؤنڈیشن بھر پور تعاون بھی کررہی ہے مگر نا چاہتے ہوئے بھی کہنا پڑتا ہے کہ بھیونڈی سے تعاون نہیں مل رہا ہے لوگوں سے اپیل ہے کہ اہل خیر اور متمول افراد دست تعاون بڑھائیں تاکہ کمزور ضرورت مند مریضوں کی مدد ہوسکے دینے والوں کو اللہ مزید نوازتے ہیں ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
